رمضان کی بابرکت راتیں

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
مشكوة المصابيح
كتاب الصوم
رمضان کی بابرکت راتیں
حدیث نمبر: 1960
وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كان اول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت ابواب النار فلم يفتح منها باب الجنة فلم يغلق منها باب وينادي مناد: يا باغي الخير اقبل ويا باغي الشر اقصر ن ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة. رواه الترمذي وابن ماجه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، جہنم کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا، اور جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، اور منادی کرنے والا اعلان کرتا ہے: خیرو بھلائی کے طالب! آگے بڑھ، اور شر کے طالب! رک جا، اور اللہ کے لیے جہنم سے آزاد کردہ لوگ ہیں، اور ہر رات ایسے ہوتا ہے۔ “ سندہ ضعیف۔
 

خواجہ ابو اسحاق شامی

شرف الدین چشتی
رکن
رمضان میں شیاطین کو جکڑنا،قید کرنا متعدد احادیث سے ثابت ہے، جن میں سے چند یہ ہیں

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ “.
جب رمضان شروع ہو تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے
(صحیح بخاری حدیث نمبر-3277)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1079)


مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ ؛ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ
جب رمضان آتا ہے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کےدروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین بیڑیوں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں ۔
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1079)

سنن ترمذی میں ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ وَيُنَادِي مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنْ النَّارِ وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ
جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اورسرکش جن جکڑ دیئے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔اورجنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بندنہیں کیاجاتا، پکارنے والا پکارتاہے: خیر کے طلب گار!آگے بڑھ ، اور شرکے طلب گار! رُک جا اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزادکئے ہوئے بندے ہیں (توہوسکتاہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو) اور ایسا(رمضان کی) ہررات کو ہوتا ہے
(سنن ترمذی حدیث نمبر-682)
( سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-1642)
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
احادیث میں صراحت ہے کہ ماہ رمضان کے شروع میں شیاطین قید کرلیے جاتے ہیں، بعض حدیثوں میں سرکش شیاطین کے قید ہونے کا ذکر ہے، جس کی وجہ سے محدثین نے یہ بھی احتمال لکھا ہے کہ صرف سرکش شیاطین قید ہوتے ہوں۔

قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ شَہْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَہَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِینُ۔ ( البخاری، رقم :۱۸۹۹)
قال العینی : وَقیل: المُرَاد بالشیاطین بَعضہم، وہم المردة مِنْہُم، وَترْجم لذَلِک ابْن خُزَیْمَة فِی (صَحِیحہ)
وَأورد مَا أخرجہ ہُوَ وَالتِّرْمِذِیّ وَالنَّسَائِیّ وَابْن مَاجَہ وَالْحَاکِم من طَرِیق الْأَعْمَش عَن أبی صَالح عَن أبی ہُرَیْرَة بِلَفْظ: (إِذا کَانَ أول لَیْلَة من شہر رَمَضَان صفدت الشَّیَاطِین مَرَدَة الْجِنّ) . وَأخرجہ النَّسَائِیّ من طَرِیق أبی قلَابَة عَن أبی ہُرَیْرَة بِلَفْظ: (وتغل فِیہِ مَرَدَة الشَّیَاطِین)۔ ۔ ۔
وَقیل: المسلسل بعض الشَّیَاطِین وہم المردة لَا کلہم، کَمَا تقدم فِی بعض الرِّوَایَات، وَالْمَقْصُود تقلیل الشرور فِیہِ، وَہَذَا أَمر محسوس، فَإِن وُقُوع ذَلِک فِیہِ أقل من غَیرہ۔ ( عمدة القاری )۔


واللہ تعالیٰ اعلم
 
Top