بنو عباس کے عہد میں ادبی سرگرمیاں

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
بنو عباس کے عہد میں ادبی سرگرمیاں:

ادب سے مراد زبان کا وہ علم ہے جو نحو و بیان، عروض، انشاء اور معانی پر مشتعمل ہو۔ عہد عباسیہ میں ادب کی مختلف اصناف، نحو و بیان اور شعرو ادب کے میدان علم میں کیا گیا ہے۔

نحو و بیان:

نحو و بیان کا علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایجاد کردہ ہے۔ آپ نے اپنے ایک شاگرد ابوالاسود الدولی کوعلم نحو کے کچھ اصول لکھ کر دیئے اور ان کی وضاحت او تفصیل بھی بتائی۔ اس طرح عربی میں علم نحو کی بنیاد پڑی اور بعد ازاں یہ با قاعدہ علم کی صورت اختیار کرگیا۔ عہد بنوعباس میں بہت سے ماہرین نحو پیدا ہوئے جنہوں نے بہت شہرت حاصل کی۔ جن ماہرین نحو نے اس موضوع پر کتابیں تصنیف کیں ان میں عیسی بن عمر ثقفی ہیں۔ انہوں نے علم نحو پر "الجامع'' اور ''المکمل'' لکھیں۔ خلیل بن احمد نے ''کتاب العین''، ''کتاب النغم''، ''کتاب العروض''، ''کتاب النقط والشكل'' اور ''کتاب الايقاع'' لکھیں۔

سیبویہ جن کا تعلق دوسری صدی ہجری سے ہے ایک مشہور امام نحو اورعلم عروض کے بانی ہیں۔ انہوں نے کتاب ''المصادر'' لکھی۔ جونہایت بنیادی اور اہم کتاب ہے۔ سیبویہ کے علاوہ عباسی عہد میں ماہرین نحو کے بہت سے نام ہیں۔ جن میں امام ابی زید احمعی، زجاج، ابن السراج، الکسائی، السیرجي ، ابن قیتبہ اور ابن کیسان بہت مشہور ہیں۔

شعر و ادب:

عباسی دور میں نظم و نثر دونوں میدان میں بہت زیادہ ترقی ہوئی اور عربی و فارسی دونوں زبانوں میں شعراء اور ادباء نے عظیم شاہکار تخلیق کئے۔ عربی شاعری میں ابونواس، سیف بن ابراہیم، مروان بن یوسف، متنبی اور ابو العلا معری قابل ذکر ہیں۔ عربی نثر نویسوں میں جاحظ، ثعلبی ابوالفرج، بدیع الزماں اور حریری نے نئے نئے اسلوب اختیار کئے جوعربی فصاحت و بلاغت میں اضافہ کا باعث بنے۔ عربی زبان میں ترجمہ شدہ سب سے اولین ادبی تخلیق کلیله و دمنه اسی دور سے متعلق ہے۔

عربی ادبیات کے علاوہ فارسی ادبیات کو جس قدر فروغ عباسی دور میں حاصل ہوا، کسی دور میں حاصل نہ ہو سکا۔ رودکی، فردوسی، ثنائی، ناصرخسرو، عرفی، نظامی گنجوی وغیرہ اس دور کے ممتاز ترین فارسی شعراء میں شامل کئے جاتے ہیں۔

اموی دور کی شاعری میں ہمیں سیاسی و سماجی حالات، مذہبی اختلافات وغیره کے موضوعات بکثرت ملتے ہیں۔ عہد بنوعباس میں خلیفہ مامون الرشید کے دور میں مدحیہ اور عشقیہ شاعری کو بہت فروغ نصیب ہوا جس سے عباسی دور کی شاعری میں ایک نیا اسلوب پیدا ہوا۔ اس دور میں انداز و اسلوب میں غیر معمولی گہرائی پیدا ہوئی، جوعہد بنوعباس کی معاشرت، اور طرز زندگی کا نتیجہ تھی۔ عربوں کی دیہاتی زندگی، اس کی سختی اور صحرائیت کی سنگلاخی کی جگہ اب تہذیب، خوشحالی اور عیش وعشرت لے چکی تھی اور نئے طرز معاشرت، ماحول، تہذیب اور خوبصورت مناظر نے شعرو سخن میں ایک نئی لہر دوڑا دی تھی۔

ان تبدیلیوں کی وجہ سے شاعری میں فنی اعتبار سے بھی وسعت اور ترقی ہوئی اور شاعروں نے غیر مانوس الفاظ کا استعمال ترک کر دیا۔ قصیدہ نگاری میں یہ تبدیلی ہوئی کہ کھنڈروں کے ذکر سے قصیدہ کی ابتداء کے بجائے محلات اور شراب کے اوصاف بیان ہونے لگے۔ چنانچہ دور عباسی کی شاعری میں عیاشی، سرمستی اور بو الہوسی بھی صاف چھلکتی ہے۔ خاص طور پر ابونواس، رابعہ بن حباب، حسین الضحاک، اور مسلم بن ولید کی شاعری میں شراب، غلمان، سرمستی اور عیاشی کا ذکر بہت نمایاں ہے۔

عباسی عہد میں سیاسی مقاصد کے لئے بھی شاعری کو استعمال کیا گیا۔ اس دور میں کچھ شعراء کی ہمددریاں علویوں کے ساتھ تھیں لہذا وہ عقیدت میں ان کی مدح و توصیف اور عباسی خلفاء کی ہجو لکھتے تھے۔ عباسی عہد کے ابتدائی دور میں ہی اندلس میں ایک اموی شہزادے عبدالرحمان نے اموی حکومت قائم کر لی تھی۔ لہذا اندلسی شعراء کے ذریعہ عباسیوں پر سیاسی حملے کئے جاتے جس کے جواب میں خلفائے بنو عباس نے بھی شعراء سے عباسی خلافت کے استحقاق اور فوقیت کے لئے مدد لی۔ ہارون الرشید کے دربار میں صرف یہی شعراء اذن شعر گوئی حاصل کر سکتے تھے۔ اس دور میں شعراء مقبول عام ہوئے اور مانے ہوئے بہترین شعراء میں شمار ہوئے۔ ہارون الرشید کے عہد میں شاعروں کی ایک جماعت بغداد میں مقیم رہتی تھی جن میں مسلم بن ولید، مروان بن ابی حفصہ ،ابوالعتاہیہ اور ابونواس شامل تھے۔ ہارون جب بھی کوئی مجلس منعقد کرتا، یہ شعراء اس میں شریک ہوتے اس کے علاوہ خاص خاص تقریبات پر شعراء کا ایک گروہ بغداد آتا تھا جن میں کلثوم بن عمر، منصور، قمری اشجع سلمی وغیره شامل تھے۔

ہارون کی طرح مامون الرشید نے بھی شعراء کی بڑی قدر کی۔ مامون کے عہد کے مشہور شعراء میں ابراہیم صولی، اصمعی اورصریح الغوالی ہیں۔ مامون کے بعد دوسرے عباسی خلفاء نے بھی شاعروں کو بہت عزت دی۔ اکثر خلفا مثلا ہارون، مامون، اور واثق بالله خود شاعری بھی کرتے تھے۔ غرض خلفاء عباسی کی دلچسپی اور قدر دانی اور قوم کے نئے رجحانات نے اس عہد کی شاعری پر بہت اثر ڈالا۔
 
Top