علم الاحکام

طاہرہ فاطمہ

وفقہ اللہ
رکن
علم الاحکام میں واجب، مستحب، مباح، مکروہ اور حرام کا بیان ہوتا ہے، خواہ یہ سب عبادات سے متعلق ہوں یا معاملات سے، تدبیر و منزل ( گھریلو نظم و نسق) سےیا سیاست مدن (ملکی اور انتظامی معاملات) سے۔
اس علم کی تفصیل اہل فقہ (یعنی علمائے شریعت) کا کام ہے۔ قرآن مجید کی جن آیات میں احکام بیان ہوں ''انہیں آیات احکام'' کہا جاتا ہے۔ ایسی آیات میں احتصار سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ کسی فن کے اصول بیان کرنے والوں کی طرح غیر ضروری قیود کے قاعدوں سے بھی بحث نہیں کی گئی ہے۔
احکام کے مباحث کے بنیادی نکات:
احکام کے مباحث کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم ملت ابراہیمی میں مبعوث ہوئے۔ اس لیے ملت کی شریعت کو باقی رکھنا ضروری تھا۔ اس کے اہم مسائل کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہاں تعلیم، فرامین اور حدود و تعزیرات وغیرہ میں اضافہ ہوا۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کیونکہ ﷲ کی مشیت یہ تھی کہ عربوں کو پاک کرے، اور عرب سارے ملکوں کو پاک کریں۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ آپ صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت کا مواد عربوں کی رسوم و عادات سے لیا جائے۔
قرآن مجید کی رہنمائی:
قرآن مجید نے ملت ابراہیمی میں موجود بد نظمی کو دور کیا اور اصلاح و درستی کے صحیح طریقے جاری کیے۔ خاندانی معاشرے میں بھی نقصان دہ رسوم اور ظلم و سرکشی کا رواج تھا۔ شہریت کا نظام بگڑا ہوا تھا۔ قرآن مجید نے ان کے لیے اصول منضبط کیے اور حد بندی فرمائی۔
مسائل کا بیان:
قرآن مجید ایک ایسی معجز کتاب ہے جسے ﷲ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا۔ اس میں انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں ایسا کوئی حکم نظرانداز نہیں ہے جو انسانی زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جن احکام کا ذکر اجمالی طور پر کیا گیا ہے، نبی پاک صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کی توضیح فرمائی ہے۔
قرآن مجید میں مسائل نماز کا ذکر بطور اجمال کیا گیا۔
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ۝
‎ اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو (سورۃ بقرہ:43)
پھر نبی پاک صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم نے اس اجمالی حکم کی روشنی میں مساجد کی تعمیر، نماز با جماعت، اور اقامت نمازوغیرہ کے احکامات مرتب کیے۔ اسی طرح زکوۃ اور اسکے مصارف کو بھی بیان کر دیا گیا۔
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ۝
صدقات تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے (سورۃ توبہ:60)
روزے کا بیان سورۃ بقرہ میں مثلا
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۝
مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو (سورۃ بقرہ:183)
حج کا حکم اور احکام سورۃ بقرہ اور سورۃ حج میں مثلا
لْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ۝
حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو (سورۃ بقرہ:197)
جہاد کا حکم سورۃ بقرہ اور سورۃ انفال میں اور دوسرے متفرق مقامات پر مثلا
وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۝
اور خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) جانتا ہے (سورۃ بقرہ:244)
حدود کا حکم سورۃ مائدہ اور سورۃ نور میں۔ پردہ کے احکامات سورۃ نساء اور سورۃ نور میں بیان کیے گئے ہیں
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۝
اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں کسی پر اپنی زینت کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں نہ ماریں کہ ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ (سورۃ نور:31)
نکاح اور طلاق کے احکامات سورۃ البقرہ اور سورۃ الطلاق وغیرہ میں بیان کیا گیا ہے۔
میراث کا ذکر سورۃ نساء میں ذکر کیا گیا ہے۔
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۝
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کی اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے (سورۃ نساء:11)
اس کے علاوہ قصاص، متفرق سزائیں اور تجارت وغیرہ کے احکامات بھی بیان کیے گئے ہیں۔
 
Top