اگر چاند ایک جگہ نظر آ جائے تو كيا تمام مسلمانوں پر روزہ ركھنا فرض ہے؟

ابو داؤد

طالب علم
رکن
اگر چاند ایک جگہ نظر آ جائے تو كيا تمام مسلمانوں پر روزہ ركھنا فرض ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

صحیح بخاری کی حدیث ہے :

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا یوں کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر تم سب روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر تم سب عیدالفطر مناؤ، اور اگر مطلع ابر آلود ہو جائے تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کرو۔


[صحيح البخاري، كِتَابُ الصَّوْمِ، حديث: ١٩٠٩]

امام الشوكاني رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

وَهَذَا لَا يَخْتَصُّ بِأَهْلِ نَاحِيَةٍ عَلَى جِهَةِ الِانْفِرَادِ بَلْ هُوَ خِطَابٌ لِكُلِّ مَنْ يَصْلُحُ لَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَالِاسْتِدْلَالُ بِهِ عَلَى لُزُومِ رُؤْيَةِ أَهْلِ بَلَدٍ لِغَيْرِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْبِلَادِ أَظْهَرُ مِنْ الِاسْتِدْلَالِ بِهِ عَلَى عَدَمِ اللُّزُومِ لِأَنَّهُ إذَا رَآهُ أَهْلُ بَلَدٍ فَقَدْ رَآهُ الْمُسْلِمُونَ فَيَلْزَمُ غَيْرَهُمْ مَا لَزِمَهُمْ

یہ حکم انفرادی طور پر کسی شہر والوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ خطاب تمام مسلمانوں پر منطبق ہوتا ہے (خواہ وہ دنیا کے کسی خطے میں ہو) لہذا اس حدیث کے ذریعہ کسی ایک ملک والے کی رؤیت کا دیگر ممالک والوں کے لئے لازم ہونے پر استدلال کرنا زیادہ واضح ہے بنسبت عدم لزوم کے کیونکہ جب ایک ملک والوں نے چاند دیکھ لیا تو (گویا) دیگر ممالک کے تمام مسلمانوں نے اسے دیکھ لیا چنانچہ دیگر ممالک کے تمام مسلمانوں پر بھی وہی چیز لازم آئے گی جو چیز چاند دیکھنے والے ملک کے مسلمانوں پر لازم آئے گی۔


[نيل الأوطار، كتاب الصيام، ج: ٤، ص: ٢٣١]

نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں:

وإذا رآه أهل بلد لزم سائر البلاد الموافقة وجهه الأحاديث المصرحة بالصيام لرؤيته والإفطار لرؤيته وهي خطاب لجميع الأمة فمن رآه منهم في أي مكان كان ذلك رؤية لجميعهم

جب کسی ملک کے باشندے چاند دیکھ لیں گے تو تمام ملکوں پر اس رؤیت کو مان لینا لازم ہوگا، اس کی دلیل وہ احادیث ہیں جو چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر سلسلہ روزہ توڑ دینے کی صراحت کر رہی ہیں وہ احادیث تمام امت کو خطاب کر رہی ہیں چنانچہ امت کے تمام افراد میں سے کوئی بھی، خواہ وہ کہیں بھی ہو، اس کی وہ رؤیت امت کے تمام لوگوں کے لئے رؤیت قرار پائے گی۔


[الروضة الندية شرح الدرر البهية ط المعرفة، ج:١، ص: ٢٢٤، ٢٢٥]

الموسوعة الفقهية میں بیان ہوا ہے :

ذَهَبَ الْحَنَفِيَّةُ وَالْمَالِكِيَّةُ وَالْحَنَابِلَةُ وَهُوَ قَوْلٌ عِنْدَ الشَّافِعِيَّةِ: إِلَى عَدَمِ اعْتِبَارِ اخْتِلاَفِ الْمَطَالِعِ فِي إِثْبَاتِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَإِذَا ثَبَتَ رُؤْيَةُ هِلاَل رَمَضَانَ فِي بَلَدٍ لَزِمَ الصَّوْمُ جَمِيعَ الْمُسْلِمِينَ فِي جَمِيعِ الْبِلاَدِ، وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَهُوَ خِطَابٌ لِلأُْمَّةِ كَافَّةً.

