قرآن ڈائری

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
فرض کریں آپ کو ایک شاندار باغ دیکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ دروازہ کھلا ہے، فضا خوشبو سے بھری ہے، ہر طرف ترتیب، رنگ اور زندگی ہے۔
باغ کا مالک آپ سے کہتا ہے: "اندر آئیں۔۔۔ دیکھیں، محسوس کریں، لطف اندوز ہوں۔"
اب ذرا ٹھہر کر خود سے پوچھئے: کیا آپ واقعی باغ کے اندر داخل ہوں گے؟ یا دروازے پر کھڑے ہو کر اس کا نقشہ دیکھنے میں ہی مصروف رہیں گے؟
قرآن ہمیں بعینہٖ یہی سوال دیتا ہے۔ مگر باغ کے بارے میں نہیں، دین کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"
یہاں قرآن ایک نہایت گہرا اور چونکا دینے والا انتخاب کرتا ہے۔
جمہور مفسرین نے السِّلم کا معنی اسلام ہی لیا ہے، مگر اس لفظ نے مجھے یہاں رکنے پر مجبور کر دیا۔
تفسیر بغوی میں آتا ہے:
وَأَصْلُ السِّلْمِ مِنَ الِاسْتِسْلَامِ وَالِانْقِيَادِ (معالم التنزیل، دار طیبۃ، ص 240)
یعنی السِّلم کی جڑ استسلام (خود سپردگی) اور انقیاد (بلا مزاحمت اطاعت) ہے۔
مجھے یہاں ایک نہایت باریک فرق نظر آیا کہ:
اسلام دین کا نام ہے۔ ایک شناخت، ایک نسبت، ایک اعلان۔ انسان اسلام کو: جان سکتا ہے، مان سکتا ہے، بیان کر سکتا ہے، اس سے وابستگی ظاہر کر سکتا ہے۔ اسلام زبان پر بھی ہو سکتا ہے، ذہن میں بھی، اور معلومات کی حد تک بھی۔
مگر السِّلم ایک اور سطح ہے۔ السِّلم دین کی وہ حالت ہے جہاں انسان اپنی پسند، اپنی انا، اپنی ترجیحات آہستہ آہستہ چھوڑ کر حکمِ الٰہی کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے قرآن نے فرمایا: "ادخلوا" کیونکہ داخلہ کسی نام میں نہیں ہوتا، داخلہ ایک فضا، ایک نظام، ایک طرزِ زندگی میں ہوتا ہے۔
اسلام سمجھا جاتا ہے، السِّلم جیا جاتا ہے۔ اسلام علم پیدا کرتا ہے، السِّلم اطاعت پیدا کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دین پر بات کرنے والا نہیں رہتا، دین کے آگے جھکنے والا بن جاتا ہے۔
اور پھر فرمایا: "كَافَّةً" پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ جزوی اطاعت نہیں، منتخب احکام نہیں، صرف وہ گوشے نہیں جو آسان لگیں۔
کیونکہ باغ میں داخل ہونے والا ایک کیاری چن کر باہر نہیں رہتا، وہ خود کو پورے باغ کے سپرد کر دیتا ہے۔
آج مجھے احساس ہوا کہ یہ آیت ہمیں یہ نہیں کہہ رہی: "مسلمان بن جاؤ"۔ یہ آیت خاموشی سے کہہ رہی ہے: اسلام کو اپنی شناخت نہ رہنے دو، اسے اپنی حالت بنا لو۔
اسلام نقشہ ہے اور السِّلم وہ باغ ہے جہاں یہ نقشہ حقیقت بن جاتا ہے۔
اور اصل سوال یہ ہے: کیا ہم اسلام کے بارے میں جاننے پر رکے ہوئے ہیں؟ یا واقعی السِّلم میں داخل ہو چکے ہیں؟
 
Last edited by a moderator:
  • پسند کریں
Reactions: Rua

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
حال ہی میں ہم نے اپنے بیٹے کو کیڈٹ کالج بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دل کے ایک گوشے میں امیدوں کے پھول کھِل رہے ہیں کہ وہ سیکھے گا، بڑھے گا، دنیا کو سمجھے گا۔
اور دوسرے گوشے میں ایک خاموش سا خوف ہے جو بار بار سوال بن کر اُبھرتا ہے:
کیا وہ نماز کو تھامے رکھے گا؟
کیا قرآن اس کی زندگی کا حصہ رہے گا؟
کیا ایمان اس کے دل میں محفوظ رہے گا؟
مجھے ڈر اس بات کا نہیں کہ میرا بیٹا دور چلا جائے گا، ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں اس کا دین پیچھے نہ رہ جائے۔
اسی ڈر میں مجھے حضرت یوسفؑ یاد آتے ہیں۔
وہ تو ایسے ماحول میں تھے جہاں اللہ کا نام ہی اجنبی تھا، جہاں خواہش طاقتور تھی اور ایمان تنہا۔ پھر بھی انہوں نے کہا:
"وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَا أَن نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ"
"اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے۔ ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ (توحید) اللہ کا ہم پر اور تمام لوگوں پر فضل ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔" (سورۃ یوسف: 38)
یہ جملہ مجھے ہلا دیتا ہے۔
یہ کسی درسگاہ میں نہیں کہا گیا، یہ کسی محفوظ ماحول میں نہیں کہا گیا، یہ اس وقت کہا گیا جب ایمان ہی واحد پہچان تھا۔
اور میں اپنے بیٹے میں بس یہی دیکھنا چاہتی ہوں۔
یہ نہیں کہ وہ ہر جگہ سب سے آگے ہو، یہ نہیں کہ وہ ہر نظام میں فِٹ ہو جائے، بلکہ یہ کہ جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو تب بھی وہ اللہ کو نہ بھولے۔
اسی لیے میں اپنے خوف اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔۔۔
آج کا فیصلہ محض تعلیم کا نہیں، ایمان کی ایک نئی منزل کا آغاز ہے۔
میری رب باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ میں بھی اپنے بیٹے کو وہی بنیادیں دوں جیسی حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیں۔
پھر چاہے وہ کسی بھی زمین پر چلا جائے، کسی بھی ثقافت میں رہے، وہ ہمیشہ یہی کہے:
"وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ۔۔۔"
یہی وہ روشنی ہے جو نہ کنویں میں بجھتی ہے، نہ قید میں، نہ اختیار کے محل میں۔
آمین یا رب العالمین۔
 

