تحریر: نور نیت
سترہ سال گزر گئے۔۔۔ اور آج بھی تم گھر پر نہیں ہو۔
آج بیٹی نے اپنے ننھے ہاتھوں سے ایک کارڈ بنایا ہے۔۔۔ایک گھر، دروازے پر کھڑی ایک عورت، اور اوپر چند ٹیڑھے میڑھے حروف۔۔۔ جو ٹھیک سے پڑھے نہیں جاتے۔ مگر ان الجھی لکیروں میں اس نے اپنا پورا دل لکھ دیا ہے۔
اس معصوم تحریر نے وقت کی رفتار کو جیسے اچانک روک دیا۔
وہی وقت۔۔۔ جسے میں سترہ برس سے ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسلتے دیکھ رہی ہوں۔
اچانک وہ ایک نقطے پر ٹھہر گیا، اور اس ٹھہرے لمحے میں مٹی سے لے کر معتبر ہونے تک کا سارا سفر میری آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا۔
سچ تو یہ ہے کہ ان سترہ سالوں میں، میں نے وقت کو بہتے دیکھا ہے۔
مجھے وہ دن یاد ہیں جب ہمارا بڑا بیٹا اسکول جاتا تھا۔۔۔ اور آج وہ کیڈٹ کالج کے گیٹ پر کھڑا اپنی وردی درست کرتا ہے۔
اس نے اپنی پروفائل پر ایک جملہ لکھا ہے:
"My father is the silence between the gunshots you never hear about."
وہ تمہارے نقشِ قدم پر چل پڑا ہے۔
اس کی خاموشی۔۔۔ اس کا ڈسپلن۔۔۔ اس کی نظریں۔۔۔ گواہی دیتی ہیں کہ اس نے وہ حقیقت پا لی ہے جسے سمجھنے میں لوگوں کی عمریں بیت جاتی ہیں۔
بیٹے کے اسکول کے بستے سے کیڈٹ کالج کی وردی تک ۔۔۔میں نے وقت کو بہتے دیکھا ہے!
اور پھر تمہارا سات سال کا "عکس"۔۔۔ ہمارا چھوٹا بیٹا۔۔۔ جو شرارتوں کا ایک طوفان ہے۔
پچھلے ہفتے اسے تیز بخار تھا۔ رات بھر تپتی پیشانی کے ساتھ کروٹیں بدلتا رہا۔
صبح آنکھ کھلی تو نحیف سی آواز میں بولا: "مما، میں نے خواب میں پاپا کو دیکھا۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اب تم نے مما کا خیال رکھنا ہے۔"
سات سال کا ایک شرارتی بچہ اور نقاہت میں بھی اپنے باپ سے "آرڈر" لے رہا تھا۔
میں نے اس کی پیشانی چومتے ہوئے سوچا تم نے اس کی رگوں میں بھی وہی فولاد بھر دیا ہے جو تمہاری پہچان ہے۔
بیٹے کی بدلتی نظروں اور بڑھتے قد میں۔۔۔ میں نے وقت کو بہتے دیکھا ہے!
اسی اثنا میں نظر کمرے کے اُس کونے پر پڑی، جہاں تمہاری ڈھائی سال کی بیٹی، جو اب ٹوٹی پھوٹی باتیں کرنے لگی ہے، الماری سے تمہارے جوتے نکال کر پالش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی: "بابا آئیں گے تو یہ پہنیں گے۔"
ان جوتوں کی چمک دیکھ کر میرا دل بجھنے لگتا ہے۔۔۔ مگر میں مسکراتی رہتی ہوں۔
اور ہماری سب سے چھوٹی بیٹی، جو ابھی چند ماہ کی ہے۔۔۔ جس کی پیدائش کے وقت تم موجود نہیں تھے۔۔۔ جس نے ابھی تک اپنے باپ کا لمس نہیں پہچانا۔۔۔ وہ جب سوتے میں مسکراتی ہے تو بالکل تمہاری طرح لگتی ہے۔
ان معصوم کلیوں کے کھلنے اور تمہارے جوتوں پر جمی گرد کے درمیان۔۔۔ میں نے وقت کو بہتے دیکھا ہے!
