اولادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر تعارف : 1 :

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
مؤرخین اور محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں تھی۔ بیٹوں کی تعداد میں البتہ اختلاف ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب بچپن ہی میں انتقال فرما گئے تھے۔ اکثر کی تحقیق یہ ہے کہ تین لڑکے تھے حضرت قاسم حضرت عبداللہ حضرت ابراہیم بعضوں نے کہا چوتھے صاحبزادے حضرت طیب اور پانچویں حضرت طاہر تھے۔ بعض کہتے ہیں طیب اور طاہر ایک ہی صاحبزادے کے نام ہیں بعض کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ہی کا نام طیب اور طاہر تھا اس طرح تین ہوئے لیکن اکثر کی تحقیق تین بیٹوں کی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری اولاد حضرت ابراہیًم کے سوا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پیدا ہوئی۔
حضرت قاسم رضی اللہ تعالی عنہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں پہلے حضرت قاسم پیدا ہوےاور بعثتِ نبوت سے پہلے ہی انتقال فرما گئے ۔دو سال کی عمر پائی انہیں کے نام سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم مشہور ہوئ ۔مکہ میں ولادت ہوئی اور وہیں انتقال ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:زرقانی ج3 ص 24


حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادہ کانام حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ ہے اور حضرت قاسم کی طرح ان کی والدہ کا نام بھی حضرت سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا ہے۔ حضرت عبداللہ اعلان نبوت کے بعد پیدا ہوئے اور ایک سال چھ ماہ آٹھ دن زندہ رہے اور طائف میں وفات پائی :امہات المؤمنین :

حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ

حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری اولاد ہیں جو حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعا عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے ۔یہ 8 ہجری کا واقعہ ہے حضرت ابو رافع نے حاضر ہو کر ولادت کی خوشخبری دی اس بشارت پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع کو ایک غلام عنایت فرمایا ۔ ساتویں روز اس شہزادہ
رسول کاعقیقہ کیا ۔ دو مینڈھے ذبح کرائے سر منڈایا بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی ۔ بال زمین میں دفن کئے۔ ابراہیم نام رکھا ۔ تقریباً سولہ ماہ زندہ رہ کر 10 ہجری میں انتقال فرمایا
:بنات اربع بحوالہ زادالمعادلابن قیم:
:جاری ہے:
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
RE: اولادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر تعارف: 2 :

حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنھا

نام و نسب

حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ بعثت نبوت سے دس سال پہلے پیدا مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمراس وقت تیس برس تھی ۔ ان کی ولدہ کا نام حضرت سیدہ خدیجتہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا ہے۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں

ابتدائی حالات

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو جس طر ح سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی اعلان پر اسلام قبول فرمالیا ۔ اسی طرح اپ کی اولاد بھی مشرف با اسلام ہوئی ۔ اس وقت سیدہ زینب کی عمر دس سال تھی :البدایہ وانھایہ ج ۳ ص۱۱۳

نکاح

حضرت زینب کا نکاح حضرت ابوالعاص بن ربیع بن عبد العزی بن عبد شمس بن عبد مناف سے ہوا ۔ حضرت ابوالعاص کا نسب چہارم پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مل جاتا ہے ۔ حضرت ابوالعاص مکہ کے صا حب ثروت شریف اور امانت دار انسان تھے۔ حضرت ابوالعاص حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے خواہرزادہ ہیں۔ ان کی والدہ کانام ہالہ بنت خویلد بن یاسد ہے جو حضرت خدیجہ کی حقیقی بہن ہیں اور حضرت خدیجہ حضرت ابوالعاص کی خالہ ہیں۔ ابوالعاص حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے خا لہ زاد بھائی ہیں ۔ حضرت فاطمہ اور حضرت زینب حقیقی بہنیں ہیں اس بنا پر حضرت علی اور حضرت ابوالعاص آپس میں ہم زلف ٹھرے ۔

مشرکین مکہ کے نا پاک عزائم


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین مکہ ہر طرح کی تکالیف پہنچائیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا الٰہ الا اللہ کی صدا سے پورے مکہ میں انقلاب برپا کر دیا مشرکین مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید تکلیف پہنچانے کے لیے حضرت ابوالعاص کو اس بات اکسایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب کوطلاق دے دو اور قبیلہ قریش میں سے تم جس عورت سے نکاح کرنا چاہو ہم وہ عورت پیش کر سکتے ہیں۔ جواب میں حضرت ابوالعاص نے فرمایا قال لاوللہاذن لاافارق صا حبتی اللہ کی قسم میں اپنی بیوی سے ہر گز جدا نہیں ہوسکتا ؛ذخائرالعقبی ص۷۵۱۔ البدایہ لابن کثیر ج۳ ص۱۱۳
شعب ابی طالب میں محصوری کے ایام میں بھی ابوالعاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے محصورین کے لیے خوراک کی فراہمی کا بندوبست کرتے رہے ۔البدایہ ج۳ص۲۱۳ ۔
اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ابوالعاص نےہماری دامادی کی بہترین رعایت کی اور اس کا حق ادا کر دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت ابوالعاص نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا

نبوت کے تیرھویں سال جب حضور صلی اللہ علیہوسلم نے مکہ سے ہجرت فرمائی۔ اس وقت حضرت زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں اپنے سسرال کے ہاں تھیں۔ ہجرت کے بعد اسلام کا ایک دوسرا دور شروع ہوتا ہے مدنی زندگی میں اسلام اور کفر کے درمیان بڑی بڑی جنگیں لڑی گئی ان میں ایک مشہور جنگ غزوہ بدر کے نام سے معروف ہے اور اس جنگ بدر میں حضرت ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ کفار کی طرف سے جنگ میں شریک ہو کر آئے ۔

