جانے کیوں رکھتے ہو تم دل میں عداوت گل کی

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
اس جشن چراغاں سے تو بہتر تھے اندھیرے
ان جھوٹے چراغوں کو بجھا کیوں نہیں دیتے
یہ دور ترقی ہے یہاں ہرسمت چراغاں ہی چراغاں ہے
مگر دل کی بستی میں کوئی چراغ جلا کیوں نہیں دیتے
 

ایم راقم

وفقہ اللہ
رکن
چرخ چینوٹی نے کہا ہے
بزم جاناں میں محبت کا اثر دیکھیں گے

کس سے ملتی ہے نظر ان کی نظر دیکھیں گے

اب نہ پلکوں پہ ٹکو ٹوٹ کے برسو اشکو

ان کا کہنا ہے کہ ہم دیدۂ تر دیکھیں گے

دھڑکنو تیز چلو ڈوبتی نبضو ابھرو

آج وہ بجھتے چراغوں کی سحر دیکھیں گے

اے مرے دل کے سلگتے ہوئے داغو بھڑکو

ہجر کی رات وہ جلتا ہوا گھر دیکھیں گے

تیرے در سے ہمیں خیرات ملے یا نہ ملے

ہم ترے در کے سوا کوئی نہ در دیکھیں گے

میکدے جھومیں گے برسے گی جوانی کی شراب

وہ چھلکتی ہوئی نظروں سے جدھر دیکھیں گے

ان کی نظروں سے ہے وابستہ زمانے کی نظر

وہ جدھر دیکھیں گے سب لوگ ادھر دیکھیں گے

آج ماضی کے فسانے وہ سنیں گے اے چرخؔ

میری برباد امیدوں کے کھنڈر دیکھیں گے
بہت زبردست شا عری ہے
 
Top