تم جانتے ہو میں کیوں نہیں ٹوٹتی؟
کیونکہ ایک رات۔۔۔ جب تمہارا فون مسلسل بند تھا اور اسکرین پر کسی نامعلوم افسر کی شہادت کی خبر گردش کر رہی تھی، میں نے اپنی چیخیں چھپا لی تھیں۔
میں نے رب سے التجا کی تھی کہ میرے بچوں کو یتیمی کی دھوپ سے بچا لے۔
اور جب صبح تمہاری آواز آئی ۔۔۔"میں خیریت سے ہوں"۔۔۔
تو میں نے روتے ہوئے پوچھا تھا: "تمہیں میری پرواہ بھی ہے یا صرف مشن کی؟"
تمہاری وہ دھیمی آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے: "تمہاری پرواہ نہ ہوتی تو میں کب کا مٹی ہو چکا ہوتا۔ میں زندہ ہی تمہاری دعاؤں کے حصار میں ہوں۔"
اس دن کے بعد میں نے شکوہ کرنا چھوڑ دیا۔
اس دن میں نے جان لیا میری خاموشی تمہاری ڈھال ہے۔ اور میں نے اس وقار کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
میں نے وقت کو ہر رنگ میں بہتے دیکھا ہے۔۔۔ کیڈٹ کالج کے نظم و ضبط سے لے کر ننھی بیٹی کی پہلی مسکراہٹ تک، عید کی تنہائیوں سے لے کر بخار کی طویل راتوں تک۔
میں نے شکایت کرنا چھوڑ دی ہے۔ میں نے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔
اب جو ہے وہ صرف یقین ہے۔ تم اپنے فرض پر قائم ہو۔۔۔ اور میں اپنے۔
یہ انتظار اب صرف محبت نہیں رہا، یہ میری بندگی بن چکا ہے۔
یہی میرا مشن ہے۔
یہی میرا تعارف ہے۔
اللہ تمہیں سلامت رکھے۔
سترہ سال گزر گئے۔۔۔ اور آج بھی تم گھر پر نہیں ہو۔
آج بیٹی نے اپنے ننھے ہاتھوں سے ایک کارڈ بنایا ہے۔۔۔ایک گھر، دروازے پر کھڑی ایک عورت، اور اوپر چند ٹیڑھے میڑھے حروف۔۔۔ جو ٹھیک سے پڑھے نہیں جاتے۔ مگر ان الجھی لکیروں میں اس نے اپنا پورا دل لکھ دیا ہے۔
اس معصوم تحریر نے وقت کی رفتار کو جیسے اچانک روک دیا۔
وہی وقت۔۔۔ جسے میں سترہ برس سے ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسلتے دیکھ رہی ہوں۔
اچانک وہ ایک نقطے پر ٹھہر گیا، اور اس ٹھہرے لمحے میں مٹی سے لے کر معتبر ہونے تک کا سارا سفر میری آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا۔
سچ تو یہ ہے کہ ان سترہ سالوں میں، میں نے وقت کو بہتے دیکھا ہے۔
مجھے وہ دن یاد ہیں جب ہمارا بڑا بیٹا اسکول جاتا تھا۔۔۔ اور آج وہ کیڈٹ کالج کے گیٹ پر کھڑا اپنی وردی درست کرتا ہے۔
اس نے اپنی پروفائل پر ایک جملہ لکھا ہے:
"My father is the silence between the gunshots you never hear about."
وہ تمہارے نقشِ قدم پر چل پڑا ہے۔
اس کی خاموشی۔۔۔ اس کا ڈسپلن۔۔۔ اس کی نظریں۔۔۔ گواہی دیتی ہیں کہ اس نے وہ حقیقت پا لی ہے جسے سمجھنے میں لوگوں کی عمریں بیت جاتی ہیں۔
بیٹے کے اسکول کے بستے سے کیڈٹ کالج کی وردی تک ۔۔۔میں نے وقت کو بہتے دیکھا ہے!
