فقہ حنفی کی تدوین میں امام ابوحنیفہ کے چالیس میں سے 10 تلامذہ سابقین اولین میں سےتھے

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
فقہ حنفی کی تدوین میں امام صاحب کے چالیس تلامذہ شریک تھے

(۱) امام زفر م ۱۵۸ھ (۲) امام مالک بن مغول م ۱۵۹ھ (۳) امام داؤد طائی م ۱۶۰ھ (۴) امام مندل بن علی م ۱۶۸ھ (۵) امام نضر بن عبدالکریم م ۱۶۹ھ (۶) امام عمرو بن میمون م ۱۷۱ھ (۷) امام حبان بن علی م ۱۷۳ھ (۸) امام ابوعصمہ م ۱۷۳ھ (۹) امام زُہیر بن معاویہ م ۱۷۳ (۱۰) امام قاسم بن معن م ۱۷۵ھ (۱۱) امام حماد بن الامام الاعظم م ۱۷۶ھ (۱۲) امام ہیاج بن بسطام م ۱۷۷ھ (۱۳) امام شریک بن عبداللہ م ۱۷۸ (۱۴) عافیہ بن یزید م ۱۸۰ھ (۱۵) امام عبداللہ بن مبارک م ۱۸۱ھ (۱۶) امام ابویوسف م ۱۸۲ھ (۱۷) امام محمد بن نوح م ۱۸۲ھ (۱۸) مام ہشیم بن بشیر السلمی م ۱۸۳ھ (۱۹) ابوسعید یحییٰ بن زکریا م ۱۸۴ھ (۲۰) امام فضیل بن عیاض م ۱۸۷ھ (۲۱) امام اسد بن عمر م ۱۸۸ھ (۲۲) امام محمد بن الحسن م ۱۸۹ھ (۲۳) امام یوسف بن خالد م ۱۸۹ھ (۲۴) امام علی بن مسہر م ۱۸۹ھ (۲۵) امام عبداللہ بن ادریس م ۱۹۲ھ (۲۶) امام فضل بن موسیٰ م ۱۹۲ھ (۲۷) امام علی بن طبیان م ۱۹۲ھ (۲۸) امام حفص بن غیاث م ۱۹۴ھ (۲۹) وکیع بن جراح م ۱۹۷ھ (۳۰) امام ہشام بن یوسف م ۱۹۷ھ (۳۱) امام یحییٰ بن سعید القطان م ۱۹۸ھ (۳۲) امام شعیب بن اسحاق م ۱۹۸ھ (۳۳) امام حفص بن عبدالرحمن م ۱۹۹ھ (۳۴) ابومطیع بلخی م ۱۹۹ھ (۳۵) امام خالد بن سلیمان م ۱۹۹ھ (۳۶) امام عبدالحمید م ۲۰۳ھ (۳۷) امام حسن بن زیاد م ۲۰۴ھ (۳۸) امام ابوعاصم النبیل م ۲۱۲ھ (۳۹) امام مکی بن ابراہیم م ۲۱۵ھ (۴۰) امام حماد بن دلیل م ۲۱۵ھ (الجواہر المضیئہ:۱/۱۴، بحوالہ امام اعظم ابوحنیفہ،ص:۱۷۸)

لیکن ان میں بھی دس تلامذہ سابقین اولین میں سے تھے، جیساکہ طحاوی نے اسد بن فرات سے نقل کیا ہے:

”کان أصحاب أبی حنیفة الذین دونوا الکتب أربیعن رجلاً فکان فی العشرة المتقدمین أبویوسف، زفر بن ھذیل وداوٴد الطائی وأسد بن عمر ویوسف بن خالد السمتی ویحیٰ بن زکریا بن ابی زائدہ (تقدمہ نصب الرایہ ص۳۸)

