اسمِ مصدر ( قسط اول )
تحریر : پروفیسر سمیع اللہ حضروی صاحب
دنیا میں جتنی بھی زبانیں اور بولیاں ، بولی جاتی ہیں ان میں بولے والے جملے ، دو قسم کے ہوتے ہیں ۔
1 - جملہ اسمیہ خبریہ =
یہ وہ جملہ ہے جس میں کسی بات وغیرہ کی خبر دی جاتی ہے یا موجود ہوتی ہے ۔ ان میں مصدر یا مشتقات(افعال) کا استعمال نہیں کیا جاتا ۔ جیسے
اللہ ایک ہے ۔
حضور اکرم ﷺ اللہ تعالٰی کے آخری رسول ہیں ۔
اسلم میرا بھائی ہے ۔
پاکستان میرا پیارا ملک ہے ۔ وغیرہ ۔
اِ ن جملوں میں اللہ کے ایک ہونے ، حضور اکرم ﷺ کے آخری رسول ہونے ، اسلم کا بھائی ہونے اور پاکستان کے ملک ہونے کی خبر دی گئی ہے ۔ اس لیے قواعد کی رُو سے یہ جملے *اسمیہ خبریہ* كہلاتے ہیں ۔
2 - جملہ اسمیہ فعلیہ خبریہ =
یہ وہ جملے ہوتے ہیں جن میں مصدر یا اس کے مشتقات(افعال) لائے جاتے ہیں اور ان ہی افعال کے ذریعے کوئی نہ کوئی خبر دی جاتی ہے ۔ جیسے
ہم دن میں پانچ بار نماز ادا کرتے ہیں ۔
میں کتاب پڑھتا ہوں ۔
وہ سکول جاتا ہے ۔
وہ خط لکھے گا ۔ وغیرہ
اِ ن جملوں میں ادا کرتا ، پڑھتا ، جاتا اور لکھے مشتقات یعنی افعال ہیں جو ادا کرنا ، پڑھنا ، جانا اور لکھنا مصدر سے مشتق ہیں ۔
اب مصدر سے متعلق وضاحت کی جاتی ہے ۔
مصدر =
قواعد میں اسم کی بہ لحاظِ بناوٹ ، تین اقسام میں سے ایک قسم *مصدر* ہے ۔ باقی دو اقسام میں اسمِ مشتق اور اسمِ جامد ہیں ۔ اسم مشتق وہ ہے جو خود تو کسی مصدر سے بنایا جائے لیکن اس سے مزید افعال نہ بن سکیں ۔ جیسے
لکھنا مصدر سے لکھا ، لکھ ، لکھو ، لکھیں ، لکھا ہوا ، لکھائی ، لکھنے والا وغیرہ ۔ لغت میں مشتق کا معنٰی حاصل کردہ ، نکلا ہوا ، ماخوذ وغیرہ ہے ۔
اسمِ جامد وہ اسم ہے جو نہ تو مصدر سے بنا ہو اور نہ ہی اسے سے کوئی لفظ يا کلمہ بن سکے ۔ جیسے
تختہ ، قلم ، آسمان ، زمین ، مکان وغیرہ ۔ لغت میں جامد کا معنٰی ٹھوس ، سخت ، جما ہوا ، ساکن وغیرہ ۔
مصدر ، عربی زبان سے ماخوذ ہے ۔ قواعد کے لحاظ سے اسمِ نکرہ اور اسمِ ظرفِ مکاں ہے ۔
اس کے حروفِ اصلیہ یعنی مادہ ص ، د ، ر ہے ۔
صدر کے مختلف معانی ہیں ۔ مثلًا
سینہ ، ہر شے کا سامنے والا حصہ ، حکم جاری کرنا یا ہونا ، فیصلہ صادر کرنا ، واپس ہونا ، حکم ران وغیرہ ہے ۔
مصدر ، صدر سے مشتق ہے ۔ اس کا معنٰی سرچشمہ ، اصل ، جڑ ، کسی چیز کے نکلنے یا جاری ہونے کی جگہ ، مرکز اور ذریعہ وغیرہ ۔
مصدر کی جمع مصادر ہے ۔ مصادر ، انھیں بھی کہا جاتا ہے جن سے کچھ اخذ کیا جائے ۔ یعنی اس کتاب کے مصادر یہ ہیں یا یہ مضمون ان مصادر سے اخذ کیا گیا ہے ۔ مصادر یعنی مآخذ ۔