Rua

Rua Tzachaq
رکن
فرض کریں آپ کو ایک شاندار باغ دیکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ دروازہ کھلا ہے، فضا خوشبو سے بھری ہے، ہر طرف ترتیب، رنگ اور زندگی ہے۔
باغ کا مالک آپ سے کہتا ہے: "اندر آئیں۔۔۔ دیکھیں، محسوس کریں، لطف اندوز ہوں۔"
اب ذرا ٹھہر کر خود سے پوچھئے: کیا آپ واقعی باغ کے اندر داخل ہوں گے؟ یا دروازے پر کھڑے ہو کر اس کا نقشہ دیکھنے میں ہی مصروف رہیں گے؟
قرآن ہمیں بعینہٖ یہی سوال دیتا ہے۔ مگر باغ کے بارے میں نہیں، دین کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"
یہاں قرآن ایک نہایت گہرا اور چونکا دینے والا انتخاب کرتا ہے۔
جمہور مفسرین نے السِّلم کا معنی اسلام ہی لیا ہے، مگر اس لفظ نے مجھے یہاں رکنے پر مجبور کر دیا۔
تفسیر بغوی میں آتا ہے:
وَأَصْلُ السِّلْمِ مِنَ الِاسْتِسْلَامِ وَالِانْقِيَادِ (معالم التنزیل، دار طیبۃ، ص 240)
یعنی السِّلم کی جڑ استسلام (خود سپردگی) اور انقیاد (بلا مزاحمت اطاعت) ہے۔
مجھے یہاں ایک نہایت باریک فرق نظر آیا کہ:
اسلام دین کا نام ہے۔ ایک شناخت، ایک نسبت، ایک اعلان۔ انسان اسلام کو: جان سکتا ہے، مان سکتا ہے، بیان کر سکتا ہے، اس سے وابستگی ظاہر کر سکتا ہے۔ اسلام زبان پر بھی ہو سکتا ہے، ذہن میں بھی، اور معلومات کی حد تک بھی۔
مگر السِّلم ایک اور سطح ہے۔ السِّلم دین کی وہ حالت ہے جہاں انسان اپنی پسند، اپنی انا، اپنی ترجیحات آہستہ آہستہ چھوڑ کر حکمِ الٰہی کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے قرآن نے فرمایا: "ادخلوا" کیونکہ داخلہ کسی نام میں نہیں ہوتا، داخلہ ایک فضا، ایک نظام، ایک طرزِ زندگی میں ہوتا ہے۔
اسلام سمجھا جاتا ہے، السِّلم جیا جاتا ہے۔ اسلام علم پیدا کرتا ہے، السِّلم اطاعت پیدا کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دین پر بات کرنے والا نہیں رہتا، دین کے آگے جھکنے والا بن جاتا ہے۔
اور پھر فرمایا: "كَافَّةً" پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ جزوی اطاعت نہیں، منتخب احکام نہیں، صرف وہ گوشے نہیں جو آسان لگیں۔
کیونکہ باغ میں داخل ہونے والا ایک کیاری چن کر باہر نہیں رہتا، وہ خود کو پورے باغ کے سپرد کر دیتا ہے۔
آج مجھے احساس ہوا کہ یہ آیت ہمیں یہ نہیں کہہ رہی: "مسلمان بن جاؤ"۔ یہ آیت خاموشی سے کہہ رہی ہے: اسلام کو اپنی شناخت نہ رہنے دو، اسے اپنی حالت بنا لو۔
اسلام نقشہ ہے اور السِّلم وہ باغ ہے جہاں یہ نقشہ حقیقت بن جاتا ہے۔
اور اصل سوال یہ ہے: کیا ہم اسلام کے بارے میں جاننے پر رکے ہوئے ہیں؟ یا واقعی السِّلم میں داخل ہو چکے ہیں؟
سبحان اللہ
 