اور پھر تمہارا سات سال کا "عکس"۔۔۔ ہمارا چھوٹا بیٹا۔۔۔ جو شرارتوں کا ایک طوفان ہے۔
پچھلے ہفتے اسے تیز بخار تھا۔ رات بھر تپتی پیشانی کے ساتھ کروٹیں بدلتا رہا۔
صبح آنکھ کھلی تو نحیف سی آواز میں بولا: "مما، میں نے خواب میں پاپا کو دیکھا۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اب تم نے مما کا خیال رکھنا ہے۔"
سات سال کا ایک شرارتی بچہ اور نقاہت میں بھی اپنے باپ سے "آرڈر" لے رہا تھا۔
میں نے اس کی پیشانی چومتے ہوئے سوچا تم نے اس کی رگوں میں بھی وہی فولاد بھر دیا ہے جو تمہاری پہچان ہے۔
بیٹے کی بدلتی نظروں اور بڑھتے قد میں۔۔۔ میں نے وقت کو بہتے دیکھا ہے!
اسی اثنا میں نظر کمرے کے اُس کونے پر پڑی، جہاں تمہاری ڈھائی سال کی بیٹی، جو اب ٹوٹی پھوٹی باتیں کرنے لگی ہے، الماری سے تمہارے جوتے نکال کر پالش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی: "بابا آئیں گے تو یہ پہنیں گے۔"
ان جوتوں کی چمک دیکھ کر میرا دل بجھنے لگتا ہے۔۔۔ مگر میں مسکراتی رہتی ہوں۔
اور ہماری سب سے چھوٹی بیٹی، جو ابھی چند ماہ کی ہے۔۔۔ جس کی پیدائش کے وقت تم موجود نہیں تھے۔۔۔ جس نے ابھی تک اپنے باپ کا لمس نہیں پہچانا۔۔۔ وہ جب سوتے میں مسکراتی ہے تو بالکل تمہاری طرح لگتی ہے۔
ان معصوم کلیوں کے کھلنے اور تمہارے جوتوں پر جمی گرد کے درمیان۔۔۔ میں نے وقت کو بہتے دیکھا ہے!
تم جانتے ہو میں کیوں نہیں ٹوٹتی؟
کیونکہ ایک رات۔۔۔ جب تمہارا فون مسلسل بند تھا اور اسکرین پر کسی نامعلوم افسر کی شہادت کی خبر گردش کر رہی تھی، میں نے اپنی چیخیں چھپا لی تھیں۔
میں نے رب سے التجا کی تھی کہ میرے بچوں کو یتیمی کی دھوپ سے بچا لے۔
اور جب صبح تمہاری آواز آئی ۔۔۔"میں خیریت سے ہوں"۔۔۔
تو میں نے روتے ہوئے پوچھا تھا: "تمہیں میری پرواہ بھی ہے یا صرف مشن کی؟"
تمہاری وہ دھیمی آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے: "تمہاری پرواہ نہ ہوتی تو میں کب کا مٹی ہو چکا ہوتا۔ میں زندہ ہی تمہاری دعاؤں کے حصار میں ہوں۔"
اس دن کے بعد میں نے شکوہ کرنا چھوڑ دیا۔
اس دن میں نے جان لیا میری خاموشی تمہاری ڈھال ہے۔ اور میں نے اس وقار کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
میں نے وقت کو ہر رنگ میں بہتے دیکھا ہے۔۔۔ کیڈٹ کالج کے نظم و ضبط سے لے کر ننھی بیٹی کی پہلی مسکراہٹ تک، عید کی تنہائیوں سے لے کر بخار کی طویل راتوں تک۔
میں نے شکایت کرنا چھوڑ دی ہے۔ میں نے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔
اب جو ہے وہ صرف یقین ہے۔ تم اپنے فرض پر قائم ہو۔۔۔ اور میں اپنے۔
یہ انتظار اب صرف محبت نہیں رہا، یہ میری بندگی بن چکا ہے۔
یہی میرا مشن ہے۔
یہی میرا تعارف ہے۔
اللہ تمہیں سلامت رکھے۔
Last edited: