تو بغاوت کے راستے پر چلنا کیوں پسند کرنے لگا ہے؟

محمد ارمغان

وفقہ اللہ
رکن
‘‘اے نفس! گناہ چھوڑنے کو تیرا جی نہیں چاہتا، کیا تو موت کو بھول گیا؟ جو ہر لذت کو چھڑا دے گی۔ تیرا رَبّ تجھے ہر لمحہ ایک نئی نعمت عطا کر رہا ہے اور تو بغاوت کے راستے پر چلنا کیوں پسند کرنے لگا ہے؟ وہ خدا تجھ سے کتنی محبت کرتا ہے، کیا تجھے شرم نہیں آتی؟ ایک بار تو اُس ذات پاک کی طرف لوٹ کر تو دیکھ، تو اپنی گزشتہ زندگی پر خود ہی شرمندہ ہو جائے گا کہ ‘‘ میں غلط تھا’’۔؎
لذتِ گناہ میں مشغول رہنے والے اے انسان
یاد رکھ لذتِ موت کو بھی نہ بن کبھی انجان
آہ! برداشت نہ ہو سکی کبھی تکلیف موت کی
کہنے میں تو اَدا ہو گیا لفظ، مگر ہے نہیں آسان​
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
لذتِ گناہ میں مشغول رہنے والے اے انسان
یاد رکھ لذتِ موت کو بھی نہ بن کبھی انجان
آہ! برداشت نہ ہو سکی کبھی تکلیف موت کی
کہنے میں تو اَدا ہو گیا لفظ، مگر ہے نہیں آسان
 

شکیل یونس

وفقہ اللہ
رکن
لذتِ گناہ میں مشغول رہنے والے اے انسان
یاد رکھ لذتِ موت کو بھی نہ بن کبھی انجان
آہ! برداشت نہ ہو سکی کبھی تکلیف موت کی
کہنے میں تو اَدا ہو گیا لفظ، مگر ہے نہیں آسان
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
لذتِ گناہ میں مشغول رہنے والے اے انسان
یاد رکھ لذتِ موت کو بھی نہ بن کبھی انجان
آہ! برداشت نہ ہو سکی کبھی تکلیف موت کی
کہنے میں تو اَدا ہو گیا لفظ، مگر ہے نہیں آسان
 
Top