عربی گرائمر (حصہ اول)

طاہرہ فاطمہ

وفقہ اللہ
رکن
اسم:

اسم وہ کلمہ ہے جو خود کسی نام یا صفت پر دلالت کرے اور اس میں کوئی زمانہ نہ ہو جیسے، کِتَابٌ، بَیْتٌ وغیرہ۔

اسم کی اقسام بلحاظ اشتقاق و عدم اشتقاق:

اشتقاق و عدم اشتقاق کے اعتبار سے اسم کی تین اقسام ہیں:

  • جامد کی تعریف: وہ اسم ہے جو نہ مصدر ہو اور نہ مشتق جیسے رَجُلٌ ۔ یہ صرف ذات پر دلالت کرتا ہے۔
  • مصدر کی تعریف: وہ اسم ہے جس سے افعال اور اسمائے مشتقات نکلیں۔ جیسے ضَرْبٌ مارنا، ذَھَابٌ جانا ۔ مصدر کی درج ذیل اقسام ہیں
  • مصدر: وہ اسم ہے جو صرف حدث پر دلالت کرے اس میں زمانہ نہ ہو اور اس میں فعل کے تمام حرف لفظا یا تقدیرا پائے جائیں۔ جیسے علم سے عِلمٌ
  • اسم مصدر: وہ اسم ہے جو حدث پر دلالت کرے اور اس میں فعل کے تمام حروف نہ پائے جائیں۔ تکلم سے کلام۔
  • مصدر مرۃ: وہ مصدر ہے جو فعل کے ایک مرتبہ واقع ہونے پر دلالت کرے۔ جیسے ضَرَبَةٌ ۔
  • مصدر میمی: وہ مصدر ہے جس کے شروع میں میم زائد ہو۔ جیسے مَقْدَمٌ، مَرْجِعٌ ۔
  • حاصل مصدر: وہ لفظ ہے جو کسی فعل کی کیفیت، اثر یا نتیجہ ظاہر کرے۔ جیسے الحرب، الحسن وغیرہ۔
  • مشتق کی تعریف:وہ اسم جو مصدر سے بنا ہو جیسے ضارب، ناصر وغیرہ۔ مشتق کی سات اقسام ہیں۔
  • اسم فاعل: وہ اسم مشتق ہے جو کسی کام کرنے والے پر دلالت کرے۔ جیسے ضارب
  • اسم مفعول: وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات پر دلالت کرے جس پر فعل واقع ہو جیسے مضروب۔
  • اسم ظرف: وہ اسم مشتق ہے جو کسی کا کی جگہ یا وقت بتائے۔ جیسے مضرب، منصر۔
  • اسم آلہ: وہ اسم مشتق ہے جو اس چیز کو بتلائے جو کسی کام کرنے کا ذریعہ بھی ہو جیسے مبرد( پنسل تراش) وغیرہ۔
  • اسم تفصیل: وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات پر دلالت کرے جس میں بہ نسبت دوسرے کے مصدری معنی کی زیادتی پائی جائے۔ جیسے انصر، اکبر۔
  • اسم مبالغہ: وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات پر دلالت کرے جس میں مصدری معنی کی زیادتی پائی جائے، مثلا علام (بہت جاننے والا)۔
  • صفت مشبہ: وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات پر دلالت کرے جس مین مصدری معنی بطور ثبوت اور دوام کے پائے جائیں جسے جمیل صفت مشبہ فعل لازم سے بنائی جاتی ہے اور اس کے اوزان سماعی ہیں۔
اسم کی اقسام بلحاظ جنس:

جنس کے اعتبار سے اسم کی دو اقسام ہیں۔ مذکر مؤنث

مذکر: وہ اسم ہے جس میں علامت تانیث نہ ہو جیسے رجل، ناصر۔

مؤنث: وہ اسم ہے جس میں علامت تانیث لفظا یا تقدیرا ہو جیسے ناصرۃ، ارض۔ علامات تانیث تین ہیں۔ تائے تانیث مدورہ ''ۃ''، الف مقصورہ زائدہ ''ی'' اور الف ممدودۃ زائدہ ''اء''۔مؤنث کی دو اقسام ہیں۔

