بخل کی تعریف کے سلسلے میں علمائے کرام کی مختلف تعبیریں

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
بخل مذموم صفت ہے، بخیلی سے بڑی بھی کیا بیماری ہو سکتی ہے؟ اس کی تعریف کے سلسلے میں علمائے کرام کی مختلف تعبیریں ہیں۔

جیسے کہ ابن مفلح رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بعض علمائے کرام نے بخیلی کی تعریف میں متعدد اقوال بھی ذکر کئے ہیں:

پہلا قول: زکاۃ نہ دینا؛ لہذا اگر کوئی شخص زکاۃ ادا کرتا ہے تو وہ بخیل کے اطلاق سے باہر ہو گیا۔۔۔

دوسرا قول: زکاۃ اور ذمیہ نان و نفقہ نہ دینا، اس تعریف کی روشنی میں اگر کوئی شخص زکاۃ تو ادا کرتا ہے، لیکن واجب نان و نفقہ نہیں دیتا تو وہ بخیل شمار ہو گا، [اس تعریف کو ابن قیم وغیرہ نے پسند کیا ہے۔]

تیسرا قول : اپنے ذمہ واجبات دینا اور تحفے ، تحائف دینا، اگر کوئی شخص تحفے تحائف دینے میں کوتاہی کرتا ہے تو وہ بخیل شمار ہو گا۔ [اس تعریف کو غزالی اور دیگر نے پسند کیا ہے]" ابن مفلح کی کتاب آداب شرعیہ (3/303) سے مختصراً اقتباس مکمل ہوا۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بخیل اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے ذمہ واجب خرچے ادا نہ کرے، چنانچہ جو شخص اپنے ذمہ تمام واجب خرچےادا کر دے تو اسے بخیل نہیں کہا جائے گا، بخیل وہی ہے جو لازمی اور ضروری خرچےادا نہ کرے" ختم شد
دیکھیں: جلاء الافہام، ص: (385) اسی طرح کی بات امام قرطبی : (5/193) نے بھی لکھی ہے۔

غزالی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بخیل وہ شخص ہے جو جہاں پر خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں پر خرچ نہ کرے، چاہے وہ ضرورت شریعت کی روشنی میں ہو یا مروّت کی روشنی میں، تو ایسے میں اس کی مقدار معین کرنا ممکن نہیں ہوتا" ختم شد
ماخوذ از: احیاء علوم الدین: (3/260)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی ان کے موقف کی تائید کی ہے، چنانچہ آپ کہتے ہیں کہ:
"بخل: یہ ہے کہ جو چیز خرچ کرنا آپ پر واجب ہو اسے خرچ نہ کریں، یا جسے خرچ کرنا مناسب ہو اسے بھی خرچ نہ کریں" ختم شد
دیکھیں: شرح ریاض الصالحین: (3/410)


دوم:

مرد کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بیوی اور اولاد پر عرف کے مطابق خرچ کرے۔ اہل و عیال کے نان و نفقے میں کھانا پینا، لباس، رہائش اور دیگر بیوی اور بچوں کی ضروریات شامل ہیں کہ جن کے بغیر گزارا ممکن نہیں جیسے کہ علاج معالجہ، تعلیم اور دیگر ضروری اخراجات وغیرہ۔

نیز اہل و عیال پر خرچہ خاوند کی مالی حیثیت کے مطابق ہو گا؛ کیونکہ فرمان باری تعالی ہے:
( لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا)
ترجمہ: صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جس پر رزق محدود کر دیا گیا ہے تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ تعالی نے اسے عطا کیا ہے، اللہ تعالی کسی نفس کو اتنا ہی مکلف بناتا ہے جتنا اللہ نے اسے دیا ہے۔[ الطلاق:7]

اس لیے بیوی اور بچوں کا نفقہ مرد کی مالی حیثیت اور وسعت کے مطابق الگ الگ ہو گا، لہذا اگر کوئی صاحب ثروت ہے تو اپنی بیوی اور بچوں پر کھل کر خرچ کرے ، لیکن اگر وہ کنجوسی کرتا ہے تو اسے بخیل شمار کیا جائے گا؛ کیونکہ اس نے اپنے ذمہ واجبات ادا نہیں کئے۔