امام صاحب کے تلامذہ جنھوں نے فقہ حنفی کو مدون کیا چالیس ہیں ان میں دس سابقین میں: ابویوسف، زفر بن ہذیل، داؤد طائی، اسد بن عمر، یوسف بن خالد سمتی، یحییٰ بن زکریا بن ابوزائدہ ہیں۔

یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چالیس افراد کی دستوری کمیٹی کے علاوہ دس یا بارہ افراد پر مشتمل ایک دوسری خصوصی کمیٹی تھی، جو فیصلے کو آخری شکل دیتی تھی اور حتمی نتائج پر پہنچتی تھی، جیسا ضمیری نے امام زفر کے متعلق لکھا ہے:

”ثم انتقل الی أبی حنیفة فکان أحد العشرة الأکابر الذین دونوا الکتب مع أبی حنیفة“

پھر امام ابوحنیفہ کے پاس آئے اورامام صاحب کے ان دس لوگوں کی خصوصی کمیٹی کے رکن بنے جنھوں نے فقہ حنفی کو مدون کیا۔ (اخبار ابی حنیفہ ص۱۰۷)

اب ذیل میں انھیں سابقین فقہ حنفی میں سے بعض کے مختصر حالات قلم بند کیے جاتے ہیں:

امام ابویوسف:

آپ کااصل نام یعقوب بن ابراہیم ہے، کوفہ میں پیدا ہوئے اور ۱۸۲ھ میں وفات پائی، معاشی اعتبار سے بہت کمزور تھے، لیکن علم کا شغف بچپن ہی میں پیدا ہوگیا تھا، والد کی خواہش تھی کہ آپ کوئی کام کریں اور گھر کا انتظام کریں، لیکن امام صاحب کی صحبت فیض رسا نے مالی اعتبار سے بھی بے نیاز کردیا اور علمی دنیا میں قاضی القضاة کے مقام تک پہنچادیا، خلیفہ مہدی نے ۱۶۶ھ میں قاضی کے عہدہ پر مامور کیا، مہدی کے بعداس کے جانشیں ہادی نے بھی اسی عہدہ پر بحال رکھا، پھر خلیفہ ہارون رشید نے آپ کے لیاقت واہلیت سے واقف ہوکر تمام بلادِ اسلامیہ کا قاضی القضاة بنادیا، یہ وہ عہدہ تھا جو تاریخ اسلام میں کسی کو نصیب نہیں ہوا تھا، آپ کے عہدئہ قضاء پر فائز ہونے سے فقہ حنفی کو بڑا عروج حاصل ہوا، آپ فقہاء رائے میں اولین فقیہہ ہیں جنھوں نے اقوال کواحادیث نبویہ سے موٴید کیا، آپ اصحاب ابوحنیفہ میں سب سے بڑے حافظ حدیث کہلاتے تھے، امام ابویوسف نے بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں انھوں نے اپنے اور اپنے استاذ کے افکار ونظریات کو مدون کیا ہے، ابن الندیم نے ان تمام کتابوں کی فہرست دی ہے، ان میں کتاب الخراج، اختلاف ابن ابی لیلیٰ، الرد علی سیر الاوزاعی زیادہ مشہور ہیں۔

امام محمد:

آپ کا نام محمد بن حسن اور کنیت ابوعبداللہ ہے، آپ کی ولادت ۱۳۲ھ اور وفات ۱۸۹ھ میں ہوئی، امام صاحب کی وفات کے وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی، اس لیے زیادہ مدت تک امام صاحب سے استفادہ نہ کرسکے، اس لیے ان کا شمار فقہ حنفی کے اولین سابقین میں نہیں ہوتا، لیکن انھوں نے امام صاحب کے بعدامام ابویوسف سے فقہ حنفی کی تکمیل کرکے تدوین فقہ کی طرف خاص توجہ دی،اور حقیقت یہ ہے کہ فقہ حنفی کو متاخرین تک نقل کرنے کا سہرا امام محمد کے سر جاتا ہے اورآج امام محمد کی کتابیں ہی احناف کے لیے آنکھوں کا سرمہ ہیں،اور کوئی حنفی امام محمد کی کتابوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتا، یہی وجہ ہے کہ امام محمد کو فقہ حنفی کا دوسرا بازو شمار کیا جاتا ہے، امام محمد کی کتابیں فقہ حنفی کا اولین مرجع شمار کی جاتی ہیں، امام محمد کی کتابیں استناد کے اعتبار سے دو درجوں میں منقسم ہیں:

قسم اول: کتب ظاہر الروایت ہیں جو مندرجہ ذیل کتب ہیں: (۱) جامع صغیر (۲) جامع کبیر (۳) سیر صغیر (۴) سیر کبیر (۵) مبسوط (۶) زیادات، ان کو ”اصول“ بھی کہاجاتا ہے، فقہ حنفی کا زیادہ تر اعتماد انہی کتابوں پرہے۔

قسم ثانی: اس میں وہ کتابیں ہیں جو آپ کی طرف منسوب ہونے میں قسم اوّل کے برابر نہیں ہیں ان میں یہ کتابیں شامل ہیں: (۱) کیسانیات (۲) ہارونیات (۳) جرجانیات (۴) رقیات (۵) زیادات، مندرجہ بالا کتابوں کو غیر ظاہر الروایت سے تعبیر کیاجاتا ہے۔

امام زفر:

امام صاحب کے دونوں ارشد تلامذہ امام ابویوسف اورامام محمد سے صحبت کے اعتبار سے مقدم تھے، فقہ حنفی میں ان کا درجہ امام ابویوسف کے ہم پلہ اور امام محمد سے زیادہ شمار کیاجاتا ہے، امامِ زفر کے مرتبہ کا اندازہ اس واقعہ سے لگایاجاسکتا ہے جس کو ضمیری نے امام صاحب کے نبیرہ اسمٰعیل بن حماد کے حوالے سے نقل کیا ہے ”کہ ایکدن امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ میرے ۳۱ شاگرد ہیں ان میں ۲۸ قاضی بن سکتے ہیں اور چھ مفتی بن سکتے ہیں اور دو یعنی ابویوسف اور زفر دونوں گروہ کے استاذ اور مربی بن سکتے ہیں۔ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ،ص۱۵۲)

اس واقعہ میں امام صاحب نے امامِ زفر کو اپنے اراکین شوریٰ کا استاذ قرار دیا ہے، امامِ زفر قیاس واجتہاد میں اس درجہ ماہر تھے کہ قیاس ہی ان کی شان وپہچان بن گئی، تاریخ بغداد میں چاروں بزرگوں کا تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

ایک شخص امام مزنی کی خدمت میں حاضر ہوا اور اہل عراق کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے امام مزنی سے کہا کہ ابوحنیفہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ مزنی نے کہا اہل عراق کے سردار ہیں، اس نے پھر پوچھا: ابویوسف کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ مزنی بولے وہ سب سے زیادہ حدیث کا اتباع کرنے والے ہیں، اسی شخص نے بھر کہا امام محمد کے بارے میں کیافرماتے ہیں مزنی فرمانے لگے وہ تفریعات میں سب سے فائق ہیں، وہ بولا اچھا تو زفر کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ امام مزنی نے کہا وہ قیاس میں سب سے ماہر ہیں“ (حیاتِ امامِ ابوحنیفہ:۳۰۳)

امام ابوحنیفہ کے بعد امامِ زفر آپ کے حلقہ درس کی جانشیں ہوئے، ان کے بعد مسند تدریس امام ابویوسف کے حصہ میں آئی، بصرہ کا عہدہ قضا بھی ان کو ملا، لیکن فقہ حنفی میں ان کی کوئی تصنیف نہیں، اس لیے عموماً امام محمد کے بعد ان کا تذکرہ کیاجاتاہے۔

