سیرت آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم واقعات کے آئینہ میں

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ غلامی میں جکڑے ہوئے انسانو ں کو آزادی دلائی بلکہ صدیوں سے دنیامیں انسانوں کو غلام بنائے جانیکا جو ظالمانہ عمل تھا اس کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے اور سِرے سے ختم کردینے کا عظیم الشان کام بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا، غلاموں کے حق میں آواز بلند کرنا، معاشرے میں ان کا مقام متعین کرنا، ان کے حقوق کے لیے کوشش کرنا اور ان کو عزت ووقار عطا کرنا، یہ کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پیغمبرانہ شان کے ساتھ پورا فرمایا، جو شان رب ِ کائنات نے آپ کو عطا فرمائی تھی اورجس کااظہار آپ کی حیات ِ مبارکہ کے ہر لمحے سے ہوتا ہے، عالَم اس حقیقت کو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اللہ کے تمام نبی ،رسول اور پیغمبر دنیا کے تمام انسانوں پر افضلیت رکھتے ہیں ، رب العالمین نے جو مقامِ بلند ان کو عنایت فرمایا وہ کسی کو نہیں دیاگیا ۔ ان انبیاء ورسول پر جس ذاتِ اقدس کو امتیاز بخشا وہ ذاتِ مبارک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ جس طرح طبقۂ رسول وانبیاء تمام دنیا پر شرف رکھتا ہے اسی طرح نبی ٔ برحق حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس طبقے پر افضلیت رکھتے ہیں ۔ بے شمار اختصاصات اور امتیازات آپ کی ذات کا حصہ ہیں ؛ لیکن بہت سے اوصاف ِ جمیلہ اور خصائص کبریٰ وہ ہیں جو کسی اور رسول، نبی اور پیغمبر کو نہیں دیئے گئے،

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے ان اختصاصات میں کچھ کا ذکر اپنی کتاب ’’نشر الطیب‘‘میں یوں فرمایاہے:
’’ان امور کے بیان میں جو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم السلام میں سے صرف آپ ہی کو عطافرمائے اور وہ چند قسم کے ہیں ، ایک قسم وہ امور جو دنیامیں تشریف لانے سے پہلے آپ کی ذات ِ مقدسہ میں پائے گئے، مثلاً سب سے اوّل آپ کے نور پاک کا پیدا ہونا، سب سے پہلے آپ کو نبوت عطا ہونا، یوم میثاق میں سب سے اوّل الست بربکم کے جواب میں آپ کا بلیٰ فرمانا، آپ کا نام مبارک عرش پر لکھا جانا، خلق عالم سے آپ کا مقصود ہونا، پہلی سب کتب میں آپ کی بشارت وفضیلت ہونا، حضرت آدم علیہ السلام وحضرت نوح علیہ السلام وحضرت ابراہیم علیہم السلام کو آپ کی برکات حاصل ہونا ان کی روایات فصل اوّل ودوم میں گذری ہیں ، وغیرہ ذلک۔ دوسری قسم وہ امور جودنیامیں تشریف آوری کے وقت قبل نبوت ظاہر ہوئے مثلاً مہر نبوت کا شانہ پر ہونا اس کی روایت چھٹی فصل میں مذکور ہے، وغیرہ ذلک۔ تیسری قسم وہ امور جو بعد نبوت ظاہر ہوئے اور مختص ہیں ذاتِ مبارک کے ساتھ مثلاً معراج اور اس میں عجائب ملکوت وجنت ونارپر مطلع ہونا اورحق تعالیٰ کو دیکھنا، کہانت کامنقطع ہوجانا، اذان واقامت میں نام مبارک ہونا، ایسی کتاب عطا ہونا جو ہر طرح معجزہے لفظاً بھی معنیً بھی تغیر سے محفوظ رہنے میں بھی زبانی یاد ہونے میں بھی ، صدقہ کا حرام ہونا، نوم سے وضو کا واجب نہ ہونا، ازواج مطہرات کا امت پر ابداً حرام ہونا، آپ کی صاحبزادی سے بھی نسب اولاد کا ثابت ہونا ، آگے پیچھے سے برابر دیکھنا، دور دور تک آپ کا رعب پہنچنا۔ آپ کو جوامع الکلم عطا ہونا، تمام خلائق کی طر ف مبعوث ہونا، آپ پر نبوت کا ختم ہونا، آپ کے متبعین کا سب انبیاء کے تابعین سے زیادہ ہونا،سب مخلوق سے آپ کا افضل ہونا، چوتھی قسم وہ امور جو آپ کی برکت سے منجملہ تمام امم کے خاص آپ کی امت کو عطا ہوئے، مثلاً غنائم کا حلال ہونا۔ تمام زمین پر نماز کا جائز ہونا۔ تیمم کا مشروع ہونا، اذان واقامت کا مقرر ہونا، نماز میں ان کی صفوف کا بطرز صفوف ملائکہ ہونا، جمعہ کا ایک خاص عبادت وساعت اجابت کے لیے مقرر ہونا،روزہ کے لیے سحری کی اجازت ،رمضان میں شب قدر ایک نیکی کریں توادنیٰ درجہ دس حصہ اور زیادہ بھی ثواب ملنا، وسوسہ وخطا ونسیان کا گناہ نہ ہونا(شاید پہلی امتوں میں ان کے اسباب کاانسداد بھی واجب ہوگا اوراسی اعتبار سے یہ خاص ہوا اس امت کے ساتھ) احکام شاقہ کا مرتفع ہوجانا، تصویر ومسکرات کا نا جائز ہونا (کہ یہ سد باب ہے مفاسد بے شمار کا اور مفاسد سے بچانا رحمت ہے جیساکہ بعض جگہ تسہیل حکم بھی رحمت ہے) اجماع امت کا حجۃ ہونا اوراس میں ضلالت کا احتمال نہ ہونا، اختلاف فرعی کا رحمت ہونا، امم سابقہ کے سے عذاب نہ آنا، طاعون کا شہادت ہونا، علماء سے وہ کام دین کا لیا جانا جو انبیاء کیاکرتے تھے۔ قرب قیامت تک جماعت اہل حق کا مؤید من اللہ ہوکر پایا جانا وغیرہ ذلک‘‘۔

