سورۃ النساء کے مضامین کا خلاصہ

طاہرہ فاطمہ

وفقہ اللہ
رکن
مضامین کا خلاصہ:

سورۃ النساء کے مضامین کا خلاصہ درج ذیل نکات میں بیان کیا جاتا ہے۔

  • نسل انسانی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ یتیموں کے مال کی پوری نگہداشت کرو اور ان کی بہتر تعلیم و تربیت کا حکم۔ چار عورتوں تک سے نکاح کا جواز۔ وراثت کے بعض احکام۔
  • وصیت اور وراثت کے احکام۔ جو ﷲ کی حدود کو توڑے گا اس کو دردناک عذاب دیا جاۓ گا۔ اور جو ﷲ اور اس کے رسول کے حکم پر چلے گا اس کے لیے جنت کی دائمی نعمتیں اور راحتیں ہیں۔
  • عورتوں کی تادیب کے طریقے۔ بدکار عورتوں اور مردوں کا حکم۔ توبہ کس حد تک قبول کی جاتی ہے۔ اور آداب معاشرت کا بیان۔
  • جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کا ذکر اور جن سے نکاح جائز ہے ان کا تذکرہ۔ بیویوں سے حسن معاشرت کی تلقین اور شوہر سے بے وفائی اور خیانت کی سزا۔
  • ناحق کسی کا روپیہ پیسہ دبا لینے کی ممانعت۔ حرص اور طمع کی مذمت۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جاۓ گا۔ وراثت کا ثبوت۔
  • ﷲ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے۔ نیک عورتوں کی صفات اور نا فرمان بیویوں کی تادیب اور تنبیہ کے طریقے۔ ماں باپ، عزیز و اقارب، ہمسایہ، یتیموں اور حاجت مندوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم۔ برائی کرنے والا ﷲ کی نظر میں حقیر اور نا پسندیدہ ہے۔ قدرت ہونے کے باوجود بخل کرنے والے اور حاجتمندوں کی مدد نہ کرنے والے ذلت آمیز عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ ﷲ ذرہ برابر کسی کا حق نہیں رکھتا۔
  • یتیم کے احکام، یہودیوں کی گمراہی اور ﷲ کے احکام میں تحریف اور کاٹ چھانٹ کی سزا۔ چہروں کا مسخ کیا جانا۔ ﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے کبھی بخشے نہیں جائیں گے۔
  • یہودیوں کی شرارت اور خباثت کا ذکر۔ جن پر ﷲ نے لعنت کی ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ آل ابراہیم کی فضیلت اور برتری کا اظہار۔ جو لوگ ﷲ کے حکم اور اس کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ ایمان اور نیک اعمال والے دائمی نعمتوں سے نوازے جائیں گے۔ امانتوں کی حفاظت کی تاکید۔ حاکم عدل و انصاف سے فیصلہ کریں اور رعایا اپنے حاکموں کا حکم مانے۔
  • منافقوں کی مذمت، ان کے مکروفریب اور حیلہ سازیوں کا ذکر۔ ﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت ضروری ہے۔ ﷲ اور اس کے رسول کا حکم ماننے والوں کو نبی، صدیق اور شہید کی رفاقت میسر آۓ گی۔
  • جو شخص ﷲ کی راہ میں لڑے، خواہ غالب ہو یا مارا جاۓ ﷲ اس کو اجر و ثواب سے نوازتا ہے۔ مظلوم اور بے بس مسلمانوں کو کافروں سے چھڑانے کے لیے لڑنا ضروری ہے۔
  • ہجرت کے بعد کفار سے جہاد کی فرضیت۔ موت کسی صورت ٹلنے والی نہیں خواہ انسان خود کو محفوظ قلعوں میں بند کر لے۔ تکلیف اور راحت سب ﷲ کی طرف سے ہے۔ جس نے رسول ﷲ کی اطاعت کی اس نے ﷲ کی اطاعت کی۔ اگر کوئی نیک کام میں سفارش کرے تو وہ برائی میں حصہ دار ہو گا۔