علماے قواعد کے مطابق مصدر وہ اسم ہے جو خود تو کسی اسم سے نہ بنا ہو لیکن اس سے دوسرے (اسم) مشتقات یعنی افعال بن سکیں ۔
مولانا فتح محمد جالندھری کہتے ہیں :
"وہ کلمہ جو کسی کام یا حرکت کا بیان ہو اور اس میں، میں زمانہ نہ پایا جائے یعنی اس کام یا حرکت کا کوئی وقت متعین ہو " ۔
(مصباح القواعد مولانا فتح محمد جالندھری : ص 24)
جیسے
آنا ، جانا ، رونا ، ہنسنا ، لکھنا ، پڑھنا ، پڑنا ، دیکھنا ، سننا اور جاگنا وغیرہ ۔ ان مثالوں میں مختلف قسم کے کاموں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ان کے ساتھ کسی وقت یا زمانے کی قید نہیں لگائی گئی ۔
مصدر کی علامت =
اردو زبان میں مصدر کی علامت " نا " ہے ۔ جیسے آنا سونا ، دیکھنا ، بیٹھنا ، لکھنا وغیرہ ۔ اردو میں بے شمار الفاظ ہیں جن کے آخر میں " نا " آتا ہے لیکن وہ مصدر نہیں ۔ جیسے
گنا ، چنا ، نانا ، سونا(دھات) وغیرہ ۔
علامتِ مصدر کی پہچان یہ ہے اگر " نا " دور کردیا جائے تو باقی فعل امر رہ جائے ۔ جیسے
آنا سے آ ، جانا سے جا ، لکھنا سے لکھ ، پڑھنا سے پڑھ وغیرہ ۔
فارسی زبان میں مصدر کی علامت " ن " ہے جب کہ عام طور پر " دَن " اور " تَن " کو علامتِ مصدر کہا جاتا ہے ۔ جیسے :
نوشتن(لکھنا) ، خوردن(کھانا) ، آمدن(آنا) ، دیدن(دیکھنا) وغیرہ ۔
فارسی میں بھی ہر وہ لفظ مصدر نہیں ہوتا جس کے آخر میں " *ن* " آئے ۔ جیسے
گلشن ، چمن ، فگن وغیرہ ۔ فارسی میں مصدر کی پہچان یہ ہے کہ اگر علامتِ مصدر " *ن* "دور کردی جائے تو باقی عمومًا مضارع یا حاصل مصدر بن جاتا ہے ۔ جیسے
نوشتن(لکھنا) سے نوشت(حاصلِ مصدر) افسردن(پریشان ہونا) سے افسرد(فعل مضارع) برخاستن(اٹھنا) سے برخاست(حاصلِ مقدر) وغیرہ ۔ یاد رہے کہ فارسی زبان میں فعل مضارع اور حاصلِ مصدر بنانے کے مختلف قواعد ہیں ۔
انگریزی زبان میں " to " علامتِ مصدر ہے ۔ جیسے
to go.
to read.
to come.
to write.
وغیرہ ۔ یاد رہے کہ " to " وہاں مصدری معنٰی پیدا کرے گا جہاں اس کے فورًا بعد فعل یعنی verb کی پہلی حالت یعنی form آئے گی اور اس سے قبل کسی دوسرے کام کا(کسی بھی زمانے میں) ذکر کیا جائے گا ۔ جیسے
We want to go .
He wanted to read a book .
You shell have to write a letter.
وغیرہ ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ " to " ہر جگہ علامتِ مصدر نہیں ہوتا ۔ یہ عام طور پر کسی جگہ وغیرہ کی طرف اشارہ کے لیے بھی مستعمل ہے ۔ اس صورت میں " to " کا معنٰی " کی طرف(اشارۃً) " بھی کیا جاتا ہے ۔ جیسے
I go to Lahore.
You should to go to Murry.
وغیرہ ۔
مصدر کو انگریزی زبان میں Infinitive کہتے ہیں ۔
جاری ہے . . . .