ماخوذ: نشر الطیب:ص/۲۱۷-۲۱۸


آپ کے امتیازات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوتے ؛بلکہ ان میں بہت سے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد برزخ یا قیامت میں ظاہر ہوئے یا ہوں گے ان کا بیان بھی اسی کتاب میں تین فصلوں میں کیاگیا ہے۔ اس دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کرکوئی بابرکت اور مقدس انسان نہیں آیا رب العالمین نے جوعظمت ورفعت آپ کو عطا فرمائی وہ کسی کو نہیں ملی؛ اس لیے آپ کی زندگی کا ہر لمحہ عالم کے لیے ایک مثال ، ایک نصیحت، ایک ہدایت اور راہ ِ عمل ہے۔ اس بات کو ان واقعات کے ذریعہ جنھیں ہم نے پچھلے صفحات پر نقل کیا بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ کچھ اور واقعات ہیں جن سے انسانوں کی رہنمائی ہوتی ہے اور سبق ملتا ہے کہ آدمی کو کیسے زندگی گزارنی چاہیے اور کن مراحل میں کیسا کردار اور کیا ثبوت پیش کرنا چاہیے، دشمنوں کے ساتھ بھی آپ کا سلوک مثالی تھا اس سلسلہ میں کافی واقعات سیرت ِ رسول کی بنیاد اورحصہ ہیں ، انھی واقعات میں سے ایک واقعہ پر حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی ؒ یوں روشنی ڈالتے ہیں :
’’سب سے بڑھ کر دشمنوں کے ساتھ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سلوک کا واقعہ ھبار ابن اسود کے ساتھ کا ہے، جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کا قاتل تھا، جنگ بدر کے قیدیوں میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد یعنی حضرت زینت ؓ کے شوہر بھی تھے، دوسرے قیدیوں کے ساتھ ان کو بھی رہا کیاگیا، ان کی رہائی کے لیے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط رکھی کہ وہ مکے پہنچ کر اپنی بیوی یعنی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو مدینے بھیج دیں گے۔ انھوں نے وعدہ پورا کیا اور بیوی کو مدینے کے لیے روانہ کردیا ؛ مگر قریش میں سے ھبار ابن اسود کے بغض وعناد نے یہ گوارہ نہیں کیا۔اس نے حضرت زینبؓ کا راستہ روکا اور قتل کرنے کے لیے صاحبزادی پر تیر چلایا زخم کھاکر حضرت زینبؓ سواری پر سے گرپڑیں ، حاملہ تھیں گرنے سے حمل بھی ساقط ہوگیا بہ مشکل مدینے پہنچیں مگر اس کا ری زخم کی تاب نہ لاسکیں اور مدینے پہنچ کر وفات پاگئیں پھر فتح مکہ کے وقت ھبارابن اسود اپنے جرم عظیم کی وجہ سے نادم وپریشان چھپتا پھرتا تھا، آخر تنگ آکر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر آگرا، رحمت ِ عالم نے اسے بھی معاف فرمادیا‘‘۔