اور اگر کوئی تنگ دست ہے تو وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے گا، اسی طرح اگر کوئی متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرے گا، نیز یہ بھی واضح رہے کہ اللہ تعالی ہر نفس کو اسی چیز کا مکلف بناتا ہے جو اللہ تعالی نے اس نفس کو دی ہے۔

لہذا اس کی شرعی حد بندی نہیں ہے، تو نان و نفقہ کی مقدار کے حوالے سے عرف معتبر ہو گا۔

بیوی کے حقوق میں سے عظیم حق یہ ہے کہ خاوند اس پر خرچ کرے اوراس کا نفقہ برداشت کرے ، اوراس کا نان نفقہ برداشت کرنا بندے کے لیےاللہ تعالی کے قرب اوراطاعت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔

نفقہ مندرجہ ذیل اشیاء پر مشتمل ہے :

کھانا پینا ، لباس ، اوررہائش ، اوربیوی اپنے بدن اوراپنی بہتر رونق قائم رکھنے کے لیے جس چيز کی محتاج ہو ۔

آپ نے جویہ ذکر کیا ہے کہ آپ کی بیوی نفقہ میں کمی کی شکایت کرتی ہے ، اللہ تعالی نے یہ بتایا ہے کہ مرد ہی عورتوں پر خرچ کرنے والے ہیں ان کا خرچہ مردوں کے ذمہ ہے ، اور اسی وجہ سے انہیں سربراہی و حکمرانی اور ان پر فضیلت حاصل ہے ، کہ وہ ان کو مہر دیتے اوران کا نفقہ برداشت کرتے ہیں ۔

اللہ سبحانہ وتعالی نے اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

مرد عورتوں پر حاکم ہيں اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اوراس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہيں النساء ( 34 ) ۔

نفقہ کے وجوب پر قرآن وسنت اوراہل علم کا اجماع دلالت کرتا ہے ۔

کتاب اللہ سے دلائل :

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

اورجن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کا روٹی کپڑا ہے جودستور کےمطابق ہو ، ہر شخص اتنی ہی تکلیف دیا جاتا ہے جتنی اس کی طاقت ہو البقرۃ ( 233 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح ارشاد فرمایا :

اور اگروہ حمل والیاں ہوں تو ان پر خرچ کرو حتی کہ وہ اپنا حمل وضع کرلیں ۔

سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اس کے بہت سے دلائل ملتے ہيں جن میں اہل وعیال اور جواس کی پرورش میں ہوں کےنفقہ کے واجب ہونے کی دلیل ہے :

جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے ثابت ہے :

جابر بن عبداللہ رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن خطبہ میں فرمایا :

عورتوں کے متعلق اللہ تعالی سے ڈرو کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں ، انہيں تم نے اللہ تعالی کی امانت کے ساتھ حاصل کیا ہے ، اوران کی شرمگاہوں کو اللہ تعالی کے کلمہ کے ساتھ حلال کیا ہے ، اوران کا تم پر نان ونفقہ اورلباس ہے اچھے طریقہ کے ساتھ ۔ صحیح مسلم ( 8 / 183 ) ۔

عمرو بن احوص رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں انہون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

( عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اورمیری نصیحت قبول کرو ، وہ تو تمہارے پاس قیدی اوراسیر ہيں ، تم ان سے کسی چيز کے مالک نہيں لیکن اگروہ کوئي فحش کام اورنافرمانی وغیرہ کریں توتم انہيں بستروں سے الگ کردو ، اورانہیں مار کی سزا دولیکن شدید اورسخت نہ مارو ، اگر تووہ تمہاری اطاعت کرلیں توتم ان پر کوئي راہ تلاش نہ کرو ، تمہارے تمہاری عورتوں پر حق ہیں اورتمہاری عورتوں کے بھی تم پر حق ہیں ، جسے تم ناپسند کرتے ہووہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو ، اورنہ ہی اسے اجازت دے جسے تم ناپسند کرتے ہو ، خبردار تم پر ان کے بھی حق ہيں کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اورانہیں کھانا پینا اوررہائش بھی اچھے طریقے سے دو )