Rua

Rua Tzachaq
رکن
حال ہی میں ہم نے اپنے بیٹے کو کیڈٹ کالج بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دل کے ایک گوشے میں امیدوں کے پھول کھِل رہے ہیں کہ وہ سیکھے گا، بڑھے گا، دنیا کو سمجھے گا۔
اور دوسرے گوشے میں ایک خاموش سا خوف ہے جو بار بار سوال بن کر اُبھرتا ہے:
کیا وہ نماز کو تھامے رکھے گا؟
کیا قرآن اس کی زندگی کا حصہ رہے گا؟
کیا ایمان اس کے دل میں محفوظ رہے گا؟
مجھے ڈر اس بات کا نہیں کہ میرا بیٹا دور چلا جائے گا، ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں اس کا دین پیچھے نہ رہ جائے۔
اسی ڈر میں مجھے حضرت یوسفؑ یاد آتے ہیں۔
وہ تو ایسے ماحول میں تھے جہاں اللہ کا نام ہی اجنبی تھا، جہاں خواہش طاقتور تھی اور ایمان تنہا۔ پھر بھی انہوں نے کہا:
"وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَا أَن نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ"
"اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے۔ ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ (توحید) اللہ کا ہم پر اور تمام لوگوں پر فضل ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔" (سورۃ یوسف: 38)
یہ جملہ مجھے ہلا دیتا ہے۔
یہ کسی درسگاہ میں نہیں کہا گیا، یہ کسی محفوظ ماحول میں نہیں کہا گیا، یہ اس وقت کہا گیا جب ایمان ہی واحد پہچان تھا۔
اور میں اپنے بیٹے میں بس یہی دیکھنا چاہتی ہوں۔
یہ نہیں کہ وہ ہر جگہ سب سے آگے ہو، یہ نہیں کہ وہ ہر نظام میں فِٹ ہو جائے، بلکہ یہ کہ جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو تب بھی وہ اللہ کو نہ بھولے۔
اسی لیے میں اپنے خوف اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔۔۔
آج کا فیصلہ محض تعلیم کا نہیں، ایمان کی ایک نئی منزل کا آغاز ہے۔
میری رب باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ میں بھی اپنے بیٹے کو وہی بنیادیں دوں جیسی حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیں۔
پھر چاہے وہ کسی بھی زمین پر چلا جائے، کسی بھی ثقافت میں رہے، وہ ہمیشہ یہی کہے:
"وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ۔۔۔"
یہی وہ روشنی ہے جو نہ کنویں میں بجھتی ہے، نہ قید میں، نہ اختیار کے محل میں۔
آمین یا رب العالمین۔
ماشاءاللہ
اللہ آپکی بصیرت کو سلامت رکھے اور آپ کی ذریت کو آپ کیلئے اجر عظیم کا ذریعہ بنائے۔ آمین
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
قدرت کی سب سے گہری کسوٹی شاید یہی ہے کہ انسان کا دل کہاں بندھا ہوا ہے۔
زندگی کے آنگن میں جب خوشی کی دھوپ اترتی ہے، تو شکر کے سجدے اکثر ہونٹوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ دل مطمئن ہوتا ہے، مگر آزمایا نہیں جاتا۔
پھر اچانک وہ لمحہ آتا ہے جب وہی آنگن سایوں میں ڈوبنے لگتا ہے۔ ہوا جیسے رک جاتی ہے، راستے الجھ جاتے ہیں، اور انسان خود سے سوال کرنے لگتا ہے۔
یہی وہ گھڑی ہوتی ہے جہاں ایمان کی اصل تعمیر شروع ہوتی ہے۔
صبر یہاں خاموشی کا نام نہیں، نہ ہی بے حسی یا ہار مان لینے کا۔
صبر تو ایک زندہ، تپتا ہوا یقین ہے۔۔۔ ایسا یقین جو رب کی حکمت پر ٹکا رہتا ہے، خواہ آنکھیں جواب مانگ رہی ہوں۔
اسی یقین کو قرآن نے سہارا دیا:
لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ: 286)
یہ آیت محض تسلی نہیں، یہ اعلان ہے: تم جس بوجھ کے نیچے کھڑے ہو، وہ تمہاری سکت سے باہر نہیں۔
کیونکہ جس رب نے بوجھ رکھا ہے اسی نے قوت بھی ودیعت کی ہے۔
اور پھر رب خود واضح کر دیتا ہے کہ آزمائش کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک طے شدہ سنت ہے:
وَ لَنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ (البقرۃ: 155)
گویا رب پہلے ہی بتا دیتا ہے: خوف آئے گا، کمی آئے گی، ٹوٹنے کے مرحلے آئیں گے، لیکن بشارت انہی کے لیے ہے جو صبر کو تھام لیں۔
اسی بیچ ایک احساس دل کو سنبھال لیتا ہے ایسا احساس جو دکھ کے شور میں بھی خاموش تسلی بن کر اترتا ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مسلمانوں کے بچے جنت کے ایک پہاڑ میں رہتے ہیں، جہاں سیدنا ابراہیمؑ اور سیدہ سارہؑ ان کی کفالت فرماتے ہیں، اور قیامت کے دن انہیں ان کے والدین کے حوالے کر دیا جائے گا۔ (سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3986)
یہ محض خبر نہیں، یہ ٹوٹے دل کے لیے رب کا پیغام ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی نظر آزمائش سے ہٹ کر آزمائش دینے والے پر جا ٹھہرتی ہے۔
یہاں صبر کوئی بوجھ نہیں رہتا، بلکہ قرب کی ایک صورت بن جاتا ہے۔
آنکھیں اگرچہ بھیگ جاتی ہیں، مگر دل گواہی دینے لگتا ہے کہ رب غافل نہیں۔
جب سب کچھ چھن جانے کا احساس گھیر لے، تو یہی یقین سہارا بنتا ہے: کہ جس نے لیا ہے وہی اپنے پاس محفوظ بھی رکھتا ہے۔ ایسے مقام پر جہاں نہ جدائی ہے، نہ محرومی۔
تب انسان آہستہ سے یہ سیکھ لیتا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم پر کیا گزری، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس کے ساتھ جُڑے رہے۔
اور جو دل آزمائش میں بھی اپنے رب سے بندھا رہے، وہی سرخرو ٹھہرتا ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج میں نے ایک لرننگ پروگرام جوائن کیا۔ عنوان تھا: "Created in Pairs: Mercy and Forgiveness in Marriage"۔
Day 1: The Sacred Foundation of Marriage میں ایک سوال تھا:
"What might change if you approached every challenge as an opportunity to earn His pleasure together"
یہ سوال محض ایک ریفلیکشن نہیں تھا۔ یہ ایک وقفہ تھا۔
ایک ایسا لمحہ جس نے مجھے آگے بڑھنے نہیں دیا، بلکہ سورۃ الروم، آیت 21 پر لا بٹھایا۔ اور وہاں بیٹھ کر میں نے خود کو دیکھا۔
میری شادی کو اس سال 17 سال ہو جائیں گے۔
میں وہ بیوی تھی جو محبت کو ایک احساس سمجھتی تھی، سکون کو حالات سے جوڑتی تھی، اور دل ہی دل میں یہ مانتی تھی کہ "اگر رشتہ درست ہے تو چیزیں خود بخود آسان ہو جائیں گی۔"
میں چاہتی تھی کہ مجھے سمجھا جائے، میری قدر کی جائے، میرے زخم پہلے دیکھے جائیں۔
مودّت میرے لیے ہنسی، وقت، توجہ کا نام تھی اور رحمت بس ایک خوبصورت لفظ، کتابوں کی زینت۔
پھر میں اس آیت کے سامنے ٹھہر گئی:
"وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً"
اور یہیں سے ایک مجبوری شروع ہوئی۔۔۔ سوچ بدلنے کی مجبوری۔
میں اس نتیجے پر پہنچی: مودّت فطری تحفہ ہے، لیکن رحمت ایک اخلاقی انتخاب۔
جب دل زخمی ہو، جب توقع پوری نہ ہو، جب انصاف میرے ہاتھ میں ہو، اس لمحے مودّت اکثر چھپ جاتی ہے۔
اور عین وہیں رحمت کا انتخاب اصل امتحان بن جاتا ہے: سوچنا، سمجھنا، معاف کرنا، اور خود کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھنا۔
میں نے سیکھا: "میں تم سے ناراض ہوں" کہنے سے زیادہ طاقتور جملہ یہ ہے: "چلو، اس مسئلے کو اللہ کی رضا کے لیے سلجھاتے ہیں۔"
یہ جملہ رحمت کو صرف جذبہ نہیں، بلکہ اوزار بنا دیتا ہے۔
پھر آیت کا اگلا حصہ مجھے تھام لیتا ہے:
"لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ"
پہلے میرا سوال تھا: "وہ کیوں نہیں بدلتے؟"
اب سوال بدل گیا ہے: "اس صورتِ حال میں، اللہ مجھ سے کیا تبدیلی چاہ رہا ہے؟ کس صبر، کس نرمی، کس حکمت کا امتحان ہے؟"
یوں میری توجہ "اُن کی تبدیلی" سے ہٹ کر "اپنی تربیت" پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
اب میں سمجھتی ہوں کہ: ہر جھگڑا، ہر تناؤ، ہر خاموشی درحقیقت غور کرنے کا موقع ہے۔
اس آیت نے مجھے آہستہ آہستہ یہ سکھایا کہ: "سکینۃ مانگنے کی چیز نہیں، بنانے کی ذمہ داری ہے۔"
مودّت خوشی کے دنوں میں خود آ جاتی ہے، لیکن رحمت وہ شعوری انتخاب ہے جو مشکل میں کرنا پڑتا ہے: میں نرم رہوں، جب حق میرے پاس ہو۔ دعا کروں، جب شکایت آسان ہو۔ ساتھ کھڑی رہوں، جب الگ ہو جانا آسان لگے
اور میں اس نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ: ہر چیلنج ایک امتحان ہے مگر اکیلے کا نہیں، ہم دونوں کا۔
یہ آیت مجھے: "مودّت کی وارث" سے "رحمت کی وکیل" بنا دیتی ہے۔ اور یہیں سے اصل سکینۃ جنم لیتا ہے۔
کیونکہ سکینۃ کوئی ایسی چیز نہیں جو آسمان سے اترے بلکہ سکینۃ وہ فضا ہے جو دو دل اللہ کی رضا کے لیے رحمت چُن کر تعمیر کرتے ہیں۔
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
آج میں نے ایک لرننگ پروگرام جوائن کیا۔ عنوان تھا: "Created in Pairs: Mercy and Forgiveness in Marriage"۔
Day 1: The Sacred Foundation of Marriage میں ایک سوال تھا:
"What might change if you approached every challenge as an opportunity to earn His pleasure together"
