(1)حروف الھجاء کا تعارف

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہٰذَا وَ مَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلاَ اَنْ ہَدَانَا اللّٰہُ
رَبِّ اشۡرَحۡ لِىۡ صَدۡرِىۙ‏ وَيَسِّرۡ لِىۡۤ اَمۡرِىۙ‏ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِىۙ‏ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِى
رَبِّ يَسِّرْ وَ لَا تُعَسِّرْ وَ تَمِّمْ بِالْخَيْرِ

آج سے ہم باقاعدہ اپنے کورس کا آغاز کرتے ہیں۔

عربی زبان جو کلام اللہ کی زبان ہے انتہائی آسان اور سادہ ہے۔ خاص طور پر اردو بولنے اور سمجھنے والوں کے لیے تو یہ زبان اور بھی آسان ہے۔ اس آسانی کی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان کے 80 فیصد الفاظ عربی کے ہی ہیں۔ صرف ایک زبان سے دوسرے زبان میں منتقل ہوتے ہوئے ان میں کچھ تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں۔ لہذا اگر ہم صرف اس تبدیلی کو ہی سمجھ لیں تو نصف سے زائد عربی سے تو ایسے ہی آگاہی ہو جائے گی۔
عربی زبان میں بنیادی حیثیت حروف الھجاء کو حاصل ہے۔ انھیں حروف الھجاء کو ہم اردو زبان میں حروف تہجی اور انگریزی زبان میں alphabet کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ ویسے ایک جنرل نالج کے طور پر سوال پوچھوں اردو کے حروف تہجی کی تعداد کتنی ہے؟ جواب ضرور دیجیئے گا۔ مگر جلدی سے کسی سے پوچھنے یا سرچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بس ویسے ہی پوچھ لیا۔
اچھا ایک اور سوال اردو کے حروف تہجی کی تعداد ہو سکتا ہے یاد نہ ہو مگر چلیں انگریزی کے ہی بتا دیں۔
اچھا یہ بھی چھوڑیں۔ چلیں اب عربی حروف الھجاء ہی کی طرف آتے ہیں۔
حروف الھجاء درج ذیل ہیں۔

ابتثجحخ
دذرزسشص
ضطظعغفق
کلمنوہی

عربی زبان کی دوسری سب سے اہم چیز اس کی حرکات ہوتی ہیں۔ بنیادی حرکات درج ذیل ہیں:
َ ، زبر جسے عربی میں فتحہ کہتے ہیں۔
ِ زیر جسے عربی میں کسرہ کہتے ہیں۔
ُ پیش جسے عربی میں ضمہ کہتے ہیں

جس حرف پر زبر ہو اس حرف کو "مفتوح" کہتے ہیں۔
جس حرف پر زیر ہو اس حرف کو "مکسور" کہتے ہیں۔
جس حرف پر پیش ہو اس حرف کو "مضموم" کہتے ہیں۔

دوہری حرکات کو تنوین کہتے ہیں۔

حرکات کے علاوہ ایک اور علامت جو کہ اہم علامت ہے "علامت سکون" ہے۔ جو کہ درج ذیل ہے:
ْ
عربی حروف الھجاء کی تعداد 28 ہے یا 29 ہے۔ فرق "ء" ہمزہ کا ہے۔ جو لوگ الف اور ہمزہ کو ایک ہی حرف شمار کرتے ہیں ان کے نزدیک حروف الھجاء کی تعداد 28 ہے اور جو ان (ہمزہ اور الف) کے درمیان فرق کرتے ہیں ان کے لیے حروف الھجاء 29 ہو جاتے ہیں۔
الف اور ہمزہ میں فرق کیا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب الف پر تینوں حرکات (زیر، زبر، پیش) میں سے کوئی حرکت آجائے یا علامت سکون آ جائے تو وہ ہمزہ بن جاتا ہے۔ ہمزہ کہلاتا ہے۔
ا = الف
اَ یا اِ یا اُ یا اْ = ہمزہ

مثال کے طور پر اِنْسَان اس میں پہلا الف ہمزہ ہے اور دوسرا الف ہے۔
اسی طرح کِتَاب میں الف الف ہی ہے۔
اور کچھ مثالیں آپ عرض کر دیجیئے۔

