جب خواب وفا مانگتے ہیں

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی عشقِ الٰہی کی تفسیر ہے۔
لیکن وہ لمحہ جو میرے دل کو چھو جاتا ہے، وہ ہے جب انہوں نے اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے پیشانی کے بل لٹا دیا:
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (الصافات: 103)
"اس طرح جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا"۔
یہ محض ایک "قربانی" نہ تھی، یہ انسانی محبت اور الٰہی عشق کے درمیان جنگ تھی۔ اور اس جنگ میں فتح ہوئی: اللہ کی رضا کے عشق کو۔
ابراہیمؑ نے وہ قربانی دی جو اکثر صرف دعووں کی حد تک رہ جاتی ہے۔ نہ کوئی سوال، نہ شکوہ، نہ تاخیر۔ بس عشق تھا، یقین تھا، اور سجدہ تھا۔
یہ وہی بیٹا تھا جو برسوں کی دعاؤں، آہوں اور امیدوں کے بعد عطا ہوا تھا۔
پھر حکم ہوا: "اسے مکہ کی بنجر، بےآب و گیاہ وادی میں چھوڑ آؤ۔"
یہ مرحلہ سخت تھا، مگر امید باقی تھی۔
پھر ایک خواب دکھایا گیا۔ نہ کوئی صریح وحی، نہ کوئی فرشتہ، بس ایک خواب۔ اور ابراہیمؑ نے پہچان لیا کہ یہ خواب الٰہی رضا کا پیغام ہے۔ انہوں نے تاخیر نہیں کی، دل نہیں لرزایا، بیٹے کو الگ نہیں کیا، چھپانے کی کوشش نہ کی۔
اور جب انہوں نے بیٹے کو اپنا فیصلہ سنایا، تو حضرت اسماعیلؑ نے فرمایا:
يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (الصافات: 102)
"ابا جان! جو حکم آپ کو دیا گیا ہے، اسے کر گزریے۔ آپ ان شاء اللہ مجھے صابر پائیں گے۔"
یہ الفاظ نسلِ تسلیم کے ماتھے کا تاج بن گئے۔
میری اپنی زندگی میں، اولاد کا سفر آسان نہیں تھا۔ تکلیفوں، دعاؤں، اور قربانیوں کی راکھ سے جنمی ہوئی خوشبو ہے۔ اگر مجھے حکم دیا جائے کہ "اسے اللہ کی رضا کے لیے قربان کر دو" تو شاید میرا دل ہی بند ہو جائے، میری سانسیں تھم جائیں۔
کیونکہ ماں کے لیے اولاد صرف رشتہ نہیں، کل کائنات ہوتی ہے۔
لیکن ابراہیمؑ کے دل میں اولاد سے بھی بڑا عشق تھا "اللہ کا عشق"۔
یہ واقعہ صرف ابراہیمؑ کی تاریخ نہیں، یہ ہر اُس دل کے لیے سوال ہے جو اللہ سے عشق کا دعویٰ کرتا ہے: "جب وقت آئے کیا ہم بھی اپنی سب سے عزیز شے کو 'پیشانی کے بل' رکھ سکیں گے؟
کیا ہم بھی کہہ سکیں گے: "بس تیری رضا، یا رب!"
اللہ نے خواب میں دکھایا، مگر ابراہیمؑ نے بیداری میں وفا کی۔
ہم بھی خواب دیکھتے ہیں، کچھ خواب اللہ کی رضا کے، کچھ اپنے دل کی خواہشوں کے۔
مگر جب آزمائش کی صبح طلوع ہو، کیا ہم اپنے خوابوں کے ساتھ وفا کر سکیں گے؟
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
سب سے پہلے محترمہ و مکرمہ نور حیاء صاحبہ آپ کو فورم پر دل کی اتاہ گہرائیوں سے خوش آمدید۔
نہایت عمدہ ، بہترین ، سبق آموز تحریر ہم تک پہنچانے کا بہت شکریہ۔
امید کرتاہوں ایسے ہی مفید اور خوبصورت تحریر شئیر فرماکر فورم کو بارونق بنائیں گی اور ہم جیسے طالب علموں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
آپ کو ہمیشہ الغزالی پر خوش آمدید
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
سب سے پہلے محترمہ و مکرمہ نور حیاء صاحبہ آپ کو فورم پر دل کی اتاہ گہرائیوں سے خوش آمدید۔
نہایت عمدہ ، بہترین ، سبق آموز تحریر ہم تک پہنچانے کا بہت شکریہ۔
امید کرتاہوں ایسے ہی مفید اور خوبصورت تحریر شئیر فرماکر فورم کو بارونق بنائیں گی اور ہم جیسے طالب علموں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
آپ کو ہمیشہ الغزالی پر خوش آمدید
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ!
محترم و مکرم، آپ کے حوصلہ افزا کلمات کا شکریہ! اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے اور آپ کو محنت میں کامیابی دے۔
میں خود ایک طالبہ ہوں اور اس فورم پر آپ جیسے علم و فضل کے حامل افراد سے سیکھنے کی خواہشمند ہوں۔ آپ کی دعاؤں اور رہنمائی کی مشتاق رہوں گی۔
اللہ ہمیں اپنی ہدایت دے اور ہمارے علم میں اضافہ فرمائے۔
جزاک اللہ خیراً۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
آمین یا رب العالمین
بندہ ناچیز فقط طالب علم ہے،کوئی خاص علم نہیں رکھتا،البتہ اس فورم پر کمال علم رکھنے والے صاحب علم اساتذہ موجود ہیں۔
ان شاءاللہ ان سے آپ مکمل استفادہ حاصل کریں گی۔
اور مجھ جیسے طلباء کو اپنے علم کی روشنی سے نوازیں گی۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
" جب خواب وفا مانگتے ہیں"
الحمدللہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ۔ اما بعد!
