اورنگ زیب کی دُوَنی کی برکت

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
اورنگ زیب کی دُوَنی کی برکت
ملااحمدعرف ملاجیون شہنشاہ اورنگ زیب کے استاذتھے اورنگ زیب ملاصاحب کی بہت عزت کرتا تھا اورملاصاحب بھی اس کو اپنا بہترین شاگرد سمجھتے تھے جب اورنگ زیب شہنشاہ عالمگیر کا لقب اختیار کرکے ہندوستان کے تخت پربیٹھا تو اس نے اپنے استاذکو پیغام بھیجوایا کہ چند دنوں کے لئے دہلی تشریف لائیں اور مجھے اپنی خدمت کا موقع دیں۔ملااحمد جیون اس وقت تونہ آسکے کہ اس سے ان کے مدرسے کے طالب علموں کا حرج ہوتا تھا لیکن رمضان کے مہینے میں جبکہ ان کے مدرسے میں چھٹیاں ہوتی تھیں انہوں نے دہلی کارخ کیا استاذ اورشاگردکی ملاقات دہلی کی جامع مسجد میں عصرکی نماز کے وقت ہوئی نماز کے بعد اورنگ زیب ملاصاحب کواپنے ساتھ شاہی قلعہ میں لے گیا رمضان کاسارا مہینہ اورنگ زیب اورملاصاحب نے اکٹھے گزارابادشاہ دربارمیں بھی اپنے ساتھ لے جاتا تھا اوررات کو تراویح کی نماز کے بعد دونوں میں دیرتک علمی گفتگوہوتی عید کی نماز ملااحمد جیون نے بادشاہ کے ساتھ اداکی اورواپس جانے کی اجازت چاہی بادشاہ نے جیب سے ایک دونی نکال کر اپنے استاذ کو پیش کی ملااحمد جیون نے بڑی خوشی سے اپنے شاگرد کے نذرانے کوقبول کیا اور خدا حافظ کہکر گھر کو چلے گئے اس کے بعد اورنگ زیب دکن کی لڑائیوں میں ایسا مصروف ہواکہ اسے چودہ برس تک دہلی آنانصیب نہ ہوا جب وہ دہلی واپس آئے تو وزیر اعظم نے بتایا کہ ملااحمد جیون بہت بڑا زمینداربن چکا ہے اگراجازت ہوتو اس سے لگان وصول کیا جائے یہ سن کر اورنگ زیب حیران رہ گیا یہ سوچنے لگا کہ ایک غریب استاذ بہت بڑا زمیندار کیسے بن سکتا ہے ؟اس نے فوراً ملااحمد کو ایک خط لکھا اورملنے کی خواہش ظاہرکی ملااحمد پہلے کی طرح پھررمضان میں دہلی تشریف لائے اورنگ زیب نے بڑی محبت سے ان کو اپنے پاس ٹھہرایا ملاصاحب کا لباس اسی طرح سادہ تھا ان کی بات چیت اورطور طریقہ سے بھی پہلے جیسی سادگی ظاہر ہورہی تھی اسلئے بادشاہ کو ان کے بڑا زمیندار بن جانے کے بارے میں پوچھنے کا حوصلہ نہ ہوسکا لیکن ایک دن ملاصاحب خودہی کہنے لگے آپ سے جودونی لے کرگیا تھا وہ کوئی بہت ہی برکت والی تھی میں نے اس سے بنولے خریدکرکپاس کی کاشت کی خدانے اس میں اتنی برکت دی کہ چند سال کے اندر ہی سینکڑوں سے لاکھوں ہوگئے اورنگ زیب اپنی دی ہوئی دونی کی تعریف سن کربہت خوش ہوا پھرمسکراکرکہنے لگا اگراجازت ہوتو اس دونی کی تعریف سنائو؟ ملاصاحب نے کہا ضروربالضرور اورنگ زیب نے اپنے خادم کو حکم دیا۔
چاندنی چوک کے سیٹھ اتم چندکو اطلاع کی جائے کہ وہ ۱۰۶۹ئ؁ کے بہی کھاتے کے ساتھ پیش ہوسیٹھ اتم ایک معمولی بنیا تھا اور نگ زیب کے سامنے پیش کیا گیا تووہ ڈرکے مارے کانپ رہا تھا اورنگ زیب نے نرمی سے کہا گھبرائو نہیں آگے آجائواور ۱۰۶۹ئ؁ کا کھاتا کھول کرخرچ کی تفصیل بیان کرو سیٹھ اتم چندنے اپنا کھاتا کھولا اورتاریخ وارخرچ کی تفصیل پڑھ کر سنانے لگا اورنگ زیب اورملااحمدجیون خاموشی سے سنتے رہے ایک جگہ پرآکرسیٹھ رک گیا یہاں خرچ کے طورپر ایک دونی درج تھی لیکن اس کے سامنے لینے والے کا نام نہیں لکھا تھا اورنگ زیب نے نرمی سے پوچھا ہاں یہ بتائو یہ دونی کہاں گئی؟ اتم چند نے کھاتا بندکردیا اورایک آہ بھری اورکہنے لگا حضوریہ ایک درد بھری داستان ہے اجازت ہوتوعرض کروں؟ بادشاہ نے کہا ہاں اجازت ہے اتم چند کچھ دیرخاموش رہا پھرکہنے لگا حضور ایک رات کی بات ہے کہ زورکی گھٹاآئی اورموسلادھارمینہ برسنے لگا میرا مکان نیانیا بناتھا وہ ٹپکنے لگا میراسارا سامان اوربہی کھاتے اسی مکان میں تھے میں نے بڑی کوشش کی لیکن مکان اسی طرح ٹپکتا رہا میں نے گھبراکرباہرجھانکا تو ایک آدمی سرکاری لالٹین کے نیچے کھڑا نظرآیا میں نے اسے مزدورخیال کرتے ہوئے آوازدی ارے بھائی مزدوری کروگے؟ وہ بولا ہاں ہاں کیوں نہیں میں نے اسے اندربلالیا اورکام پرلگالیا وہ بھلامانس تین چارگھنٹے تک محنت سے کام کرتا رہا تب جاکر مکان ٹپکنا بندہوا پھر اسنے
اندرکاسامان درست کیا اتنے میں مسجدسے صبح کے اذان کی آوازآئی اس شخص نے کام سے ہاتھ روک کراذان کی آوازسنی اذان ختم ہوئی تو اس نے دعاء مانگی پھرمجھ سے کہنے لگا سیٹھ صاحب آپ کا کام ٹھیک ٹھاک ہوچکا ہے اب مجھے اجازت دیجئے میں نے اسے مزدوری دینے کے لئے جیب میں ہاٹھ ڈالا توصرف ایک دونی نکلی میں نے کہا بھائی کام توتم نے واقعی بہت اچھا کیا ہے لیکن اس وقت میری جیب میں صرف ایک دونی ہے تم یوں کرنا صبح کودوکان پرآجانا مزدوری بھی مل جائے گی انعام بھی۔ اس شخص نے ہاتھ بڑھاکرکہا لائویہی دونی دے دو میرے لئے یہی کافی ہے میں پھرحاضر نہیں ہوسکتا میں نے بہت کہا میری بیوی نے بھی اس کی منتیں کی لیکن وہ بولا دیتے ہو تو یہی دونی دے دو ورنہ میں جاتا ہوں میں نے مجبورہوکر وہی دونی اس کے ہاتھ میں دے دی اوروہ لیکر چلا گیا اس کے بعد میں نے اسے بہت ڈھونڈا لیکن وہ کہیں نہ ملا آج اس بات کو پندرہ برس ہوچکے ہیں میرا دل مجھے ملامت کرتا ہے کہ بھلے مانس روپیہ ہی نہ سہی اشرفیاں توتمہارے پاس موجود تھیں تم اسے ایک اشرفی ہی دے دیتے اسوقت تواسکا کام ہزاروں اشرفیوں کے برابرتھا اتم چند نے یہ داستان سنانے کے بعد ہاتھ جوڑکر بادشاہ کوسلام کیا بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے ایک قیمتی چوغہ پہنایا اورپھراسے عزت کے ساتھ رخصت کیا اتم چند کے جانے کے بعد اورنگ زیب نے مسکراتے ہوئے اپنے استاذ کی طرف دیکھا اورکہاجناب یہ وہی دونی تھی ملاصاحب خوش ہوکربولے میرا پہلے ہی خیال تھا کہ یہ دونی میرے عزیز شاگرد نے خوداپنی محنت سے کمائی ہے جبھی توخدانے اس میں اتنی برکت دی اورنگ زیب نے کہا یہ آپ ہی کی تربیت کا نتیجہ ہے یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے آپ جیسا استاذ ملا۔آپ کایہ شاگرد اپنے ذاتی خرچ کے لئے شاہی خزانے سے کچھ نہیں لیتا جب سے میں نے شاہی تخت پرقدم رکھا ہے رات کو دوگھنٹے کام کاج کرکے اپنی روزی کماتا ہوں ایک گھنٹے قرآن مجید لکھتا ہوں دوسرے گھنٹے میں ٹوپیاں سیتاہوں ہفتے میں دوراتوں کے لئے شہر کی دیکھ بھال کے لئے نکلتا ہوں جس رات اتم چندکے گھر کاکام کیا وہ میرے بھیس بدل کر شہر میں پھرنے کی رات تھی خداکا شکرہے کہ اس طرح میرے ہاتھوں ایک ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوئی یہ سب آپ کی دعائوں کی وجہ سے ہے۔
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
دوراتوں کے لئے شہر کی دیکھ بھال کے لئے نکلتا ہوں جس رات اتم چندکے گھر کاکام کیا وہ میرے بھیس بدل کر شہر میں پھرنے کی رات تھی خداکا شکرہے کہ اس طرح میرے ہاتھوں ایک ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوئی یہ سب آپ کی دعائوں کی وجہ سے ہے۔
 
Top