حنفی، مالکی، اور حنبلی فقہائے کرام نیز شافعی فقہائے کرام کے موقف کے مطابق یہ ہے کہ ماہ رمضان کے آغاز کو ثابت کرنے کے لیے اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں ہے؛ لہذا اگر رمضان کے لیے کسی ایک خطے میں رؤیت ہلال ثابت ہو جائے تو تمام کے تمام علاقوں میں مسلمانوں پر روزہ رکھنا لازم ہو گا، اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ (چاند دیکھ کر تم سب روزہ رکھو) آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ حکم ساری امت کے لیے ہے۔


[الموسوعة الفقهية الكويتية، ج: ٢٣، ص: ١٤٢]

جامع ترمذی کی حدیث ہے :

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالْفِطْرَ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ اس دن ہے جس دن تم سب روزہ ركھو، اور عيد الفطر اس دن ہے جس روز تم سب عيد الفطر مناؤ، اور عيد الاضحى اس روز ہے جس دن تم سب قربانى كرو-“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ صوم اور عید الفطر اجتماعیت اور سواد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیئے ۱؎۔


[جامع الترمذي، أَبْوَابُ الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، حدیث : ٦٩٧، حکم الحدیث: إسنادہ حسن بتحقیق الشیخ زبیر علی زئی]

امام يحيى بن (هُبَيْرَة بن) محمد بن هبيرة الذهلي الشيبانيّ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب اختلاف الأئمة العلماء میں چاروں فقہی مسالک کا اتفاق نقل کیا ہے کہ :

وَاتَّفَقُوا على أَنه إِذا رؤى الْهلَال فِي بَلَده رِوَايَة فَاشِية فَإِنَّهُ يجب الصَّوْم على سَائِر أهل الدُّنْيَا. إِلَّا مَا رَوَاهُ أَبُو حَامِد الإسفرائي من أَنه لَا يلْزم بَاقِي الْبِلَاد الصَّوْم، وغلطه القَاضِي أَبُو الطّيب الطَّبَرِيّ وَقَالَ: هَذَا غلط مِنْهُ بل إِذا رأى أهل بلد هِلَال رَمَضَان لزم النَّاس كلهم الصّيام فِي سَائِر الْبِلَاد.

اس پر اتفاق ہے کہ جب ایک ملک میں چاند دکھ جائے اور اس چاند دیکھنے کی خبر پھیل جائے تو تمام دنیاں والوں پر روزے رکھنا واجب ہو جاتا ہے۔ سوائے اسکے جو ابو حامد الاسفرائی نے روایت کیا ہے کہ باقی ملک والوں پر روزے رکھنا لازم نہیں اور قاضی ابو الطیب الطبری نے انکی تغلیط کی ہے اور کہا کہ یہ ان سے غلطی ہوئی ہے بلکہ جب ایک ملک والے رمضان کا چاند دیکھ لے تو پوری دنیا کے لوگوں پر روزے رکھنا لازم ہو جاتا ہے-


[اختلاف الأئمة العلماء، ج: ١، ص: ٢٣٢، ٢٣٣]

لیکن چاند کے مطلع میں اختلاف کو معتبر ماننے والے لوگ یہ روایت اپنی دلیل میں پیش کرتے ہیں :

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ، أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ فَقَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي

کریب رحمہ اللہ کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ میں گیا شام کو اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا مجھ سے اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو میں نے کہا: آپ کافی نہیں جانتے دیکھنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اور ان کا روزہ رکھنا؟ آپ نے فرمایا نہیں ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «‏‏‏‏نَكْتَفِى» ‏‏‏‏ کہا یا «‏‏‏‏تَكْتَفِى» ۔