قاسمی تقریریں :ص/۳۴

جنگ ِبدر میں کفار کو شکست ہوئی اور وہ اپنے ستّر قیمتی لوگ چھوڑ کر فرار ہوگئے، جنھیں قیدی بنالیا گیا ان جنگی قیدیوں کو مدینہ منورہ میں دو دوتین تین کرکے مسلمانوں کے گھر میں ٹھہرایاگیا، ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ان کو آرام سے رکھا جائے، مفلس صحابہ ؓ جو کچھ بھی ان کے گھر میں
ہوتا قیدیوں کے لیے کھانا تیار کرتے سب قیدیوں کو دیتے اور خود کھجوروں پر گذارا کرتے۔انہی قیدیوں میں ایک ابوعزیر بھی ہیں وہ کہتے ہیں :
’’انصاری مسلمان جو کچھ تھوڑا بہت کھانا پکاتے لاکر مجھے دے دیتے اور خود کھجوریں لے کربیٹھ جاتے جس کی وجہ سے مجھے وہ کھانا کھاتے شرم آتی‘‘

قاسمی تقریریں :ص/۳۳

ایک قیدی سہیل ابن عمرو تھے جو مشہور شاعر تھے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت ہتک آمیز اشعار کہتے جو لوگوں میں فوراً مشہور ہوجاتے، یہ گرفتار ہوئے تو حضرت عمرؓ نے ان کی دریدہ دہنی کی سزا میں ان کے دانت توڑدینے کی رائے دی؛ مگر رحمت ِ عالم نے فرمایا:
’’آج اگر میں اس کے کسی عضو کو بگاڑ دوں گا تواگرچہ نبی ہوں مگر اس کے بدلہ کل خدا میرے اعضاء بھی بگاڑ سکتا ہے‘‘

قاسمی تقریریں :ص/۳۳

ابوجہل کے بیٹے عکرمہ اور صفوان بن امیہ وغیرہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اور ایذاء رسانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، موقع ملا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی؛ مگر جب مکہ فتح ہوگیا تو ان سب کے ساتھ نبی ٔرحمت نے رحم اور کرم کا معاملہ فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے یہ وہ روشن اور پرُ نور نقوش ہیں جو کبھی مٹیں گے نہیں ، دنیا کو روشنی ملی تو آپ کی ذاتِ اقدس سے ملی ، دنیا کو علم حاصل ہوا تو آپ کی ذاتِ مبارک کی سے حاصل ہوا، دنیا اخلاقی عظمتوں سے واقف ہوئی تو آپ کی وجہ سے واقف ہوئی، عدل وانصاف سے روشناس ہوئی تو آپ کی وجہ سے ہوئی، کون سی وہ خوبی ، کون سا وہ امتیاز، کون سا وہ کمال اورانسانیت کی سرفرازی کا کون سا وہ گوشہ ہے جو نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی میں نہ موجود ہو۔ ایک مثالی زندگی ایک ایسی زندگی جو صدیوں کا سفر طے کرکے زمانوں کے سفر کے لیے تیار ہے، کھربوں انسان اس سیرت سے اپنی تقدیریں سنوار چکے ہیں اور کھربوں ہی وہ ہوں گے جو سیرت ِ رسول کو وظیفہ ٔ زندگی بنا کر اخروی نعمتوں کو اپنے لیے مقدر کریں گے۔
 
Top