حروف اور حرکات کے ملنے سے الفاظ وجود میں آتے ہیں۔
یہ الفاظ با معنی بھی ہو سکتے ہیں اور بے معنی بھی۔
بے معنی الفاظ، چونکہ کلام اللہ کا کوئی لفظ بے معنی نہیں اس لیے ہم بے معنی کے پیچھے بالکل بھی نہیں پڑیں گے۔ ہمارا تمام تر دھیان صرف اور صرف با معنی الفاظ پر ہی رہے گا۔ اس لیے بے معنی الفاظ کو کہتے کیا ہیں ہم وہ بھی ذکر نہیں کریں گے۔
تو ہم بات کر رہے تھے با معنی الفاظ کی۔
ہر با معنی لفظ کو کَلِمَۃ ("ک" کی زبر، "ل" کی زیر کے ساتھ اور "م" کی زبر کے ساتھ) کہتے ہیں۔
مثال کے طور پر
ا ن س ا ن = اِنْسَان
ق ل م = قَلَم
ک ت ا ب = کِتَاب

وغیرہ

ویسے ہم عام بول چال میں کَلِمَۃ کو کَلْمَہ کہتے ہیں۔ لام کی زیر کی حرکت کو ساکن کر دیتے ہیں۔ اور پھر اس کی ادائیگی غلط ہو جاتی ہے۔
جب کسی بھی زبان کے قواعد مرتب کیے جاتے ہیں تو اس زبان میں استعمال ہونے والے با معنی لفظوں کے گروپنگ کر دی جاتی ہے۔
انگلش میں ہم اس گروپنگ سے part of speech کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ part of speech کتنے ہیں؟ جواب آپ دے سکتے ہیں۔ بہرحال یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔
جبکہ اردو اور عربی میں اس تقسیم کی تعداد تین ہے۔ ہم اس کو جانتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں یوں کہیں کہ عربی میں کَلِمَۃ کی تین اقسام ہیں:
اسم، فعل اور حرف
اسم: کسی جگہ، چیز، صفت یا کسی کام کا نام اسم کہلاتا ہے۔ کام کے نام سے مراد "مصدر" ہے۔ مثال کے طور پر پڑھنا، لکھنا، مارنا، جانا، پینا وغیرہ۔
فعل: وہ کلمہ جس میں کسی کام کا کرنا یا واقع ہونا زمانے کی قید کے ساتھ پایا جائے۔ مثال کے طور پر "مارا" ایک فعل ہے۔ اس مارنے میں زمانہ پایا جا رہا ہے کہ ماضی میں مارا۔ جبکہ مارنا تو ایک اسم ہے جس میں کام کا مفہوم تو موجود ہے مگر زمانے کی کوئی قید نہیں ہے۔
حرف: یہ وہ کلمہ ہوتا ہے جس کے معنی تو ہوتے ہیں لیکن جب تک یہ کسی اسم یا فعل کے ساتھ استعمال نہ ہو اس کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔ جسے اردو میں "پر" ایک بامعنی لفظ ہے۔ لیکن اگر آپ اس کو سو دفعہ بھی "پر پر پر" کہتے رہیں بات واضح نہیں ہوتی۔ مگر جب آپ "کرسی پر" کہتے ہیں تو سمجھ میں آ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی آپ سے کہتا ہے کتاب کہاں ہے؟ اب آپ پر پر پر تو نہیں کہتے۔ ہو سکتا ہے آپ کہہ دیں کرسی پر۔ تو اس سے بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔
آج کے لیے اتنا ہی بہت ہے کوئی سوال ہو اس بارے میں تو آپ پوچھ سکتے ہیں۔

و آخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الانبیاء و المرسلين سيدنا محمد و على آله وصحبه أجمعين



والسلام
طاہرہ فاطمہ
22-4-2022
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
عنوان پڑھ کرمجھے لگاکہ حروف تہجی کی وجہ تسمیہ پر روشنی ڈالی گئی ہوگی، اگراس طرح کاکوئی مضمون ہوتوشئیرکریں
 
Top