آؤ شاعری سیکھیں:

ایم راقم

وفقہ اللہ
رکن
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

علم کی پیاس رکھنے والے تمام ساتھیوں کو محبت بھرا سلام ۔

آغاز ہے رب کریم کے نام سے جس نے انسان کو علم کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔درود و سلام اس مقدس ہستی پر جس نے بھٹکے ہوؤں کو راہ ہدایت دکھائیں ۔آج کے سبق میں ہم مندرجہ ذیل عنوانات پر گفتگو کریں گے ۔

1.شاعری کے لیے درکار علوم ۔

2۔علم العروض کی تعریف ۔

3۔علم العروض کا بنیادی مقصد ۔

4.علم العروض اس نے ایجاد کیا ۔

5.علم العروض سیکھتے ہوئے کیا نیت ہونی چاہیے ۔



نمبر 1.شاعری کے لیے درکار علوم ۔کی وضاحت :

ہر انسان کو اللہ تعالی نے مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ہر انسان میں چیزوں کو پرکھنے کی صلاحیت بھی مختلف ہوتی ہے مخصوص لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے جمالیاتی حسن سے نوازا ہے اور وہ اپنی جمالیاتی حسن کو بدولت کائنات کی ہر چیز کو عام لوگوں سے بہت ہٹ کر دیکھتے ہیں پھر ان لوگوں کی تین قسمیں ہیں ۔

۱۔ وہ لوگ جو محسوس کرتے ہیں مگر اس مخصوص کردہ پر قابو نہیں رکھ سکتے ۔

۲۔ وہ لوگ جو اپنے مخصوص کردہ کو نثر کی صورت میں پیش کرنے پر قادر ہوتے ہیں مگر اسے منظور پیش نہیں کر سکتے ۔

۳۔ وہ لوگ جو عمدہ ذوق بہترین تخیل کے ساتھ جن چیزوں کو دیکھتے ہیں انہیں منظوم پیش کر دیتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم شاعر کہتے ہیں ۔

شاعر کے درکار علوم۔

نمبر ایک جمالیاتی حسن۔ نمبر دو ادبی کتابوں کا مطالعہ۔ نمبر 3 اچھے شعراء کے اچھے شعر سن کر انہیں اپنے حافظے میں محفوظ کرنا نمبر4 جس زبان میں آپ کہنا چاہتے ہیں اس پر اس قدر عبور ہونا کہ آپ اس کے الفاظ کے درست استعمال سے واقف ہوں ۔

نمبر 5 زبان و بیان کے حوالے سے اپنی معلومات کا دائرہ روز بروز وسیع کرتے رہنے کی جستجو اور لگن نمبر 6 علم عروض سے واقفیت ۔نمبر 7 اردو لغات سے الفاظ کے معنی کو تلاش کرنے کا طریقہ معلوم ہونا ۔نمبر 8 کسی ایسے استاد کو تلاش کرنا جس تک آپ کی رسائی آسان ہو اور آپ اس کے ساتھ کچھ وقت گزار سکیں۔نمبر 9حوصلہ افزائی۔نمبر10 دعا۔۔۔۔۔۔

نمبر2۔ علم العروض کی تعریف؟

علم العروض ایسا علم ہے جس میں شعر کے اوزان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے اور ان اوزان میں جو تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں ان کو بیان کیا جاتا ہے۔

3۔ علم العروض کا مقصد؟

عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ علم و روز کا مقصد یہ ہے کہ اسے سیکھ کر انسان شاعر بن جاتا ہی نہیں ایسا نہیں ہے شاعر بننے کے لئے جو کچھ درکار ہے وہ اوپر ذکر کر چکے ہیں علم اور اس کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہے کہ خراب شعر کو صحیح سے الگ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے یعنی یہ معلوم ہو جائے کہ اس شعر کا وزن اور آہنگ کیا ہونا چاہیے اور کیا میرا وزن میں ہے اگر ہے تو درست ہے ورنہ وہ غلط ہے اور اگر غلط ہے تو میں اسے درست کیسے کر سکتا ہوں یہ سب کچھ انسان کو علم عروض سیکھے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔

نمبر 4 علم العروض کا موجد ؟

اشعار کہنے کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسان کی تاریخ البتہ علم العروض کے باقاعدہ قواعد و ضوابط پہلی صدی ہجری کے آخر میں پیدا ہونے والے امام خلیل بن احمد نے مرتب فرمایا وہ علم کے موجد کہلاتے ہیں ۔

نمبر 5 نیت کیا ہونی چاہیے ؟

نیت یہ ہو کہ ہم اپنے اشعار سے کفری طاقتوں کو زیر قدم کرسکے اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول صلی اللہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کرسکیں۔