اورحدیث میں ( عوان عندکم ) کا معنی یہ ہے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1163 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1851 ) امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے ۔

اور معاویہ بن حیدۃ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :

اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر کسی ایک کی بیوی کا حق ہم پر کیا ہے ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جب تم خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ ، اورجب خود لباس پہنو تو اسے بھی پہناؤ ، اوراس کے چہرے کو بدصورت نہ کہو اورچہرے پر نہ مارو ۔

سنن ابوداود ( 2 / 244 ) سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 1850 ) مسند احمد ( 4 / 446 ) ۔

امام بغوی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

خطابی کا کہنا ہے کہ اس میں عورت کے نان ونفقہ اورلباس کا وجوب پایا جاتا ہے ، اوروہ خاوند کی حسب استطاعت وقدرت ہوگا ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیوی کا حق قرار دیا ہے توپھر خاوند چاہے غائب ہویا حاضر اسے ہر حالت میں دینا ہوگا ، اوراگر اس کے پاس فی الوقت نہیں توخاوند کے ذمہ واجب حقوق کی طرح یہ بھی قرض شمار ہوگا ، چاہے اسے قاضی خاوند کی غیر موجودگی میں ہی فرض کرے یا نہ کرے ۔ ا ھـ

اوروھب رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما کے غلام نے انہیں کہا کہ میں بیت المقدس میں ایک مہینہ قیام کرنا چاہتا ہوں ، توانہیں عبداللہ بن عمرو رضي اللہ تعالی عنہما کہنے لگے کیا تونے اس مہینے کا اپنے گھروالوں کوخرچہ دے دیا ہے ؟

اس نے جواب دیا : نہیں ، تووہ کنہے لگے : اپنے گھرواپس جاؤ اورانہیں ایک ماہ کا راشن دے کرآؤ ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :

آدمی کویہی گناہ کافی ہے کہ وہ جس کی کفالت کرتا ہے اسے ضائع کردے ۔ مسنداحمد ( 2 / 160 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1692 ) ۔

اوراس کی اصل صحیح مسلم میں ان الفاظ کے ساتھ ہے :

آدمی کویہی گناہ کافی ہے کہ وہ جس کی کفالت کرتا ہے اس کا خرچہ بند کردے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 245 ) ۔

انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( یقینا اللہ تعالی ہرذمہ دار سے اس کی رعایا کے بارہ میں سوال کرے گا کہ آيا اس نے ان کی حفاظت کی یا اسے ضائع کردیا ، حتی کہ مرد سے اس کے گھروالوں کے بارہ میں بھی سوال ہوگا ) صحیح ابن حبان ، اوراسے صحیح الجامع میں حسن کہا ہے دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 1774 ) ۔

اورابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے :

وہ بیان کرتے ہيں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :

( اللہ تعالی کی قسم ، تم میں سے کوئي ایک صبح جنگل میں جاکرلکڑیاں کاٹے اوراسے اپنی پیٹھ پر اٹھا کربیچے اور اس کے ساتھ غنا حاصل کرے اوراس میں سے صدقہ وخیرات کرے اس کےسوال کرنے سے بہتر ہے کہ وہ کسی مرد سے مانگے تواوروہ اسے دے یہ نہ دے ، اوریہ اس لیے کہ یقینا اوپر والا ( دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ( لینے والے ) ہاتھ سے بہتر ہے ، اورجوآپ کی عیالت میں ہیں اس سے شروع کر ) صحیح مسلم ( 3 / 96 ) ۔

اورایک روایت میں ہے کہ :

آپ سے کہا گيا : اے اللہ تعالی کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم میری عیالت میں کون ہیں ؟

تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا : تیری بیوی تیرے عیال میں شامل ہے ۔ مسند احمد ( 2 / 524 ) ۔