جنگ بدر میں جب اہل اسلام کو فتح ھو گئی تو جنگی قاعدہ کے مطابق شکست خوردہ کفار کو اہل اسلام نے قید کر لیا اور ان قیدیوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے داماد حضرت ابوالعاص بھی شامل تھے ۔مسلمانوں کی طرف سے یہ فیصلہ ہوا ۔جو قیدی لائے گئے ہیں ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جاے ۔اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کو چھوڈانے کے لیے فدیے اور معاوضے بھیجنے شروع کیے ۔ اس ضمن میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند حضرت ابوالعاص کی رہای کے لیے اپنا وہ ہار جو ان کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا بھیجا مدینہ شریف میں یہ فدیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیے گے ۔ اور حضت ابوالعاص کا فدیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی طرف سے ہار کی شکل میں پیش ہوا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نظر فرمائی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلا اختیار رقت کی کیفیت طاری ہو گئی ۔اوراس کو دیکھ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد تازہ ہو گئی ۔نبی کریم صلی اللہ ؑ علیہ وسلم کی اس کیفیت کے اثر میں تمام صحابہ متاثر ہوے۔

اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا اگر تم ابوالعاص کو رہا کر دو اور زینب کا ہارواہس کر دو تو تم ایسا کر سکتے ہو ۔اس وقت صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپ کا ارشاد درست ہے ہم ابوالعاص کو بلا فدیہ رہا کرتے ہیں ۔اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ہار واپس کرتے ہیں ۔
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت ابوالعاص سے وعدہ لیا ۔کہ جب مکہ واپس پہنچیں تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ہمارے ہاں مدینہ بھیج دینا ۔چناچہ حضرت ابوالعاص نے وعدہ کر لیا ۔تو انہیں بلا معاو ضہ رہا کر دیا گیا :دلائلانبوہ للبیہقی ص۳۲۴ ج۲ :مسنداحمدبن حنبل ص۳۲۴ ؛
ابوداودشریف ج۲ ص۳۶۷ مشکوہ شریف ص۶۴۳ ؛البدایہ وانھایہص۲۱۳ج۳


حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ رہا ہو کر مکہ اے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہاکوتمام احوال ذکر کیے اور مدینہ جانے کی اجازت دے دی ۔اور جو وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا وہ ایام بھی اگے تو حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے اپنے چھوٹے بھائی کنانہ کے ساتھ روانہ کیا ۔کنانہ نے اپنی قوس اورترکش کو بھی ساتھ لیا ۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہاسواری کے اوپر کجاوہ میں تشریف فرما تھی ۔اورکنانہ اگے اگے ساتھ چل رہا تھا ۔ اس دوران اہل مکہ کواطلاع ہو گئی جب وادی ذطوی کے پاس پہنچے تو مکہ والے پیچھے سے پہنچ گے ہبار بن اسود نے ظلم کرتے ہوے نیزہ مار کر سیدہ کو اونٹ سے گرا دیا جس سے اپ زخمی ہوگئی اور حمل ساقطہو گیا ۔کنانہ نے اپنا ترکش کھول دیا اور اندازی شروع کر دی اور کہا جو بھی قریب اے گا اس کو تیروں سے پرو دیا جائے گا ۔کفار نے کہا کہ اپنے دشمن کی بیٹی کوعلانیہ جانے تو لوگ ہمیں کزور سمجھیں گے ۔اس لیے انہیں چند یوم بود رات کی تاریکی میں لے جانا ۔کنانہ نے راے تسلیم کر لی اور چند دنوں کے بعد رات کے وقت مکہ سے باہر مدینہ سے اے ہوے صحابہ حضرت زید بن حارثہ اور ان کے پاس پہنچایا پس وہ دونوں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گے؛البدایہ وانھایہ ص۳۳۰ ج۳۔زرقانی ج۳ص۲۲۳

ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام


مکہ مکرمہ سے قریش کا ایک قافلہ جمادی الاول ۶ ہجری میں شام کے لیے عازم سفر ہوا اور ابوالعاص بھی اس قافلہ میں شریک تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مے حضرت زید بن حارثہ کو ۰۷۱سواروں کے ہمراہقافلہ کے تعاقب کے لیے روانہ کیا ۔ اور مقام عیص میں قافلہ ملا کچھ لوگ گرفتار ہوے اور باقی بھاگنے میں کامیاب ہوگے ۔حضرت ابوالعاص حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لاے تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ان کو پناہ دے دی ۔اس کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی سفارش پر تمام مال و اسباب ان کے حوالے کر دیا ۔حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے مکہ جاکر جس جس کا مال تھا اس کے حوالہ کیا اور پوچھا کسی کا مال تو میرے ذمہ باقی نہیں ۔تو تمام لوگوں نے کہا ۔فجزاک اللہ خیرا فقدوجدناک وقیاکریما ۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دیہم نے تمہیں بڑا شریف اور وفادار پایا ہے صاس کے بعد قریش مکہ کے سامنے اسلام کا اعلان کیا اور مکہ سے مدینہ منورہ تشریف لے اے ۔ تو حضورنے حضرت زینب کو ان کے حوالے کدیا