(مشق)۔

آپ کو آج کا سبق کیسا لگا ؟

کون سی باتیں آپ کو پہلی مرتبہ معلوم ہوئیں؟

کیا آپ نے اس علم کے حصول میں آسانی کے لئے اللہ سے دعا مانگ لی ؟

سبق کو بہتر کرنے کے لیے کوئی تجویز جو آپ کے ذہن میں ہو بلا جھجھک پیش کیجیے؟

ایم راقم
 

ایم راقم

وفقہ اللہ
رکن
سر اسی میں سے سوال کیا ہے
شاعری کیا ہے؟
کیوں ضروری ہوتی ہے؟
عروض کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
شاعری ایک ایسا ملکہ ہے جو انسان کے اپنے تخیلات و تجربات محرکات کا موضوع ہوتی ہے۔
کیوں ضروری ہے کا جواب یہ ہے کہ اس فن کو سیکھ کر ہم حمد و ثنا۔ تعریفات محمد ﷺ اور مدح صحابہ پہ کچھ نہ کچھ ایسا لکھ جائیں جو ہماری بخشش کے لیے کافی ہو۔اور اسی فن سے انسان اپنی ان خواہشات و مشاہدات کا اظہار کرتا ہے تاکہ قاری کو ایک جستجو پیدا ہو اور وہ بھی ان موضوعات کا شاعری کے روپ میں اظہار کر سکے۔
عروض؟ عروض اشعار و اوزان کو جانچنے کا علم ہے جس سے شعر کی اور بحور کی ہچان ہوتی ہے اور اس فن کے بغیر شاعری میں پختگی برجستگی پیدا نہیں ہوسکتی
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
(مشق)۔

آپ کو آج کا سبق کیسا لگا ؟

کون سی باتیں آپ کو پہلی مرتبہ معلوم ہوئیں؟

کیا آپ نے اس علم کے حصول میں آسانی کے لئے اللہ سے دعا مانگ لی ؟

سبق کو بہتر کرنے کے لیے کوئی تجویز جو آپ کے ذہن میں ہو بلا جھجھک پیش کیجیے؟
1: کافی مشکل تھا۔
2: ساری باتیں نئی تھیں۔
3: جی
4: میرے پاس تو کوئی تجویز نہیں ہے۔ یہ بہترین ہے۔
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
1.شاعری کے لیے درکار علوم ۔
2۔علم العروض کی تعریف ۔
3۔علم العروض کا بنیادی مقصد ۔
4.علم العروض اس نے ایجاد کیا ۔
5.علم العروض سیکھتے ہوئے کیا نیت ہونی چاہیے ۔
نمبر 1.شاعری کے لیے درکار علوم ۔کی وضاحت :
ہر انسان کو اللہ تعالی نے مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ہر انسان میں چیزوں کو پرکھنے کی صلاحیت بھی مختلف ہوتی ہے مخصوص لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے جمالیاتی حسن سے نوازا ہے اور وہ اپنی جمالیاتی حسن کو بدولت کائنات کی ہر چیز کو عام لوگوں سے بہت ہٹ کر دیکھتے ہیں پھر ان لوگوں کی تین قسمیں ہیں ۔
۱۔ وہ لوگ جو محسوس کرتے ہیں مگر اس مخصوص کردہ پر قابو نہیں رکھ سکتے ۔
۲۔ وہ لوگ جو اپنے مخصوص کردہ کو نثر کی صورت میں پیش کرنے پر قادر ہوتے ہیں مگر اسے منظور پیش نہیں کر سکتے ۔
۳۔ وہ لوگ جو عمدہ ذوق بہترین تخیل کے ساتھ جن چیزوں کو دیکھتے ہیں انہیں منظوم پیش کر دیتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم شاعر کہتے ہیں ۔
شاعر کے درکار علوم۔
نمبر ایک جمالیاتی حسن۔ نمبر دو ادبی کتابوں کا مطالعہ۔ نمبر 3 اچھے شعراء کے اچھے شعر سن کر انہیں اپنے حافظے میں محفوظ کرنا نمبر4 جس زبان میں آپ کہنا چاہتے ہیں اس پر اس قدر عبور ہونا کہ آپ اس کے الفاظ کے درست استعمال سے واقف ہوں ۔
نمبر 5 زبان و بیان کے حوالے سے اپنی معلومات کا دائرہ روز بروز وسیع کرتے رہنے کی جستجو اور لگن نمبر 6 علم عروض سے واقفیت ۔نمبر 7 اردو لغات سے الفاظ کے معنی کو تلاش کرنے کا طریقہ معلوم ہونا ۔نمبر 8 کسی ایسے استاد کو تلاش کرنا جس تک آپ کی رسائی آسان ہو اور آپ اس کے ساتھ کچھ وقت گزار سکیں۔نمبر 9حوصلہ افزائی۔نمبر10 دعا۔۔۔۔۔۔
نمبر2۔ علم العروض کی تعریف؟
علم العروض ایسا علم ہے جس میں شعر کے اوزان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے اور ان اوزان میں جو تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں ان کو بیان کیا جاتا ہے۔
3۔ علم العروض کا مقصد؟
عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ علم و روز کا مقصد یہ ہے کہ اسے سیکھ کر انسان شاعر بن جاتا ہی نہیں ایسا نہیں ہے شاعر بننے کے لئے جو کچھ درکار ہے وہ اوپر ذکر کر چکے ہیں علم اور اس کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہے کہ خراب شعر کو صحیح سے الگ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے یعنی یہ معلوم ہو جائے کہ اس شعر کا وزن اور آہنگ کیا ہونا چاہیے اور کیا میرا وزن میں ہے اگر ہے تو درست ہے ورنہ وہ غلط ہے اور اگر غلط ہے تو میں اسے درست کیسے کر سکتا ہوں یہ سب کچھ انسان کو علم عروض سیکھے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔
نمبر 4 علم العروض کا موجد ؟
اشعار کہنے کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسان کی تاریخ البتہ علم العروض کے باقاعدہ قواعد و ضوابط پہلی صدی ہجری کے آخر میں پیدا ہونے والے امام خلیل بن احمد نے مرتب فرمایا وہ علم کے موجد کہلاتے ہیں ۔
نمبر 5 نیت کیا ہونی چاہیے ؟
نیت یہ ہو کہ ہم اپنے اشعار سے کفری طاقتوں کو زیر قدم کرسکے اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول صلی اللہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کرسکیں۔
 