کبھی کبھی خواب محض نظارے نہیں ہوتے... وہ قربانی مانگتے ہیں، وفا مانگتے ہیں، آزمائش بن کر نازل ہوتے ہیں جیسے حضرت ابراہیمؑ کا خواب۔
ہم میں سے اکثر لوگ عیدالاضحی کے موقع پر سوال کرتے ہیں: "کیا اتنی بڑی تعداد میں جانور ذبح کرنا ضروری ہے؟ کیا اگر ہم یہی رقم فلاحی اداروں کو دے دیں، تو یہ زیادہ مؤثر اور مفید عمل نہ ہو گا؟"
یہ سوال بظاہر عقلمندانہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک بہت گہری روحانی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔ آئیے ذرا غور کرتے ہیں؛
فرض کیجیے میرے والد محترم مجھے کہیں: "بیٹا! صبح دس بجے مجھے پانی کا گلاس دینا۔"
اور میں عرض کروں: "ابّو جان! پانی کی کیا حیثیت... میں تو شام کو آپ کو شہد و دودھ سے بھرپور شربت پلاؤں گی!"
سوال یہ ہے: کیا یہ اطاعت کہلائے گی؟ یا نافرمانی کا خوشنما روپ؟
بلکل یہی رویہ ہم اللہ کے ساتھ بھی اپناتے ہیں۔ ہم سب اللہ سے محبت کے دعوے کرتے ہیں، لیکن جب وہ ہمیں ایک مخصوص عمل کا حکم دے، تو ہم اپنی عقل کی فصیلوں میں پناہ لینے لگتے ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں: "ہم تو اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس طرح نہیں جیسے اُس نے کہا... بلکہ ایسے جیسے ہمیں بہتر لگتا ہے!"
یہ محبت نہیں، یہ "محبت کی آڑ میں نافرمانی" ہے۔
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں... یہ ایک علامت ہے، بندگی کی، اطاعت کی، اور اس جذبے کی کہ "یا اللہ! میں وہی کروں گی جو تُو چاہے، جیسے تُو چاہے، جب تُو چاہے!"
قربانی کی اصل روح وہی ہے جو حضرت ابراہیمؑ نے ہمیں سکھائی:
جب اللہ نے بیٹے کو قربان کرنے کا کہا تو انہوں نے نہ کوئی سوال کیا، نہ تاویل تراشی، نہ عقلی جواز ڈھونڈے بلکہ صرف ایک جملہ کہا:
"یَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ"
(بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں...)

اور بیٹے نے بھی اطاعت کا ایسا جوہر دکھایا جس پر قیامت تک قربانیاں زندہ رہیں گی:
"يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ"
(ابا جان! وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔)

یہی ہے "اسلام" یعنی کامل سپردگی۔
اللہ نے قرآن میں فرمایا:
"لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ"
(اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے، نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ — تمہاری نیت — پہنچتی ہے۔) [الحج: 37]

فلاحی کام اپنی جگہ افضل ہیں، لیکن کسی عبادت کا متبادل نہیں۔
جیسے نماز کی جگہ ہم قرآن خوانی نہیں کر سکتے، روزے کی جگہ صدقہ نہیں دے سکتے۔
ویسے ہی قربانی کا حکم "اللہ کی مرضی" ہے، اور اس کی جگہ کوئی "عقلی تجویز" نہیں آ سکتی۔
آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے دلوں سے یہ سوال کریں: کیا ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں... یا اپنی پسند کے مطابق اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں؟
قربانی کا سب سے پہلا تقاضا جانور نہیں بلکہ اپنی انا، اپنی منطق، اپنی مصلحت، اور اپنی خواہش کو ذبح کرنا ہے۔ قربانی کا دن محض گوشت کا دن نہیں... یہ فیصلہ کرنے کا دن ہے کہ ہم ابراہیمی قافلے میں شامل ہیں یا نہیں۔
اللّٰہم اجعلنا من المسلمین الخالصین، الذین یقولون سمعنا وأطعنا، ولا یقولون... عقل کہتی ہے، دل نہیں مانتا۔
آمین یا رب العالمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
" جب خواب وفا مانگتے ہیں"

ذبحِ اسماعیل میں خواب کا انتخاب ہی کیوں؟
از: @الہام عبیر
(یہ تحریر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں ایک ویڈیو لیکچر کا حصہ ہے جسے اردو میں ترجمہ کر کے تحریری صورت میں پوسٹ کیا گیا ہے)
یہ سوال انتہائی عمیق، بصیرت انگیز اور تدبر طلب ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کو ذبح کرنے کا خواب ہی کیوں دکھایا؟
کیا کوئی اور آزمائش نہ ہوتی؟ کوئی اور طریقۂ اطاعت نہ ہوتا؟
