اکثر مائیں اس بات سے خاصی فکر مند دکھائی دیتی ہیں جب ان کا بچہ کچھ بھی نہ کھائے اور دودھ پیتے وقت بھی نخرے دکھائے. اکثر مائیں بچوں کو ہدائت کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ اگر تم کچھ نہیں کھاؤ گئے تو اپنے دوستوں کی نسبت کمزور اور قد میں چھوٹے رہ جاؤں گے لیکن بچوں پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا. وہ کھانے کے دوران برائے نام ہی کھانا کھاتے ہے اور فوراََ کمپیوٹر گیمز میں مصروف ہو جاتے ہیں.
مائیں اس بات کا تو رونا روتی ہیں کہ ان کا بچہ کچھ نہیں کھاتا لیکن وہ بچوں کی ان سرگرمیوں پر نظر رکھنا پسند نہیں کرتیں کہ آخر وہ کون سی مصروفیات ہے جن کی بدولت کھانہ نہ کھانے کو ترجیح دے رہا ہے یہ تو اکثر گھروں میں دیکھنےمیں آیا ہے کہ بچے سکول سے آتے ہی ویڈیوگیمز یا پھر کمپیوٹر گیمز کے اگے جم کر بیٹھ جاتے ہیں کہ انہیں کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا. مائیں بچوں کی ان سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی بجائے ان کے نہ کھانے کارونا روتی رہتی ہیں. لیکن جدید تحقیق نے فکر میں مبتلا ان ماؤں کو بتایا ہے کہ موسم گرما میں پیدا ہونے والے بچے دوسرے موسموں میں جنم لینے والے بچوں کی نسبت درازقد ہوتےہیں. حالیہ تحقیق کے مطابق ایسے بچے موسم سرما کے اخری ایام یا خزاں کے شروع کے دنوں میں دنیا میں آتےہیں. وہ دوسرےبچوں کے قد میں اضافے کا سیب بنتاہے یہ چبے نہ صرف لمبے قد کے مالک ہوتے ہیں بلکہ ان کی ہڈیاں بھی دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتی ہیں.
برسٹل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محققین کی ٹیم کے مطابق دھوپ سے حاصل ہونے والاوٹامن ڈی کیلشیم کے ساتھ مل کر ہڈیوں کو مضبوط بناتاہے جس کی وجہ سے ان بچوں کی ہڈیاں زیادہ مضبوط اور موٹی ہوتی ہیں
دوسری جانب ان کی ہڈیوں کی ساخت پر غور کیا جائے تو یہ زیادہ گھنے خیلوں کی تہوں سے مل کر تشکیل پاتی ہیں. اور ان کی ساخت کا یہی فرق بڑے ہو کر انہیں زیادہ مضبوط انسان بنانے میں اہم کردارادا کرتاہے.
محققین کے مطابق خوراک کی نسبت دھوپ کو وٹامن ڈی مہیا کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ جو بچے موسم گرما کے اختتام پر پیدا ہوتے ہے ان میں وٹامن ڈی کی کافی مقدار جزب ہو چکی ہوتی ہے جس کا نتیجہ بچوں کی ہڈیاں مضبوط اور قدلمبا ہونے کی صورت میں سامنے آتاہے. اس سےقبل 90ءکی دہائی میں بھی ایسی ہی ایک تحقیق کی گئی تھی جس پر مسلسل 18برس تک کام جاری رکھنے کے بعد ماہرین نے دعوی کیا کہ دھوپ سے حاصل ہونے والے وٹامن نہ صرف زمین پر بسنے والے انسانوں بلکہ جانوروں کے بچوں پر بھی متبت اثرات مرتب کرتےہیں.
اس سے قبل 1991اور 1992 میں بھی ایسی ہی ایک تحقیق کی گئ تھی جس میں14000 خواتین اور بچوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اور اس تحقیق سے بھی ایسے ہی نتائج موصول ہوئے تھے.