یہ سوال محض ایک ریفلیکشن نہیں تھا۔ یہ ایک وقفہ تھا۔
ایک ایسا لمحہ جس نے مجھے آگے بڑھنے نہیں دیا، بلکہ سورۃ الروم، آیت 21 پر لا بٹھایا۔ اور وہاں بیٹھ کر میں نے خود کو دیکھا۔
میری شادی کو اس سال 17 سال ہو جائیں گے۔
میں وہ بیوی تھی جو محبت کو ایک احساس سمجھتی تھی، سکون کو حالات سے جوڑتی تھی، اور دل ہی دل میں یہ مانتی تھی کہ "اگر رشتہ درست ہے تو چیزیں خود بخود آسان ہو جائیں گی۔"
میں چاہتی تھی کہ مجھے سمجھا جائے، میری قدر کی جائے، میرے زخم پہلے دیکھے جائیں۔
مودّت میرے لیے ہنسی، وقت، توجہ کا نام تھی اور رحمت بس ایک خوبصورت لفظ، کتابوں کی زینت۔
پھر میں اس آیت کے سامنے ٹھہر گئی:
"وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً"
اور یہیں سے ایک مجبوری شروع ہوئی۔۔۔ سوچ بدلنے کی مجبوری۔
میں اس نتیجے پر پہنچی: مودّت فطری تحفہ ہے، لیکن رحمت ایک اخلاقی انتخاب۔
جب دل زخمی ہو، جب توقع پوری نہ ہو، جب انصاف میرے ہاتھ میں ہو، اس لمحے مودّت اکثر چھپ جاتی ہے۔
اور عین وہیں رحمت کا انتخاب اصل امتحان بن جاتا ہے: سوچنا، سمجھنا، معاف کرنا، اور خود کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھنا۔
میں نے سیکھا: "میں تم سے ناراض ہوں" کہنے سے زیادہ طاقتور جملہ یہ ہے: "چلو، اس مسئلے کو اللہ کی رضا کے لیے سلجھاتے ہیں۔"
یہ جملہ رحمت کو صرف جذبہ نہیں، بلکہ اوزار بنا دیتا ہے۔
پھر آیت کا اگلا حصہ مجھے تھام لیتا ہے:
"لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ"
پہلے میرا سوال تھا: "وہ کیوں نہیں بدلتے؟"
اب سوال بدل گیا ہے: "اس صورتِ حال میں، اللہ مجھ سے کیا تبدیلی چاہ رہا ہے؟ کس صبر، کس نرمی، کس حکمت کا امتحان ہے؟"
یوں میری توجہ "اُن کی تبدیلی" سے ہٹ کر "اپنی تربیت" پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
اب میں سمجھتی ہوں کہ: ہر جھگڑا، ہر تناؤ، ہر خاموشی درحقیقت غور کرنے کا موقع ہے۔
اس آیت نے مجھے آہستہ آہستہ یہ سکھایا کہ: "سکینۃ مانگنے کی چیز نہیں، بنانے کی ذمہ داری ہے۔"
مودّت خوشی کے دنوں میں خود آ جاتی ہے، لیکن رحمت وہ شعوری انتخاب ہے جو مشکل میں کرنا پڑتا ہے: میں نرم رہوں، جب حق میرے پاس ہو۔ دعا کروں، جب شکایت آسان ہو۔ ساتھ کھڑی رہوں، جب الگ ہو جانا آسان لگے
اور میں اس نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ: ہر چیلنج ایک امتحان ہے مگر اکیلے کا نہیں، ہم دونوں کا۔
یہ آیت مجھے: "مودّت کی وارث" سے "رحمت کی وکیل" بنا دیتی ہے۔ اور یہیں سے اصل سکینۃ جنم لیتا ہے۔
کیونکہ سکینۃ کوئی ایسی چیز نہیں جو آسمان سے اترے بلکہ سکینۃ وہ فضا ہے جو دو دل اللہ کی رضا کے لیے رحمت چُن کر تعمیر کرتے ہیں۔
رحمت کو اس طرح سمجھانا واقعی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ بہت دل سے جڑی اور بامعنی تحریر ہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
جب تک ہم صرف "اولاد" ہوتی ہیں، ماں کی دنیا ہمیں محض ایک منظرنامہ لگتی ہے۔ دسترخوان پر سجی روٹی، استری کیا ہوا یونیفارم، بستر پر لگا تازہ غلاف۔ ہمیں چیزوں کی تیاری نظر آتی ہے، تیاری کرنے والے ہاتھوں کی تھکاوٹ نہیں۔ ہمیں "ہو جانا" دکھائی دیتا ہے، "ہونے" کے پیچھے چھپی راتوں کی قربانی نہیں۔
پھر ایک دن ہم خود ماں بن جاتی ہیں۔ اور یوں پردے اٹھنے لگتے ہیں۔ ہم دیکھتی ہیں کہ روٹی صرف آٹا اور پانی نہیں ہوتی وہ ماں کی اُس نیند کا عکس ہوتی ہے جو چولہے کے سامنے قربان ہوئی۔ یونیفارم محض کپڑا نہیں ہوتا وہ اُس دعا کا کفن ہوتا ہے جو ماں نے استری کرتے ہوئے پڑھی۔ بستر پر غلاف کی سلوٹیں صرف سجاوٹ نہیں ہوتیں وہ دن بھر کی تھکاوٹ کے باوجود ماں کے ہاتھوں کی آخری محبت ہوتی ہیں۔
تب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ صرف قرآن کا ایک لفظ نہیں یہ ماں کے وجود کی تعریف ہے۔ یہ محض ایک کیفیت کا بیان نہیں، بلکہ ایک پوری کائنات کا نام ہے جس میں ہر ماں سانس لیتی ہے۔
آج جب میں اپنے بچوں کے درمیان کھڑی ہوتی ہوں تو شدت سے محسوس کرتی ہوں کہ یہ آیت میری روزمرہ زندگی کی سچی تصویر ہے۔
جب سورج کی پہلی کرن نمودار ہوتی ہے تو میرا جسم بستر سے اٹھ تو جاتا ہے، مگر وہ پہلے ہی تھکا ہوا ہوتا ہے۔ رات بھر پانچ ماہ کی ننھی بیٹی کی بے چینی نیند کو ٹکڑوں میں بانٹ چکی ہوتی ہے۔ بڑے بیٹے کے انٹری ٹیسٹ کا خیال، دو سالہ بیٹی کا نیند میں کراہنا، یہ تھکاوٹ پرانی ہے۔۔۔ پرانی، مگر ہر صبح نئی۔
ناشتہ تیار کرتے وقت ہاتھ روٹی پکاتے ہیں مگر دل بٹ جاتا ہے۔ دماغ بڑے کے اسکول پروجیکٹ میں الجھا ہوتا ہے۔ ایک کان بچے کا سبق سنتا ہے، دوسرا کان چھوٹی کے رونے پر لگا رہتا ہے۔ دل اس نوٹ پر اٹکا ہوتا ہے جو کل ہی چھوٹے بیٹے کے اسکول بیگ میں رکھا تھا اور آج نہیں مل رہا۔ ہر منٹ میں دس کام، ہر کام کے ساتھ بیس فکریں یہی ہے وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ۔
دوپہر کے سنگم میں چھوٹی بیٹی جاگ جاتی ہے، بڑا اسکول سے آ جاتا ہے۔ کھانا کھلانا، ہوم ورک شروع کروانا، اسی دوران ننھی کو دودھ پلانا۔ ہاتھوں میں چمچ، کانوں میں ریاضی کے سوال، آنکھوں میں بچوں کے چہرے۔۔۔ یہ ایک ساتھ کئی محاذوں پر لڑنا ہے۔
شام ڈھلتی ہے تو نہلانا، کپڑے بدلنا، کھانا بنانا، اور وہ مقالہ جو ہفتوں سے الماری میں خاموش پڑا ہے۔ جسم ایک جگہ، ذہن چار جگہ، دل اَن گنت جگہوں پر۔
رات کے آخری پہر، جب سب سو جاتے ہیں، تب بھی سانس پوری نہیں اترتی۔ اب بچوں کے خوابوں کی فکر شروع ہوتی ہے: کیا بچی پلٹ کر سو رہی ہے؟ کہیں کوئی کمبل سے باہر تو نہیں؟ کل صبح کسی کا کوئی کام رہ تو نہیں گیا؟
تب سمجھ آتا ہے کہ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ صرف جسمانی نہیں یہ دل کا وَهْن ہے۔ جب بچہ چل کر اسکول جانے لگتا ہے تو ماں کا دل اس کے ساتھ چلتا ہے۔ جب وہ جوان ہو کر دور چلا جاتا ہے تو ماں کی نیند اس کے ساتھ اڑ جاتی ہے۔ یہ وَهْن جاتا نہیں یہ بدلتا ہے، نئی شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔
مگر میں اس وَهْن کو صرف تھکاوٹ نہیں سمجھتی۔ میں اسے عبادت مانتی ہوں۔ ہر وَهْن کے ساتھ ایک دعا جڑی ہوتی ہے: اے اللہ! میری یہ تھکاوٹ میرے بچوں کی راہوں میں روشنی بن جائے۔ ہر تھکاوٹ کے ساتھ ایک امید وابستہ ہوتی ہے: شاید میری یہ کمزوریاں میری مغفرت کا سبب بن جائیں۔ اور جب بہت تھک جاتی ہوں تو سورۂ لقمان کی یہ آیت پڑھ لیتی ہوں:
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ
اور سوچتی ہوں اللہ نے ماں کی تکلیف کو گنا نہیں، اسے وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ کہا۔ شاید اس لیے کہ اس کی گنتی ممکن ہی نہیں۔ اور جو تکلیف شمار سے باہر ہو، اس کا اجر بھی حساب سے پرے ہوتا ہے۔
انہی سب کے بیچ میرے دل میں ایک اور احساس جاگتا ہے احساسِ قرض۔ میں اپنی ماں کو یاد کرتی ہوں۔ وہ ہاتھ جو میرے زخموں پر مرہم رکھتے تھے، وہ آنکھیں جو میری خاموشی میں بھی میرا درد پڑھ لیتی تھیں، وہ دعائیں جو میری نیند میں بھی میرے ساتھ چلتی تھیں۔ تب مجھے سمجھ آتا ہے: میں نے جو کچھ پایا تھا، وہ فرض نہیں تھا وہ عشق تھا۔ جو مجھے عام لگا تھا، وہ معمول نہیں تھا وہ معجزہ تھا۔
اور یہ قرض؟ یہ ادا ہونے والا قرض نہیں۔ یہ آگے بڑھانے والی امانت ہے۔ میری ماں نے مجھے دیا، مجھے اپنے بچوں کو دینا ہے، اور وہ اپنے بچوں کو دیں گے۔ یوں محبت کا یہ دائرہ ہر نسل کے ساتھ وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔
آج جب میں اپنے بچوں کا ہاتھ تھام کر اسکول جاتی ہوں، تو اپنے کندھے پر اپنی ماں کا ہاتھ محسوس کرتی ہوں۔ جب رات کو بچوں کو سلانے کے لیے جاگتی ہوں، تو اپنی ماں کی وہ بے خوابیاں یاد آتی ہیں جو کبھی میرے لیے تھیں۔ اور جب دعا میں ہاتھ اٹھاتی ہوں، تو محسوس ہوتا ہے میرے الفاظ میرے نہیں میری ماں کے سکھائے ہوئے ہیں۔
یہی تو ماں بننے کا راز ہے۔ یہ صرف ایک کردار نہیں یہ ایک وراثت ہے۔ ایسی میراث جو تھکاتی ہے مگر جگاتی ہے، دکھ دیتی ہے مگر سکھ سکھاتی ہے، توڑتی ہے مگر ہر ٹوٹنے کے بعد ایک نیا وجود تخلیق کرتی ہے۔
اور ہاں ماں کی قدر تب آتی ہے جب انسان جان لیتا ہے کہ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ کہنا کتنا آسان اور اسے جینا کتنا کٹھن ہے۔ یہ ایک ایسا قرض ہے جو کبھی اتارا نہیں جا سکتا، بس انسان خود ماں بن کر اس مشقت کو آگے بڑھاتا ہے، اور تب اپنی ماں کے ہر آنسو اور ہر مسکراہٹ کی قیمت سمجھ آتی ہے۔
اللہ ہر ماں کے وَهْن کو نور بنا دے، ہر تھکاوٹ کو ثواب کا ذریعہ بنا دے، اور ہر بیٹی کو یہ بصیرت عطا فرمائے کہ اس کی ماں کی قربانیاں درحقیقت اس کے اپنے وجود کی بنیاد تھیں۔ آمین۔
 