  • ہدایت اور گمراہی دونوں ﷲ کے قبضے میں ہے۔ مسلمان کفار میں سے کسی کو دوست اور مدد گار نہ بنائیں۔ کافر اگر صلح پر آمادہ ہو جائیں اور وعدہ کی پاسداری کریں تو تم بھی خاموش ہو جاؤ اور اگر فتنہ و فساد برپا کریں تو ان کو پکڑو اور مار ڈالو۔
  • کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دینے کا حکم۔ مسلمان کو دانستہ قتل کر دینے کی سزا۔ بلا عذر گھر میں بیٹھ جانے والے ہرگز ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو ﷲ کی راہ میں لڑتے ہیں۔
  • جو شخص ﷲ کی راہ میں ہجرت کرے گا، اپنا گھر بار چھوڑے گا، ﷲ اس کو اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔
  • خوف اور خطرے کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان، کافروں کے تعاقب میں ہمت سے کام لینا چاہیے۔
  • قرآن نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کیا جاۓ۔ ان لوگوں کی برائی جو لوگوں سے تو ڈرتے ہیں مگر ﷲ سے نہیں ڈرتے۔ اگر کوئی گناہ سرزد ہو جا‌ۓ تو توبہ کر لینی چاہیے۔
  • منافقوں کی بعض عادات رذیلہ کا بیان۔ جو شخص رسول ﷲ کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کے راستے سے ہٹ کر راستہ اختیار کرے اسکا ٹھکا نہ جہنم ہے۔
  • جو شخص کسی اور کو ﷲ کا شریک گردانتا ہے اس کی کبھی بخشش نہ ہو گی۔ کافروں سے شیطان جو وعدے کرتا ہے وہ سب دھوکا اور فریب ہے۔ جو لوگ شیطان سے امیدیں باندھتے ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جو لوگ ایمان لاۓ اور نیک عمل کئے ان کے لیے ﷲ کی طرف طرح طرح کی نعمتیں ہیں۔
  • عورتوں اور یتیم لڑکیوں کے نکاح کے متعلق بعض احکام۔ عورتوں اور یتیموں کے حق میں بھلائی کا حکم۔ اگر کسی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو عدل سے کام لے۔
  • گواہی ہر حال میں سچّی دینی چاہیے۔ دل کی خواہش کے پیچھے مت دوڑو۔ جو لوگ مرتد ہو جائیں ان کی ہرگز معافی نہیں ہو گی۔ منافقوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
  • منافق پرلے درجے کے دغاباز ہیں۔ ان کی عبادات دکھاوے کی ہیں اور مسلمان کافروں اور منافقوں کو ہرگز دوست نہ بنائیں۔ ﷲ نیک اعمال کی قدر اور انکا بہتر بدلہ دینے والا ہے۔ کسی شخص کے عیب کو مشہور نہیں کرنا چاہیے۔ جو لوگ ﷲ کے رسولوں میں فرق کرتے ہیں، بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے وہ پکّے کافر ہیں۔
  • نبی پاک ﷺ سے یہودیوں کا یہ مطالبہ کہ اگر آپ سچے ہیں تو کوئی لکھی ہوئی کتاب کیوں نہیں لا دیتے۔ یہودیوں کی خباثت، عہد شکنیوں اور قلبی شقاوتوں کا ذکر۔ یہودیوں پر نازل کیے جانے والے عذابوں کا ذکر اور یہودیوں کے حضرت عیسی کو قتل کرنے کی تردید۔
  • جس طرح ﷲ نے پچھلے انبیاء پر وحی بھیجی اسی طرح نبی پاکﷺ پر وحی بھیجی۔ تاکہ قیامت کے دن لوگوں کو عذر کا موقع نہ رہے۔ دین میں مبالغہ آرائی نہ کرو۔
  • ﷲ کا حکم ماننا، اس کی عبادت کرنا اور اس کے حکم بجا لانا شرف ہے۔ جو شخص اس سے پھرے گا وہ ایک روز اس کی سزا ضرور ملے گی۔ جس نے قرآن کو پکڑ لیا اور اس کے مطابق عمل کیا اس کو نعمتوں سے نوازا جاۓ گا۔ اس شخص کی میراث کا حکم جس کے نہ باپ ہو اور نہ اولاد ہو۔
 
Top