اہل علم کے اجماع کی دلیل :

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی المغنی ( 7 / 564 ) میں کہتے ہیں :

خاوندوں پر جب وہ بالغ ہوں تو ان کی بیویوں کے نان ونفقہ کے وجوب پراہل علم کا اتفاق ہے ، صرف نافرمان بیوی کا نہیں ، اسے ابن منذر وغیرہ نے ذکر کیا ہے ۔

سابقہ نصوص شرعیہ اس پر دلالت کرتیں ہیں کہ آدمی پر اس کے گھروالوں کا نان ونفقہ اوران کی ضروریات ومصالح پوری کرنا اوران کا خیال رکھنا واجب ہے ، اوراس کا بہت ساری احادیث نبویہ میں بھی ثبوت ملتا ہے ، جواس فضیلت کوبیان کرتی ہيں اوریہ کہ ایسا کرنا اللہ تعالی کے ہاں اعمال صالحہ میں شمار ہوتا ہے ۔

جیسا کہ ابومسعود انصاری رضي اللہ تعالی کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جب مسلمان اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے اوروہ اس میں اجرو ثواب کی نیت رکھے تووہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے ) صحیح بخاری ( 1 / 136 ) ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں :

بالاجماع اہل وعیال کا نان ونفقہ مرد پر واجب ہے ، شارع نے اسے صدقہ صرف اس لیے کہا ہے کہ واجب کی ادا‏ئيگي سے کہیں وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ اس میں اجرو ثواب ہی نہیں ، اورصدقہ میں تو انہيں اجر وثواب کا علم ہے ہی ، تواس لیے انہیں یہ بتایا کہ کہ ان کے لیے صدقہ ہے تا کہ وہ اسے اپنے اہل وعیال کے علاوہ کہیں اور نہ دیتے پھریں لیکن اگرجب انہيں کافی ہوجائے توپھر وہ باہر بھی صدقہ نکال سکتے ہیں ، تواس میں انہيں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واجبی صدقہ کونفلی صدقہ پر مقدم کرنے کی ترغیب دلائي ہے ۔ ا ھـ فتح الباری ( 9 / 498 ) ۔

سعد بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں فرمایا :

( توجوبھی اپنے اہل وعیال پر خرچہ کرے اورنان ونفقہ دے تجھے اس پر اجر دیا جائے گا ، حتی کہ وہ لقمہ جوتواپنی بیوی کے منہ میں ڈالے اس پر بھی اجرو ثواب ملے گا ) صحیح بخاری ( 3 / 164 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1628 ) ۔

اور ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( ایک دینار تو وہ ہے جوتو اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرے ، اورایک دینار وہ ہے جوتو نے غلام آزاد کرنے میں خرچ کیا ، اورایک دینار وہ ہے جوتو نے کسی مسکین پر صدقہ کیا ، اورایک دینار وہ ہے جوتو نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ، ان میں سب سے زيادہ اجرو ثواب والا دینار وہ ہے جسے تونے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ) صحیح مسلم ( 2 / 692 ) ۔

اورکعب بن عجرہ رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں کچھ اس طرح وارد ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک آدمی گزرا توصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے اس کی چستی ونشاط اورقوت دیکھی توانہیں بہت پسند آئی تووہ کہنے لگے کاش یہ فی سبیل اللہ ہوتی ؟

تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

( اگرتویہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی روزی تلاش کرنے نکلا ہے تویہ فی سبیل اللہ ہے ، ، اوراگریہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرنے کے لیے نکلا ہے تو پھر بھی فی سبیل اللہ ہے ، اوراگریہ اپنی عفت وعصمت کے لیے نکلا ہے توپھر بھی یہ فی سبیل اللہ ہے ، اوراگر یہ ریاء کاری اورفخر کرنے کے لیے نکلا ہے تویہ شیطان کے راستے میں ہے ) اسے طبرانی نے روایت کیا ہے دیکھیں صحیح الجامع ( 2 / 8 )۔