  • مؤنث قیاسی: وہ اسم ہے جس میں علامت تانیث لفظوں میں ہو، جیسے ناصرۃ ،حمراء۔
  • مؤنث سماعی: وہ اسم ہے جس میں علامت تانیث مقدر ہو یا اہل عرب نے اس کو مؤنث استعمال کیا ہو۔ جیسے ہواؤں کے نام، شرابوں کے نام، شہروں کے نام وغیرہ۔
اسم کی اقسام بلحاظ عدد:

تعداد کے اعتبار سے اسم کی تین قسمیں ہیں۔ واحد، مثنی، جمع۔

  • واحد: وہ اسم ہے جو ایک پر دلالت کرے جیسے مسلم (ایک مسلمان)۔
  • مثنی: وہ اسم ہے جو دو پر دلالت کرے، جیسے مسلمان (دو مسلمان)
  • جمع: وہ اسم ہے جو دو سے زائد افراد پر دلالت کرے، جیسے مسلمون، رجال۔جمع کی دو اقسام ہیں۔
  • جمع سالم: وہ جمع ہے جس میں واحد کا صیغہ سلامت رہے جیسے مسلم سے مسلمون۔
  • جمع مکسر: وہ جمع ہے جس میں واحد کا صیغہ سلامت نہ رہے جیسے رجل کی جمع رجال ہے۔
فعل:

فعل کی تعریف: فعل وہ کلمہ ہے جو خود کسی کام پر دلالت کرے اور اس میں کوئی زمانہ بھی پایا جائے جیسے نصر۔

فعل کی اقسام با اعتبار زمانہ:

زمانے کے اعتبار سے فعل کی تین قسمیں ہیں۔ ماضی، مضارع، امر

  • فعل ماضی: وہ فعل ہے جس میں گزرا ہوا زمانہ پایا جائے مثلا نصر اس نے مدد کی۔
  • فعل مضارع: وہ فعل ہے جس میں موجودہ یا آئندہ زمانہ پایا جائے جیسے ینصر وہ مدد کرتا ہے یا کرے گا۔ فعل مضارع کی درج ذیل اقسام ہیں۔
  • نفی مؤکد بلن: جب فعل مضارع کے شروع میں لن آئے تو اسے نفی مؤکد بلن کہتے ہیں۔
  • فعل نفی جحد بلم: جب فعل مضارع کے شروع میں لم آئے تو اس ےتفی جحد بلم کہتے ہیں۔
  • فعل نہی: وہ فعل ہے جس میں کسی کام سے روکا جائے جیسے لا تشرک باللہ تو اللہ کے ساتھ شرک نہ کر۔
  • فعل مضارع مؤکد بانون تاکید: جب فعل مضارع کے آخر میں نون تاکید آئے تو اسے فعل مضارع مؤکد بانون تاکید کہتے ہیں۔
3) فعل امر: وہ فعل ہے جس میں آئندہ زمانے میں کسی کام کا حکم دیا جائے۔ جیسے انصر تو مدد کر۔

اقسام فعل با اعتبار نسبت:

نسبت کے اعتبار سے فعل کی دو قسمیں ہیں معروف اور مجہول۔

  • فعل معروف: وہ فعل ہے جس کا کرنے والا معلوم ہو۔ جیسے قرء زید قرآنا زید نے قرآن پڑھا۔ اس میں پڑھنے والا معلوم ہے۔
  • فعل مجہول: وہ فعل ہے جس میں کام کرنے والا معلوم نہ ہو۔ جیسے قرء قرآنا قرآن پڑھا گیا۔ اس میں پڑھنے والا معلوم نہیں ہے۔
اقسام فعل با اعتبار مفعول:

مفعول کے اعتبار سے فعل کی دو قسمیں ہیں لازم اور متعدی۔

  • فعل لازم: وہ فعل ہے جو صرف فاعل پر پورا ہو جائے اور مفول بہ کی ضرورت نہ ہو۔ جیسے جاء زید زید آیا
  • فعل متعدی: وہ فعل ہے جو صرف فاعل پر پورا نہ ہو بلکہ اسے مفعول بہ کی بھی ضرورت ہو جیسے ضرب زید عمر زید نے عمر کو مارا۔
اقسام فعل با اعتبار ثبوت و عدم ثبوت:

ثبوت و عدم ثبوت کے اعتبار سے فعل کی دو قسمیں ہیں مثبت اور منفی۔

  • فعل مثبت: وہ فعل ہے جس مین کسی کام کا کرنا یا ہونا بتایا جائے جیسے نصر اس نے مدد کی۔
  • فعل منفی: وہ فعل ہے جس میں کسی کام کا نہ کرنا یا نہ ہونا بتایا جائے۔ جیسے ما نصر اس نے مدد نہیں کی۔
حروف اصلیہ کی تعداد کے اعتبار سے فعل کی اقسام:

حروف اصلیہ کی تعداد کے اعتبار سے فعل کی چار قسمیں ہیں۔

  • ثلاثی مجرد: وہ فعل ہے جس کی ماضی کے صیغہ واحد مذکر غائب میں صرف تین حرف اصلی ہوں، کوئی حرف زائد نہ ہو۔ جیسے نصر۔
  • ثلاثی مزید فیہ: وہ فعل ہے جس کی ماضی کے صیغہ واحد مذکر غائب میں تین حرف اصلی کے علاوہ کوئی حرف زائد بھی وہ جیسے اکرم۔
  • رباعی مجرد: وہ فعل ہے جس کی ماضی کے صیغہ واحد مذکر غائب میں چار حروف اصلیہ ہوں اور کوئی حرف زائد نہ ہو جیسے دحرج۔
  • رباعی مزید فیہ: وہ فعل ہے جس کی ماضی کے صیغہ واحد مذکر غائب میں چار حروف اصلیہ کے علاوہ کوئی حرف زائد بھی ہو جیسے تدحرج۔
حرف:

حرف کی تعریف: وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر دلالت کرنے کے لیے اسم یا فعل کا محتاج ہو۔ جیسے اَنْ ، لَمْ وغیرہ۔

حرف کی صرفی اعتبار سے اقسام:

حرف کی صرفی اعتبار سے دو قسمیں ہیں حرف اصلی اور حرف زائد۔

  • حرف اصلی: وہ حرف ہے جو وزن کرتے وقت فاء، عین یا لام کلمہ ک جگہ پر آئے۔ جو فاء کی جگہ وہ اسے فاء کلمہ، جو عین کی جگہ ہو اسے عین کلمہ اور جو لام کی جگہ ہو اسے لام کلمہ کہتے ہیں۔ جیسے نصر اس میں ''ن'' فاء کلمہ، ''ص'' عین کلمہ اور ''ر'' لام کلمہ ہے۔
  • حرف زائد: وہ حرف جو وزن کرتے وقت فاء، عین یا لام کلمہ کی جگہ پر نہ ہو۔ جیسے اکرم اس میں ک، ر،م اصلی اور ہمزہ زائد حرف ہے۔
حرف کی نحوی اعتبار سے اقسام:

حرف کی نحوی اعتبار سے دو قسمیں ہیں۔ عاملہ اور غیر عاملہ

  • حرف عاملہ: وہ حرف ہے جو رفع، نصب یا جر دیتے ہیں۔ ان کی درج ذیل اقسام ہیں۔
  • حروف جارہ: وہ حروف ہیں جو اسم کو جر دیتے ہیں۔ یہ 17 ہیں۔ بِ، لِ، مِنْ، حَتّٰی، فِی، عَنْ، اِلَی، عَلَی، کَ، حَاشَا، خَلَا، عَدَا، مُنْذُ، مُذْ، رُبَّ، وَ، تَ۔
  • حروف مشبہ بالفعل: یہ مبتدا کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ یہ چھ ہیں إِنَّ، أَنَّ، کَأَنَّ، لٰـکِنَّ، لَیْتَ، لَعَلَّ
  • ما ولا مشابہ بلیس: یہ مبتدا کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں۔ یہ دو ہیں مَا اورلَا ۔
  • لائے نفی جنس: یہ مبتدا کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ یہ صرف ایک ہے لَا۔
  • حرف نداء: یہ اسم کو نصب دیتے ہیں۔ یہ پانچ ہیں ۔ یَا، أَیَا، ھَیَا، أَیْ، ہمزہ مفتوحہ۔
  • حروف ناصبہ در فعل مضارع: یہ فعل مضارع کو نصب دیتے ہیں۔ یہ چار ہیں اَنْ، لَنْ، كَىْ، اِذَنْ ۔
  • حروف جازمہ در فعل مضارع: یہ فعل مضارع کو جزم دیتے ہیں یہ پانچ ہیں لَمْ ،لَمَّا، لام امر، لائے نہی، اِنْ شرطیہ۔
  • حروف غیر عاملہ: وہ حروف ہیں جو لفظی عمل نہیں کرتے ان کی درج ذیل قسمیں ہیں:
  • حروف استفھام: وہ حروف ہیں جن کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے۔ یہ دو ہیں :أَ، هَلْ ۔
  • حروف مصدریہ: وہ حروف ہیں جو جملے کو مصدر کے معنی میں کے دیتے ہیں۔ یہ تین ہیں :مَا، اَنْ، اَنَّ۔
  • حروف تفسیر: وہ حروف ہین جو ما قبل کی وضاحت کے لیے آتے ہیں۔ یہ دو ہیں :اَىْ، اَنْ ۔
  • حروف جواب: وہ حروف ہیں جو جواب دینے کے لیے آتے ہیں یہ سات ہیں :اَجَلَ، جَيْرِ، اِنَّ، بَلٰى، اِيْ، نَعَمْ، لَا۔
  • حروف توقع: قَدْ ہے جب یہ ماضی کے ساتھ آتا ہے تو تحقیق کے معنی دیتا ہے۔
  • حروف شرط: وہ حروف ہیں جو شرط کے معنی دیتے ہیں۔ یہ چار ہیں :اَمَّا، لَوْ، لَوْلَا، لَوْمَا۔
  • حروف تنبیہ: وہ حروف ہیں جو مخاطب سے غفلت دور کرنے کے لیے جملہ سے پہلے آتے ہیں۔ وہ تین ہیں اَلَا، اَمَا، هَا۔
  • حروف تحضیض و تندیم: وہ حروف ہیں جو مخاطب کو رغبت یا ندامت دلانے کے لیے آتے ہیں یہ چار ہیں اَلَّا، هَلَّا، لَوْمَا، لَوْلَا۔
  • حرف ردع: وہ حرف ہے جو ڈانٹ اور انکار کے لیے آتا ہے۔ یہ صرف ایک حرف ہے كَلَّا۔
  • حروف تاکید: وہ حروف ہیں جو تاکید پیدا کرنے کے لیے آتے ہیں۔ یہ دو ہیں نون تاکید اور لام ابتداء۔
حروف زائدہ: وہ حروف ہیں جن کو حذف کرنے سے معنی میں کوئی خلل نہ آے۔ یہ آٹھ ہیں:اِنْ، اَنْ، مَا، لَا، مِنْ، كَ، بِ، لَ۔ (الیاقوت والمرجان)
 
Top