زکوٰۃ کے مالی اور انتظامی ادارے کے حقوق و فرائض

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
عاملین زکوٰۃ یا زکوٰۃ کا مالی اور انتظامی ادارہ

1) ادارہ کی اہمیت:

زکوٰۃ وصول کرنا اور اس کو تقسیم کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے اور اس کے لیے حکومت کے پاس ایک واضح اور منظم طریقہ کار ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر یوسف القرضاوۃ کی کتاب فقہ الزکاۃ میں اس کی تفصیلی وضاحت موجود ہے جو ذیل نقل کی جاتی ہے۔

"ان آٹھ اصناف کہ جن کا تذکرہ قرآن مجید میں ہوا ہے ان میں ایک عاملین زکوٰۃ بھی ہے۔ ان سے مراد وہ افراد ہیں جو کہ زکوٰۃ اکٹھی کرنے کے لیے ایک انتظامی ادارہ میں کام کرتے ہیں چاہے کسی بھی طرح کا کام ان کے حصہ میں ہو۔ ان تمام عاملین کی اجرت اسی مال زکوٰۃ میں سے ادا کی جائے گی۔ مال کے مالکوں سے الگ سے کچھ وصول نہیں کیا جائے گا اور اس زکوٰۃ کو ایک مستقل حساب تصور کیا جائے گا جو کہ اس کے نظام کو چلانے والوں پر بھی خرچ کیا جا سکے گا۔

اب اس مصرف کو اس نظر سے دیکھا جائے کہ قرآن مجید میں اس کو کس طرز پر بیان کیا گیا ہے۔ اگر اس طرز اور اہتمام پر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کوئی انفرادی فریضہ نہیں ہے بلکہ اس کے لیے سرکاری مشینری کا استعمال ضروری ہے اور اس کے لیے باقاعدہ ایک محکمہ کا قیام ضروری ہے اور اس کے عاملین کی تنخواہیں اسی زکوٰۃ میں ادا کی جائیں گی"۔

وصولی زکوٰۃ کے لیے نمائندگان کا بھیجنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اگر ہم نظر اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں یہ نظیر ملتی ہے کہ حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین اپنے دور میں وصول کنندگان بھیجا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ کی ایک حدیث ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے حضرت عمر کو صدقہ (زکوٰۃ) وصول کرنے کے لیے بھیجا۔

اسی وجہ سے فقہاء کا کہنا کہ امام پر ان وصول کنندگان کو بھیجنا لازم ہے۔

حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ابن اللتبیہ کو صدقات پر عامل مقرر فرمایا۔

الغرض عاملین زکوٰۃ کے ہونے کی ضرورت اس امر سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ لوگوں کے پاس جو مال موجود ہوتا ہے ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے مال پر کس قدر زکوٰۃ واجب ہے تو عاملین زکوٰۃ ہونے کی صورت میں اس بارے میں بھی جان لیں گے اور اپنی زکوٰۃ بھی ادا کر دیا کریں گے۔

جہاں تک بات فصلوں اور پھلوں کی ہے تو اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ ان اشیاء پر سال گزرنے کی شرط نہیں ہے بلکہ جب ان کے توڑنے اور کٹائی کا وقت آ جائے تو امام اور حکومت وقت پر یہ لازم ہے کہ وہ اسی وقت عاملین زکوٰۃ کو بھیج دے تاکہ وہ ان سے زکوٰۃ وصول کرے اور اس کام کے لیے ان کا کٹائی کے وقت وہاں موجود ہونا ضروری ہے۔

اور باقی مویشی اور دیگر اموال پر کہ جن پر سال گزرنے کی شرط ہو تو امام کا فرض ہے کہ اس کام کے لیے ایک مہینہ مقرر کر دے تاکہ اس سے سال کا اندازہ لگایا جائے کہ سال مکمل کب ہو رہا ہے اور بہتر ہے کہ محرم کا مہینہ ہو چاہے موسم سرما ہو یا گرما اس وجہ سے کہ اسلامی سال کا آغاز اسی ماہ سے ہوتا ہے۔

