عربی گرائمر: اسباب منع الصرف

طاہرہ فاطمہ

وفقہ اللہ
رکن
غیر منصرف: وہ اسم ہے جس میں اسباب منع صرف میں سے دو سبب یا ایک ایسا سبب جو دو سبب کا قائم مقام ہو، پایا جائے۔ اور اس پر تنوین اور کسرہ نہیں آتا۔

اسباب منع صرف نو ہیں :

  • عدل
  • وصف
  • تانیث
  • معرفہ
  • عجمہ
  • جمع
  • ترکیب
  • وزن فعل
  • الف نون زائدتان
1) عدل:

اسم کا بغیر کسی قاعدۂ صرفیہ کے اپنے اصلی صیغہ سے نکل کر دوسرے صیغے کی طرف چلے جانا۔ اس طرح کہ مادّے کے حروف باقی رہیں، جیسے: عامرٌ سے عمرُ بن گیا ہے، پس عمرُ میں عدل ہے۔ ایسے ہی ثُلٰثُ (تین تین) سے ثَلٰثَۃٌ ثَلٰثَۃ

جو اسم دوسرے صیغے سے پھیرا گیا ہو اسے ''معدول'' اور جس صیغے سے پھیرا گیا ہو یا بنایا گیا ہو اسے ''معدول عنہ'' کہتے ہیں۔ جیسے مذکورہ مثالوں میں ثُلٰثُ اور عُمَرُ معدول اور ثَلٰثَۃٌ ثَلٰثَۃٌ اور عَامِرٌ معدول عنہ ہیں۔

عدل کی اقسام:

عدل کی دو قسمیں ہیں:

1) عدل تحقیقی: وہ اسم معدول جس میں (غیر منصرف ہونے کے علاوہ) اصلی صیغے سے معدول ہونے کی دلیل موجود ہو۔ جیسے:ثُلٰثُ

ثُلٰثُ
کا معنی ہے: ''تین تین'' اس سے معلوم ہوا کہ اس کی اصل ثَلٰثَۃٌ ثَلٰثَۃٌ ہے کیونکہ ثُلٰثُ میں معنی کی تکرار ہے اور معنی کی تکرار لفظ کی تکرار پر دلالت کر تی ہے اس دلیل سے معلوم ہوا کہ ثُلٰثُ، ثَلٰثَۃٌ ثَلٰثَۃٌ سے معدول ہے۔

ایک سے لیکر دس تک کے اعداد جب فُعَالُ یا مَفْعَلُ کے وزن پر ہوں تو ان میں عدل تحقیقی ہو گا۔ جیسے: أُحَادُ، مَوْحَدُ، رُبَاعُ، مَرْبَعُ، عُشَارُ، مَعْشَرُ وغیرہ۔

2) عدل تقدیری: وہ اسم معدول جس میں (غیر منصرف ہونے کے علاوہ) اصلی صیغے سے معدول ہونے کی دلیل موجود نہ ہو۔ جیسے: عُمَرُ، زُفَرُ۔

یہ دونوں عَامِرٌ اور زَافِرٌ سے معدول ہیں مگر ان میں غیرمنصرف ہونے کے علاوہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ یہ عامر اور زافر سے معدول ہیں۔ مگرچونکہ اہل عرب ان کوغیر منصرف استعمال کرتے ہیں اور ان میں سوائے علمیت کے اور کوئی دوسرا سبب بھی نہیں پایا جا رہا ہے اور ایک سبب سے کوئی اسم غیر منصرف نہیں ہوتا لہذا اس میں دوسراسبب عدل فرض کر لیا گیا ہے اورعُمَرُ کوعَامِرٌ سے اور زُفَرُ کو زَافِرٌ سے معدول مان لیا گیا۔

شرط:

عدل کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے کوئی شرط نہیں۔

2) وصف:

اسم کا ایسی ذاتِ مبہم پر دلالت کرنا جس میں اس کی کسی صفت کا لحاظ کیا گیا ہو، جیسے: اَحْمَرُ(سرخ) ، اَسْوَدُ(سیاہ) اَبْیَضُ (سیفد) وغیرہ۔

لفظ أَحْمَرُ ایک ایسی ذات پر دلالت کررہا ہے جس کے ساتھ اس کی ایک صفت یعنی ''سرخ ہونا'' بھی ماخوذ ہے۔اسی طرح أَخْضَرُ،اَسْوَدُ وغیرہ ہیں۔

شرط:

وصف کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اصل وضع میں وصف ہو۔ یعنی اس کی وضع ہی وصفی معنی کے لیے ہوئی ہو۔ جیسے: اَبْیَضُ اور أَسْوَدُ وغیرہ۔

فائدہ:

جواسماء اصل وضع میں وصف ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:

صفت مشبہ جیسے: أَحْمَرُ، حَسَنٌ

اسم تفضیل جیسے:اَجْدَرُ، اَلْیَقُ

اسم فاعل جیسے:ذَاہِبٌ، قَائِمٌ

اسم مفعول جیسے: مَضْرُوْبٌ، مَغْسُوْلٌ

ایک سے لیکر دس تک وہ اسماء اعداد جو فُعَالُ یا مَفْعَلُ کے وزن پر معدول ہوں جیسے: أُحَادُ، مَوْحَدُ، ثُنَاءُ، مَثْنٰی، ثُلٰثُ، مَثْلَثُ وغیرہ

3) تانیث:

اسم کا مؤنث ہونا ہے، جیسے: طلحۃُ، زینبُ، حبلیٰ، صحرائُ۔

علامت تانیث کبھی لفظاً ہوتی ہے اورکبھی معنی، لفظاً علامت تانیث تین طرح کی ہوتی ہیں اورمعنیً علامت تانیث صرف ایک ہوتی ہے اور وہ ''ۃ'' ہے۔ جیسے: قَدَمٌ، دَارٌ وغیرہ۔

فائدہ:

وہ تانیث جس میں علامت تانیث الف مقصورہ یا الف ممدودہ ہو اسے ''تانیث بالالف'' کہتے ہیں۔ اور جس میں علامت تانیث ''ۃ'' لفظاً ہو اسے ''تانیث لفظی'' کہتے ہیں۔ اور جس میں تقدیراً ہو اسے ''تانیث معنوی'' کہتے ہیں۔

شرائط:

1) تانیث بالالف (چاہے الف ممدودہ کے ساتھ ہو یا الف مقصورہ کے ساتھ) دوسببوں کے قائم مقام ہوتی ہے اور اس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے کوئی شرط بھی نہیں ہے۔

2) تانیث لفظی کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے اسم مؤنث کا علم ہونا شرط ہے۔ جیسے: طَلْحَۃُ، فَاطِمَۃُ۔

3) تانیث معنوی میں جواز ِمنعِ صرف کے لیے مؤنث کا علم ہونا شرط ہے، اور اگر اس کے ساتھ درج ذیل تین چیزوں میں سے کوئی چیز پائی جائے تو اسے غیر منصرف پڑھنا واجب ہو جائے گا:

1) وہ اسم تین حروف سے زائد حروف پر مشتمل ہو۔ جیسے:زَیْنَبُ۔

2) اگر وہ اسم تین حرفی ہوتو متحرک الاوسط ہو۔ جیسے:سَقَرُ۔

3) وہ اسم عجمہ ہو۔ جیسے:مَاہُ، جُوْرُ (شہروں کے نام)۔

4) معرفہ:

اسم کا کسی معیَّن چیز پر دلالت کرنا، جیسے: زینبُ۔

تعریف کی شرط:

تعریف کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے اسم کا علم ہونا شرط ہے۔

5) عجمہ:

غیر عربی زبان کا لفظ ہونا، جیسے: ابراہیمُ۔

عجمہ کی شرط:

عجمہ کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے دو شرطیں ہیں:

1) اسم، لغتِ عجم میں علم ہو۔ جیسے:اِبْرَاھِیْمُ۔

2) وہ اسم یا توزائد علی الثلثۃ ہو۔ جیسے مثال مذکور میں، یا ثلاثی ہو تو متحرک الاوسط ہو۔ جیسے: شَتَرُ(قلعہ کا نام) ۔

6) جمع:

وہ اسم جو مفرد میں کچھ زیادتی کے ساتھ دو سے زائد افراد پر دلالت کرے۔ جیسے: مَسَاجِدُ، مَصَابِیْحُ وغیرہ۔

شرائط:

جمع کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ جمع منتہی الجموع کے صیغے پر ہو۔ جیسے مذکورہ مثالیں۔

7) ترکیب:

دو یا اس سے زائد اسماء کا مل کر ایک ہو جانا۔ جیسے: بَعْلَبَکُّ، مَعْدِیْکَرِبُ۔

اس میں بَعْلٌ اور بَکٌّ اسی طرح مَعْدِیْ اورکَرِبُ کو ملا کر ایک کلمہ بنا دیا گیا ہے۔ اول ایک شہر کا نام ہے اور ثانی ایک شخص کا نام ہے ۔

