حضرت مرشد عالم رحمتہ اللہ علیہ نے ایک عجیب واقعہ سنایا فرمانے لگے کہ ہم حرم شریف میں ٹھہرے ہوئے تھے ایک چھوٹا سا بچہ وقتا فوقتا مارے خیمہ میں آتا ہم اسے کھانے کیلئے روٹی دے دیتےاور وہ خوشی خوشی چلا جاتا تھا اس کے بار بار آنے سے ہمیں اس کے ساتھ محبت ہو گئی اور وہ چھوٹا سا بچہ بھی ہم سے مانوس ہو گیا جب ہمارا قیام پورا ہو گیا اور ہمیں آگے سفر پر جانا تھا تو میری اہلیہ نے اس بچے کو بلایا اور کہا کہ اگر تم ہمارے ساتھ چلو تو ہم تمہیں لے چلتے ہیں اس نے کہا کہاں انہوں نے کہا کہ اپنے ملک میں وہ کہنے لگا وہاں کیا ہو گا انہوں نے کہا وہاں گرمی بھی کم ہے وقت پر کھانا بھی مل جاتا یے اور پانی بھی مل جاتا ہے . تمہیں وہاں ہر سہولت میسر ہو گی کوئی تنگی نہیں ہو گی اچھا لباس بھی ملے گا غرض ہر طرح کی نعمت ملے گی انہوں نے بات مکمل کر لی تو اس وقت بچے نے بیت اللہ شریف پر نظر ڈالی اور اس کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کیا بیت اللہ شریف بھی وہاں ہو گا انہوں نے جوب دیا کہ یہ تو وہاں نہیں ہو گا یہ سن کر بچہ کہنے لگا اگر یہ وہاں نہیں ہو گا تو مجھے وہاں جانے کی کوئی ضرورت نہیں مجھے تو صرف بیت اللہ کا پڑوس چاہیے