سیدنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه، حدیث کی روشنی میں

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
سیدنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه، حدیث کی روشنی میں
محمد مجاہد، متعلم جامعہ فاروقیہ کراچی

الله تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم الصلوات والسلام کے بعد جس جماعت کو مقدس، محترم و ذی شان بنایا ہے ، وہ جماعت ان عظیم ہستیوں کی جماعت ہے جنہو ں نے ایمان کی حالت میں امام الانبیاء محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی ہے اور ایمان پر ہی خاتمہ ہوا ہے۔ اس جماعت کو حضراتِ صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین کے مقدس لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

حضرات صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کی افضیلت کی جانب حدیث مبارکہ میں واضح اشارہ ملتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں:”لاتسبوا أصحابي، فلو أن أحدکم أنفق ذھباً ما بلغ مد أحدھم ولا نصیفہ․“( الجامع للبخاری، 8/5، ح:3673) کہ میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، اگر تم میں سے کوئی ایک احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تب بھی میرے صحابہ کے مد کے اور نہ ہی نصف کے برابر پہنچ سکتا ہے۔

ویسے تو ہر صحابی کی شان نرالی ہے۔ ہر صحابی ایک چمکتا ہوا ستار ہ ہے۔ لیکن ان میں بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے، جیسا کہ صاحب: ”الجوھر الھریریة من کلام خیر البریة“ نے حضرت عمر رضی الله عنہ کے حوالے سے آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل کیا ہے:” بعضھا۔ أی من الصحابة۔ أقوی من بعض․“ (الجوھر الھریریة لأبي یوسف محمد زید30/4)

قرآن کریم میں بے شمار مقامات پرشان صحابہ کو بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:﴿وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُم بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّہُ عَنْہُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم﴾․(سورہ التوبہ،آیت:100)

یعنی مہاجرین او رانصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں اور الله نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں،جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، یہی بڑی کام یابی ہے۔

اس کے علاوہ بے شمار آیات ہیں، جن میں شانِ صحابہ  کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن ان تمام میں سب سے اعلیٰ سیدنا ابوبکر صدیق  کی ذات گرامی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق  کی فضیلت کو قرآن وحدیث میں بے شمار مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مشتے نمونے از خروارے کے طور پر ذخیرہٴ احادیث میں سے فضائل صدیق اکبر کے چند نمونے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

حضرت ابوبکر پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے خلیل
سیدنا ابوبکر رضی الله عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ امام الانبیاء محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے آپ رضی الله عنہ کو اپنا خلیل بنانے کی آرزو کی ہے ، جیسا کہ امام ابن ماجہ  (متوفی273ھ) اپنی کتاب”سنن ابن ماجہ“ میں روایت کرتے ہیں: ”قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم:”ولو کنت متخذاً خلیلاً، لاتخذت أبا بکر خلیلاً․“( سنن ابن ماجہ،70/1،ح:93)

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا۔

امام ابوالقاسم ہبة الله بن الحسن (متوفی418) اس بات کو مزید وضاحت سے نقل کرتے ہیں، جیسا کہ آپ اپنی کتاب”شرح أصول اعتقاد أھل السنة والجماعة“ میں روایت کرتے ہیں:

”عن ابن عباس رضی الله عنہ، خرج رسول الله صلی الله علیہ وسلم عاصباً رأسہ بخرقة في مرضہ الذي مات فیہ… قال:”لو کنت متخذاً من الناس خلیلاً، لاتخذت أبا بکر․“(شرح أصول اعتقادأھل السنة347/7،ح:2408)

حضرت ابن عباس رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ: آپ صلی الله علیہ وسلم باہر نکلے اس مرض میں جس میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہوا اس حال میں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں لوگوں میں سے کسی کو دوست بناتا ، تو میں ابوبکر کو دوست بناتا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق  کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم کو کتنا تعلق تھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ان کواپنا دوست بنانے کی بات کر رہے ہیں۔