Last edited:

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج میری بھانجی کے لیے ایک رشتہ آیا۔ اور اس ایک رشتے کی بات چیت نے میرے ایمان کے ایک بڑے سوال کا جواب دے دیا۔ یہ جواب میرے سوالوں سے نہیں، بلکہ میری بھانجی کے سوالوں کی اصل جڑ سے آیا۔
جب آزاد خیالی کا ذکر آیا تو اس نے نہ گھر پوچھا، نہ آسائشوں کا حساب۔ وہ صرف ان سوالوں پر ٹھہری رہی:
"کیا اس رشتے میں میرا ایمان محفوظ رہے گا؟
کیا میں ایسی زندگی کے لیے تیار ہوں جہاں کسی عمل پر دل مطمئن نہ ہو، مگر خاموشی اختیار کرنی پڑے؟
کیا میں اپنے بچوں کو یہ سکھا سکوں گی کہ دین وضاحت، امانت اور خوفِ خدا کا نام ہے، یا ہر بات کو "سمجھوتے" میں لپیٹنا پڑے گا؟
پھر اس نے کہا: "میری نماز صرف چند رکعتیں نہیں۔ میری نماز یہ ہے کہ میں کس کے سامنے جھکتی ہوں اور کس کی ناراضی سے نہیں ڈرتی۔ اگر کسی رشتے میں 'ابھی پڑھوں یا بعد میں؟' کا سوال پیدا ہو، تو وہاں مسئلہ نماز کا نہیں غلامی کے آغاز کا ہے۔"
میں نے اس سے کہا کہ تھوڑا وقت لو اور سوچو، تو اس نے قرآن کی یہ آیت یاد دلائی:
"أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ"
(انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی)
اس کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا: "اگر ان فائدوں کی قیمت میری نماز، میرا ضمیر اور میرا اللہ سے تعلق ہے، تو کیا یہ فائدے ہیں یا سودا؟"
اس کی باتوں نے مجھے چونکا دیا۔ کیونکہ ہم عموماً رشتوں میں یہ پوچھتے ہیں: گھر کیسا ہے؟ لڑکا کیا کرتا ہے؟ سٹیٹس کیا ہے؟
کم ہی کوئی یہ سوال کرتا ہے: "کیا یہاں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے میں مجھے سکون ملے گا؟"
پھر اس نے ایک بات کہی جو میرے دل میں اتر گئی:
"اگر مال و دولت ہی ہدایت دیتا، تو فرعون ہدایت پا جاتا، قارون ولی بن جاتا۔ اصل بات یہ ہے: اگر کسی راستے میں نماز دب جائے، توحید پر سمجھوتہ ہو تو وہ عطا نہیں، تنبیہ ہوتی ہے۔"
آج میں نے سیکھا کہ: اصل ایمان شور نہیں کرتا۔ وہ صرف حد قائم رکھتا ہے۔ اور حد وہ لکیر ہے جو ایمان کو سمجھوتے سے الگ کرتی ہے۔
شاید اسی لیے اللہ کبھی رشتہ دے کر نہیں، بلکہ روک کر بھی آزماتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ "بے شک اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔"
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج کل میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس کے انٹری ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف ہوں۔
جنرل نالج، بکس، انٹرویو۔۔۔ ہم دونوں ایک ٹیم بن کر کام کر رہے ہیں۔
میں سوال پوچھتی ہوں، وہ جواب دیتا ہے۔
کہیں میں سمجھاتی ہوں، کہیں وہ خود تلاش کرتا ہے۔
انہی سب کے بیچ سورۃ البقرۃ کی یہ آیت دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے:
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ (سورۃ بقرۃ آیت 127)
ایک عظیم باپ اور ایک فرماں بردار بیٹا مل کر ایک ایسے گھر کی بنیادیں رکھ رہے ہیں جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کی وحدت کا مرکز بننے والا ہے۔
یہ آیت مجھے روک لیتی ہے اور سوال کرتی ہے: تم اپنے بچوں کے ساتھ کس مقصد کے لیے ٹیم ورک کر رہی ہو؟
ہم دنیاوی تیاریوں میں بچوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، آواز نرم کر لیتے ہیں، حوصلہ بڑھاتے ہیں۔
ایک چھوٹی سی مثال دیکھیے اگر بچے کو دہی لینے دکان بھیجنا ہو تو ہمارا انداز بدل جاتا ہے۔ الفاظ میں مٹھاس آ جاتی ہے، چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔
مگر جب بات نماز کی ہو، تو انجانی سی سختی در آ جاتی ہے۔ وہی زبان جو دنیا کے کام پر نرم تھی، دین کے ذکر پر بوجھل ہو جاتی ہے۔
تب مجھے سمجھ آتا ہے کہ یہ فرق بچوں کا نہیں، ہمارے دل کا ہے۔
شاید ہم نے دین کو ذمہ داری کے خانے میں رکھ دیا ہے اور دنیا کو ضرورت کے خانے میں۔
حالانکہ قرآن ہمیں دکھاتا ہے کہ دین وہ بنیاد ہے جس پر دنیا کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ اللہ کا گھر بنا رہے تھے، تو وہ صرف اینٹیں نہیں رکھ رہے تھے، بلکہ ایک نسل کو یہ سکھا رہے تھے کہ اللہ کے کام میں شریک ہونا بوجھ نہیں، بہت بڑا شرف ہے۔
اور اس شرف کے ساتھ ان کی زبان پر عاجزی سے بھرپور یہ دعا تھی:
"رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا" (اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما)۔
میں سوچتی ہوں کہ کیا اس دنیاوی ہنگامے میں میرا اور میرے بچوں کا کوئی ایسا ٹیم ورک بھی ہے جو "اللہ کے لیے" ہو؟
کیا میں انہیں رب کی طرف اتنی ہی مٹھاس اور محبت سے بلاتی ہوں جتنی تڑپ سے انہیں دنیاوی کامیابیوں کی طرف لے جاتی ہوں؟
رمضان کی آمد آمد ہے۔ اور شاید اسی آمد کے احترام میں میں نے سوچا ہے کہ اس بار سب سے پہلے میں اپنے "لہجے" کی اصلاح کروں گی۔
شاید میں اپنے بچوں کے ساتھ کوئی بڑا دینی منصوبہ شروع نہ کر سکوں۔ نہ کوئی لمبا درس، نہ کوئی بھاری نصیحت۔
لیکن جب نماز کا وقت آئے گا، تو میں اپنی آواز میں وہی مٹھاس اور چہرے پر وہی مسکراہٹ لاؤں گی جو دنیاوی کاموں کے وقت آتی ہے۔
شاید میرے حصے کا "ٹیم ورک" یہی ہو۔ اللہ کرے کہ میرا یہ چھوٹا سا عمل قبول ہو جائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

#RamadanReady
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
آج کل میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس کے انٹری ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف ہوں۔
جنرل نالج، بکس، انٹرویو۔۔۔ ہم دونوں ایک ٹیم بن کر کام کر رہے ہیں۔
میں سوال پوچھتی ہوں، وہ جواب دیتا ہے۔
کہیں میں سمجھاتی ہوں، کہیں وہ خود تلاش کرتا ہے۔
انہی سب کے بیچ سورۃ البقرۃ کی یہ آیت دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے:
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ (سورۃ بقرۃ آیت 127)
ایک عظیم باپ اور ایک فرماں بردار بیٹا مل کر ایک ایسے گھر کی بنیادیں رکھ رہے ہیں جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کی وحدت کا مرکز بننے والا ہے۔
یہ آیت مجھے روک لیتی ہے اور سوال کرتی ہے: تم اپنے بچوں کے ساتھ کس مقصد کے لیے ٹیم ورک کر رہی ہو؟
ہم دنیاوی تیاریوں میں بچوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، آواز نرم کر لیتے ہیں، حوصلہ بڑھاتے ہیں۔
ایک چھوٹی سی مثال دیکھیے اگر بچے کو دہی لینے دکان بھیجنا ہو تو ہمارا انداز بدل جاتا ہے۔ الفاظ میں مٹھاس آ جاتی ہے، چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔
مگر جب بات نماز کی ہو، تو انجانی سی سختی در آ جاتی ہے۔ وہی زبان جو دنیا کے کام پر نرم تھی، دین کے ذکر پر بوجھل ہو جاتی ہے۔
تب مجھے سمجھ آتا ہے کہ یہ فرق بچوں کا نہیں، ہمارے دل کا ہے۔
شاید ہم نے دین کو ذمہ داری کے خانے میں رکھ دیا ہے اور دنیا کو ضرورت کے خانے میں۔
حالانکہ قرآن ہمیں دکھاتا ہے کہ دین وہ بنیاد ہے جس پر دنیا کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ اللہ کا گھر بنا رہے تھے، تو وہ صرف اینٹیں نہیں رکھ رہے تھے، بلکہ ایک نسل کو یہ سکھا رہے تھے کہ اللہ کے کام میں شریک ہونا بوجھ نہیں، بہت بڑا شرف ہے۔
اور اس شرف کے ساتھ ان کی زبان پر عاجزی سے بھرپور یہ دعا تھی:
"رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا" (اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما)۔
میں سوچتی ہوں کہ کیا اس دنیاوی ہنگامے میں میرا اور میرے بچوں کا کوئی ایسا ٹیم ورک بھی ہے جو "اللہ کے لیے" ہو؟
کیا میں انہیں رب کی طرف اتنی ہی مٹھاس اور محبت سے بلاتی ہوں جتنی تڑپ سے انہیں دنیاوی کامیابیوں کی طرف لے جاتی ہوں؟
رمضان کی آمد آمد ہے۔ اور شاید اسی آمد کے احترام میں میں نے سوچا ہے کہ اس بار سب سے پہلے میں اپنے "لہجے" کی اصلاح کروں گی۔
شاید میں اپنے بچوں کے ساتھ کوئی بڑا دینی منصوبہ شروع نہ کر سکوں۔ نہ کوئی لمبا درس، نہ کوئی بھاری نصیحت۔
لیکن جب نماز کا وقت آئے گا، تو میں اپنی آواز میں وہی مٹھاس اور چہرے پر وہی مسکراہٹ لاؤں گی جو دنیاوی کاموں کے وقت آتی ہے۔
شاید میرے حصے کا "ٹیم ورک" یہی ہو۔ اللہ کرے کہ میرا یہ چھوٹا سا عمل قبول ہو جائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

#RamadanReady
اللہ پاک آپ کی بصیرت کو سلامت رکھےاور آپ کے بیٹے کو کامیابی عطا کرے۔
آپ کی تحریر پڑھ کر سوچ کے نئےدریچے کھلتے ہیں ہمیشہ
ولی یا ہادی میں نام بھول گئی:confused:
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
اللہ پاک آپ کی بصیرت کو سلامت رکھےاور آپ کے بیٹے کو کامیابی عطا کرے۔
آپ کی تحریر پڑھ کر سوچ کے نئےدریچے کھلتے ہیں ہمیشہ
ولی یا ہادی میں نام بھول گئی:confused:
آمین ثم آمین
جزاک اللہ خیرا
عبدالولی نام ہے۔ اورعبد الہادی چھوٹا ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
از قلم : ایرج مرجان