تحریر : پروفیسر سمیع اللہ حضروی صاحب
دنیا میں جتنی بھی زبانیں اور بولیاں ، بولی جاتی ہیں ان میں بولے والے جملے ، دو قسم کے ہوتے ہیں ۔
1 - جملہ اسمیہ خبریہ =
یہ وہ جملہ ہے جس میں کسی بات وغیرہ کی خبر دی جاتی ہے یا موجود ہوتی ہے ۔ ان میں مصدر یا مشتقات(افعال) کا استعمال نہیں کیا جاتا ۔ جیسے
اللہ ایک ہے ۔
حضور اکرم ﷺ اللہ تعالٰی کے آخری رسول ہیں ۔
اسلم میرا بھائی ہے ۔
پاکستان میرا پیارا ملک ہے ۔ وغیرہ ۔
اِ ن جملوں میں اللہ کے ایک ہونے ، حضور اکرم ﷺ کے آخری رسول ہونے ، اسلم کا بھائی ہونے اور پاکستان کے ملک ہونے کی خبر دی گئی ہے ۔ اس لیے قواعد کی رُو سے یہ جملے *اسمیہ خبریہ* كہلاتے ہیں ۔
2 - جملہ اسمیہ فعلیہ خبریہ =
یہ وہ جملے ہوتے ہیں جن میں مصدر یا اس کے مشتقات(افعال) لائے جاتے ہیں اور ان ہی افعال کے ذریعے کوئی نہ کوئی خبر دی جاتی ہے ۔ جیسے
ہم دن میں پانچ بار نماز ادا کرتے ہیں ۔
میں کتاب پڑھتا ہوں ۔
وہ سکول جاتا ہے ۔
وہ خط لکھے گا ۔ وغیرہ
اِ ن جملوں میں ادا کرتا ، پڑھتا ، جاتا اور لکھے مشتقات یعنی افعال ہیں جو ادا کرنا ، پڑھنا ، جانا اور لکھنا مصدر سے مشتق ہیں ۔
اب مصدر سے متعلق وضاحت کی جاتی ہے ۔
مصدر =
قواعد میں اسم کی بہ لحاظِ بناوٹ ، تین اقسام میں سے ایک قسم *مصدر* ہے ۔ باقی دو اقسام میں اسمِ مشتق اور اسمِ جامد ہیں ۔ اسم مشتق وہ ہے جو خود تو کسی مصدر سے بنایا جائے لیکن اس سے مزید افعال نہ بن سکیں ۔ جیسے
لکھنا مصدر سے لکھا ، لکھ ، لکھو ، لکھیں ، لکھا ہوا ، لکھائی ، لکھنے والا وغیرہ ۔ لغت میں مشتق کا معنٰی حاصل کردہ ، نکلا ہوا ، ماخوذ وغیرہ ہے ۔
اسمِ جامد وہ اسم ہے جو نہ تو مصدر سے بنا ہو اور نہ ہی اسے سے کوئی لفظ يا کلمہ بن سکے ۔ جیسے
تختہ ، قلم ، آسمان ، زمین ، مکان وغیرہ ۔ لغت میں جامد کا معنٰی ٹھوس ، سخت ، جما ہوا ، ساکن وغیرہ ۔
مصدر ، عربی زبان سے ماخوذ ہے ۔ قواعد کے لحاظ سے اسمِ نکرہ اور اسمِ ظرفِ مکاں ہے ۔
اس کے حروفِ اصلیہ یعنی مادہ ص ، د ، ر ہے ۔
صدر کے مختلف معانی ہیں ۔ مثلًا
سینہ ، ہر شے کا سامنے والا حصہ ، حکم جاری کرنا یا ہونا ، فیصلہ صادر کرنا ، واپس ہونا ، حکم ران وغیرہ ہے ۔
مصدر ، صدر سے مشتق ہے ۔ اس کا معنٰی سرچشمہ ، اصل ، جڑ ، کسی چیز کے نکلنے یا جاری ہونے کی جگہ ، مرکز اور ذریعہ وغیرہ ۔
مصدر کی جمع مصادر ہے ۔ مصادر ، انھیں بھی کہا جاتا ہے جن سے کچھ اخذ کیا جائے ۔ یعنی اس کتاب کے مصادر یہ ہیں یا یہ مضمون ان مصادر سے اخذ کیا گیا ہے ۔ مصادر یعنی مآخذ ۔
