حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا(۴)

خادمِ اولیاء

وفقہ اللہ
رکن

نام ونسب
حفصہ نام حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے حفصہ بنت عمرابن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ربا ع بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن لوی بن فہر بن مالک
والدہ کا نام زینب بنت مظعون تھاجو مشہور صحابی حضرت عثمان بن مظعون کی ہم شیرہ تھیں اور خود بھی صحابیہؓ تھیں حضرت حفصہ اور حضرت عبداللہ بن عمر حقیقی بھن بھائی تھے حضرت حفصہ ؓبعثت نبوت سے پانچ سال قبل پیداہوئیں اس وقت قریش خابہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے

۔
نکاح
پہلانکاح خنیس بن خذافہ سے ہواجو خاندان بنوسہم سے تھے
اولاد
آپ رض نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی
اسلام
ماں باپ اور شوہر کے ساتھ مسلمان ہوئیں
ہجرت اور نکاح ثانی
شوہر کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی ،غزوہ بدرمیں حضرت خنیسؓ نے زخم کھائے اور واپس آکران ہی زخموں کی وجہ سےشہادت پائی عدت کے بعدحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کوحضرت حفصہ کے نکاح کی فکر لاحق ہوگئی اسی زمانہ میں حضرت رقیہؓ کا انتقال ہوچکاتھااس بنا پر حضرت عمرفاروقؓ سب سے پہلے حضرت عثمانؓ سے ملےاور ان سے حضرت حفصہ کے نکاح کی خواہش ظاہرکی انھوں کہا میں اس پر غورکروں گا،چنددنوں کے بعدملاقات ہوئی تو صاف انکار کردیاحضرت عمرفاروقؓ نے مایوس ہوکرحضرت ابوبکرصدیقؓ سےذکر کیاانھوں نے خاموشی اختیار کی حضرت عمرؓ کوان کی بے التفاتی سے رنج وغم ہوا۔(اور یہ سب کچھ اس لیے ہی ہورہا تھا کہ ایک عظیم المرتبت ہستی سے نکاح ہونا تھا)
اس کے بعد خود رسالت مآب ﷺنے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاسے نکاح کی خواہش کی،چنانچہ نکاح ہوگیا
بعدازاں حضرت ابوبکرؓحضرت عمرؓ سے ملےاور کہا کہ جب تم نےمجھ سے حفصہ کے نکاح کی خواہش کی اور میں خاموش ہورہاتو تم کو ناگوارگذرا۔لیکن میں نے اسی بناپرکچھ جواب نہیں دیاکہ رسول اللہﷺ نے ان کا ذکر کیاتھا۔اور میں آپﷺ کا رازفاش کرنا نہیں چاہتاتھااگر رسول ﷺ کا ان سےنکاح کا قصد نہ ہوتاتو میں ان کے لیے آمادہ تھا(صحیح بخاری ج۲ص۵۷۱اور اصابہ ج۸ص۵۱)
.
فضل وکمال
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کئی صفات کی جامع تھیں ،آپ کا فضل وکمال اس سے ہی ظاہر ہے کہ آپ سے 60 احادیث مروی ہیں جو انھوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے سنی تھیں(زرقانی ج۳ ص۲۷۱)
اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ،حضرت حمزہ،صفیہ بنت ابوعبید،حارثہ بن وہب،مطلب بن ابی وادعہ،ام مبشر انصاریہ ،عبداللہ بن صفوان بن امیہ ،اورحضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم آپ کے شاگردوں میں سے ہیں(زرقانی ج۳ ص ۲۷۱)
۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اخلاق اور زہدوتقوی میں بھی دریکتاتھیں ابن سعد میں ہے کہ وہ دن کو روزہ رکھنے والی اور رات کو قیام(نفل وتہجد میں)کرنے والی تھیں اور حسن اتفاق کہ جس وقت ان کی وفات ہوئی تھی تو وہ حالت روزہ میں تھیں
وفات
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نےماہ شعبان ۴۵ سن ہجری میں مدینہ میں انتقال کیا۔یہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا زمانہ تھا،مروان نے جو اس وقت مدینے کا گورنرتھانماز جنازہ پڑھائی اور کچھ دور تک جنازہ کو کاندھادیا،اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنازہ کو قبر تک لے گئے،ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ اور ان کے چاروں بیٹوں عاصم،سالم، عبداللہ اورحمزہ رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا
یاد رکھیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سن وفات میںاختلاف ہے
ایک روایت ہے کہ جمادی الاولی سن ھ ۴۱ میں وفات پائی اس وقت ان کی عمر۵۹ سال تھی
اور ایک دوسری روایت کے مطابق آپ رض کی وفات سنہ ھ۴۸ میں ہوئی اس اعتبار سے پھر عمر 63 سال ٹھہرتی ہے

ایک یہ روایت بھی ہے کہ انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت سنہ ھ ۲۷ میں وفات فرمائی ۔ یہ روایت اس بنا پر پیداہوگئی کہ وہب نے ابن مالک سے روایت کی ہے کہ جس سال افریقہ فتح ہوا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اسی سال انتقال کیااور افریقہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سنہ ھ ۲۷ میں فتح ہواتھا لیکن یہ سخت غلطی ہے،اس لیے کہ افریقہ دومرتبہ فتح ہواتھادوسری مرتبہ فتح حضرت معاویہ بن خدیج کے ہاتھوں ہوئی تھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں چنانچہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی وفات بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی ہوئی تھی
 
پ

پیامبر

خوش آمدید
مہمان گرامی
جزاک اللہ خیراً
اگر الفاظ کی جسامت کو چھوٹا کریں تو پڑھنے میں آسانی ہو۔ جزاک اللہ
 
Top