کہانی نمبر 24: قسمت

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
پہلی سیڑھی پرڈرکم لگا، درمیان میں خوف کچھ اوربڑھ گیااورآخری سیڑھی پراُس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔

’’آخری سیڑھی کے آگے لہراتے پردے کے پیچھے کیا ہوگا، کیوں نا یہیں سے واپس لوٹ جاؤں؟

اب آگیا ہوں تو واپس کیا جانا،کچھ نا کچھ تو لے کرہی جاؤں گا‘‘۔اُس نے سوچا

وہ بھوکاتھا اور اُس نے کئی گلیاں چھان ماری تھیں، صرف اِسی گھر کا بیرونی دروازہ کُھلا تھاسو اُس نے سوچاکہ اِس سے اچھا موقع چوری کا بھلا کیا ہو سکتا ہے ۔

اُس نے ہمت کرکے آخری سیڑھی کے آگے لٹکتاپردہ سرکایا لیکن کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑلیا۔

’’ کون؟‘‘ اُس نے آہستہ سے کہا

’’ تم کون ہو؟‘‘ دوسری طرف سے سرگوشی ہوئی

’’میں مُسافرہوں ‘‘

’’ بکواس، چور ہو تم‘‘ دوسرے شخص نے کہا

’’ ہاں، مگر، نہیں وہ پہلی بار، بھوک۔۔۔۔‘‘ اُس کے الفاظ گُم ہوگئے

’’ہاں، ہاںمجھے سب پتا ہے ، چلو اِدھرسے کہیں اور قسمت آزمائیں، کوئی کھتری ہم سے پہلے ہی ہاتھ دِکھا گیا ہے ‘‘۔
 
Top