قاسم بن معن:

عبداللہ بن مسعود کے خاندان سے ہیں، فقہ پر کافی عبور حاصل تھا اور عربیت وادب میں اپنی نظیر نہ رکھتے تھے، امام محمد نے اپنی کتابوں میں ان کے نام اور کنیت دونوں سے روایت کیا ہے، قاضی شریک بن عبداللہ کے بعد کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ،ص۱۵۰)

علم حدیث میں بھی اونچا مقام حاصل تھا، صحاحِ ستہ کے مصنّفین نے ان سے روایت کی ہیں۔ امامِ ابوحنیفہ کو ان سے خاص محبت تھی، یہ بھی منجملہ ان لوگوں کے ہیں جن کی نسبت امام صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ”تم لوگ میرے دل کی تسلی اورمیرے غم کو مٹانے والے ہو“ ان کو بھی امام صاحب کے ساتھ نہایت خصوص تھا، ایک شخص نے پوچھا کہ آپ فقہ وعربیت دونوں کے امام ہیں ان دونوں علموں میں وسیع کون علم ہے؟ فرمایا کہ واللہ ابوحنیفہ کی ایک تحریر کل فن عربیت پر بھاری ہے، ۱۷۵ھ میں وفات پائی (سیرة النعمان،ص:۲۳۰)

عافیہ بن یزید:

فن حدیث میں بلند مقام پر فائز تھے، امام نسائی اور ابوداؤد وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے، بغداد کے قاضی تھے، خطیب نے لکھاہے کہ عافیہ عالم وزاہد تھے، ایک مدت تک قاضی رہے پھر قضاء سے مستعفی ہوگئے۔ (سیر اعلام النبلاء ۷/۳۹۸) امام صاحب کے مخصوص تلامذہ میں سے تھے اور آپ کے شورائی کمیٹی کے اہم رکن تھے؛ امام صاحب ان کا بہت خیال کرتے؛ بلکہ ان کی رائے کے بغیر کچھ بھی دستوری کتاب میں تحریر نہ کیاجاتا تھا، ضمیری نے اسحاق بن ابراہیم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ

”ابوحنیفہ کے تلامذہ کسی مسئلہ میں غور وخوض کرتے اور اس وقت عافیہ نہ ہوتے توامام صاحب فرماتے اس کو ابھی مت لکھو اورجب عافیہ آتے اور سب کے رائے سے اتفاق کرتے توامام صاحب فرماتے اس کو لکھو اور اگر وہ اتفاق نہ کرتے توامام صاحب فرماتے اس کو مت لکھو۔“ (اخبار ابوحنیفہ واصحابہ،ص۱۴۹)

یحییٰ بن زکریا بن ابوزائدہ:

علامہ شبلی نعمانی نے سیرة النعمان میں امام طحاوی کے حوالے سے نقل کیاہے کہ ”امام صاحب کی شوریٰ میں لکھنے کی خدمت یحییٰ سے متعلق تھی اور وہ تیس برس تک اس خدمت کو انجام دیتے رہے، آگے علامہ شبلی لکھتے ہیں کہ یہ مدت صحیح نہیں؛ لیکن کچھ شبہ نہیں کہ وہ بہت دنوں تک امام صاحب کے ساتھ تدوین فقہ کا کام کرتے رہے اور خاص کر تصنیف وتحریر کی خدمت انہی سے متعلق رہی۔“ (سیرة النعمان،ص۲۱۶)

ضمیری نے صالح بن سہیل کا قول نقل کیا ہے کہ:

”یحییٰ بن زکریا اپنے زمانے کے سب سے بڑے حافظ حدیث اور فقیہ تھے اور امام ابوحنیفہ اور ابن ابی لیلیٰ کی مجلسوں میں کثرت سے شریک ہوتے تھے۔“ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ،ص:۱۵۰)