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس لخت جگر نے اسلام کے لیے پجرت کی اور تمام مصائب والام دین کے لیے برداشت کئے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر جب دربار رسالت میں ائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہوسلم فرماتے ہیں ۔ھی خیربناتی ا صیبت فی ھی افضل بناتی اصیبت فی ۔ میری بیٹیوں میں زینب بہترین بیٹی ہے جس کو میری وجہ سے ستایا گیا ۔یہ افضل بیٹی ہے جس کو میری وجہ سے روکا گیا ۔ :مجمع الزوائدللہیثمی ج۹ ص۲۱۳:دلائل النبوہ للبیہقی ج۲ ص۴۲۶:
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی اولا

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی تمام اولاد حضرت ابوالعاص بن الربیع سے ہوئی ۔ان میں ایک صاحبزادہ جس کا نام علی تھا۔اور ایک صاحبزادی جس کا نام امامہ بنت ابوالعاص تھا اور ایک صاحبزادہ صغر سنی میں ہی فوت ہو گیا ،

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں پرورش پاتے رہے ۔ اور جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا تھا ۔اور یرموک کے معرکہ میں شہید ہوے ۔اور بعض کے نزدیک یہ قریب البلوغ ہو کر فوت ہوے۔ :اسدالغابہ لابن کثیر ج۴ ص۴۱۔الاصابہ لابن حجر عسقلانی ج۲ ص۵۰۳ :

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حضرت ا بوالعاص رضی اللہ عنہ اور حضرت امامہ رضی اللہ عنہا بنت حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی محبت فرمایا کرتے ۔ ایک دفعہ نبی کریم نماز کے لیے تشریف لائے کہ حضرت امامہ رضی اللہ عنہا حضور کے دوش پر سوار ہیں ۔اپ نے ایسی حالت میں نماز ادا فرمائی ۔جب رکوع جاتے تو اتار دیتے جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے :بخاری شریف ج ۱ ص۷۴ ۔مسلم شریف ج ۱ ص۲۰۵ ۔ مسند ابو داود ظیالسی ص۸۵ ۔ابو داود شریف ج۱ ص ۱۳۲۔ صحیح ابن حبان ج۲ ص۳۱۳ :

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم کی خدمت میں بیش قیمت ہار بطور ہدیہ ایا ۔اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن تشریف فرما تھیں اور یہی حضرت امامہ صحن میں کھیل رہی تھیں ۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے پوچھا یہ ہار کیسا ہے ۔سب نے کہا کہ ایسا خوبصوت ہار تو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں ۔تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔لادفعتھا الی احب اھلی الی۔ یہ ہار میں اس کو دوں گا جو میرے اہل بیت میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے
۔پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیمتی ہار خود اپنے دست مبارک سے حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کے گلے میں پہنادیا اسدالغابہ ج۵ ص۴۰۰۔مجمع الزوائد للھیثمی ج۹ ص۲۵۴ ۔الفتح ربانی ج۲۲ ص۴۲۰ الاصابہ ج ۴ ص۲۳۰ :

امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہما سے حضرت علی بن ابی طالب ر ضی اللہ عنہ کانکاح

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے انتقال سے قبل حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی تھی کہ اگر میرے بعد شادی کریں تو میری بڑی بہن کی بیٹی امامہ کے ساتھ کرنا ۔ وہ میری اولاد کے حق میں میری قائمقام ہو گی
چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس وصیت کے مطابق ۱۲ ھ میں حضرت امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور حضرت زبیر بن عوامؓ نے اپنی نگرانی میں ان کی شادی حضرت علی سے کر دی ۔ یہ نکاح مسلّم بین الفریقین ہے ۔ اہلسنت اور شیعہ حضرات اپنے اپنے مقام میں اس کو ذکر کیا کرتے ہیں
مزید تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں : الاصابۃ ج ۳ ص ۴۳۳
انواالنعمانیہ ج ۱ ص ۳۶۷


سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال پرملال

حضرت زینب رضی اللہ عنہا مکہ سے مدینہ تشریف لاتے ہوئیں تو دوران حجرت ہبار بن اسود کے نیزہ سے زخمی ہوئی تھیں ۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہاکا وہی زخم دوبارہ تازہ ہو گیا جو ان کی وفات کا سبب بنا ۔اسی وجہ سے بڑے بڑے اکابرین ، صاحب قلم حضرات نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ فکانوا یرونھا ماتت شھیدہ ‘‘
حافظ ابن کثیر نے لکھا کہ ان کو شہیدہ کے نام سے تعبیر کیا جانا چاہیئے ۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمزدہ ہوئے اور تمام بہنیں اس حادثہ فاجعہ سے اور تمام عورتیں شدت جذبات سے رو دیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سیدہ کی وفات کا سن کر حاضر ہوئے عورتوں کو روتا دیکھ کر آپ نے منع فرمایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اے عمر سختی سے ٹھر جائیں ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : شیطانی آ وازیں نکالنے سے پرہیز کریں ۔ پھر فرمایا : جو آنسو آ نکھوں سے بہتے ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کی رحمت سے ہے
( مشکوٰۃ شریف ص ۱۵۲ )


سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا اعزاز


سیدہ کے غسل کا اہتمام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ہوا ۔ حضرت ام ایمن، حضرت سودہ ، حضرت ام سلمہ ، حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنھن نے غسل دیا
حضرت ام عطیہ فرماتیں ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد تشریف لائے اور فرمایا کہ زینب کے نہلانے کا انتظام کرو پانی میں بیری کے پتے ڈال کر ابالا جائے اور اس پانی کے ساتھ غسل دیاجائے ۔ اور غسل کے بعد کافور کی خوشبو لگائی جائے جب فارغ ہو جائیں تو مجھے اطلاع کرنا پس ہم نے اطلاع کر دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند اتارکر جسم اطہر سے عنایت فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میرے اس تہبند کو کفن کے ساتھ رکھ دو ( بخاری ج ۱ ص ۱۸۷ ۔ مسلم ج ۱ ص ۳۰۴)

