عقیدہ توحید پر نوٹ

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
عقیدہ توحید پر قرآنی آیات کی روشنی میں جامع نوٹ:

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۝ اللَّهُ الصَّمَدُ۝ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ۝ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ۝

کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے۔ معبود برحق جو بےنیاز ہے۔ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ (سورۃ اخلاص)

ہم مسلمان صرف یہ نہیں مانتے کہ خدا ایک ہے یہ کافی نہیں ہم مسلمان مانتے ہیں توحید میں۔ توحید آتا ہے عربی لفظ وحد سے مطلب ایک ماننا، سمجھنا، خدا کی وحدانیت، اکیلا، لاشریک اسلام میں توحید میں ماننا فرض ہے اور اس کی تین کی اقسام ہیں۔

توحید ربوبیہ:

اس کا مطلب ساری کائنات کا رب ایک ہے۔ اور جتنی بھی چیزیں کائنات میں ہیں انھیں ضررت ہے رب کی مگر اس رب کو کسی کی ضرورت نہیں۔

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۝

آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وہ یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔ (سورۃ یونس: آیت31)

اللہ تعالیٰ نے سورہ ابراہیم میں فرمایا:

قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ۝

’’ان کے پیغمبروں نے کہا: کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے، (جو) تمہیں بلاتا ہے کہ تمہارے گناہوں کو تمہاری خاطر بخش دے۔‘‘ (سورۃ ابراہیم آیت نمبر: 10)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ المؤمنون میں فرمایا:

قُل لِّمَنِ الْأَرْضُ وَمَن فِيهَا إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۝ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ۝ قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ۝ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ۝ قُلْ مَن بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۝ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ فَأَنَّى تُسْحَرُونَ۝ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِالْحَقِّ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ۝

’’(ان سے) فرمائیے کہ زمین اور جو کوئی اس میں (رہ رہا) ہے (سب) کس کی مِلک ہے، اگر تم (کچھ) جانتے ہو؟ وہ فوراً بول اٹھیں گے کہ (سب کچھ) اللہ کا ہے (تو) آپ فرمائیں: پھر تم نصیحت قبول کیوں نہیں کرتے۔ (ان سے دریافت) فرمائیے کہ ساتوں آسمانوں کا اور عرشِ عظیم (یعنی ساری کائنات کے اقتدارِ اعلیٰ) کا مالک کون ہے؟ وہ فوراً کہیں گے: یہ (سب کچھ) اللہ کا ہے (تو) آپ فرمائیں: پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ہو؟۔ آپ (ان سے) فرمائیے کہ وہ کون ہے جس کے دستِ قدرت میں ہر چیز کی کامل ملکیت ہے اور جو پناہ دیتا ہے اور جس کے خلاف (کوئی) پناہ نہیں دی جا سکتی، اگر تم (کچھ) جانتے ہو؟ وہ فوراً کہیں گے: یہ (سب شانیں) اللہ ہی کے لئے ہیں۔ (تو) آپ فرمائیں پھر تمہیں کہاں سے (جادو کی طرح) فریب دیا جا رہا ہے؟ بلکہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا اور بیشک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘ (سورۃالمؤمنون آیت 84۔90)

سورۃ الشعراء میں ارشاد فرمایا:

قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إن كُنتُم مُّوقِنِينَ۝ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ۝ قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ۝ قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ۝ قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ۝

’’(موسیٰ علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ) جملہ آسمانوں کا اور زمین کا اور اُس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ اس نے ان (لوگوں) سے کہا جو اس کے گرد (بیٹھے) تھے: کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ (موسیٰ علیہ السلام نے مزید) کہا کہ (وہی) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہے۔ (فرعون نے ) کہا: بیشک تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے۔ (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: (وہ) مشرق اور مغرب اور اس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہو۔‘‘ (سورۃ الشعراء آیت 24۔28)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الواقعۃ میں فرمایا:

أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ۝ أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ۝ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ۝ عَلَى أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ۝ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَى فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ۝ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ۝ أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ۝ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ۝ إِنَّا لَمُغْرَمُونَ۝ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ۝ أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ۝ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ۝ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ۝ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ۝ أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِؤُونَ۝ نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ۝ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ۝

’’بھلا یہ بتاؤ جو نطفہ (تولیدی قطرہ) تم (رِحم میں) ٹپکاتے ہو۔ تو کیا اس (سے انسان) کو تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا فرمانے والے ہیں؟ ہم ہی نے تمہارے درمیان موت کو مقرّر فرمایا ہے اور ہم (اِسکے بعد پھر زندہ کرنے سے بھی) عاجز نہیں ہیں۔ اس بات سے ( بھی عاجز نہیںہیں) کہ تمہارے جیسے اوروں کو بدل (کر بنا) دیں اور تمہیں ایسی صورت میں پیدا کر دیں جسے تم جانتے بھی نہ ہو۔ اور بیشک تم نے پہلے پیدائش (کی حقیقت) معلوم کر لی پھر تم نصیحت قبول کیوں نہیں کرتے؟ بھلا یہ بتاؤ جو (بیج) تم کاشت کرتے ہو۔ تو کیا اُس (سے کھیتی) کو تم اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے ریزہ ریزہ کر دیں پھر تم تعجب اور ندامت ہی کرتے رہ جاؤ۔ (اور کہنے لگو): ہم پر تاوان پڑ گیا۔ بلکہ ہم بے نصیب ہوگئے۔ بھلا یہ بتاؤ جو پانی تم پیتے ہو۔ کیا اسے تم نے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری بنا دیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟ بھلا یہ بتاؤ جو آگ تم سُلگاتے ہو۔ کیا اِس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم (اسے) پیدا فرمانے والے ہیں؟ ہم ہی نے اِس (درخت کی آگ) کو (آتشِ جہنّم کی) یاد دلانے والی (نصیحت و عبرت) اور جنگلوں کے مسافروں کے لئے باعثِ منفعت بنایا ہے۔ سو اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کیا کریں۔‘‘ (سورۃ الواقعۃ آیت 58۔74)

اسے کہتے ہیں توحید ربوبیہ۔

توحید فی الاسماء و صفات:

دوسری قسم ہے توحید اسماء و صفات۔ اس کے پانچ نکتے ہیں:

  • اللہ کو اس طریقے سے describe کرنا چاہیے جس طریقے سے اللہ اور اس کی رسول نے کہا ہم اپنے دماغ سے اللہ کو نہیں کر سکتے۔
لَيْسَ کَمِثْلِہٖ شَيْءٌ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۝

اس جیسی کوئی چیز نہیں، وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

  • اللہ کی صفات وہی ہیں جو اللہ نے اپنے آپ کو کہا یا اللہ کے رسول نے کہا۔ ہم اپنے آپ سے اللہ کو صفات نہیں دے سکتے مثال کے طور پر قرآن میں لکھا ہے اللہ کو غصہ آتا ہے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ الغاضب غصہ ہونے والا۔ اللہ اور اس کے رسول نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اللہ غصہ کرنے والا ہے۔
  • جو اللہ کی مخلوقات کی صفات ہیں وہ ہم اللہ کو نہیں دے سکتے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ جھوٹ بول سکتا ہے۔ جھوٹ بولنا انسان کی صفت ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ بھول گیا یہ بھی انسان کی صفت ہے
  • اللہ کی صفات انسان میں نہیں دیکھی جا سکتی۔ ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو لا فانی ہے۔ انسان لافانی ہو ہی نہیں سکتا لافانی تو اللہ کی ذات ہے۔
  • اللہ کا نام کسی انسان کو نہیں دے سکتے۔ اگر دینا چاہے ہیں تو اس کے آگے عبد لگانا ضرروی ہے۔ اللہ نہیں کہہ سکتے عبد اللہ کہہ سکتے ہیں۔ رحمن نہیں کہہ سکتے عبد الرحمن کہہ سکتے ہیں۔
توحیدفی الصفات سے مراد یہ عقیدہ ہے کہ وہ صفات جو اللہ رب العزت کے لئے خاص ہیں ان کا اثبات فقط اللہ تعالیٰ کے لئے ہی کیا جائے اور کسی غیرکے لئے ان مختص صفات کے اثبات کا عقیدہ رکھنے سے بچا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں ارشاد فرمایا:

إِنَّ اللّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ۝ فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ۝ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُواْ بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۝ وَهُوَ الَّذِيَ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ۝ وَهُوَ الَّذِيَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ انظُرُواْ إِلِى ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۝ وَجَعَلُواْ لِلّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُواْ لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ۝ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۝ ذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ۝ لاَّ تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ۝

’’بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑ نکالنے والا ہے وہ مُردہ سے زندہ کو پیدا فرماتا ہے اور زندہ سے مُردہ کو نکالنے والا ہے، یہی(شان والا) تو اللہ ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔ (وہی) صبح (کی روشنی) کو رات کا اندھیرا چاک کر کے نکالنے والاہے، اور اسی نے رات کو آرام کے لئے بنایا ہے اور سورج اور چاند کوحساب وشمار کے لئے، یہ بہت غالب بڑے علم والے (ربّ) کا مقررہ اندازہ ہے۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو بنایا تاکہ تم ان کے ذریعے بیابانوں اور دریاؤں کی تاریکیوں میں راستے پا سکو۔ بیشک ہم نے علم رکھنے والی قوم کے لئے (اپنی) نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں۔ اور وہی(اللہ) ہے جس نے تمہیں ایک جان (یعنی ایک خلیہ) سے پیدا فرمایا ہے پھر (تمہارے لئے) ایک جائے اقامت (ہے) اور ایک جائے امانت (مراد رحم مادر اور دنیا ہے یا دنیا اور قبر ہے)۔ بیشک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں۔ اور وہی ہے جس نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا پھر ہم نے اس (بارش) سے ہر قسم کی روئیدگی نکالی پھر ہم نے اس سے سرسبز(کھیتی) نکالی جس سے ہم اوپر تلے پیوستہ دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغات اور زیتون اور انار (بھی پیدا کئے جو کئی اعتبارات سے)آپس میں ایک جیسے (لگتے) ہیں اور (پھل، ذائقے اور تاثیرات) جداگانہ ہیں۔ تم درخت کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کو (بھی دیکھو)، بیشک ان میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اور ان کافروں نے جِنّات کو اللہ کا شریک بنایا حالانکہ اسی نے ان کو پیدا کیا تھا اور انہوں نے اللہ کے لئے بغیر علم (و دانش) کے لڑکے اور لڑکیاں (بھی) گھڑ لیں۔ وہ ان (تمام) باتوں سے پاک اور بلند و بالا ہے جو یہ (اس سے متعلق) کرتے پھرتے ہیں۔ وہی آسمانوں اور زمینوں کا موجد ہے، بھلا اس کی اولاد کیونکر ہو سکتی ہے حالانکہ اس کی بیوی (ہی) نہیں ہے، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ یہی (اللہ) تمہارا پروردِگار ہے اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہی) ہر چیز کا خالق ہے پس تم اسی کی عبادت کیا کرو اور وہ ہر چیز پرنگہبان ہے۔ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اور وہ بڑا باریک بین بڑا باخبرہے۔ ‘‘ (سورۃ الانعام آیت 95 تا 103)

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ۝ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ۝ هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۝

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بادشاہ (حقیقی) پاک ذات (ہر عیب سے) سلامتی امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔ وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ (سورۃ الحجرات آیت22 تا24)

توحیدفی العبادۃ:

عبادت ایک ایسا فعل ہے جو اللہ تعالیٰ نے صرف اور صرف اپنی غایتِ تعظیم کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ بندے کی طرف سے انتہا درجے کی تعظیم جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو سکتی ہے وہ صرف عبادت کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ مخلوق میں سے کوئی بھی تعظیم کی اس حد کو نہیں پہنچ سکتا۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۝

’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو (بھی) جو تم سے پیشتر تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘‘ (سورۃالبقرۃآیت نمبر: 21)

سورۃ الانعام میں فرمایا:

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـهٌ غَيْرُ اللّهِ يَأْتِيكُم بِهِ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ۝

(ان سے) فرما دیجئے کہ تم یہ تو بتاؤ اگر اللہ تمہاری سماعت اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مُہر لگا دے (تو) اللہ کے سوا کون معبود ایسا ہے جو یہ (نعمتیںدوبارہ) تمہارے پاس لے آئے؟ دیکھئے ہم کس طرح گوناگوں آیتیں بیان کرتے ہیں۔ پھر(بھی) وہ روگردانی کئے جاتے ہیں۔‘‘ (سورۃالانعام آیت نمبر: 46)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النحل میں ارشاد فرمایا:

وَقَالَ اللّهُ لاَ تَتَّخِذُواْ إِلَـهَيْنِ اثْنَيْنِ إِنَّمَا هُوَ إِلهٌ وَاحِدٌ فَإيَّايَ فَارْهَبُونِ۝

’’اور اللہ نے فرمایا ہے تم دو معبود مت بنؤ، بیشک وہی (اللہ) معبودِ یکتا ہے، اور تم مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔‘‘ (سورۃالنحل آیت نمبر: 51)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا:

لاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتُلْقَى فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَّدْحُورًا۝

’’(اے انسان!) اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہرا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور اللہ کی رحمت سے) دھتکارا ہوا ہو کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ( سورۃالإسراء آیت نمبر: 39)

سورۃ الاسراء میں ہی ایک اور مقام پر فرمایا:

قُل لَّوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لاَّبْتَغَوْاْ إِلَى ذِي الْعَرْشِ سَبِيلاً۝

’’فرما دیجئے: اگر اس کے ساتھ کچھ اور بھی معبود ہوتے جیسا کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں تو وہ (مل کر) مالکِ عرش تک پہنچنے (یعنی اس کے نظام اقتدار میں دخل اندازی کرنے) کا کوئی راستہ ضرور تلاش کرلیتے۔‘‘ (سورۃالإسراء آیت نمبر: 42)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ المؤمنون میں ارشاد فرمایا:

مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ۝

’’اللہ نے (اپنے لئے) کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ورنہ ہر خدا اپنی اپنی مخلوق کو ضرور (الگ) لے جاتا اور یقینا وہ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرتے (اور پوری کائنات میں فساد بپا ہو جاتا) ۔ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔‘‘ (سورۃالمؤمنون آیت نمبر: 91)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ القصص میں ارشاد فرمایا:

وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۝

’’اور تم اللہ کے ساتھ کسی دوسرے (خود ساختہ) معبود کو نہ پوجا کرو، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے، حکم اسی کاہے اور تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ (سورۃالقصص آیت نمبر: 88)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ یس میں ارشاد فرماتا ہے:

وَمَا لِي لاَ أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۝ أَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِ آلِهَةً إِن يُرِدْنِ الرَّحْمَن بِضُرٍّ لاَّ تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلاَ يُنقِذُونِ۝ إِنِّي إِذًا لَّفِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍ۝ إِنِّي آمَنتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ۝

’’اور مجھے کیا ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے اور تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ کیا میں اس (اللہ) کو چھوڑ کر ایسے معبود بنالوں کہ اگر خدائے رحمان مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ مجھے اُن کی سفارش کچھ نفع پہنچاسکے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکیں۔ بے شک تب تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گا۔ بے شک میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں، سو تم مجھے (غور سے) سنو۔‘‘
 
Top