یہ امام کے ارشد تلامذہ میں تھے اورایک مدت تک آپ کے ساتھ رہے تھے، یہاں تک کہ علامہ ذہبی نے تذکرة الحفاظ میں ان کو ”صاحب ابی حنیفہ“ کا لقب دیا ہے، تہذیب التہذیب میں ابن عیینہ کا قول ہے:

”ما قدم علینا مثل ابن المبارک ویحیٰ بن ابی زائدة․

ہمارے پاس ابن مبارک اوریحییٰ بن ابی زائدہ جیسے اہل علم نہیں آ ئے۔“ (تہذیب التہذیب ۷/۳۷)

ابن ابی حاتم سے منقول ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے یحیٰ بن ابوزائدہ نے کتاب لکھی اور عجلی کہتے ہیں کہ یحییٰ مدائن کے قاضی تھے اور کوفہ کے حفاظِ محدثین میں اُن کا شمار ہوتا تھا، وکیع نے اپنی کتابوں کو یحییٰ بن ابی زائدہ کی کتاب کی ترتیب پر مرتب کیا؛ ۱۸۲ھ یا ۱۸۳ھ میں مدائن میں ان کا انتقال ہوا۔ (تہذیب التہذیب ۷/۳۸)

یوسف بن خالد سمتی:

آپ امام صاحب کی شوریٰ کے رکن تھے اور طویل مدت تک امام صاحب کی صحبت میں رہ کر آپ کے خرمن فیض سے خوشہ چینی کرتے رہے، یہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے بصرہ میں امام صاحب کی فقہ کو رائج کیا، ہارون رشید نے قاضی القضاة کا عہدہ تفویض کیا تھا، اخیر عمر میں زہد وتقشف کی زندگی بسر کی، قیاس میں بہت ماہر تھے؛ لیکن علم حدیث میں کوئی نمایاں مقام نہ تھا۔ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ، ص۱۵۰)

داؤد طائی:

امام ابوحنیفہ کے مشہور شاگرد ہیں اور تدوین فقہ میں امام صاحب کے شریک اورمجلس کے معزز ممبر تھے، علامہ شمس الدین ذہبی نے ”سیر اعلام النبلاء“ ۷/۴۲۲ میں ”الامام الفقیہ القدوة الزاہد“ سے ان کو یاد کیاہے، فقہ واجتہاد کے امام تھے، امام محمد نے بھی ان سے استفادہ کیاہے، خاموش مزاج اور بہت کم گو تھے، ”امام محمد کہتے ہیں: میں داؤد سے اکثر مسئلے پوچھنے جاتا اگر کوئی ضروری اور علمی مسئلہ ہوتا تو بتادیتے ورنہ کہتے بھائی مجھے اور ضروری کام ہیں۔“ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ،ص۱۱۲)

اخیر عمر میں زہد وقناعت اور دنیا سے بے رغبتی کو ترجیح دی، علامہ ضمیری ان کے زہد وتقشف کے واقعات ذکر کرتے ہوئے عمرو بن ذرکا قول نقل کرتے ہیں: ”اگر داؤد الطائی صحابہ میں ہوتے تو ان میں نمایاں ہوتے“ محارب بن دثار کہتے ہیں کہ ”اگر داؤد الطائی پچھلی امتوں میں ہوتے تو اللہ تعالیٰ قرآن میں ان کا قصہ بیان کرتا“ عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں: ”جب داؤد الطائی قرآن پڑھتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جواب سن رہے ہیں“ محمد بن سوید الطائی کہتے ہیں کہ ان کی بزرگی اور فضل وکمال کا یہ عالم تھا کہ جب انھوں نے امامِ ابوحنیفہ کے حلقہٴ درس کو ترک کیا تو خود امام صاحب اکثر ان کی زیارت کے لیے آتے تھے۔ ۱۶۲ھ میں انتقال ہوا۔ (اخبارابی حنیفہ واصحابہ،ص:۱۱۳ و ۱۱۶)
 
Top