سیدہ کا جنازہ

جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ تیار ہو گیا تو بڑے اعزا ز و اکرام کے ساتھ پردہ داری سے میت کو تدفین کے لئیے لے جایا گیا

سیدہ کا ایک اور اعزاز

خالق ار ض و سمٰوات نے حضرت زینب کو یہ اعزاز بھی دیا کہ ان کا جنازہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا اور روایات میں آتا ہے ’’ وصلی علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ حوالہ انساب الاشراف ج ۱ ص ۴۰۰


حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی قبر میں خود اترے

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا انتقال ہوا تو صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں سیدہ کو دفنانے کے لئے حاضر ہوئے ۔ ہم قبر پر پنہچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت مغموم تھے ۔ ہم میں سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ قبر کی لحد بنانے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس بیٹھ گئے ۔ اسی اثناء میں آپ کو اطلاع کی گئی کہ قبر تیار ہو گئی ہے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود قبر کے اندر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ کا چہرہ انور کھلا ہوا تھا اور غم کے آثار کچھ کم تھے ۔ اب عشاق عرض کرتے ہیں : یا رسول اللہ اس سے پہلے آپ کی طبیعت بہت مغموم نظر آرہی تھی اب آپ کی طبیعت میں بشاشت ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ قبر کی تنگی اور خوف ناکی میرے سامنے تھی اور سیدہ زینب کی کمزوری اور ضعف بھی میرے سامنے تھا اس بات نے مجھے رنجیدہ خاطر کیا پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ زینب کے لئے اس حالت کو آسان فرما دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لیا اور زینب کے لئے آسانی فرما دی
( مجمع الزوائد للہیثمی ج ۳ ص ۴۷ ۔ کنزالعمال ج ۸ ص ۱۲۰)
میں نے بڑے اختصار کے ساتھ سیدہ زینب بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پیدائش تا وفات لھ دیئے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بڑی لخت جگر کے ساتھ کیسا مشفقانہ معاملہ تھا کہ زندگی میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل رہی اور وفات کے بعد تمام معاملات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ہوئے ۔
۔ ۔

رضی اللہ تعالٰی عنہا
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
RE: اولادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر تعارف : 3 :

حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

نام و نسب

حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی ہیں ۔اور یہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں۔حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ کا نام حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت خویلد بن اسد ہے۔یہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تین برس بعد پیدا ہوئیں ۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک تقریبا تینتیس برس تھی۔

ابتدائی حالات


حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش میں پرورش پائی۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر سات سال تھی۔جب حضر ت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اسلام قبول کیا ۔تو ان کے ساتھ آ پکی صاحبزادیوں نے بھی اسلام قبول کیا۔
( طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۲۴ ۔ الاصابہ لابن حج
ر )

قبل از اسلام سیدہ کا نکاح

نبی کریم نے اپنی بیٹی حضرت رقیہ کا نکاح اپنے چچا ابولہب کے بیٹے عتبہ سے کیا تھا ابھی رخصتی ہونا باقی تھی ۔ جب نبی کریم خاتم النبین کے عظیم منصب پر فائز ہوئے پیغمبر اسلام کے راستہ میں رکاوٹ ڈالنے اور پیغام حق کے مقابلہ میں کفر اور شرک کی اشاعت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے و حی کا نزول کر کے ابولہب اور اس کی بیوی کی مذمت فرمائی تو ابولہب نے اپنے بیٹوں کو بلا کر کہا اگر تم محمد کی بیٹیوں کو طلاق دے کر ان سے علیحدگی اختیار نہیں کی تو تمہارا میرے ساتھ اٹھنا بیٹھنا حرام ہے ۔ دونوں بیٹوں نے حکم کی تعمیل کی اور دختران رسول سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم کو طلاق دے دی ۔
( طبقات ابن سعد ج۔ الاصابہ الابن حجر ص ۲۹۷)


سیدہ رقیہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے نکاح


جب ابولہب کے لڑکوں نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ عنہاکو طلاق دے دی
تو اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مکہ مکرمہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کردیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کردوں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا اور ساتھ ہی رخصتی کردی
( کنزالعمال ج ۶ ص ۳۷۵)


سیدہ رقیہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی ہجرت حبشہ


جب کفار کے مظالم حد برداشت سے بڑھ گئے تو نبوت کے پانچویں سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ راہ خدا میں ہجرت کرنے والوں کا یہ پہلا قافلہ تھا اس موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جوڑا خوبصورت ہے ۔ البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۶۶
ایک عورت حبشہ سے مکہ پنہچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہجرت کرنے والوں کے حال احوال دریافت فرمائے تو اس نے بتایا کہ اے محمد میں نے آپ کے داماد اور آپ کی بیٹی کو دیکھا ہے آپ نے فرمایا کیسی حالت میں دیکھا تھا ؟
اس نے عرض کیا :۔ عثمان اپنی بیوی کو سواری پر سوار کیے ہوئے جا رہے تھے اور خود سواری کو پیچھے سے چلا رہے تھے ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مصاحب اور ساتھی ہو حضرت عثمان ان لوگوں میں سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے لوط علیہ السلام کے بعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی ۔
البدایہ لابن کثیر ج ۳ ص ۶۶


