کالے کپڑے پہننے کا حکم

محمدداؤدالرحمن علی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
جواب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
کالے رنگ کا لباس پہننا جائز ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کالا لباس پہننا ثابت ہے ، فتح مکہ والے دن جب نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر کالا عمامہ تھا۔ (ترمذی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے لیے سیاہ چادر بنائی تو آپ ﷺ نے اسے زیب تن فرمایا، علامہ شامی ؒ نے کالے لباس پہننے کو مستحب قرار دیا ہے ۔
لہذافی نسفہ کالے رنگ کالباس پہننا جائز ہے بشرطیکہ کسی خاص رسم ،عقیدہ یا سوگ کی بنیاد پرنہ ہو۔آج کے دور میں مکمل کالا لباس بعض اہل باطل کا شعار بن چکا ہے؛ اس لیے بہتر ہے کہ پورے کالے لباس سے جہاں تک ہوسکے احتیاط رکھیں،(خصوصاً جن دنوں میں وہ کالے لباس کا اہتمام کرتے ہیں ان دنوں میں تو بالکلیہ اجتناب کریں)؛ تاکہ ان کی مشابہت سے بچ جائیں، کیوں کہ فساق و فجار کی مشابہت اختیار کرنا شرعا ممنوع ہے۔

عن عائشة رضي اللہ عنہا قالت صبغتُ للنبي صلی اللہ علیہ وسلم بردة سوداء فلبسہا (ابوداوٴد ج۲ص۵۶۳)
ویستحب الأبیض والأسود لأنہ شعار بني العباس ودخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکة وعلی رأسہ عمامة سوداء (شامي: ج۹/ ۵۰۵، زکریا)
حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا همام، عن قتادة، عن مطرف، عن عائشة، رضي الله عنها، قالت: " صنعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بردة سوداء، فلبسها، فلما عرق فيها وجد ريح الصوف، فقذفها - قال: وأحسبه قال: - وكان تعجبه الريح الطيبة".وفي الحدیث جواز لبس السواد وهو متفق علیه. (بذل المجهود، باب في السواد، دار البشائر الإسلامیة۱۲/۱۰۱، تحت رقم الحدیث۴۰۷۴، سهارنپور قدیم۵/۵۱)
وقال في الشامي ایضا وندب لبس السواد لأن محمدًا ذکر في السیر الکبیر في باب الغنائم حدیثا یدل علی أن لبس السواد مستحب (شامي ج۱/ ۴۸۶، زکریا)

واللہ اعلم بالصواب
 
Top