لیکن درحقیقت یہ خواب، محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ روحانی، نفسیاتی اور وجودی سفر کا انتہائی گہرا استعارہ (symbol) ہے۔
آئیے ہم اس سوال کو تین اہم جہات سے تدبر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
خواب کا ذریعہ: باطن کی تربیت
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے براہِ راست خطاب بھی کیا (مثلاً: سورہ الانعام 75–79، سورہ البقرہ 260)، مگر بیٹے کو ذبح کرنے جیسے نازک اور شدید امتحان کے لیے خواب کا انتخاب کیا۔ کیوں؟
کیونکہ خواب:
1) باطن کا آئینہ ہوتا ہے۔۔
2) انسان کے لاشعور میں اتر کر اس کی گہرائیوں کو جھنجھوڑتا ہے۔
3) ظاہری دلائل نہیں، ایمان و یقین کی سطح پر فیصلہ کرواتا ہے۔
پس، یہ خواب ایک طرح سے حضرت ابراہیمؑ کے باطن کے عمق میں اللہ کی طرف سے پکار تھی: "کیا تُو اپنی سب سے قیمتی چیز میرے لیے چھوڑ سکتا ہے؟"
پھر اس خواب میں بیٹے کی قربانی کیوں دکھائی؟
یہاں تین عظیم حقیقتیں پوشیدہ ہیں:
(الف) محبت کا سب سے بڑا مرکز: "بیٹا"
انسان کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ محبوب تعلق "اولاد" ہوتی ہے، خاص طور پر انتظار کے بعد ملی ہوئی اولاد۔
حضرت ابراہیمؑ نے: بڑھاپے میں بیٹے کی تمنا کی، بے حد محبت کی اور پھر اسی بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم آیا۔
یعنی: "کیا تُو اپنی سب سے بڑی محبت کو بھی میری محبت پر قربان کر سکتا ہے؟"
یہ ایک وجودی فیصلہ تھا۔ محبتِ نفس vs محبتِ رب۔
(ب) اولاد کا معبود بن جانا
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ بھی دکھانا چاہتے تھے کہ: اولاد بھی "بت" بن سکتی ہے۔ محبت، اگر اللہ کی رضا سے بالاتر ہو جائے، تو وہ معبود بن جاتی ہے۔ اسی لیے حضرت ابراہیمؑ، جو "بُت شکن" مشہور ہیں۔ انہیں یہ حکم دیا گیا کہ اپنے دل کے سب سے گہرے بت کو بھی توڑو اگر وہ میری محبت کے مقابل آجائے۔
(ج) نفس کی انتہا پر وار
نفس کو سب سے زیادہ جو چیز عزیز ہوتی ہے:
اپنے وجود کا تسلسل (اولاد)
اپنی محبت کی تسکین
اپنے فیصلے کی خودمختاری
ذبحِ اسماعیل کا خواب، ان تینوں کو چیلنج کرتا ہے: "اپنی خواہش چھوڑو، محبوب چھوڑو اور فیصلہ میرے حکم پر کرو"۔
یہ دراصل نفس کے سب سے بلند قلعے پر حملہ تھا اور حضرت ابراہیمؑ اس قلعے کو بھی فتح کر گئے۔
جب حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا:
يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي ٱلْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ
تو حضرت اسماعیلؑ نے کہا:
يَـٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ...
یہ مکالمہ انسانی تاریخ کے سب سے عظیم تسلیم و رضا کی تصویر ہے۔
یہ خواب اس لیے تھا تاکہ: ابراہیمؑ، اطاعت کے پیکر بنیں اور اسماعیلؑ، رضا کی علامت بنیں۔ انسانیت کو یہ سبق ملے کہ ایمان، مکمل سپردگی کا نام ہے۔
یہ خواب ہمیں آج بھی پکار رہا ہے: "کیا تُو اللہ کی رضا کے لیے وہ چیز چھوڑ سکتا ہے جو تجھے سب سے زیادہ عزیز ہے؟"
 

الہام عبیر

وفقہ اللہ
رکن
''جب خواب وفا مانگتے ہیں''
10 ذی الحج 2016
مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔ جب میں نے پہلی بار کہا:
اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدًا عبدہ و رسولہ
یہ الفاظ میرے لبوں سے نکلے تو جیسے کوئی بوجھ میرے دل سے اتر گیا۔ کوئی ایسا پردہ تھا جو برسوں سے میرے اندر پڑا تھا، اور وہ ایک دم ہٹ گیا۔
نہ گناہوں کی ملامت بچی، نہ کسی پچھلے فیصلے کا بوجھ۔ میں بس پاک ہو گئی… جیسے دل نے پہلی بار سجدہ کیا ہو۔
پہلا سال۔۔۔ وہ ایک شعلہ تھا جو میرے اندر روشن تھا۔ ہر اذان مجھے ہلا دیتی، قرآن کی ایک آیت میری آنکھوں کو نم کر دیتی۔ میں نے اسلام کو تھاما بہت مضبوطی سے، مکمل اعتماد کے ساتھ۔
مگر پھر دنیا کا سایہ بڑھنے لگا۔ نماز میں سستی، اخلاق میں کمزوری، دعا میں بوجھ محسوس ہونے لگا۔
دل میں سوال جاگا: کیا میں نے اسلام قبول کر کے صحیح فیصلہ کیا تھا؟
اور پھر وہ دن بھی آیا جب میرے والد، جو ایک پادری تھے، بولے: "یہ دین، یا ہمارا گھر!"