میرے سامنے آج بلند و بالا پتھریلی ساخت کے پہاڑ تھے۔ کچھ چوٹیاں اتنی بلند کہ بادل ان پر چلتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ اور انکے سامنے میرا وجود ایک ذرہ برابر لگ رہا تھا۔ مجھے ہمیشہ سے پہاڑ اور خاص طور پر پتھریلے پہاڑ دلکش محسوس ہوتے ہیں۔ سفر کے دوران ایسی گزرگاہیں میرے طویل ترین سفر کو بھی مختصر بنا دیتی ہیں۔ آج ان پہاڑوں کو دیکھ کر کوئی لطف محسوس نہیں ہو رہا تھا بلکہ یہ چوٹیاں ندامت اور خوف کی علامت بن گئ تھیں۔
یہ بظاہر بےجان سنگلاخ پہاڑ جو زمین کو متوازن رکھنے کے ساتھ ساتھ زمین کے باشندوں کو بھی منظم رکھتے ہیں۔ ماضی میں کسی سلطنت کی کسی خطے پر حکمرانی کی حد اس خطے کے پہاڑی سلسلے سے متعین کی جاتی تھی آج بھی کئی ممالک کی سرحدیں انہی پہاڑی سلسلوں سے جدا ہوتی ہیں۔ یعنی کہ زمین اور اسکے باشندے ان پتھریلے پہاڑوں کے مرہون منت ہیں۔ پر اتنی قوت کا حامل ہونے کے باوجود بھی یہ پہاڑ کلام الٰہی کے سامنے ریزہ ریزہ ہیں۔ یہ بےجان چٹانیں کلامِ الٰہی کی تأثیر کو پہچانتی ہیں اسکی عظمت و رفعت کے آگے سرنگوں ہیں اور ایک میں ہوں جسکا وجود ان پہاڑوں کے سامنے ایک ذرے برابر کا ہے پر پھر بھی اتنی بے نیازی کہ میرے اندر موجود گوشت کے ایک لوتھڑے پر اس قرآن کا اثر نہ ہو جس کی ہیبت سے یہ پہاڑ لرز جائیں۔ اگر قرآن کی وعیدیں میرے دل کو نہیں لرزا رہیں تو سختی کہاں موجود ہے؟ پہاڑ میں یا میرے دل میں؟ اور پھر ایسی سختی کی وقعت و حقیقت کیا ہے جو دنیا کے ہر فتنے پہ موم ہو جائے پر ہدایت کی دستک پر مکفل رہے۔ علامہ اصلاحی اس آیت (الحشر:21) کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ تمثیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کیلئے ایک تسکین ہے کہ اگر قرآن کا ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہیں ہو رہا تو اس میں قرآن کا یا آپ کے انداز تبلیغ کا کوئی قصور نہیں قصور انکے دلوں میں موجود ہے۔ کیا کہیں میرا دل بھی تو انہی میں سے نہیں؟
مجھے ہمیشہ سے ایک بات پر حیرت رہی کہ اس آیت(احزاب:72) میں انسان کی اہلیت کو اسکے کسی اچھے وصف سے نہیں بلکہ ظلم و جھل جیسے خصائل سے جوڑا گیا ہے۔ ہمیں تمام تر مخلوقات سے ممتاز رکھنے والا وصف شعور ہے، پر اگر حق پر باطل کو فوقیت دیں تو یہ وصف شعور کے بجائے ظلم بن جاتا ہے۔ ۔ جب ہدایتِ قرآن کے بجائے نفس کی سرگوشیوں کو ضابطہ حیات بنا لیں تو اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہو سکتی۔ مجھے آج احساس ہوا کہ مجھ سے زیادہ شعور اس پہاڑ میں ہے جو قرآن کی ہیبت سے لرز جائے۔۔۔ ہمارا شعور ہمارا امتیاز صرف حق کو حق سمجھنے اور ماننے پر منحصر ہے اگر قرآن کو برحق جاننے کے باوجود بھی میں اپنے اندر سے باطل کو نہ نکال پاؤں تو مجھ میں وہ شعور نہیں جو مجھے باقی مخلوقات سے ممتاز رکھ سکے اور ممتاز تو کیا شاید ان بےجان چٹانوں سے بھی کمتر ہو جائے میرا وجود کیونکہ یہ شعور تو ان میں بھی ہے۔
 
Last edited:

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ نیلم، زمرد اور ہیرے۔۔۔ اتنے چھوٹے ہونے کے باوجود انمول کیوں ہوتے ہیں؟ کیوں عام پتھروں کے بڑے بڑے ڈھیر بھی ان کے ایک ذرے کے سامنے بے قیمت ہو جاتے ہیں؟
پھر آہستہ آہستہ یہ بات واضح ہونے لگتی ہے کہ اصل معاملہ مقدار کا نہیں، معیار کا ہے۔ ایک چھوٹا سا ذرہ بھی اگر خالص ہو، روشنی کو اپنے اندر سمیٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اور اپنی تراش میں بے عیب ہو، تو وہ انمول بن جاتا ہے۔ اس کی قیمت اس کے حجم میں نہیں، اس کے جوہر میں چھپی ہوتی ہے۔
یہی خیال جب میرے دل کو چھوتا ہے تو قرآنِ پاک کی ایک آیت میرے اس تصور کو محض سوچ نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے ایک ابدی حقیقت میں بدل دیتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
"اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اپنے دین اور بندگی کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔" (سورۃ البینۃ: 5)
یہی اخلاص وہ تراش ہے جو ایک عام سے عمل کو ہیرا بنا دیتی ہے۔ جب نیت خالص ہو جائے تو عمل چھوٹا ہو کر بھی وزنی ہو جاتا ہے، اور جب اخلاص نہ ہو تو بڑے بڑے اعمال بھی اپنی چمک کھو دیتے ہیں۔
جب یہی سوچ میرے دل کو چھوتی ہے تو مجھے اپنے رمضان کا چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔
رمضان مجھے اعمال کی فہرستیں بڑھانے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ دل کی سمت درست کرنے آتا ہے۔
ہم اکثر عبادت کو گنتی کے ترازو میں تولنے لگتے ہیں: کتنے پارے؟ کتنی رکعتیں؟ کتنی تسبیحات؟
مگر رمضان کا اصل سوال شاید یہ ہے کہ: میرا دل کہاں کھڑا ہے؟
ایک ایسا سجدہ جو روح کی گہرائی سے نکلے، ان ہزاروں سجدوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے جو محض ایک عادت کے طور پر ادا کیے جائیں۔
اسی لیے اس بار میں چاہتی ہوں کہ میرا رمضان بھی ان قیمتی جواہرات جیسا ہو:
چھوٹا مگر خالص۔۔۔ جہاں عمل کی کثرت سے زیادہ نیت کی سچائی ہو، جیسے ہیرے کا ایک چھوٹا مگر شفاف ٹکڑا۔
خاموش مگر روشن۔۔۔ جہاں ظاہری نمائش کا شور نہ ہو، بلکہ خاموشی میں لپٹی وہ سچی گفتگو ہو جو صرف میرے اور میرے رب کے درمیان ہو۔
حضورِ قلب۔۔۔ جہاں ہر دعا رسمی الفاظ کی تکرار نہ ہو، بلکہ وہ روشنی ہو جو میری زندگی کے اندھیروں کو آہستہ آہستہ منور کر دے۔
اب میرا مقصد "زیادہ" کرنا نہیں، بلکہ خالص ہونا ہے۔
میں چاہتی ہوں کہ میرا یہ رمضان محض تیس دنوں کا ایک سلسلہ نہ رہے، بلکہ دل کی تراش سنوارنے کا ایک ایسا موقع بن جائے جہاں ہر عمل، چاہے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، اخلاص کی روشنی سے جگمگا اٹھے۔
میں چاہتی ہوں کہ یہ رمضان مجھے بدل دے، میری نیت کو صاف کرے، میرے دل کو نرم کرے، اور میری عبادت کو محض رسم نہیں بلکہ قرب بنا دے۔
ایسا قرب جو رمضان کے گزر جانے کے بعد بھی میرے ساتھ ٹھہرا رہے۔
اللّٰھم بلِّغنا رمضان۔