سلف رحمہ اللہ تعالی نے اس واجب کوصحیح سمجھا تھا جیسا کہ حق ہوتا ہے ، جو کہ ان کی عبارتوں میں بھی ظاہر ہوتا ہے ، امام ربانی عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالی نے کیا ہی خوب کہا ہے :

اس کے علاوہ کمائی خرچ کرنے کا کوئي موقع ہی نہیں حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی ۔ دیکھیں السیر ( 8 / 399 ) ۔

اوردوسری جانب آپ کی بیوی کویہ علم ہونا چاہیے کہ خاوند پر خرچ اورنان ونفقہ تواسی حساب سے جتنی اس کی طاقت ہو اورمالی امکانیات کے مطابق ہی ہوگا ، جیسا کہ اللہ تعالی کا بھی فرمان ہے :

اورکشادگي والے کو اپنی کشادگي میں سے خرچ کرنا چاہیے ، اورجس پر اس کی روزي تنگ کردی گئي ہو وہ اللہ تعالی کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرے ، کسی بھی نفس کواس کی دی گئي قوت سے زيادہ مکلف نہیں کیا جاتا ، عنقریب اللہ تعالی مشکل کے بعد آسانی پیدا فرما دے گا ۔

تو اس لیے بیوی کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ مطالبات میں کثرت کرکے اپنے خاوند کے معاملات میں مشکلات اوردشواری پیدا کرے ، اوراس پر خرچہ کرنے میں تنگ کرے ، کیونکہ ایسا کرنا حسن معاشرت نہیں ۔

اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آپ بیوی کی جا‏‏ئز طلبات کو تسیلم کرتےہوئے معقول مطالبات مان لیں اوربیوی کوآپ بغیر احسان جتلاتےہوئے بغیر ایذاء دیتے ہوئے یہ یاددہانی کرائيں کہ آپ نے اس کی کتنی طلبات پوری کی ہیں جب اس میں اس کی طاقت تھی ، وہ انہيں کتنی جلدی پوری کرتا رہا ہے ، اورآپ بیوی کو اس پر راضی کریں کہ جب طاقت ہوگي توپھر ایسا ہی ہوگا لیکن ابھی وہ مزید مطالبات سے رک جائے ۔

اوراسی طرح اس سے بڑے نرم لہجے میں بغیر کسی لڑائي اورغصہ کے گفتگو کریں اوراسے سمجھائيں کہ جوکچھ وہ مانگ رہی ہے وہ باقی خرچہ پر اثرانداز ہوگا مثلا گھر کے کرایہ وغیرہ پر اگروہ نہيں مانگے گی تو یہ سب خرچے آسان ہوجائيں گے اس طرح کی بات کرکے ممکن ہے آپ اسے کچھ مطالبات میں کمی کرنے پر راضي کرسکیں ۔

آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ مالی کمی اس وقت جاتی رہتی ہے جب کوئي اچھی بات اوراچھے وعدے کرلیے جائيں ، اورپھر جب اللہ تعالی نے اپنی کتاب عزيز میں رشتہ داروں اوراقرباء کومال دینے اور ان سے صلہ رحمی کرنے کا ذکر کیا تواللہ تعالی نے اس انسان کے تصرف کے بارہ میں بھی ذکرکیا جس کے پاس رشتہ داروں کو دینے کے لیے مال نہ ہو ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

اوراگر تجھے ان سے اپنے رب کی جستجو میں جس کی تو امید رکھتا ہے منہ موڑنا پڑے تو بھی تجھے چاہیے کہ انہیں نرمی اورعمدگي سے سمجھا ديں الاسراء ( 28 ) ۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی اس آيت کی تفسیر میں کہتے ہیں :

اللہ تعالی کا یہ فرمان :