علماے قواعد کے مطابق مصدر وہ اسم ہے جو خود تو کسی اسم سے نہ بنا ہو لیکن اس سے دوسرے (اسم) مشتقات یعنی افعال بن سکیں ۔
مولانا فتح محمد جالندھری کہتے ہیں :
"وہ کلمہ جو کسی کام یا حرکت کا بیان ہو اور اس میں، میں زمانہ نہ پایا جائے یعنی اس کام یا حرکت کا کوئی وقت متعین ہو " ۔
(مصباح القواعد مولانا فتح محمد جالندھری : ص 24)
جیسے
آنا ، جانا ، رونا ، ہنسنا ، لکھنا ، پڑھنا ، پڑنا ، دیکھنا ، سننا اور جاگنا وغیرہ ۔ ان مثالوں میں مختلف قسم کے کاموں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ان کے ساتھ کسی وقت یا زمانے کی قید نہیں لگائی گئی ۔
مصدر کی علامت =
اردو زبان میں مصدر کی علامت " نا " ہے ۔ جیسے آنا سونا ، دیکھنا ، بیٹھنا ، لکھنا وغیرہ ۔ اردو میں بے شمار الفاظ ہیں جن کے آخر میں " نا " آتا ہے لیکن وہ مصدر نہیں ۔ جیسے
گنا ، چنا ، نانا ، سونا(دھات) وغیرہ ۔
علامتِ مصدر کی پہچان یہ ہے اگر " نا " دور کردیا جائے تو باقی فعل امر رہ جائے ۔ جیسے
آنا سے آ ، جانا سے جا ، لکھنا سے لکھ ، پڑھنا سے پڑھ وغیرہ ۔
فارسی زبان میں مصدر کی علامت " ن " ہے جب کہ عام طور پر " دَن " اور " تَن " کو علامتِ مصدر کہا جاتا ہے ۔ جیسے :
نوشتن(لکھنا) ، خوردن(کھانا) ، آمدن(آنا) ، دیدن(دیکھنا) وغیرہ ۔
فارسی میں بھی ہر وہ لفظ مصدر نہیں ہوتا جس کے آخر میں " *ن* " آئے ۔ جیسے
گلشن ، چمن ، فگن وغیرہ ۔ فارسی میں مصدر کی پہچان یہ ہے کہ اگر علامتِ مصدر " *ن* "دور کردی جائے تو باقی عمومًا مضارع یا حاصل مصدر بن جاتا ہے ۔ جیسے
نوشتن(لکھنا) سے نوشت(حاصلِ مصدر) افسردن(پریشان ہونا) سے افسرد(فعل مضارع) برخاستن(اٹھنا) سے برخاست(حاصلِ مقدر) وغیرہ ۔ یاد رہے کہ فارسی زبان میں فعل مضارع اور حاصلِ مصدر بنانے کے مختلف قواعد ہیں ۔
انگریزی زبان میں " to " علامتِ مصدر ہے ۔ جیسے
to go.
to read.
to come.
to write.
وغیرہ ۔ یاد رہے کہ " to " وہاں مصدری معنٰی پیدا کرے گا جہاں اس کے فورًا بعد فعل یعنی verb کی پہلی حالت یعنی form آئے گی اور اس سے قبل کسی دوسرے کام کا(کسی بھی زمانے میں) ذکر کیا جائے گا ۔ جیسے
We want to go .
He wanted to read a book .
You shell have to write a letter.
وغیرہ ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ " to " ہر جگہ علامتِ مصدر نہیں ہوتا ۔ یہ عام طور پر کسی جگہ وغیرہ کی طرف اشارہ کے لیے بھی مستعمل ہے ۔ اس صورت میں " to " کا معنٰی " کی طرف(اشارۃً) " بھی کیا جاتا ہے ۔ جیسے
I go to Lahore.
You should to go to Murry.
وغیرہ ۔
مصدر کو انگریزی زبان میں Infinitive کہتے ہیں ۔
جاری ہے . . . .