[صحيح مسلم، كِتَابُ الصِّيَامِ، حديث: ٢٥٢٨]

علامہ غازی عزیر مبارکپوری ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کے متعلق فرماتے ہیں: اصلاً یہ ان کا اجتہاد تھا، جسے حجت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ [رؤیتِ ہلال، صفحہ : ١٦٥]

امام الشوکاني رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَاعْلَمْ أَنَّ الْحُجَّةَ إنَّمَا هِيَ فِي الْمَرْفُوعِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَا فِي اجْتِهَادِهِ الَّذِي فَهِمَ عَنْهُ النَّاسُ وَالْمُشَارُ إلَيْهِ بِقَوْلِهِ: " هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – " هُوَ قَوْلُهُ: فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ، وَالْأَمْرُ الْكَائِنُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – هُوَ مَا أَخْرَجَهُ الشَّيْخَانِ وَغَيْرُهُمَا بِلَفْظِ: «لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ» وَهَذَا لَا يَخْتَصُّ بِأَهْلِ نَاحِيَةٍ عَلَى جِهَةِ الِانْفِرَادِ بَلْ هُوَ خِطَابٌ لِكُلِّ مَنْ يَصْلُحُ لَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ

اس بات کو جان لو کہ دلیل عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے نہ کہ ان کے اجتہاد میں جسے لوگوں نے سمجھا۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول "هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" کا مشار الیہ ان کا وہ قول "فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ" ہے یعنی هَكَذَا أَمَرَنَا سے اشارہ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ کی طرف ہے اور حدیث مرفوع جس کو امام بخاری اور مسلم وغیہما نے اس لفظ سے نقل کیا ہے "لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ" تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ تم چاند دیکھ لو اور روزہ نہ چھوڑو یہاں تک کہ تم چاند دیکھ لو اگر تم پر بادل چھا جائے تو تیس دن پورا کرلو۔ یہ حکم کسی ایریا یا علاقہ والوں کے ساتھ خاص نہیں ہے انفرادی طور پر بلکہ یہ خطاب ہر مسلم کو ہے۔


[نيل الأوطار، كتاب الصيام، ج: ٤، ص: ٢٣٠]

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے :

فَالضَّابِطُ أَنَّ مَدَارَ هَذَا الْأَمْرِ عَلَى الْبُلُوغِ لِقَوْلِهِ {صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ} فَمَنْ بَلَغَهُ أَنَّهُ رُئِيَ ثَبَتَ فِي حَقِّهِ مِنْ غَيْرِ تَحْدِيدٍ بِمَسَافَةٍ أَصْلًا

چنانچہ قاعدہ یہی ٹھہرا کہ روزہ شروع کرنے کا دارومدار رویت ہلال کی صحیح خبر پہنچنے پر ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ... یعنی ہلال کی رویت پر (اس کی خبر) ثابت ہونے پر تم لوگ روزہ رکھو لہذا جسے صحیح خبر پہنچ گئی کہ چاند نظر آگیا تو کسی مسافت کی تحدید کا لحاظ کئے بغیر اس کے حق میں چاند ثابت ہو گیا۔


[مجموع الفتاوى، ج: ٢٥، ص: ١٠٧]

اسی طرح نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں:

وأما استدلال من استدل بحديث كريب عند مسلم وغيره: أنه استهل عليه رمضان وهو بالشام فرأى الهلال ليلة الجمعة فقدم المدينة فأخبر بذلك ابن عباس فقال: لكنا رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين أو نراه, ثم قال: هكذا أمرنا رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم وله ألفاظ فغير صحيح لأنه لم يصرح ابن عباس بأن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم أمرهم بأن لا يعملوا برؤية غيرهم من أهل الأقطار بل أراد ابن عباس أنه أمرهم بإكمال الثلاثين أو يروه ظنا منه أن المراد بالرؤية رؤية أهل المحل وهذا خطأ في الاستدلال أوقع الناس في الخبط والخلط حتى تفرقوا في ذلك على ثمانية مذاهب, وقد أوضح الماتن المقام في الرسالة التي سماها إطلاع أرباب الكمال على ما في رسالة الجلال في الهلال من الاختلال. قال في المسوى: لا خلاف في أن رؤية بعض أهل البلد موجبة على الباقين واختلفوا في لزوم رؤية أهل بلد أهل بلد آخر والأقوى عند الشافعي يلزم حكم البلد القريب دون البعيد وعند أبي حنيفة يلزم مطلقا