اوراگرتجھےان سے اپنے رب کی رحمت جس کی توامید رکھتا ہے کی وجہ سے منہ موڑنا پڑے

یعنی جب آّپ کے رشتہ دار اورجنہیں ہم نے دینے کا حکم دیا ہے آپ سے مانگے اورآپ کے پاس کچھ نہ ہو اورآپ ان سے نفقہ نہ ہونے کی بنا پر منہ پھیر لیں توپھر تو بھی تجھے چاہیے کہ انہیں نرمی اورعمدگي سے سمجھا ديں یعنی آپ ان سے بڑے نرم انداز اورسہولت سے وعدہ کرلیں کہ جب آپ کے پاس اللہ تعالی کا رزق آئے گا توہم آپ کو ان شاء اللہ دیں گے ۔

آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ حسن خلق اوراچھا معاملہ اس سب قسم کی تنگی کوجس میں آپ ہیں ختم کردے گا ، اس لیے آپ صبر وتحمل اوراچھے انداز سے معاملات کوچلائيں اوراس کے ساتھ ساتھ بیوی کونصیحت کرتے رہیں اوردعوت دیتے رہیں ۔

اوراگر اس کے باوجود بھی معیشت اورزندگي میں تنگی اورخرابی ہو اورآپ دونوں کےمابین حالت اس سے بھی زيادہ خراب ہوجائے حتی کہ بالکل بند راستے پر پہنچ جائے اوربرائي کوختم کرنے میں آپ کی کوششیں کامیاب نہ ہوں اورآپ دونوں اکٹھے نہ رہ سکنے کی طاقت رکھتے ہوں تو پھر ایسی حالت میں طلاق مشروع ہے اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی حالت میں طلاق ہی دونوں فریقوں کے لیے بہتر ہو جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

اوراگر وہ دونوں علیحدہ ہوجائيں تواللہ تعالی اپنی وسعت سے ہر ایک غنی کردے گا اوراللہ تعالی بڑی وسعت والا جاننے والا ہے ۔

واللہ اعلم
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
جیسے کہ ابن مفلح رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بعض علمائے کرام نے بخیلی کی تعریف میں متعدد اقوال بھی ذکر کئے ہیں:
جو حق بندے کےذمہ ہو اس کے ادا کرنے میں کوتاہی بخل ہے ۔واجبات سے زیادہ نہ دے تو فضیلت ترک کی، لیکن واجبات نہ دیا تو حرام ہے ۔
سخی وہ ہے جو واجب مستحق کو ادا کرے ،لیکن "جواد" وہ ہے جو واجب سے زیادہ ادا کرے حق تعالیٰ کو "جواد "کہتے ہیں "سخی" نہیں کہتے ۔
" جو شخص اپنے مال سے کچھ دے اور کچھ بچا رکھے وہ "سخی "ہے ،جو شخص زیادہ مال دے اور کم بچا رکھے وہ "جواد "ہے اور جو شخص خود پر تکلف اٹھائے اور دوسروں کی تکلیف دور کرے وہ" صاحب ایثار "ہے۔
" سخی عطا کے وقت تمیز کرتا ہے کہ پانے والا مستحق ہے یا نہیں ،لیکن "جواد" بے علت اور بے سبب دیتا ہے۔دوسروں کی حاجت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دینا "ایثار" ہے ۔
ہمارے سلطان کو سخی نہیں "جواد اور صاحب ایثار" بننا ہے
سید اشرف سمنانی ٌ فرماتے تھےکہ خدا کسی مسلمان کو بخیل نہ بنائے ،کیونکہ بخل کافروں کی خصوصیت ہے ۔(لطائف اشرفی ص: 472)
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
آپ سلطان کو کیوں بچانا چاہتی ہیں۔مولوی آسان راہ ڈھونڈتا ہے آپ نے راہ دکھاتی ۔
آپ بادام نہ لیں مجھے تو موبائیل لینے دیں۔
میرے بادام تو کڑوے ہو گئے ہیں
آپ کے موبائل کا کیا ہوگا؟
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
آپ سلطان کو کیوں بچانا چاہتی ہیں۔مولوی آسان راہ ڈھونڈتا ہے آپ نے راہ دکھاتی ۔
آپ بادام نہ لیں مجھے تو موبائیل لینے دیں۔
بندہ حقیر فقیر کو اللہ تعالیٰ نے ایک نیا موبائل عطا کردیا
 
Top