ایم راقم

وفقہ اللہ
رکن
1.شاعری کے لیے درکار علوم ۔
2۔علم العروض کی تعریف ۔
3۔علم العروض کا بنیادی مقصد ۔
4.علم العروض اس نے ایجاد کیا ۔
5.علم العروض سیکھتے ہوئے کیا نیت ہونی چاہیے ۔
نمبر 1.شاعری کے لیے درکار علوم ۔کی وضاحت :
ہر انسان کو اللہ تعالی نے مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ہر انسان میں چیزوں کو پرکھنے کی صلاحیت بھی مختلف ہوتی ہے مخصوص لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے جمالیاتی حسن سے نوازا ہے اور وہ اپنی جمالیاتی حسن کو بدولت کائنات کی ہر چیز کو عام لوگوں سے بہت ہٹ کر دیکھتے ہیں پھر ان لوگوں کی تین قسمیں ہیں ۔
۱۔ وہ لوگ جو محسوس کرتے ہیں مگر اس مخصوص کردہ پر قابو نہیں رکھ سکتے ۔
۲۔ وہ لوگ جو اپنے مخصوص کردہ کو نثر کی صورت میں پیش کرنے پر قادر ہوتے ہیں مگر اسے منظور پیش نہیں کر سکتے ۔
۳۔ وہ لوگ جو عمدہ ذوق بہترین تخیل کے ساتھ جن چیزوں کو دیکھتے ہیں انہیں منظوم پیش کر دیتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم شاعر کہتے ہیں ۔
شاعر کے درکار علوم۔
نمبر ایک جمالیاتی حسن۔ نمبر دو ادبی کتابوں کا مطالعہ۔ نمبر 3 اچھے شعراء کے اچھے شعر سن کر انہیں اپنے حافظے میں محفوظ کرنا نمبر4 جس زبان میں آپ کہنا چاہتے ہیں اس پر اس قدر عبور ہونا کہ آپ اس کے الفاظ کے درست استعمال سے واقف ہوں ۔
نمبر 5 زبان و بیان کے حوالے سے اپنی معلومات کا دائرہ روز بروز وسیع کرتے رہنے کی جستجو اور لگن نمبر 6 علم عروض سے واقفیت ۔نمبر 7 اردو لغات سے الفاظ کے معنی کو تلاش کرنے کا طریقہ معلوم ہونا ۔نمبر 8 کسی ایسے استاد کو تلاش کرنا جس تک آپ کی رسائی آسان ہو اور آپ اس کے ساتھ کچھ وقت گزار سکیں۔نمبر 9حوصلہ افزائی۔نمبر10 دعا۔۔۔۔۔۔
نمبر2۔ علم العروض کی تعریف؟
علم العروض ایسا علم ہے جس میں شعر کے اوزان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے اور ان اوزان میں جو تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں ان کو بیان کیا جاتا ہے۔
3۔ علم العروض کا مقصد؟
عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ علم و روز کا مقصد یہ ہے کہ اسے سیکھ کر انسان شاعر بن جاتا ہی نہیں ایسا نہیں ہے شاعر بننے کے لئے جو کچھ درکار ہے وہ اوپر ذکر کر چکے ہیں علم اور اس کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہے کہ خراب شعر کو صحیح سے الگ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے یعنی یہ معلوم ہو جائے کہ اس شعر کا وزن اور آہنگ کیا ہونا چاہیے اور کیا میرا وزن میں ہے اگر ہے تو درست ہے ورنہ وہ غلط ہے اور اگر غلط ہے تو میں اسے درست کیسے کر سکتا ہوں یہ سب کچھ انسان کو علم عروض سیکھے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔
نمبر 4 علم العروض کا موجد ؟
اشعار کہنے کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسان کی تاریخ البتہ علم العروض کے باقاعدہ قواعد و ضوابط پہلی صدی ہجری کے آخر میں پیدا ہونے والے امام خلیل بن احمد نے مرتب فرمایا وہ علم کے موجد کہلاتے ہیں ۔
نمبر 5 نیت کیا ہونی چاہیے ؟
نیت یہ ہو کہ ہم اپنے اشعار سے کفری طاقتوں کو زیر قدم کرسکے اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول صلی اللہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کرسکیں۔
ماشاءاللّٰه
 
Top