بشر بن منصور کا واقعہ

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
بشر بن منصور کا بیان ہے کہ طاعون کے زمانےمیں ایک شخص قبرستان آتا جاتا تھا ۔ جنازوں میں حاضر رہتا تھا اور شام کوقت قبرستان کے دروازے پر کھڑا ہو کر کہتا تھا "حق تعالیٰ تمہاری وحشت دو ر فرمائے ، تمہاری غربت پر رحم فرمائے ،تمہاری برائیوں سے در گزر فرمائے اور تمہاری نیکیاں قبول فرمائے ۔اس کا بیان ہے کہ میں ایک دن قبرستان نہیں گیا اور اپنے گھر آگیا ۔رات کو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ حد نگاہ تک آدمی ہی آدمی ہیں ۔میں نے پو چھا تم کون ہو ۔ بولے ہم قبرستان والے ہیں ۔ پو چھا کیا کام ہے ۔بولے !تم نے شام کو گھر جاتے وقت اپنے ہدیہ کا ہمیں عادی بنا دیا ہے ۔میں نے پو چھا کیسا ہدیہ ؟
بو لے دعائیں جو تم ہمارے لیے مانگا کرتے ہو ۔میں ن کہا اچھا تو میں دعائیں برابر ما نگتا رہوں گا ۔فرماتے ہیں کہ پھر میں نے کبھی ناغہ نہ کیا ( کتاب الروح)
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
بشر بن منصور کا بیان ہے کہ طاعون کے زمانےمیں ایک شخص قبرستان آتا جاتا تھا ۔ جنازوں میں حاضر رہتا تھا اور شام کوقت قبرستان کے دروازے پر کھڑا ہو کر کہتا تھا "حق تعالیٰ تمہاری وحشت دو ر فرمائے ، تمہاری غربت پر رحم فرمائے ،تمہاری برائیوں سے در گزر فرمائے اور تمہاری نیکیاں قبول فرمائے ۔اس کا بیان ہے کہ میں ایک دن قبرستان نہیں گیا اور اپنے گھر آگیا ۔رات کو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ حد نگاہ تک آدمی ہی آدمی ہیں ۔میں نے پو چھا تم کون ہو ۔ بولے ہم قبرستان والے ہیں ۔ پو چھا کیا کام ہے ۔بولے !تم نے شام کو گھر جاتے وقت اپنے ہدیہ کا ہمیں عادی بنا دیا ہے ۔میں نے پو چھا کیسا ہدیہ ؟
بو لے دعائیں جو تم ہمارے لیے مانگا کرتے ہو ۔میں ن کہا اچھا تو میں دعائیں برابر ما نگتا رہوں گا ۔فرماتے ہیں کہ پھر میں نے کبھی ناغہ نہ کیا ( کتاب الروح)
سبحان اللہ
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی تمام مرحومین کے لیے دعاؤں کا ہدیہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین
آمین
 
Top