#RamadanReady
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
میرا چھوٹا بیٹا ایک چلتا پھرتا سوالیہ نشان ہے۔ سارا دن اس کے سوالات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ایک سوال ختم نہیں ہوتا تو اس سے دس نئے سوال جنم لے لیتے ہیں۔
آج صبح میں ناشتہ بنا رہی تھی کہ اس نے معصومیت سے پوچھا: "مما، روٹی کیوں گرم ہوتی ہے؟"
میں نے کہا: "گیس پر رکھتے ہیں نا۔"
وہ فوراً بولا: "لیکن گیس کیوں جلتی ہے؟"
میں نے جواب دیا: "کیونکہ ہم چولہا جلاتے ہیں۔"
اس نے آنکھوں میں ایک شریر سی چمک کے ساتھ اگلا سوال داغ دیا: "لیکن اگر چولہا جلتا رہے تو گھر جل جائے گا نا؟ پھر ہم کہاں سوئیں گے؟"
یہ ہے اس کی معصوم منطق! ایک سوال دس سوالوں کو جنم دے دیتا ہے۔
اسی طرح جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ اکثر آ کر میرے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے۔ پچھلے دنوں اچانک اس نے پوچھا: "مما، آپ زمین پر ماتھا کیوں لگاتی ہیں؟ زمین صاف ہے نا؟ پھر ماتھے سے جھاڑو کیوں لگاتی ہیں؟"
کبھی اس کی باتوں پر ہنسی آتی ہے، کبھی سوچ میں پڑ جاتی ہوں، اور کبھی ایسے سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے خود الجھ جاتی ہوں۔
آج کا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ میں اپنی بیٹی کو اسکارف پہنا رہی تھی کہ میرے چھوٹے "سائنسدان" نے اپنی تحقیق شروع کر دی۔
"مما، یہ کیا ہے؟" اس نے انگلی سے اسکارف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
"یہ اسکارف ہے بیٹا۔"
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے وہ سوال پوچھا جو شاید کافی دیر سے اس کے ذہن میں پک رہا تھا: "مما، آپ اس کے سر پر دم کیوں لگاتی ہیں؟ اس کا دماغ پک جائے گا!"
میں ہنس پڑی۔ اسے لگا جیسے چاولوں پر دم دی جاتی ہے، ویسے ہی اس کے سر پر بھی دم لگائی جا رہی ہے۔ اس کی معصوم منطق میں یہ اسکارف نہیں تھا، یہ پکانے والا دم تھا۔
میں نے سمجھانے کی کوشش کی: "نہیں بیٹا، یہ دم نہیں ہے، یہ تو اسکارف ہے۔۔۔"
لیکن وہ بول پڑا: "اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم بھی تو نہیں کرتے۔"
میں خاموش ہو گئی۔ الفاظ میرے پاس تھے، مگر اس کی معصوم ذہنیت کے لیے بہت بھاری تھے۔
اسی لمحے میرا بڑا بیٹا بول پڑا۔ وہ جو عموماً خاموش رہتا ہے، جو روزانہ بیسیوں سوالوں کے جواب صرف سر ہلا کر دے دیتا ہے، آج اس کے لفظ بول رہے تھے۔
وہ اپنے چھوٹے بھائی سے مخاطب ہوا: "سکارف ایک آئی ڈی کارڈ کی طرح ہے۔ جیسے تمہارے سکول کا آئی ڈی کارڈ ہے۔ جیسے میرے سکول کا آئی ڈی ہے۔ ویسے ہی اللہ کی سلطنت کا ایک آئی ڈی کارڈ ہے۔ اگر کسی کے پاس آئی ڈی نہیں ہوگا تو کیا وہ اس سلطنت کے اندر آ سکے گا؟"
یہ جواب بیک وقت سادہ بھی تھا اور گہرا بھی۔ اتنا واضح کہ اس پر مزید سوال کی گنجائش ہی نہ رہی۔
میرا چھوٹا سائنسدان جو عام طور پر ہر جواب کے بعد تین نئے سوال تیار رکھتا ہے، آج خاموش تھا۔
میں نے دیکھا، اس کا ذہن کام کر رہا تھا۔ "آئی ڈی کارڈ۔۔۔ اللہ کی سلطنت۔۔۔ سکول کا آئی ڈی۔۔۔"
چند لمحے گزرے۔ میں منتظر رہی کہ اب کوئی نیا سوال آئے گا۔ "لیکن کیوں؟"، "پھر کیا؟"، "مگر۔۔۔؟"
مگر وہ خاموش رہا۔
پھر آہستہ سے پوچھا: "پھر ہمارا آئی ڈی کارڈ کیا ہے؟"
یہ الجھن کا نہیں، سمجھ کا سوال تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھا کہ وہ پہلی بات سمجھ چکا تھا، اب اگلا مرحلہ سمجھنا چاہتا ہے۔
بڑے بھائی نے کہا: "ہمارا آئی ڈی کارڈ ہماری نماز ہے، ہمارا اخلاق ہے۔۔۔ اور جب ہم بڑے ہوں گے تو ہماری داڑھی۔"
یہ کہہ کر وہ اپنے کھلونوں کی طرف چلا گیا۔ اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے بعد کوئی سوال نہیں آیا۔ نہ دوپہر کو، نہ رات کے کھانے پر، نہ سونے سے پہلے۔
میرا وہ بچہ جو ہر بات پر سوال اٹھاتا ہے، آج ایک جواب پر مطمئن ہو گیا تھا۔
آج میں نے ایک اہم سبق سیکھا۔ کبھی کبھی بچوں کے سوالوں کا جواب ان کی اپنی زبان میں دینا ضروری ہوتا ہے۔ اور کبھی کبھی ایک ایسا جواب مل جاتا ہے جو ان کی تمام الجھنوں کو دور کر دیتا ہے۔
میرے بڑے بیٹے نے اپنے چھوٹے بھائی کو اس کی ہی دنیا کی چیز (آئی ڈی کارڈ) کے ذریعے سمجھایا۔ اس نے نہ صرف اس کے سوال کا جواب دیا، بلکہ اس کے ذہن میں ایک نئی تصویر بنا دی۔
اور میرا چھوٹا سائنسدان۔۔۔ اس نے آج سیکھا کہ کبھی کبھی ایک جواب اتنا مکمل ہوتا ہے کہ مزید سوالوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ کبھی کبھی سمجھ آنے کے بعد خاموشی ہی سب سے بڑا جواب ہوتا ہے۔
میرا بیٹا آج بات نہیں کر رہا تھا، مگر اس کی خاموشی زور سے بول رہی تھی: "میں سمجھ گیا ہوں۔"
اور بس آخر میں، دل کی گہرائی سے نکلنے والی ایک ہی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بچوں کو دین کی سچی سمجھ عطا فرمائے۔ انہیں سوال کرنے والا بھی رکھے، سمجھنے والا بھی بنائے، اور جب سمجھ آ جائے تو صراطِ مستقیم پر استقامت عطا فرما دے۔ یا اللہ! ان کے دلوں کو اپنی پہچان سے روشن کر دے، ان کی عقل کو ہدایت کا ذوق عطا فرما، اور انہیں ایسے جواب عطا کر دینا جن کے بعد بھٹکنے کی نوبت نہ آئے۔
آمین۔
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
میرا چھوٹا بیٹا ایک چلتا پھرتا سوالیہ نشان ہے۔ سارا دن اس کے سوالات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ایک سوال ختم نہیں ہوتا تو اس سے دس نئے سوال جنم لے لیتے ہیں۔
میرا بھانجا بھی کچھ ایسا ہی ہے
 
Top