مدینہ کی طرف ہجرت


جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا کہ نبہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت فرمانے والے ہیں تو حضرت عثمان چند صحابہ کرام کے ساتھ مکہ آئے اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے جا چکے تھے ۔ ہجرت حبشہ کے بعد حضرت عثمان ہجرت مدینہ کے لئے تیار ہو گئے اور اپنی بیوی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سمیت مدینہ کی طرف دوسری ہجرت فرمائی ۔ الاصابہ لابن حجر ج ۴ ص ۲۹۸ ۔

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی اولاد


حبشہ کے زمانہ قیام میں ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا جس کی وجہ سے حضرت عثمان کی کنیت ابو عبد اللہ مشہور ہوئی ۔ عبداللہ کا ۶ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ خود پڑھی حضرت عثمان نے قبر میں اتارا ۔ اسد الغابہ ج ۵ ص ۴۵۶

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی بیماری


۲ ہجری غزہ بدر کا سال تھا حضرت رقیہ کو خسرہ کے دانے نکلے اور سخت تکلیف ہوئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی تیاری میں مصروف تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام غزوہ میں شرکت کے لئے روانہ ہونے لگے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تیار ہو گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خطاب کر کے فرمایا : رقیہ بیمار ہے آپ ان کی تیمار داری کے لئے مدینہ میں ہی مقیم رہیں آپ کے لئے بدر میں شرکت کرنے والوں کے برابر اجر ہے اور غزائم میں بھی ان کے برابر حصہ ہے ۔ ۔ بخاری ج ۱ ص ۵۲۳


سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات


جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر میں شریک تھے ۔ حضور کی عدم موجودگی میں سیدہ رقیہ کا انتقال پرملال ہوا پھر ان کے کفن دفن کی تیاری کی گئی یہ تمام امور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سر انجام دئیے
غزوہ بدر کی فتح کی بشارت لے کر جب زید بن حارثہ مدینہ شریف پہنچے تو اس وقت حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو دفن کرنے کے بعد دفن کرنے والے حضرات اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑ رہے تھے ۔ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۲۵
چند ایام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو جنت البقیع میں قبر رقیہ پر تشریف لے گئے اور حضرت رقیہ کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۔

ایک روایت میں ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت رقیہ کی تعزیت پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الحمد للہ ! اللہ تعالیٰ کا شکر شریف بیٹیوں کا دفن ہونا بھی عزت کی بات ہے ۔ ۔


رضی اللہ تعالٰی عنہا
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
RE: اولادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر تعارف : 4 :

حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا

نام و نسب

حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری بیٹی ہیں یہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں ۔یہ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
کے بطن سے پیدا ہوئیں ۔


قبول اسلام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نگرانی میں ہوش سنبھالا۔اور آغوش رسات میں پرورش پائی ۔جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو یہ تمام بہنیں اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہمراہ اسلا م لائیں۔اسدالغابہ ج۵ ص۲۱۶ ۔طبقات ابن سعد ص۵۲ ۔

نکاح اوّل اور طلاق

اعلان نبوت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح اپنے چچا ابو لہب کے بیٹے عتیبہ کے ساتھ کر دیا تھا ۔لیکن جب اسلام کا دور آیا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا ۔ اورقرآن مجید کا نزول شروع ہوا ۔اور قرآن کریم میں سورہ لہب نازل ہوئی جس میں ابو لہب اور اس کی بیوی کی مزمت کی گئی ۔تو ابو لہب نے اپنے بیٹے عتیبہ سے کہا کہا ۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو طلاق دے دو ۔ تو عتیبہ نے طلاق دے دی ۔


مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے کچھ افراد مکہ میں رہ گئے تھی۔ جن میں ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آپ کی بیٹی حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا شامل تھیں ۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو رافع اور حضرت زید بن حارثہ کو روانہ کیا ۔اور خرچ کے لیے ۰۰۵درہم حضرت ابوبکر صدیق نے پیش کیے ۔چناچہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ پہنچے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں یعنی ام المؤمنین حضر ت سو دہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لے کر مدینہ طیّبہ جا پہنچے ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۱۱ ۔البدایہ لابن کثیر ج۳ ۲۰۲ ۔

سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔مااناازواجّ بناتی ولکن اللہ تعالی ٰیزوجھن ۔
میں اپنی بیٹیوں کو اپنی مرضی سی کسی کی تزویج میں نہیں دیتا ۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے نکاحوں کے فیصلے ہوتے ہیں ۔المستدرک للحاکم ج۴ ص۹۴ ۔
جب حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا ۔ تو حضر ت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت صدمہ پہنچا ۔وہ ہر وقت غم میں ڈوبے رہتے تھے ۔چناچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غمگین دیکھا تو فرمایا
۔مالی اراک مھموما ؟ عثمان تمیں کیوں غمزدہ دیکھ رہا ہوں ؟
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے ہیں ۔آقا مصیبت کا جوپہاڑ مجھ پر گرا ہے کسی اور پر نہیں گرا ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جو میرے نکاح میں تھی ۔انتقال کر فرما گئیں ۔جس سے میری کمر ٹوٹ گئی ۔اور وہ رشتہ مصاحبت بھی ختم ہو گیا جو میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تھا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی اورفرمایا کہ یہ جبرائیل میرے پاس آے ہیں اور مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ کے نکاح میں دوں اور جو مہر رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے مقرر ہوا تھااُسی کے موافق ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر ہو ۔ابن ماجہ ۔اسدالغابہ ج۵ ص۳۱۶ ۔کنزالعمال ج۶ص۵۷۳ ۔
چناچہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ربیع ا لاوّل ۲ہجری میں ہوا ۔ اور جمادی الاخریٰ میں رخصتی ہوئی ۔طبقات ابن سعد ج ۸ ص۵۲ ۔اسد الاغابہ لابن اثیر الجزری ج۵ ص۳۱۶ ۔


حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک منفرد اعزاز

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو لخت جگر آئیں ۔جس کی وجہ سے ان کو ذوالنورین کہا جاتا ہے ۔اسی طرح انہیں دوہجرتیں کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ایک حبشہ ایک مدینہ کی طرف تو ذوالہجرتین کا لقب حاصل ہوا ۔ابن عساکرمیں ہے ہے
حضرت آدم علیہ وسلم سے لیکر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کوئی ا نسان ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میںکسی نبی کی دو بیٹیا ںآئی ہوں سوائے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ۔


عدم اولاد

روایات کے مطابق حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔

سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے مثال شوہر

ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا : بیٹی : عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاں ہیں ۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ کسی کام سے گئے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا ؟ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا ۔اباجان وہ بہت اچھے اور بلند مرتبہ شوہر ثابت ہوے ہیں ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .ْبیٹی کیوں نہ ہوں ۔وہ دنیا میں تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور تمہارے باپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہ ہیں ۔ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے صحابہ میں سب سے زیادہ میر ے اخلاق اور عادات سے مشابہ ہیں ۔ سیرت حلبیہ ج۴ ص۴۴۔


حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تیسری بیٹی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی شعبان ۹ہجری کو انتقال فرما گئیں ۔حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا
چھ سال تک حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں رہیں ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۵۲ ۔
سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے انتقال پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک د فعہ پھر غموں کے سمندر کے میں ڈوب گئے ۔ان حالات میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تسلی دیتے ہوے ارشاد فرمایا :
لو کن عشرا لزوجّتھن عثمان ِ،،

یعنی میرے پاس دس بیٹیاں بھی ہوتی تو میں یکے بعد دیگری عثمان کے نکاح میں دے دیتا ،، طبقات ابن سعدج۸ص۵۲ ،مجمع الزوائدللھیثمی ج۹ ص۷۱۲ ۔
بعض روایات میں اس سے زیادہ تعداد بھی منقول ہے ۔


-حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا غسل اور نماز جنازہ

حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعد اُن کے غُسل وکفن کے انتظامات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائے ۔سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو غسل حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلبرضی اللہ تعالیٰ عنہا،لیلیُ بنت قانف رضی اللہ تعالیٰ عنہا،اور ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیا ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲،اسد الغابہ ج۵ ص۲۱۶۔
جب حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا غسل اور کفن ہو چکا تو ان کے جنازہ کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی تھے ۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی ۔ : طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲ ،شرح مواھب اللدنیہ للزرقانی ج۳ص۰۰۲ ۔

حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا دفن

نماز جنازہ کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دفن کرنے کے لیے جنت البقیع میں لایا گیا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے ۔حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبر میں اترے ،اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضر ت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے ساتھ قبر میں اترے اور دفن میں معاونت کی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے دفن کے موقع پرقبر کے پاس تشریف فر ما تھے ۔میں نے دیکھا کہ ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے فرط غم کی وجہ سی آنسو جاری تھے

رضی اللہ تعالیٰ عنہا
۔
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
RE: اولادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر تعارف 5 :

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ولادت با سعادت

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔ان کی والدہ کا نام بھی حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بعثت نبوی کے بعد جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اکتالیس سال تھی مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں ۔بعض سیرت نگاروں کے نزدیک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ولادت جس زمانہ میں قریش کعبہ کی تعمیرکر رہے تھے اس وقت ہوئی ۔اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پینتیس سال تھی ۔]رجوع کر سکتے ہیں[ طبقات ابن سعد ج۸ ص۱۱،الاصابہ لابن حجر ج۴ ص۵۶۳،الاصابہ فی تمیزالصاحبہ ج۴ ص۵۶۳ ۔
سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحزادیوں میں سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔ان کا اسم گرامی : فاطمہ ہے ۔۔۔۔۔۔:اور ان کے القاب میں زہرا، بتول،زاکیہ،راضیہ ، طا ہرہ،بضعۃالرسول خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔

پرورش

ان کی پرورش اور تربیت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ۔


شمائل اور خصائل

حدیث شریف کی کی کتابوں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق ان کی سیرت اور طرز طریق کو محدثین اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ :
فاقبلت فاطمہ تمشی۔ماتخطئی مشیۃالرسول صلی اللہ علیہ وسلم شیاَ۔
یعنی جس وقت حضرت فاطمہرضی اللہ تعالیٰ عنہاچلتی تھیں تو آپرضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چال ڈھال اپنے والد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلکل مشابہ ہوتی تھی ۔ام المو’منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں قیام وقعود ،نشست و برخاست ،عادات واطوار میںحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ مشابہ کسی کو نہیں دیکھا ۔مسلم شریف ج۲ص۰۹۲،الاستیعاب ج۴ص۳۶۳،حلیۃالاولیا لابی نعیم الصفہانی ج۲ص۹۳ ۔

شعب ابی طالب میں محصوری

اسلم کا راستہ روکنے کے لیے کفار مکہ نیحضور صلی اللہ ولیہ وسلم کے خاندان ،صحابہ کرام، ازواج رضی:اوربنات رضی: کو تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور کر دیا۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ صبر آزما لمحات اپنے اعزہ واقارب اور عظیم والدین کے ہمراہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیی

ہجرت

حضور نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم ہجرت فرما کے مدینہ تشریف لے گئے ۔اس وقت حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مکہ میں تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لانے کے لیے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومتعین فرمایا اور دو اونٹ دیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانچ درہم زاد راہ کے لیے دیے ۔یہ دونوں بنات طیبات ان کے ہمراہ مدینہ تشریف لائیں۔
البدایۃلابن کثیر ج۳ ص۲۰۲ ۔


نکاح

ماہ رجب ۲ہجری میں حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانکاح حضرت سیدنا علی المرتضیٰرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا نکاح کے وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اکیس یا چوبیس برس اورسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر پندرہ یا اٹھارہ برس تھی ۔ تفسیر القرطبی ج۴۱ ص۱۴۲۔
اس نکاح کے گواہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ذ
خائرالعبقعی المحب الطبری ص۰۳۔

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان کی تیاری

نبی کریم صلی اللہ علی وسلم نے اپنی لخت جگر کی رخصتی کے لیے تمام تیاری سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمائی ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی اس کام میں ان کی معاون تھیں۔ کہ ہم نے وادی بطحا سے اچھی قسم کی مٹی منگوائی ۔جس سے اس مکان کو لیپا پونچا اور صاف کیا ۔پھر ہم نے اپنے ہاتھوں سے کھجور کی چھال درست کر کے دو گدے تیار کیے ۔اوع خرمااور منقی سے خوراک تیار کی اور پینے کے لیے شیریں پانی مہیا کیا ۔پھر اس مکان کے ایک کونے میں لکڑی گاڈ دی تاکہ اس پر کپڑے اور مشکیزہ لٹکایا جاسکی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ۔
فمارایناعرسا احسن من عر س فا طمہ

یعنی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی سے بہتر ہم نے کوئی شادی نہیں دیکھی ۔السنن لابن ماجہ ص۹۳۱،مسند احمد ج۱ ص۴۰۱ ۔
جہیز

سرکار دو عالم صیاللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر کو جو جہیز دیا مختلف روائتوں کے مطابق اس کی تفصیل یہ ہے ۔
۔ایک بستر مصری کپڑے کا جس میں اون بھری ہوئی تھی ۔
۲۔ایک چمڑے کاتکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
۳۔ایک مشکیزہ۔
۴۔دو مٹی کے گھڑی۔
۵۔ایک چکی ۔
۶۔ایک پیالہ۔
۷۔دو چادریں۔
ایک جا نماز۔۔۔مسند احمدج۱ ص104 ۔
[size=x-large]
فضائل سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بزبان نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم



حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الفاطمۃ سیدۃنساء اھل الجنۃ

فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت کی عورتوں کی سردار ہے ۔(البدایۃ
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خواتین امت کی سردا ر ہے ۔فاطمہ میرے جگر کا تکڑا ہے ۔جس نے اسے تنگ کیا اس نے مجھے تنگ کیا اور جس نے مجھے تنگ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو تنگ کیا ۔جس نے اللہ تعالیٰ کہ تنگ کیا قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ کرے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تمہاری تقلید کے لیے تمام دنیا کی عورتوں میں مریم علیہ اسلام، خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت آسیہ کافی ہیں ۔(ترمزی شریف)
[/size]

اولاد سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

سید فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کواللہ تعالیٰ نے پانچ اولادیں عطا فرمائیں ۔تین لڑکے اور دو لڑکیاں جن کے نام یہ ہیں ۔
حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔حضرت ام کلثوم ر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ حضرت محسن ر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔:حضرت محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ صغر سنی میں فوت ہو گئے تھے ۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ۷۱ ہجری میں ہوا ۔اور دوسری بیٹی حضرت زینب بنت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا ۔(نسب قریش ص۵۲)


سیدہ فا طمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عبادت و شب بیداری

سیدنا حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںمیں اپنی والدہ (گھر کے کام دھندوں سے فرصت پانے کے بعد)صبح سے شام تک محراب عبادت میں اللہ کے آگے گریہ وزار ی کر تی،خشوع وخضوع کے ساتھ اس کی حمد وثنا کرتے ، دعائیںمانگتے دیکھا کرتا ، یہ دعائیںوہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمام مسلمان مردوں اورعورتوں کے لیے مانگتی تھی ۔

ایثار و سخاوت

ایک دفع کسی نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے پوچھا چالیس اونٹوں کی زکوۃ کیا ہو گی؟ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ۔ تمہارے لیے صرف ا یک اونٹ اور اگرمیرے پاس چالیس اونٹ ہوں تو میں سارے کے سارے ہی راہ خدا میں دے دوں
۔

انتقال نبوی پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اظہار غم

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرمرض کی شدت نے اضافہ کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پریشانی عالم میں فرمانے لگیں ۔ذاکرب ابا۔افسوس ہمارے والد کی تکلیف ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ۔ آج کے بعد تیرے والد کو کوئی تکلیف نہیں ۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتحال ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دار فانی سے دار بقا کی طرف انتقال فرما گئے ۔
( اللھم صلی علی محمد وعلی اٰل محمد و بارک وسلم )
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت پرنہایت درد و سوز کے عالم میں فرمایاتھا۔
صبت علی مصائب لوانھا۔صبت علی الایام سرن لیا لیا۔

مجھ پر مصیبتوں کے اس قدر پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں کہ اگر یہی مصیبتوں کے پہاڑ دنوں پر ٹوٹے تو دن رات بن جاتے ۔


سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مرض الوفات اور ان کی تیمارداری

