حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی عشقِ الٰہی کی تفسیر ہے۔
لیکن وہ لمحہ جو میرے دل کو چھو جاتا ہے، وہ ہے جب انہوں نے اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے پیشانی کے بل لٹا دیا:
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (الصافات: 103)
"اس طرح جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا"۔
یہ محض ایک "قربانی" نہ تھی، یہ انسانی محبت اور الٰہی عشق کے درمیان جنگ تھی۔ اور اس جنگ میں فتح ہوئی: اللہ کی رضا کے عشق کو۔
ابراہیمؑ نے وہ قربانی دی جو اکثر صرف دعووں کی حد تک رہ جاتی ہے۔ نہ کوئی سوال، نہ شکوہ، نہ تاخیر۔ بس عشق تھا، یقین تھا، اور سجدہ تھا۔
یہ وہی بیٹا تھا جو برسوں کی دعاؤں، آہوں اور امیدوں کے بعد عطا ہوا تھا۔
پھر حکم ہوا: "اسے مکہ کی بنجر، بےآب و گیاہ وادی میں چھوڑ آؤ۔"
یہ مرحلہ سخت تھا، مگر امید باقی تھی۔
پھر ایک خواب دکھایا گیا۔ نہ کوئی صریح وحی، نہ کوئی فرشتہ، بس ایک خواب۔ اور ابراہیمؑ نے پہچان لیا کہ یہ خواب الٰہی رضا کا پیغام ہے۔ انہوں نے تاخیر نہیں کی، دل نہیں لرزایا، بیٹے کو الگ نہیں کیا، چھپانے کی کوشش نہ کی۔
اور جب انہوں نے بیٹے کو اپنا فیصلہ سنایا، تو حضرت اسماعیلؑ نے فرمایا:
يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (الصافات: 102)
"ابا جان! جو حکم آپ کو دیا گیا ہے، اسے کر گزریے۔ آپ ان شاء اللہ مجھے صابر پائیں گے۔"
یہ الفاظ نسلِ تسلیم کے ماتھے کا تاج بن گئے۔
میری اپنی زندگی میں، اولاد کا سفر آسان نہیں تھا۔ تکلیفوں، دعاؤں، اور قربانیوں کی راکھ سے جنمی ہوئی خوشبو ہے۔ اگر مجھے حکم دیا جائے کہ "اسے اللہ کی رضا کے لیے قربان کر دو" تو شاید میرا دل ہی بند ہو جائے، میری سانسیں تھم جائیں۔
کیونکہ ماں کے لیے اولاد صرف رشتہ نہیں، کل کائنات ہوتی ہے۔
لیکن ابراہیمؑ کے دل میں اولاد سے بھی بڑا عشق تھا "اللہ کا عشق"۔
یہ واقعہ صرف ابراہیمؑ کی تاریخ نہیں، یہ ہر اُس دل کے لیے سوال ہے جو اللہ سے عشق کا دعویٰ کرتا ہے: "جب وقت آئے کیا ہم بھی اپنی سب سے عزیز شے کو 'پیشانی کے بل' رکھ سکیں گے؟
کیا ہم بھی کہہ سکیں گے: "بس تیری رضا، یا رب!"
اللہ نے خواب میں دکھایا، مگر ابراہیمؑ نے بیداری میں وفا کی۔
ہم بھی خواب دیکھتے ہیں، کچھ خواب اللہ کی رضا کے، کچھ اپنے دل کی خواہشوں کے۔
مگر جب آزمائش کی صبح طلوع ہو، کیا ہم اپنے خوابوں کے ساتھ وفا کر سکیں گے؟
لیکن وہ لمحہ جو میرے دل کو چھو جاتا ہے، وہ ہے جب انہوں نے اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے پیشانی کے بل لٹا دیا:
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (الصافات: 103)
"اس طرح جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا"۔
یہ محض ایک "قربانی" نہ تھی، یہ انسانی محبت اور الٰہی عشق کے درمیان جنگ تھی۔ اور اس جنگ میں فتح ہوئی: اللہ کی رضا کے عشق کو۔
ابراہیمؑ نے وہ قربانی دی جو اکثر صرف دعووں کی حد تک رہ جاتی ہے۔ نہ کوئی سوال، نہ شکوہ، نہ تاخیر۔ بس عشق تھا، یقین تھا، اور سجدہ تھا۔
یہ وہی بیٹا تھا جو برسوں کی دعاؤں، آہوں اور امیدوں کے بعد عطا ہوا تھا۔
پھر حکم ہوا: "اسے مکہ کی بنجر، بےآب و گیاہ وادی میں چھوڑ آؤ۔"
یہ مرحلہ سخت تھا، مگر امید باقی تھی۔
پھر ایک خواب دکھایا گیا۔ نہ کوئی صریح وحی، نہ کوئی فرشتہ، بس ایک خواب۔ اور ابراہیمؑ نے پہچان لیا کہ یہ خواب الٰہی رضا کا پیغام ہے۔ انہوں نے تاخیر نہیں کی، دل نہیں لرزایا، بیٹے کو الگ نہیں کیا، چھپانے کی کوشش نہ کی۔
اور جب انہوں نے بیٹے کو اپنا فیصلہ سنایا، تو حضرت اسماعیلؑ نے فرمایا:
يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (الصافات: 102)
"ابا جان! جو حکم آپ کو دیا گیا ہے، اسے کر گزریے۔ آپ ان شاء اللہ مجھے صابر پائیں گے۔"
یہ الفاظ نسلِ تسلیم کے ماتھے کا تاج بن گئے۔
میری اپنی زندگی میں، اولاد کا سفر آسان نہیں تھا۔ تکلیفوں، دعاؤں، اور قربانیوں کی راکھ سے جنمی ہوئی خوشبو ہے۔ اگر مجھے حکم دیا جائے کہ "اسے اللہ کی رضا کے لیے قربان کر دو" تو شاید میرا دل ہی بند ہو جائے، میری سانسیں تھم جائیں۔
کیونکہ ماں کے لیے اولاد صرف رشتہ نہیں، کل کائنات ہوتی ہے۔
لیکن ابراہیمؑ کے دل میں اولاد سے بھی بڑا عشق تھا "اللہ کا عشق"۔
یہ واقعہ صرف ابراہیمؑ کی تاریخ نہیں، یہ ہر اُس دل کے لیے سوال ہے جو اللہ سے عشق کا دعویٰ کرتا ہے: "جب وقت آئے کیا ہم بھی اپنی سب سے عزیز شے کو 'پیشانی کے بل' رکھ سکیں گے؟
کیا ہم بھی کہہ سکیں گے: "بس تیری رضا، یا رب!"
اللہ نے خواب میں دکھایا، مگر ابراہیمؑ نے بیداری میں وفا کی۔
ہم بھی خواب دیکھتے ہیں، کچھ خواب اللہ کی رضا کے، کچھ اپنے دل کی خواہشوں کے۔
مگر جب آزمائش کی صبح طلوع ہو، کیا ہم اپنے خوابوں کے ساتھ وفا کر سکیں گے؟