اور جس نے استدلال کیا ہے حدیث کریب سے جو صحیح مسلم اور دوسری کتب میں ہے کہ ان کے اوپر رمضان کا چاند نکل آیا اس حال میں کہ وہ ابھی شام میں ہی تھے تو کریب نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا کریب مدینہ آئے تو انہوں نے چاند دیکھنے کی بابت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو خبر دی تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ہم نے چاند ہفتہ کی رات کو دیکھا ہے تو ہم برابر روزہ رکھتے رہیں گے یہاں تک کہ ہم تین دن مکمل کر لیں یا چاند دیکھ لیں صحیح نہیں ہے اس لئے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس بات کی صراحت نہیں کی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا ہے اس بات کا کہ وہ دوسرے ملکوں میں سے کسی ملک کی رؤیت پر عمل نہ کریں بلکہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مراد یہاں پر تین روزوں کی تکمیل ہے یا وہ چاند کو دیکھ لیں۔ اس بات سے یہ گمان کرنا کہ رؤیت سے مراد اسی جگہ کی رؤیت ہے تو یہ استدلال میں غلطی ہے اور لوگ یہاں خبط و خلط میں مبتلا ہو گئے یہاں تک کہ لوگ آتھ مذاہب میں بٹ گئے اور اس کی وضاحت ماتن (متن) لکھنے والے نے اپنے رسالے میں جس کا نام اطلاع ارباب الکمال علیٰ ما فی رسالۃ الجلال فی الھلال من الختلال میں کی ہے۔


[الروضة الندية شرح الدرر البهية ط المعرفة، ج:١، ص: ٢٢٥]

شيخ عبيد الله الرحماني المباركفوري فرماتے ہیں :

قلت الإجماع الذي حكاه ابن عبد البر غير مسلم كيف، وقد ذهبت الحنابلة وأكثر الحنفية والمالكية وبعض الشافعية إلى إلزام جميع البلاد الصوم والإفطار برؤية أهل البلد وإلى عدم اعتبار القرب والبعد بينها في ذلك، وإلى عدم اعتبار اختلاف المطالع فيلزم أهل المشرق الصوم والإفطار برؤية أهل المغرب إذا ثبت عندهم رؤية أولئك بطريق موجب.

میں ( عبید اللہ الرحمانی ) کہتا ہو وہ اجماع جو امام ابن عبد البر نے حکایت کی ہے وہ غیر مسلم ہے ۔ کس طرح ( یہ اجماع ہوگا ) ؟ حالانکہ حنابلہ اکثر أحناف ، اکثر موالک اور بعض شوافع کے ہاں تمام شہر والوں پر روزہ رکھنا اور افطار کرنا ( عید کرنا ) لازم ہے جب وہ شہر والے چاند دیکھ لیں اور اس میں قریب اور بعید کی کوٸی اعتبار نہیں اور نہ ( ان کے ہاں ) اس میں مطالع کے اختلاف کو کوٸی اعتبار ہے۔ پس جب مغرب میں موجود لوگ چاند دیکھ لیں تو مشرق والوں پر روزہ رکھنا اور افطار کرنا ( عید کرنا ) لازم ہے جب ان کے ہاں ( رمضان اور عید کی ) رٶیت ( چاند دیکھنا ) ثابت ہوجائے۔


[مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج: ٦، ص: ٤٢٦]​
 
Top