اور گھر چلا گیا۔ جب میں جاب تلاش کرنے نکلی، تو میرا حجاب میرا سب سے بڑا تعارف بن گیا اور شاید بدقسمتی سے، سب سے بڑا جرم بھی۔
جابز کے دروازے بند ہوتے گئے۔ کئی جگہوں پر انٹرویو میں ہی نہیں بلایا گیا۔ کبھی صاف انکار، کبھی خاموشی۔
میں نے ایک چھوٹے سے کیفے میں ویٹرس کی نوکری کی۔ برتن اٹھانا، صفائی کرنا اور رات گئے برتن دھوتی۔ دل میں یہ سوال دہراتی تھی: "کیا یہی وہ زندگی تھی جس کا وعدہ رب نے کیا تھا؟"
اس صورت حال میں ہر لمحے مجھے حضرت ابراہیمؑ یاد آئے۔
انھیں بھی ان کے والد نے نکالا تھا۔ قوم نے بائیکاٹ کیا۔ آگ میں پھینک دیا۔
اور اللہ نے ان سے کہا: قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ"
ہم نے کہا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا (سورۃ الانبیاء: 69)
مجھے تو کسی نے آگ میں نہیں ڈالا۔ مجھے تو صرف تنہا کیا گیا۔ پھر کیسا گلہ؟
اگر ابراہیمؑ اللہ کے لیے سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں، تو میں اپنے رب کے لیے ایک نرم سا راستہ بھی کیوں نہ جھیلوں؟
میری زندگی کی بنیاد بنی یہ آیت:
"قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"
جب خواب وفا مانگتے ہیں، تو وہ ہمیں رب سے جوڑ دیتے ہیں۔ بس شرط اتنی سی ہے: ہم وفا کرنے والے ہوں۔ قربانی صرف چھری سے ذبح ہونے والے جانور کا نام نہیں، بلکہ دل کے اس جذبے کا نام بھی ہے جو اللہ کے حکم پر اپنی ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہو جائے چاہے وہ گھر ہو، رشتہ ہو، یا خواب۔
میں نے رب کی رضا کے لیے قربانی دی اپنے خوابوں کی، اپنے تعلقات کی، اپنی پہچان کی۔ تو کیا رب میری اس قربانی کو قبول نہیں کرے گا؟
بس میں اتنا جانتی ہوں: قربانی جب رب کے لیے ہو، تو وہ ضائع نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ وہی قربانی، ہمیں رب کا قرب عطا کر دیتی ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
"جب خواب وفا کر دیا جائے، تو کیا ہوتا ہے؟"

حضرت ابراہیمؑ نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ یہ کوئی عام خواب نہ تھا۔ حکم آ چکا تھا۔
باپ نے بیٹے سے بات کی۔ بیٹا، جو ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا، کہنے لگا:
"اے میرے ابا! جو حکم آپ کو ہوا ہے، اسے پورا کیجیے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔" (القرآن، الصافات: 102)
کیا کبھی دنیا نے ایسے باپ بیٹا دیکھے؟ ایسا ایمان، ایسی رضا، ایسی مکمل سپردگی؟
حضرت ابراہیمؑ نے بیٹے کو لٹایا، آنکھیں بند کیں، چھری چلائی۔۔۔ اور خواب وفا کر دیا۔
لیکن سوال یہ ہے: جب خواب وفا کر دیا جائے، تو کیا ہوتا ہے؟
تب آسمانوں سے صدا آتی ہے: "اے ابراہیم! تو نے خواب کو سچ کر دکھایا! ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں!"
پھر اللہ کا رحم متحرک ہوتا ہے، زمین و آسمان کے درمیان ایک فدیہ نازل ہوتا ہے ایک مینڈھا۔۔۔۔ جو اسماعیلؑ کی جگہ ذبح ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ کو تمہارا خون نہیں چاہیے، اللہ کو چاہیے تمہارا اخلاص، تمہاری نیت، تمہاری وفا۔
حضرت اسماعیلؑ نے سرِ تسلیم خم کیا، اور اللہ کو یہ ادا اتنی پسند آئی کہ خود ان کا فدیہ دے دیا، خود انہیں بچا لیا۔
یہی تو راز ہے قربانی کا۔ یہی ہے اصل سبق۔ آج بھی اگر ہم اللہ کے حکم کو بغیر چون و چرا مان لیں، اگر ہم اسماعیلؑ کی طرح کہہ دیں: "کر گزریئے، جو حکم ہے!"
تو ممکن ہے، کہ اللہ بھی ہمارے لیے کوئی فدیہ بھیج دے، وہ ہمیں وہاں سے بچا لے، جہاں ہمیں لگتا ہے کہ بچنے کا کوئی راستہ ہی نہیں۔
ہم نے بھی کتنے خواب دیکھے ہیں: نفس کو قربان کرنے کے، انا کو مٹانے کے، اپنی بری عادتوں سے توبہ کرنے کے۔۔۔ تو آج اگر ہم بھی اپنے خوابوں کو وفا کر دیں: اپنے نفس کو، اپنی انا کو، اپنی ضد کو، اپنے گناہوں کو قربان گاہ پر لا رکھیں تو کیا بعید کہ اللہ بھی ہمارے لیے کوئی "ذبح عظیم" بھیج دے! کوئی ایسی آسانی، کوئی ایسی نجات، کوئی ایسا راستہ۔۔۔ جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہ ہو! کیونکہ خوابوں کی اصل تعبیر، وفا کے بعد ہی اُترتی ہے۔
خواب ہمیشہ وفا مانگتے ہیں، اور وفا ہمیشہ قربانی۔۔۔ اور قربانی ہمیشہ، ایک فیصلہ مانگتی ہے: کیا ہم واقعی اللہ کے لیے چھوڑ سکتے ہیں؟
ابراہیمی پیغام آج بھی زندہ ہے: "وہی کامیاب ہے، جو رب کے لیے جھک جائے، رب کے لیے چھوڑ دے، اور رب ہی پر بھروسا کرے۔"
اَللَّهُمَّ كَمَا ابْتَلَيْتَ إِبْرَاهِيمَ فَصَدَقَ، وَنَادَيْتَهُ فَأَجَابَ، وَأَمَرْتَهُ فَأَطَاعَ، وَعَرَضَ عَلَى وَلَدِهِ فَرَضِيَ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلْتَ الرَّحْمَةَ، وَبَدَّلْتَ الذَّبْحَ بِفِدَاءٍ عَظِيمٍ، كَذَلِكَ يَا رَبَّنَا، اجْعَلْنَا مِمَّنْ يُطِيعُونَكَ وَلَا يَسْتَكْبِرُونَ، وَيُفَوِّضُونَ إِلَيْكَ الْأَمْرَ وَيَرْضَوْنَ۔
اے اللہ! جیسے تُو نے ابراہیمؑ کو آزمایا تو وہ سچا اُترے، تُو نے پکارا تو وہ لبیک کہہ اٹھے، تُو نے حکم دیا تو وہ فوراً اطاعت گزار بن گئے، اور جب انہوں نے اپنے بیٹے پر وہ بات پیش کی، تو وہ راضی ہوئے اور سرِ تسلیم خم کیا، پھر تُو نے اپنی رحمت نازل کی، اور ذبح کو ایک عظیم فدیے سے بدل دیا، اے ہمارے رب! ہمیں بھی اُن لوگوں میں شامل فرما جو تیری اطاعت کرتے ہیں، غرور نہیں کرتے، تجھ پر معاملہ چھوڑ دیتے ہیں اور تیرے فیصلوں پر راضی رہتے ہیں۔
اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا نَسْتَسْلِمُ كَمَا اسْتَسْلَمَ إِسْمَاعِيلُ، وَنُقَدِّمُ مَا نُحِبُّ كَمَا قَدَّمَ إِبْرَاهِيمُ، وَارْزُقْنَا قُلُوبًا تُؤْمِنُ دُونَ رُؤْيَا، وَنُفُوسًا تَخْشَعُ دُونَ سَبَبٍ۔
اے اللہ! ہمیں اسماعیلؑ کی طرح سرِ تسلیم خم کرنے والا بنا دے، اور ابراہیمؑ کی طرح وہ قربانی پیش کرنے والا جو ہمیں سب سے عزیز ہو۔ اور ہمیں ایسے دل دے جو بغیر دیکھے ایمان لائیں، اور ایسی روحیں دے جو بغیر وجہ کے خشیت میں رہیں۔
اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ الْقُرْبَانَ شَكْلًا بِلَا رُوحٍ، بَلْ اجْعَلْنَا نَقْرُبُ إِلَيْكَ بِقُلُوبٍ خَاشِعَةٍ، وَنُفُوسٍ مُنِيبَةٍ، وَأَعْمَالٍ صَالِحَةٍ تُرْضِيكَ۔
اے اللہ! ہماری قربانیاں صرف رسم نہ ہوں، بلکہ ایسی ہوں جو ہماری روح کو تیرے قریب لے آئیں۔ ہمارے دل خشوع سے بھر دے، اور ہمارے اعمال ایسے بنا دے جو تجھے خوش کر دیں۔
اللَّهُمَّ إِذَا دَعَانَا الْخَوْفُ فَارْزُقْنَا طُمَأْنِينَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَإِذَا جَاءَ الْأَمْرُ فَأَلْهِمْنَا شَجَاعَةَ إِسْمَاعِيلَ، وَإِذَا وَقَعَ الْبَلَاءُ فَارْزُقْنَا فِدَاءً مِّنْ عِنْدِكَ۔
اے اللہ! جب ہمیں ڈر ستائے، تو ابراہیمؑ جیسا اطمینان عطا کر، جب تیرے احکام آئیں تو ہمیں اسماعیلؑ جیسی جرأت عطا فرما، اور جب کوئی آزمائش ہم پر نازل ہو، تو ہمیں اپنے خزانے سے فدیہ عطا کر دے۔
اللَّهُمَّ افْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ الرَّحْمَةِ، وَجَنِّبْنَا فِتَنَةَ النَّفْسِ وَالْهَوَى، وَقَرِّبْنَا إِلَيْكَ قُرْبَ الْمُخْلِصِينَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يُوَفُّونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا۔
اے اللہ! ہمارے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، ہمیں نفس اور خواہشات کے فتنوں سے بچا، ہمیں ان خالص بندوں کے قریب کر دے جو ہمیشہ تیرا قرب چاہتے ہیں، اور ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرما جو اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں۔
اللَّهُمَّ اجْعَلْ كُلَّ ذَبْحٍ نُقَدِّمُهُ لَكَ، سَبَبًا لِرَفْعَتِنَا، وَكُلَّ تَسْلِيمٍ لَكَ، سَبَبًا لِنَصْرِكَ، وَكُلَّ دَمْعَةٍ فِي سَبِيلِكَ، سَبَبًا لِمَغْفِرَتِكَ۔
اے اللہ! جو بھی قربانی ہم تیرے حضور پیش کریں، اسے ہماری بلندی کا سبب بنا دے۔ جو بھی تسلیم و رضا تیرے لیے ہو، اسے ہماری نصرت کا ذریعہ بنا دے۔ اور تیری راہ میں جو بھی آنسو بہیں، انہیں ہماری مغفرت کا وسیلہ بنا دے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
''جب خواب وفا مانگتے ہیں''
10 ذی الحج 2016
مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔ جب میں نے پہلی بار کہا:
اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدًا عبدہ و رسولہ
یہ الفاظ میرے لبوں سے نکلے تو جیسے کوئی بوجھ میرے دل سے اتر گیا۔ کوئی ایسا پردہ تھا جو برسوں سے میرے اندر پڑا تھا، اور وہ ایک دم ہٹ گیا۔
نہ گناہوں کی ملامت بچی، نہ کسی پچھلے فیصلے کا بوجھ۔ میں بس پاک ہو گئی… جیسے دل نے پہلی بار سجدہ کیا ہو۔
پہلا سال۔۔۔ وہ ایک شعلہ تھا جو میرے اندر روشن تھا۔ ہر اذان مجھے ہلا دیتی، قرآن کی ایک آیت میری آنکھوں کو نم کر دیتی۔ میں نے اسلام کو تھاما بہت مضبوطی سے، مکمل اعتماد کے ساتھ۔
مگر پھر دنیا کا سایہ بڑھنے لگا۔ نماز میں سستی، اخلاق میں کمزوری، دعا میں بوجھ محسوس ہونے لگا۔
دل میں سوال جاگا: کیا میں نے اسلام قبول کر کے صحیح فیصلہ کیا تھا؟
اور پھر وہ دن بھی آیا جب میرے والد، جو ایک پادری تھے، بولے: "یہ دین، یا ہمارا گھر!"