2) عاملین کے فرائض:

عاملین زکوٰۃ پر لازم ہے کہ وہ جس شہر یا مقام پر ہوں اس میں زکوٰۃ کی وصولی کے لئے ہوم ورک کریں تا کہ ان کو لوگوں کی تعداد، مقام، مال کی مقدار اور اس پر لازم زکوة وغیرہ معلوم ہوں اور اس سب کا تعلق نظام زکوٰۃ سے ہے اور ان کو یہ بھی معلوم کرنا ضروری ہے کہ مستحق زکوٰۃ کتنے ہیں اور ان کی ضروریات کتنی ہیں اور کس قدر مال سے پوری ہو جائیں گی۔ الغرض ایک مکمل نظام کی ضرورت ہے کہ جو ان سب کی معلومات رکھتا ہو۔

3) زکوة کے دو ادارے:

موجودہ زمانے میں زکوٰۃ کے دو اداروں کا قیام ضروری ہے۔

1: حصول زکوة کے لئے اداره

2: زکوة کی تقسیم کا اداره

1: زکوٰۃ وصول کرنے کا ادارہ اور اس کی زمہ داریاں اور دائرہ کار:

یہ ادارہ اس طور پر کام کرے گا جیسا کہ کسی ملک میں ٹیکس وصولی کا ادارہ کام کرتا ہے۔ لیکن اس ادارہ کی ذمہ داری یہ ہو گی کہ وہ زکوة ادا کرنے والوں کی تعداد، ان کے مال کی نوعیت اور ان پر واجب الادا رقم زکوة وغیرہ کا حساب رکھیں گے۔ اسی طرح اس ادارے کا یہ کام ہو گا کہ وہ جمع شدہ رقم پر زکوة تقسیم کرنے والے ادارے کو مہیا کریں گے۔ تاہم اس ادارے کا ایک مربوط نظام ضروری ہے کہ جو شاخوں کی صورت میں ہر علاقے میں پھیلا ہوا ہو۔

لیکن یہ ادارہ ٹیکس وصول کرنے والے ادارے سے کسی قدر وسیع ہو گا کیونکہ ٹیکس صرف مال سے وصول کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس زکوة کے معاملہ میں ایسا نہیں ہے بلکہ اس میں دیگر بہت سے اشیاء موجود ہیں کہ جن سے زکوٰۃ وصول کی جاتی ہے۔ مثلاً پھل، فصلیں، مویشی وغیرہ۔ لیکن ان تمام اشیاء میں زکوٰۃ واجب شدہ کی قیمت لینا بھی درست ہے۔ جیسا کہ حضرت امام ابو حنیفہ کا مسلک ہے۔

ذیلی ادارے:

اس ادارے کے ذیلی ادارے اس طرح تشکیل پا سکتے ہیں:

  • ایک شاخ کا کام یہ ہو کہ وہ صرف اور صرف کانوں اور رکاز کی زکوة بحساب خمس یعنی 20 فیصد وصول کرے۔
  • دوسری شاخ کا کام یہ ہو کہ وہ صرف غلوں اور پھلوں وغیرہ کا حساب رکھے اور ان اداروں سے زکوة کی وصولیاں کرے جس میں شرح زکوة عشر (دس فیصد) یانصف عشر (پانچ فیصد) ہوتی ہے۔
  • تیسری شاخ کا کام یہ ہو کہ وہ مویشیوں کا حساب کتاب رکھے اور ان پر لازم ز کوۃ وصول کرے۔
  • چوتھی شاخ کا کام یہ ہو کہ وہ نقود اور اموال تجارت پر بحسب ربع یعنی %2.5 زکوٰۃ کی وصولی کا اہتمام کرے۔
2: تقسیم زکوة سے متعلق ادارہ اور اس کی ذمہ داریاں:

اس ادارے کا کام کرنے کا طریقہ اور اس ادارے کی شکل و صورت ایک اجتماعی انشورنس کے سے ادارے کی ہو سکتی ہے۔ اس ادارہ کا کام یہ ہو گا کہ وہ مستحق زکوة کو تلاش کرے کہ ان کی تعداد اور ان کی ضروریات کتنی ہیں اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کتنی مقدار مال کی کافی ہو گی اور ان کی ضروریات کس طرح مضبوط بنیادوں پر پوری کی جا سکتی ہیں۔

امام وقت اور زکوٰۃ وصول کرنے والے پر یہ بات لازم ہے کہ وہ مستحقین زکوة کی تعداد سے زیادہ ان کی ضروریات سے بخوبی واقف ہوں اور ان کو یہ بھی معلوم ہو کہ زکوٰۃ کی کتنی رقم ان کی ضروریات کے لئے کافی ہو گی اور ان کا کام یہ ہو گا کہ وہ زکوٰۃ وصول کرتے ہی فورا اس کو تقسیم کرنا شروع کر دیں تاکہ مال کے ضیاع کا امکان کم سے کم ہو۔

ان مندرجہ بالا حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہاء اسلام نے کس قدر محنت سے ان مستحقین کے بارے میں معلوم کرنے اور ان پر زکوٰۃ کے خرچ کرنے کے موضوع پر بہت زیادہ توجہ فرمائی ہے تاکہ مستحقین کو زکوٰۃ بغیر ان کے مطالبہ کے ان تک پہنچ جائے۔

استحاق کا اثبات:

اب مذکورہ بالا دونوں شعبوں پر یہ لازم ہے کہ وہ یہ معلوم کریں کہ جس شخص کو وہ زکوٰۃ دے رہے ہیں آیا وہ اس کا مسحتق ہے بھی یا نہیں؟

اس کے متعلق احادیث موجود ہیں جن سے استنباط کر کے فقہاء نے متعلقہ اصول و ضوابط منضبط کیے ہیں جن میں کچھ درج ذیل ہیں۔

1: فقراء جن کا ذریعہ آمدن نہ ہو:

فقراء اور مساکین کے استحقاق کی شرط یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ آمدن نہ ہو کہ جو ان کی ضرورت کی کفالت کر سکتا ہو۔ کمانے کی قدرت نہ رکھتے ہوں۔ اس میں وہ شخص بھی شامل ہے کہ جو اپنے کسب سے اپنی ضرورت کے بقدر نہ حاصل کر سکتا ہو۔

2: کسب اور کمائی سے مراد:

اس بارے میں یہ کہا گيا ہے کہ کسب سے وہ مراد ہے جو اس کی حالت اور خاندانی شرافت کے مطابق ہو۔ لہذا اگر ایسی صورتحال ہے کہ وہ ذریعہ آمدن اس کے موافق اور اس خاندانی شرافت کے مطابق نہ ہو تو وہ زکوٰۃ کی رقم لے سکتا ہے۔ ایسا شخص جو بالعموم ہاتھ سے مشقت کرنے کا عادی نہیں مثال کے طور پر عالم تو بقدر کفایت اس میں سے زکوٰۃ لے سکتے ہیں۔ لیکن اس وقت تک جب ان کو کسب میسر نہ آجائے۔

3: ایسا طالب علم جو کمانے کی استطاعت رکھتا ہو:

ایسا طالب علم جو کمانے کی استطاعت رکھتا ہو مگر اس سے اس کے حصول علم میں حرج لازم آتا ہو تو اس کے لیے بھی زکوٰۃ لینا جائز ہے۔ اگر طالب علم نہ ہو اور کسب معاش پر قادر بھی ہو اور مدرسہ میں مقیم ہو تو اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے۔

4: جائیداد کا مالک فقیر شخص:

اگر کسی شخص کے پاس جائیداد ہے جس سے اس کو آمدنی حاصل ہوتی ہے مگر وہ اس وہ ضرورت پوری نہیں کر پاتی تو اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ اس کو جائیداد بیچنے کے لیے بھی نہیں کہا جائے گا۔

5: ثابت شدہ مالدار کا دعوی فقیری:

اگر کسی شخص کے بارے میں یہ بات ثابت شدہ ہو کہ وہ مالدار ہے مگر وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ میں فقیر ہوں تو اس کو اس وقت تک زکوٰۃ نہیں دی جائے گی جب تک اس بات پر ثبوت نہ پیش کرے کہ وہ فقیر ہے کیونکہ اس کا غنی اور امیر ہونا تو ثابت ہے مگر فقر اور غربت ثابت نہیں ہے اور وہ ثبوت کے بغیر ممکن نہیں کہ ثابت ہو پائے۔

6: تنگدستی کا دعوے دار شخص:

اگر کسی شخص کا مالدار ہونا سب کو معلوم نہ ہو اور وہ تنگدستی کا دعوی کرتا ہے تو اس کا یہ دعوی قابل قبول ہے اس لیے کہ تنگدستی ایک ایسی حالت ہے جو کہ چھپی ہوئی ہے اور اس پر ثبوت قائم کرنا یا بینہ پیش کرنا مشکل ہے۔

7: بے روزگاری کا دعویدار شخص:

اگر بےروزگاری کا دعویدار شخص بہت بوڑھا ہو اور اگر جوان ہو تو اتنا کمزور لگتا ہو کہ کام نہ کر سکے تو اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ مگر جب کوئی مضبوط نوجوان یہ دعوی کرے تو اس کا یہ دعوی معتبر نہ ہو گا۔

8: صاحب عیال شخص:

اگر صاحب عیال شخص بقدر روزی کا مالک نہیں ہے تو اس سے ثبوت مانگا جائے گا جو کہ اس کے لیے آسان ہے۔

9: مقروض ہونے کا دعویدار:

مقروض کی یہ بات بغیر ثبوت کے قبول نہیں کی جائے گی۔ مذکورہ بالا صورتوں میں ثبوت پیش کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ عدالت لگائے اور گواہ پیش کرے۔ بلکہ دو عادل افراد کا یہ بتا دینا کہ یہ شخص درست بات کر رہا ہے تو یہی کافی ہوتا ہے۔

4) فی سبیل ﷲ کے مفہوم کی وضاحت:

فی سبیل ﷲ کے مصرف کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ اس اختلاف کا خلاصہ یہ ہے یہ کہ

  • جہاد قطعی طور پر فی سبیل ﷲ کی زکوٰۃ کی مد ہے۔
  • مجاہدین کو مصرف زکوٰۃ بنانا جائز ہے۔
  • جبکہ جہاد کے سامان اور مصالح جہاد پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
  • زکوٰۃ کو دیگر رفاہی کاموں پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے بلکہ ان مور کے لیے بیت المال، خراج وغیرہ سے رقم لی جائے گی۔
  • مجاہدین کو اس وقت زکوٰۃ دی جائے گی جب ان کی تنخواہ مقرر نہ کی گئی ہو۔
5) اگر باغی اور خوارج زبردستی زکوٰۃ وصول کریں:

اگر باغی یا خوارج اسلامی مملکت پر قبضہ کر لیں یا کوئی ظالم حکمران زبردستی مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کرے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ چاہے دینے والوں نے خوشی سے زکوٰۃ دی ہو یا مجبوری سے ہر صورت میں ادا ہو جائے گی۔ زکوٰۃ کی دوبارہ ادائیگی ان پر ضروری نہیں ہے۔

اسی طرح اگر عادل امام دوبارہ اس علاقے پر غلبہ حاصل کر لے تو وہ مسلمانوں سے دوبارہ اسی زکوٰۃ کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرے گا جو وہ ان ظالم باغیوں کو ادا کر چکے ہیں۔ کیونکہ مسلمان حکمران کو زکوٰۃ کی وصولی کا حق تب ہوتا ہے جب وہ مسلمانوں کو حفاظت اور امن مہیا کرے اگر وہ یہ کام نہ کر سکے تو اس کو زکوٰۃ کی وصولی کا حق نہیں۔ (اسلام کا قانون زکوۃ و عشر)
 
Top