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت مغموم رہتی تھی اور یہ ایام انہوں نے صبر اور سکون کیساتھ پورے کیے ۔ آپ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر اٹھائیس یا انتیس برس تھی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہو گیں۔ان بیماری کے ایام میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تیمارداری اور خدما ت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سر انجام دیتی تھی ۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں ۔پھر تین رمضان گیارہ ہجری منگل کی شب اٹھا ئیس یا انتیس برس کی عمر مبارک میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کاانتقال ہوا ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) ۔البدا یۃ والنھایۃ ج۶ ص۴۳۳ ۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا غسل اور اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمات

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وفات سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اسما بنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وصیت کی تھی کہ آپ مجھے بعد از وفات غسل دیں ۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ معاون ہوں ۔چناچہ حضرت اسما بنت عمیس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غسل کا انتظام کیا ۔اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت سلمیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا شریک تھیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سارے انتظام کی نگرانی فرمانے والے تھے ۔اسدالغابہ ج۵ص۸۷۴،البدایۃ والنھایۃ ج۶ص۳۳۳ ،حلیۃالاولیاج۳ص۳۴۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی نماز جنازہ

جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی نماز جنازہ پڑھنے کا مرحلہ پیش آیا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ا ور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو اس موقعہ پر موجود تھے تشریف لائے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے تشریف لا کر جنازہ پڑھائیں ۔جواب میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میںجنازہ پڑھانے کے لیے پیش قدمی نہیں کر سکتا ۔نماز جنازہ پڑھانا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کا حق ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائیں اورجنازہ پڑھائیں ۔اس کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جنازہ پڑھایا ۔طبقات ابن سعد ج۸ص۹۱،کنزالعمال ج۶ص۸۱۳
نماز جنازہ کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رات کو ہی جنت البقیع میں دفن کیا گیا ،اور دفن کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبر میں اتری۔



رضی اللہ تعالیٰ عنہا


دعائیہ کلمات

اولاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر تعارف کے عنوان سے نبی کریم سردار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس اور پاک اولاد کے مختصر حالات اور مقام و مرتبہ کے بیان کے لیے یہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے ۔اللہ کریم اپنے دربار میں قبول فرمائے ۔اور تمام مسلمانوں کو اس سے فائیدہ پہنچائے اور آخرت میں ان مقدس ہستیوں کی شفاعت نصیب فرمائے آمین ۔
صلی اللہ تعالیٰ علی محمد وعلیٰ آلہ وازوا جہ وبناتہ واصحابہ اجمعین
 

سیفی خان

وفقہ اللہ
رکن
24gin4h.jpg
بہت خوب نبیل بھائی ۔ ۔ ایک بہت ہی مفید مضمون آپ نے شئیر کیا ہے ۔ ۔ یہ مضمون یقینا الغزالی فورم کے معزز ممبران کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا ۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے پروپیگنڈہ کا بھی جواب ہے جو کہ کہتے کہ جناب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک ہی بیٹی ہے ۔ ۔ ۔
imagehost
 

بنت حوا

فعال رکن
وی آئی پی ممبر
بہت خوب نبیل بھائی ۔ ۔ ایک بہت ہی مفید مضمون آپ نے شئیر کیا ہے
جزاک اللہ فی الدارین​
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
سیفی خان نے کہا ہے:
24gin4h.jpg
بہت خوب نبیل بھائی ۔ ۔ ایک بہت ہی مفید مضمون آپ نے شئیر کیا ہے ۔ ۔ یہ مضمون یقینا الغزالی فورم کے معزز ممبران کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا ۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے پروپیگنڈہ کا بھی جواب ہے جو کہ کہتے کہ جناب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک ہی بیٹی ہے ۔ ۔ ۔
imagehost

سیفی بھائی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ
اور بندہ ناچیز آپ کی دعاؤں کا محتاج ہے
جزاک اللہ خیرا
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
اسداللہ شاہ نے کہا ہے:
جزاک اللہ فی الدارین
عجیب مضمون کی عظیم تحریر ہے
ٕ
بہت بہت شکریہ اسد بھائی
اور جزاک اللہ فی الدارین کے ساتھ ساتھ دو چار جملے حوصلہ افزائی کے لکھنے پر آپ کا ڈبل شکریہ
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
بنت حوا نے کہا ہے:
بہت خوب نبیل بھائی ۔ ۔ ایک بہت ہی مفید مضمون آپ نے شئیر کیا ہے
جزاک اللہ فی الدارین​

بنت حوا بہن آپ کابھی بہت بہت شکریہ
حوصلہ فزائی فرمانے پر
 

اعجازالحسینی

وفقہ اللہ
رکن
نبیل بھیا بہت خوب کہ آپ نے ایک بے مثال موضوع پر قلم اٹھایا اور اپنی طرف سے اسکا حق ادا کرنے کی کوشش کی ۔
اللہ رب العزّت آپ کی کاوش کو قبول کرے ۔۔۔۔۔۔۔آمین
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
اعجازالحسینی نے کہا ہے:
نبیل بھیا بہت خوب کہ آپ نے ایک بے مثال موضوع پر قلم اٹھایا اور اپنی طرف سے اسکا حق ادا کرنے کی کوشش کی ۔
اللہ رب العزّت آپ کی کاوش کو قبول کرے ۔۔۔۔۔۔۔آمین

حسینی بھائی آپ کی محبتوں اور دعاؤں کا بہت بہت شکریہ
امید ہے آپ اسی طرح اپنی دعاؤں میں ہمیں یاد رکھیں گئے
 
Top