اور گھر چلا گیا۔ جب میں جاب تلاش کرنے نکلی، تو میرا حجاب میرا سب سے بڑا تعارف بن گیا اور شاید بدقسمتی سے، سب سے بڑا جرم بھی۔
جابز کے دروازے بند ہوتے گئے۔ کئی جگہوں پر انٹرویو میں ہی نہیں بلایا گیا۔ کبھی صاف انکار، کبھی خاموشی۔
میں نے ایک چھوٹے سے کیفے میں ویٹرس کی نوکری کی۔ برتن اٹھانا، صفائی کرنا اور رات گئے برتن دھوتی۔ دل میں یہ سوال دہراتی تھی: "کیا یہی وہ زندگی تھی جس کا وعدہ رب نے کیا تھا؟"
اس صورت حال میں ہر لمحے مجھے حضرت ابراہیمؑ یاد آئے۔
انھیں بھی ان کے والد نے نکالا تھا۔ قوم نے بائیکاٹ کیا۔ آگ میں پھینک دیا۔
اور اللہ نے ان سے کہا: قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ"
ہم نے کہا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا (سورۃ الانبیاء: 69)
مجھے تو کسی نے آگ میں نہیں ڈالا۔ مجھے تو صرف تنہا کیا گیا۔ پھر کیسا گلہ؟
اگر ابراہیمؑ اللہ کے لیے سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں، تو میں اپنے رب کے لیے ایک نرم سا راستہ بھی کیوں نہ جھیلوں؟
میری زندگی کی بنیاد بنی یہ آیت:
"قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"
جب خواب وفا مانگتے ہیں، تو وہ ہمیں رب سے جوڑ دیتے ہیں۔ بس شرط اتنی سی ہے: ہم وفا کرنے والے ہوں۔ قربانی صرف چھری سے ذبح ہونے والے جانور کا نام نہیں، بلکہ دل کے اس جذبے کا نام بھی ہے جو اللہ کے حکم پر اپنی ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہو جائے چاہے وہ گھر ہو، رشتہ ہو، یا خواب۔
میں نے رب کی رضا کے لیے قربانی دی اپنے خوابوں کی، اپنے تعلقات کی، اپنی پہچان کی۔ تو کیا رب میری اس قربانی کو قبول نہیں کرے گا؟
بس میں اتنا جانتی ہوں: قربانی جب رب کے لیے ہو، تو وہ ضائع نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ وہی قربانی، ہمیں رب کا قرب عطا کر دیتی ہے۔
ما شاء اللہ! آپ کے اسلام میں داخل ہونے کے 9 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو استقامت، نورِ ہدایت اور اپنی خاص رحمت عطا فرمائے۔ آمین۔
سسٹر الہام9 سال پہلےکم عمری میں آپ نے حق کی راہ چنی۔ آپ مسلمان کیسے ہوئیں؟
غالبا آپ عیسائیت میں مورمن (Mormon) فرقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ مشنری ماحول کے باوجود کیسے اسلام کی طرف راغب ہوئیں؟ کیا محرکات تھے؟
میری درخواست ہے کہ آپ اپنا یہ سفر ہمارے ساتھ شیئر کریں۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
"جب خواب وفا کر دیا جائے، تو کیا ہوتا ہے؟"

حضرت ابراہیمؑ نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ یہ کوئی عام خواب نہ تھا۔ حکم آ چکا تھا۔
باپ نے بیٹے سے بات کی۔ بیٹا، جو ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا، کہنے لگا:
"اے میرے ابا! جو حکم آپ کو ہوا ہے، اسے پورا کیجیے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔" (القرآن، الصافات: 102)
کیا کبھی دنیا نے ایسے باپ بیٹا دیکھے؟ ایسا ایمان، ایسی رضا، ایسی مکمل سپردگی؟
حضرت ابراہیمؑ نے بیٹے کو لٹایا، آنکھیں بند کیں، چھری چلائی۔۔۔ اور خواب وفا کر دیا۔
لیکن سوال یہ ہے: جب خواب وفا کر دیا جائے، تو کیا ہوتا ہے؟
تب آسمانوں سے صدا آتی ہے: "اے ابراہیم! تو نے خواب کو سچ کر دکھایا! ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں!"
پھر اللہ کا رحم متحرک ہوتا ہے، زمین و آسمان کے درمیان ایک فدیہ نازل ہوتا ہے ایک مینڈھا۔۔۔۔ جو اسماعیلؑ کی جگہ ذبح ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ کو تمہارا خون نہیں چاہیے، اللہ کو چاہیے تمہارا اخلاص، تمہاری نیت، تمہاری وفا۔
حضرت اسماعیلؑ نے سرِ تسلیم خم کیا، اور اللہ کو یہ ادا اتنی پسند آئی کہ خود ان کا فدیہ دے دیا، خود انہیں بچا لیا۔
یہی تو راز ہے قربانی کا۔ یہی ہے اصل سبق۔ آج بھی اگر ہم اللہ کے حکم کو بغیر چون و چرا مان لیں، اگر ہم اسماعیلؑ کی طرح کہہ دیں: "کر گزریئے، جو حکم ہے!"
تو ممکن ہے، کہ اللہ بھی ہمارے لیے کوئی فدیہ بھیج دے، وہ ہمیں وہاں سے بچا لے، جہاں ہمیں لگتا ہے کہ بچنے کا کوئی راستہ ہی نہیں۔
ہم نے بھی کتنے خواب دیکھے ہیں: نفس کو قربان کرنے کے، انا کو مٹانے کے، اپنی بری عادتوں سے توبہ کرنے کے۔۔۔ تو آج اگر ہم بھی اپنے خوابوں کو وفا کر دیں: اپنے نفس کو، اپنی انا کو، اپنی ضد کو، اپنے گناہوں کو قربان گاہ پر لا رکھیں تو کیا بعید کہ اللہ بھی ہمارے لیے کوئی "ذبح عظیم" بھیج دے! کوئی ایسی آسانی، کوئی ایسی نجات، کوئی ایسا راستہ۔۔۔ جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہ ہو! کیونکہ خوابوں کی اصل تعبیر، وفا کے بعد ہی اُترتی ہے۔
خواب ہمیشہ وفا مانگتے ہیں، اور وفا ہمیشہ قربانی۔۔۔ اور قربانی ہمیشہ، ایک فیصلہ مانگتی ہے: کیا ہم واقعی اللہ کے لیے چھوڑ سکتے ہیں؟
ابراہیمی پیغام آج بھی زندہ ہے: "وہی کامیاب ہے، جو رب کے لیے جھک جائے، رب کے لیے چھوڑ دے، اور رب ہی پر بھروسا کرے۔"
اَللَّهُمَّ كَمَا ابْتَلَيْتَ إِبْرَاهِيمَ فَصَدَقَ، وَنَادَيْتَهُ فَأَجَابَ، وَأَمَرْتَهُ فَأَطَاعَ، وَعَرَضَ عَلَى وَلَدِهِ فَرَضِيَ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلْتَ الرَّحْمَةَ، وَبَدَّلْتَ الذَّبْحَ بِفِدَاءٍ عَظِيمٍ، كَذَلِكَ يَا رَبَّنَا، اجْعَلْنَا مِمَّنْ يُطِيعُونَكَ وَلَا يَسْتَكْبِرُونَ، وَيُفَوِّضُونَ إِلَيْكَ الْأَمْرَ وَيَرْضَوْنَ۔
اے اللہ! جیسے تُو نے ابراہیمؑ کو آزمایا تو وہ سچا اُترے، تُو نے پکارا تو وہ لبیک کہہ اٹھے، تُو نے حکم دیا تو وہ فوراً اطاعت گزار بن گئے، اور جب انہوں نے اپنے بیٹے پر وہ بات پیش کی، تو وہ راضی ہوئے اور سرِ تسلیم خم کیا، پھر تُو نے اپنی رحمت نازل کی، اور ذبح کو ایک عظیم فدیے سے بدل دیا، اے ہمارے رب! ہمیں بھی اُن لوگوں میں شامل فرما جو تیری اطاعت کرتے ہیں، غرور نہیں کرتے، تجھ پر معاملہ چھوڑ دیتے ہیں اور تیرے فیصلوں پر راضی رہتے ہیں۔
اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا نَسْتَسْلِمُ كَمَا اسْتَسْلَمَ إِسْمَاعِيلُ، وَنُقَدِّمُ مَا نُحِبُّ كَمَا قَدَّمَ إِبْرَاهِيمُ، وَارْزُقْنَا قُلُوبًا تُؤْمِنُ دُونَ رُؤْيَا، وَنُفُوسًا تَخْشَعُ دُونَ سَبَبٍ۔
اے اللہ! ہمیں اسماعیلؑ کی طرح سرِ تسلیم خم کرنے والا بنا دے، اور ابراہیمؑ کی طرح وہ قربانی پیش کرنے والا جو ہمیں سب سے عزیز ہو۔ اور ہمیں ایسے دل دے جو بغیر دیکھے ایمان لائیں، اور ایسی روحیں دے جو بغیر وجہ کے خشیت میں رہیں۔
اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ الْقُرْبَانَ شَكْلًا بِلَا رُوحٍ، بَلْ اجْعَلْنَا نَقْرُبُ إِلَيْكَ بِقُلُوبٍ خَاشِعَةٍ، وَنُفُوسٍ مُنِيبَةٍ، وَأَعْمَالٍ صَالِحَةٍ تُرْضِيكَ۔
اے اللہ! ہماری قربانیاں صرف رسم نہ ہوں، بلکہ ایسی ہوں جو ہماری روح کو تیرے قریب لے آئیں۔ ہمارے دل خشوع سے بھر دے، اور ہمارے اعمال ایسے بنا دے جو تجھے خوش کر دیں۔
اللَّهُمَّ إِذَا دَعَانَا الْخَوْفُ فَارْزُقْنَا طُمَأْنِينَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَإِذَا جَاءَ الْأَمْرُ فَأَلْهِمْنَا شَجَاعَةَ إِسْمَاعِيلَ، وَإِذَا وَقَعَ الْبَلَاءُ فَارْزُقْنَا فِدَاءً مِّنْ عِنْدِكَ۔
اے اللہ! جب ہمیں ڈر ستائے، تو ابراہیمؑ جیسا اطمینان عطا کر، جب تیرے احکام آئیں تو ہمیں اسماعیلؑ جیسی جرأت عطا فرما، اور جب کوئی آزمائش ہم پر نازل ہو، تو ہمیں اپنے خزانے سے فدیہ عطا کر دے۔
اللَّهُمَّ افْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ الرَّحْمَةِ، وَجَنِّبْنَا فِتَنَةَ النَّفْسِ وَالْهَوَى، وَقَرِّبْنَا إِلَيْكَ قُرْبَ الْمُخْلِصِينَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يُوَفُّونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا۔
اے اللہ! ہمارے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، ہمیں نفس اور خواہشات کے فتنوں سے بچا، ہمیں ان خالص بندوں کے قریب کر دے جو ہمیشہ تیرا قرب چاہتے ہیں، اور ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرما جو اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں۔
اللَّهُمَّ اجْعَلْ كُلَّ ذَبْحٍ نُقَدِّمُهُ لَكَ، سَبَبًا لِرَفْعَتِنَا، وَكُلَّ تَسْلِيمٍ لَكَ، سَبَبًا لِنَصْرِكَ، وَكُلَّ دَمْعَةٍ فِي سَبِيلِكَ، سَبَبًا لِمَغْفِرَتِكَ۔
اے اللہ! جو بھی قربانی ہم تیرے حضور پیش کریں، اسے ہماری بلندی کا سبب بنا دے۔ جو بھی تسلیم و رضا تیرے لیے ہو، اسے ہماری نصرت کا ذریعہ بنا دے۔ اور تیری راہ میں جو بھی آنسو بہیں، انہیں ہماری مغفرت کا وسیلہ بنا دے۔
آمین ثم آمین۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
ما شاء اللہ! آپ کے اسلام میں داخل ہونے کے 9 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو استقامت، نورِ ہدایت اور اپنی خاص رحمت عطا فرمائے۔ آمین۔
سسٹر الہام9 سال پہلےکم عمری میں آپ نے حق کی راہ چنی۔ آپ مسلمان کیسے ہوئیں؟
غالبا آپ عیسائیت میں مورمن (Mormon) فرقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ مشنری ماحول کے باوجود کیسے اسلام کی طرف راغب ہوئیں؟ کیا محرکات تھے؟
میری درخواست ہے کہ آپ اپنا یہ سفر ہمارے ساتھ شیئر کریں۔
میری بھی یہی درخواست ہے۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
''جب خواب وفا مانگتے ہیں''
10 ذی الحج 2016
مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔ جب میں نے پہلی بار کہا:
اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدًا عبدہ و رسولہ
یہ الفاظ میرے لبوں سے نکلے تو جیسے کوئی بوجھ میرے دل سے اتر گیا۔ کوئی ایسا پردہ تھا جو برسوں سے میرے اندر پڑا تھا، اور وہ ایک دم ہٹ گیا۔
نہ گناہوں کی ملامت بچی، نہ کسی پچھلے فیصلے کا بوجھ۔ میں بس پاک ہو گئی… جیسے دل نے پہلی بار سجدہ کیا ہو۔
پہلا سال۔۔۔ وہ ایک شعلہ تھا جو میرے اندر روشن تھا۔ ہر اذان مجھے ہلا دیتی، قرآن کی ایک آیت میری آنکھوں کو نم کر دیتی۔ میں نے اسلام کو تھاما بہت مضبوطی سے، مکمل اعتماد کے ساتھ۔
مگر پھر دنیا کا سایہ بڑھنے لگا۔ نماز میں سستی، اخلاق میں کمزوری، دعا میں بوجھ محسوس ہونے لگا۔
دل میں سوال جاگا: کیا میں نے اسلام قبول کر کے صحیح فیصلہ کیا تھا؟
اور پھر وہ دن بھی آیا جب میرے والد، جو ایک پادری تھے، بولے: "یہ دین، یا ہمارا گھر!"
اور گھر چلا گیا۔ جب میں جاب تلاش کرنے نکلی، تو میرا حجاب میرا سب سے بڑا تعارف بن گیا اور شاید بدقسمتی سے، سب سے بڑا جرم بھی۔
جابز کے دروازے بند ہوتے گئے۔ کئی جگہوں پر انٹرویو میں ہی نہیں بلایا گیا۔ کبھی صاف انکار، کبھی خاموشی۔
میں نے ایک چھوٹے سے کیفے میں ویٹرس کی نوکری کی۔ برتن اٹھانا، صفائی کرنا اور رات گئے برتن دھوتی۔ دل میں یہ سوال دہراتی تھی: "کیا یہی وہ زندگی تھی جس کا وعدہ رب نے کیا تھا؟"
اس صورت حال میں ہر لمحے مجھے حضرت ابراہیمؑ یاد آئے۔
انھیں بھی ان کے والد نے نکالا تھا۔ قوم نے بائیکاٹ کیا۔ آگ میں پھینک دیا۔
اور اللہ نے ان سے کہا: قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ"
ہم نے کہا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا (سورۃ الانبیاء: 69)
مجھے تو کسی نے آگ میں نہیں ڈالا۔ مجھے تو صرف تنہا کیا گیا۔ پھر کیسا گلہ؟
اگر ابراہیمؑ اللہ کے لیے سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں، تو میں اپنے رب کے لیے ایک نرم سا راستہ بھی کیوں نہ جھیلوں؟
میری زندگی کی بنیاد بنی یہ آیت:
"قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"
جب خواب وفا مانگتے ہیں، تو وہ ہمیں رب سے جوڑ دیتے ہیں۔ بس شرط اتنی سی ہے: ہم وفا کرنے والے ہوں۔ قربانی صرف چھری سے ذبح ہونے والے جانور کا نام نہیں، بلکہ دل کے اس جذبے کا نام بھی ہے جو اللہ کے حکم پر اپنی ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہو جائے چاہے وہ گھر ہو، رشتہ ہو، یا خواب۔
میں نے رب کی رضا کے لیے قربانی دی اپنے خوابوں کی، اپنے تعلقات کی، اپنی پہچان کی۔ تو کیا رب میری اس قربانی کو قبول نہیں کرے گا؟
بس میں اتنا جانتی ہوں: قربانی جب رب کے لیے ہو، تو وہ ضائع نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ وہی قربانی، ہمیں رب کا قرب عطا کر دیتی ہے۔
سب سے پہلے آپ کو الغزالی انتظامیہ کی طرف سے سعادت ایمان کی عظیم نعمت پر مبارک باد۔
اللہ پاک آپ کو استقامت دے ، محبت الہی ، محبت رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)، محبت قرآن ، محبت اسلام ، محبت صحابہ ، ایمانی جزبات صحابہ آپ کو نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین
 

الہام عبیر

وفقہ اللہ
رکن
سب سے پہلے آپ کو الغزالی انتظامیہ کی طرف سے سعادت ایمان کی عظیم نعمت پر مبارک باد۔
اللہ پاک آپ کو استقامت دے ، محبت الہی ، محبت رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)، محبت قرآن ، محبت اسلام ، محبت صحابہ ، ایمانی جزبات صحابہ آپ کو نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین
جزاک اللہ خیرا
یہ الفاظ ہر بار میرے لیے بہت قیمتی ہوتے ہیں۔
 
Top