شرائط:

ترکیب کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے چند شرائط ہیں:

اسم مرکب کسی کا علم ہو۔

ترکیب بغیر اضافت اور بغیر اسناد کے ہو۔

دوسراجزء حرف نہ ہو۔

دوسرا جزء حرف عطف کومتضمن(شامل)نہ ہو۔

مذکورہ بالامثالوں میں یہ تمام شرائط موجود ہیں۔

8) وزن فعل:

اسم کا اوزان فعل میں سے کسی وزن پر ہونا۔ جیسے:شَمَّرَ (گھوڑے کا نام)

شَمَّرَ، فَعَّلَ کے وزن پر ہے اور فَعَّلَ فعل کے اوزان میں سے ایک وزن ہے۔

شرائط:

وزن فعل کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ وزن فعل ہی کے ساتھ خاص ہو۔ اور اگر وہ وزن فعل کے ساتھ خاص نہ ہو تو یہ شرط ہے کہ اسم کے شروع میں حروفِ اَتَین (ا، ت، ی، ن) میں سے کوئی حرف ہو۔ جیسے: أَحْمَدُ، یَشْکُرُوغیرہ۔

فائدہ:

چھ اوزان ایسے ہیں جنھیں فعل کے ساتھ خاص مانا جاتاہے:

  • فَعَّلَ
  • فُعِّلَ
  • فُعِلَ
  • فُعْلِلَ
  • تَفَعْلَلَ
  • تُفُعْلِلَ (اَلْمُقَدِّمَۃُ الْبَاسُوْلِیَّہ)
9) الف نون زائدتان :

وہ الف نون جو کسی اسم کے آخر میں زائد ہوں۔ جیسے:عثمان، ندمان (ہم نشین)

شرائط:

الف نون زائدتان اگر اسم محض (جوصفت نہ ہو) کے آخرمیں ہوں تو اس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ

وہ علم ہو۔ جیسے: عُثْمَانُ، عِمْرَانُ، سَلْمَانُ وغیرہ۔

اگر اسم صفت کے آخر میں ہوں تو شرط یہ ہے کہ اس پر تاء ِتانیث نہ آتی ہو۔ جیسے: سَکْرَانُ کہ اس کے آخر میں تاء تانیث نہیں آتی کیونکہ اس کی تانیث سَکْرٰی ہے۔

اسباب منع الصرف کی مثالوں کا جدول:

اسباب
مثالیں
ایک سبب کی وجہ سے غیر منصرف ہونے والے اسماء
منتھی الجموع یہ ایک ہی سبب ہے۔لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّـٰهُ فِىْ مَوَاطِنَ كَثِيْـرَةٍ ۙ (توبہ 25)وَاَرْسَلَ عَلَيْـهِـمْ طَيْـرًا اَبَابِيْلَ (الفیل 3)
تانیث یہ ایک ہی سبب ہےاِنَّـهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ ( البقرہ 69)وَنَزَعَ يَدَهٝ فَاِذَا هِىَ بَيْضَآءُ (الاعراف)
دو سبب سے غیر منصرف ہونے والے اسماء

1) علم
علم+عجمیوَجَآءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ (یوسف 58)وَاذْكُرْ فِى الْكِتَابِ اِسْـمَاعِيْلَ (مریم 54)
علم + الف نون زائدتانوَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ (لقمان 12)اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرَانَ (ال عمران 35)
علم + مؤنث (سماعی و حقیقیوَلِلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِـمْ عَذَابُ جَهَنَّـمَ (الملک 6)وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَـمَ (الصف 6)
علم + عدلسَلَامٌ عَلٰٓى اِلْ يَاسِيْنَ ( الصفت 130)وَطُوْرِ سِيْنِيْنَ ( التین2)
علم + وزن فعليَّاْتِىْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهٝٓ اَحْـمَدُ (الصف 6)وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِـمِيْنَ
( الاعراف 151)
علم + ترکیببَعْلِبَکُمَعدِیْکَرِبُ
2) صفت
صفت +الف نون زائدتانرَجَعَ مُوْسٰى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًاۙ (الاعراف 150)هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْـهُـدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ (البقرۃ 185)
صفت + عدلمَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ا(لنساء3)وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ ۗ (البقرۃ 185)
صفت + وزن فعلحَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ (البقرۃ 187)قُلْ اَىُّ شَىْءٍ اَكْبَـرُ شَهَادَةً ۖ (الانعام 19)
 
Top