خیر الخلائق بعد الأنبیاء
سیدنا ابوبکر صدیق  روئے زمین پر انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے بعد سب سے افضل انسان ہیں، اسی بات کی جانب امام الأنبیاء محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے کلام میں اشارہ کیا ہے، جس کو امام ابوبکر بن ابی عاصم الشیبانی (متوفی287ھ) اپنی کتاب ”کتاب السنة“ میں روایت کرتے ہیں:”عن أبي الدرداء قال: رآني رسول الله ا، وأنا أمشي بین یدی أبي بکر قال: ”لِمَ تمشي أمام من ھو خیر منک؟ إن أبابکر خیر من طلعت علیہ الشمس وغربت․“ (کتاب السنة575/2، ح:1224)

حضرت ابودرداء  فرماتے ہیں کہ مجھ کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا اس حال میں کہ میں حضرت ابوبکر صدیق  کے آگے چل رہا تھا، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:ان کے آگے کیوں چلرہے ہو جو تم سے بہتر ہیں ؟ ( اس کے بعد فرمایا) جتنے لوگوں پر سورج طلوع ہوتا ہے ان تمام میں حضرت ابوبکر  سب سے افضل ہیں۔

اسی طرح امام احمد بن حنبل (متوفی241ھ) اپنی کتاب”فضائل الصحابة“ میں اس بات کو حضرت علی کرم الله وجہہ کے حوالے سے مزید واشگاف الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں:”خطبنا علي علی ھذا المنبر، فحمداللہ وذکرہ ماشاء الله أن یذکرہ… فقال: ”إن خیر الناس بعد رسول الله ا أبوبکر․“ (فضائل الصحابة:355/1،ح:484)

حضرت علی المرتضی کرم الله وجہہ ایک دن خطبہ کے لیے منبر پر تشریف لائے اور الله تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ بے شک لوگوں میں سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق  کی ذاتِ گرامی ہے۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیدنا ابوبکر  تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں، اس بات کے نہ صرف اور صحابہ کرام  معترف تھے، بلکہ سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله وجہہ بھی سیدنا ابوبکر کو افضل الخلائق بعد الانبیاء تصور کرتے تھے۔ جو لوگ حضرت علی المرتضیٰ کرم الله وجہہ کے ساتھ محبت کے مدعی ہیں، ان کو اس فرمان پر غور کرنا چاہیے۔

سیدنا ابوبکر جنت میں پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے رفیق
ہرصحابی جنتی ہے۔ کیوں کہ الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں تمام صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کے لیے اپنی رضا او رخوش نودی کا اعلان کیا ہے۔ لیکن بعض ایسے بھی خوش نصیب ہیں، جنہیں صاحب نبوت نے اپنی زبان مبارک سے نام لے کر جنتی ہونے کی بشارت دی۔ جیسے عشرة مبشرہ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین ہیں، لیکن سیدنا صدیق اکبر ان خوش نصیب افراد میں سے ہیں جن کو نہ صرف آپ صلی الله علیہ وسلم نیجنتی ہونے کی بشارت دی ہے، اس کے ساتھ ساتھ جنت میں اپنا رفیق ہونے کی بھی الله تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں۔ جیسا کہ امام ابوبکر محمد بن حسین الآجری بغدادی اپنی کتاب ”الشریعة“ میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا اسی طرح کا فرمان نقل کرتے ہیں۔ چناں چہ آپ فرماتے ہیں:

عن أنس بن مالک رضی الله عنہ، قال:”رفع رسول الله ا یدہ، وقال: ”اللھم اجعل أبابکر معي في درجتي یوم القیامة․“ فأوحیٰ إلیہ أني قد استجبت لک․“ (الشریعة1787/4،ح:1275)

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) اپنے ہاتھ کو (الله کے دربار میں) اٹھایا اور فرمایا: اے الله! ابوبکر کو قیامت کے دن میرے ساتھ درجہ عطا فرما تو الله تعالیٰ کی طرف سے وحی کی گئی کہ ہم نے آپ کی دعا کو قبول کر لیا ہے۔

اس ارشاد مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر جنت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے رفیق ہوں گے، کیوں کہ اس کی نہ صرف آپ صلی الله علیہ وسلم نے دعا مانگی ہے، بلکہ الله تعالیٰ نے اس دعا کو قبول بھی کیا ہے۔

یہ نمونے کے طور پر ذخیرہ احادیث میں سے چند احادیث آپ حضرات کے سامنے پیش کی ہیں، جو حضرت ابوبکر کے فضائل او رمنقبت پر دال ہیں۔ الله تعالیٰ ہم کو حضرت ابوبکر صدیق  کے ساتھ محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !
 
Top