قادیانیت کے نقشِ قدم پر چلتی مدخلیت

ابو داؤد

طالب علم
رکن
قادیانیت کے نقشِ قدم پر چلتی مدخلیت


الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول اللہ وبعد!

واضح رہے کہ زیر نظر مضمون سلفیوں میں گھس کر عام سلفی مسلمان کو دھوکہ دینے والے اور اپنی ارجاء، سعودی بھکتی، جہاد دشمنی، طاغوت پرستی اور زندیقیت پھیلانے والے مدخلیوں پر لکھا گیا ہے جو خود کو کتاب وسنت پر عامل اور اسی کے داعی سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں منافقت اور مفاد پرستی کی گرز سے کتاب وسنت کے فقط وہ عقائد واحکامات لیتے ہیں جو ان کی جان ومال کو خطرات سے یا حکام کی ناراضگی سے دوچار نہیں کرتے جبکہ کتاب وسنت میں پیش کردہ وہ عقائد واحکام جو ان کی جان ومال کے لئے خطرے یا ان کے حکام کی ناراضگی کا باعث بن سکتے ہیں مثلاً

عقیدہ الولاء والبراء ، طاغوت کے ساتھ کفر کرنے کا عقیدہ، ہجرت وجہاد کا عقیدہ وعمل، حاکمیت باری تعالیٰ کا عقیدہ، تحکیم القوانین الوضعیة کا کفریہ عقیدہ۔۔۔۔

مدخلی کتاب وسنت کے اس طرح کے عقائد واعمال سے یا تو مکمل طور پر اجتناب کرتے ہیں یا ان کی مختلف تاویلات کرکے انہیں اپنے حق میں کرلیتے ہیں یا منبرومحراب پر انہیں بیان کرنا چھوڑدیتے ہیں۔

ان مدخلیوں نے یہودیوں والا رویہ اختیار کیا ہے جس رویئے پر اللہ تعالیٰ نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا :

أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ
کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟
[سورۃ البقرۃ آیت ۸۵]

اس طرح کے مدخلی زنادقہ قطعاً سلفی نہیں نہ ہی سلفیت سے مدخلیوں کا کوئی واسطہ ہے اگرچہ وہ خود کو سلفی یا سلفیت کے پیروکار کہیں بلکہ یہ درحقیقت سلفیت اور خالص سلفیوں کی صفوں میں گھسی ہوئی کالی بھیڑیں ہیں جن کا کام اصل سلفیت کو مسخ اور بدنام کردینا ہے اور یہ روش فقط سعودی، برطانیہ اور ہندوستان میں پنَپ رہے مدخلیوں کی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس طرح کے مدخلی بکثرت رونما ہو رہے ہیں جن میں زیر نظر مضمون میں بیان کردہ قادیانیت نما مدخلیت کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔

جبکہ اصل سلفی مذکورہ عقائد واعمال میں شرعی نقطہ نگاہ کو نہ صرف مکمل طور پر اختیار کئے ہوئے ہیں بلکہ ان پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ان کی جانب امت مسلمہ کو دعوت بھی دیتے ہیں چنانچہ معزز قاری سے میری گزارش ہے کہ زیر نظر مضمون کے مطالعے کے دوران وہ اس بنیادی اور اہم فرق کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ منہج سلف پر ہونے کا دعویٰ کرنے والے دو طرح کے ہیں اصلی اور جعلی اور زیر نظر مضمون جعلی منہجی مدخلیوں کے متعلق ہے نہ کہ اصلی سلفی منہج کے متعلق۔ سلفیوں اور مدخلیوں کے مابین عقائد واعمال کا واضح تضاد مشہور ومعروف ہے اگرچہ نسبت دونوں کی ایک ہی ہے”منہج سلف” لیکن ایک اس نسبت میں صادق جبکہ دوسرا کاذب ہے اور یہ مضمون کاذب کے متعلق ہے نہ کہ صادق کے بارے میں ایسے ہی معزز قاری اصلی اور جعلی کی شناخت کے لیے مضمون میں بیان کردہ قادیانیت نما مدخلیت کی صفات کو معیار بنائے کھرا اور کھوٹا اس کے سامنے واضح ہوجائے گا۔

واللہ الموفق وھو المصیب ویھدی الی السبیل

شاید کچھ لوگوں کو یہ عنوان عجیب وغریب معلوم ہو میں ایسے لوگوں سے کہوں گا وہ یہ مقالہ مکمل پڑھیں تاکہ حقیقت جان سکیں۔

تحریک قادیانیت کی بنیاد سن ۱۹۰۰ء میں برصغیر (ہند) کی ایک بستی (قادیان) میں مرزا غلام احمد قادیانی نامی شخص نے رکھی۔ یہ شخص ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوا اور ۱۹۰۸ء میں ہلاک ہوا۔ مرزا غلام قادیان سے تعلق رکھتا تھا جو ہندوستان کے صوبے پنجاب میں واقع ہے۔

سرسید احمد خان(برٹش گورنمنٹ نے اسے سر کا لقب گورنمنٹ کے لیے اس کی خدمات سے متاثر ہوکر دیا تھا) کی مغرب زدہ تحریک اپنی برگشتہ افکار کے پھیلاؤ کے باعث قادیانیت کے ظہور کی بنیاد بنی۔ چنانچہ انگریز نے ان حالات کا فائدہ اٹھایا اور تحریک قادیانیت کو تشکیل دیا اور اس کے لیے انہوں نے ایک ایسے آدمی کو چنا جس کا تعلق ایسے خاندان سے تھا جو (انگریز کی)غلامی میں ڈوبا ہوا تھا۔

چونکہ مرزا کی نسبت ایسے خاندان سے تھی جو دین وملک کے ساتھ غداری میں مشہور تھا اور برطانوی(برٹش) حکومت کے اس کے خاندان پر کئی احسانات تھے چنانچہ اس کے خاندان نے اس (حکومت برطانیہ) کے ساتھ گہرے مراسم قائم کرلیے اس طرح غلام احمد کی نشوونما برطانوی استعمار کے ساتھ ہرحال میں وفاداری اور اس کی فرمانبرداری کرنے کے ماحول میں ہوئی۔

ابتداء میں اس نے اپنی سرگرمیوں کو اسلامی دعوت کا رنگ دیا۔ پھر اس نے مجدد ہونے اور اللہ کی جانب سے الہام کیے جانے کا دعوی کردیا پھر ایک قدم اور آگے بڑھا اور مہدی منتظر اور مسیح موعود ہونے کا دعوی کردیا پھر اس نے نبوت کا دعوی کیا اور یہ گمان کیا کہ اس کی نبوت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے افضل واعلیٰ ہے چنانچہ بہت سے بازاری گھٹیا جاہل، اور دنیاوی مفاد پرست قسم کے لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کرلی۔

ظفراللہ خان قادیانی کو پہلے پاکستانی وزیرخارجہ کے طور پر متعین کیے جانے کا اس گمراہ فرقے کو مستحکم کرنے میں بڑا اثر ہے اس نے صوبہ پنجاب میں ان کے لیے بہت بڑا رقبہ مخصوص کیا جو اس گروہ کا عالمی مرکز ہے اور انہوں نے اس کا نام (ربوہ) رکھا جو اس آیت قرآنی سے لیا گیا ہے:

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ
ترجمہ: ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشانی بنایا اور ان کو ایک ایسی جگہ (ربوہ) پر رکھا جو اطمنان اور چشمے والی تھی۔
(المومنون ، ۵۰)


1953ء میں پاکستان میں ایک عوامی مظاہرہ شروع ہوا جس نے اس وقت کے وزیرخارجہ ظفراللہ خان کی برطرفی اور جماعت قادیانیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا اس مظاہرے میں تقریبا دس ہزار پاکستانی مسلمان قتل ہوئے اور وہ قادیانی وزیر کو برطرف کرنے میں کامیاب رہے ”الحمدللہ”۔

آج قادیانیوں کے اکثر مراکز پاک وہند میں ہیں ان میں سے کچھ مقبوضہ فلسطین میں ہیں جو یہود ونصاری کے تعاون سے یہود کے لیے کام کرتے ہیں اور یہ عالم عرب اور عالم اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر ملک میں رہنے کے لئے حساس علاقے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

علماء اسلام گزشتہ کئی سالوں سے اس تحریک کا مقابلہ کررہے ہیں اور جن علماء نے ان کا اور ان کی دعوت خبیثہ کا مقابلہ کیا ان میں سرفہرست جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری ہیں انہوں نے مرزا غلام احمد سے مناظرے کیے اپنی حجت کو قائم کیا اسے لاجواب کیا اور اس کی باطنی خباثت اور طبعی کفروانحراف کا پردہ چاک کیا اور جب مرزا غلام احمد نے صحیح راستے کی طرف رجوع نہ کیا تو شیخ ثناء اللہ امرتسری نے سن ۱۹۰۸ء میں اس سے اس بات پر مباہلہ کیا کہ ان (دونوں) میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں مرے گا پھر چند ہی دنوں بعد مرزا قادیانی پچاس سے زائد کتب، رسالے اور مقالے چھوڑ کر بیت الخلا کے اندر مرگیا۔ اس کی اہم کتابوں میں ازالۃ الاوھام ، اعجاز احمدی، براھین احمدیہ، انوارالاسلام ، اعجاز مسیح ، التبلیغ، تجلیات الٰھیة معروف ہیں)

پاکستان کی قومی پارلیمنٹ نے اس گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کے ساتھ ایک مناظرے کا اہتمام کیا جس میں اس کا رد مفتی محمود نے کیا یہ مناظرہ تقریبا 3 گھنٹے جاری رہا جس میں ناصر احمد جواب دینے سے عاجز آگیا اس طرح اس گروہ کے کفر پر پڑا پردہ اٹھ گیا چنانچہ پارلیمنٹ نے اسے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ جاری کردیا۔

اپریل 1974 ء بمطابق 1394 ھ میں مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی نے ایک بڑی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں دنیا بھر کی اسلامی جماعتوں کے نمائندگان تشریف لائے اس کانفرنس نے اس گروہ کے کافر ہونے اور اسلام سے خارج ہونے کا اعلان کیا اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خطرے کا مقابلہ کریں اور قادیانیوں کے ساتھ تعلقات منقطع کردیں اور ان کے مُردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کریں۔

یہ تحریک قادیانیت کی تاریخ کا مختصر سا حصہ ہے یہاں ہمارے لیے اہم تحریک قادیانیت کے ظہور اور اس کے اسباب اور اس کی دعوت اور اس کے اہداف ہیں۔

اس گروہ کا انگریز کا غلام ہونے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں یہ انگریز ہی کی پیداوار ہیں یہ اشارہ ہی کافی ہوگا کہ انگریز ہی نے تاج خلافت نورالدین کے سر پر رکھا جو قادیانیوں کا خلیفہ اول ہے اور انگریز حکومت نے اس تحریک کے اتباع (پیروکاروں) کو دنیا بھر کے سرکاری حلقوں (بڑی بڑی) کمپنیوں اور سفارتخانوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کیے اور ان میں سے کچھ کو اپنی خفیہ انٹیلی جنس میں اعلیٰ عہدوں کے حامل افسران کے طور پر مقرر کیا۔

اور برطانیہ میں اسلامک ٹی وی کے نام سے ایک میڈیا چینل ہے جسے قادیانی نشر کر رہے ہیں۔

تحریک قادیانیت کے ظہور کے مقاصد واضح اور برصغیر ہند پر اس وقت قابض برطانویوں کے مقرر کردہ تھے اس تحریک کے قیام کے اسباب اس کے وہ واضح عقائد ہیں جو وہ سوسال سے زائد عرصہ سے پھیلا رہی ہے جن میں سے چند اہم ترین عقائد یہ ہیں:

(1) مرزا غلام کا دعوی ہے کہ اس کی نبوت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے افضل واعلیٰ ہے۔

(2) ان کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ روزہ رکھتا ہے نماز پڑھتاہے سوتا ہے اور بیدار ہوتا ہے لکھتا ہے غلطی کرتا اور جماع کرتا ہے نعوذ باللہ من ذلک اللہ عزوجل ان کے ان باطل عقائد سے بہت بلند وبالاتر ہے۔

(3) یہ (قادیانی) نظریہ رکھتے ہیں کہ نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی تک جاری وساری ہے اور اللہ تعالیٰ رسولوں کو حسب ضرورت مبعوث فرماتا ہے اور مرزا غلام انبیاء میں سب سے افضل ہے۔

(4) ان کے عقیدے کے مطابق ٹیچی ٹیچی نامی کوئی فرشتہ غلام احمد کے پاس آتا اور اس پر وحی نازل کرتا اور یہ کہ اس کے الہامات قرآن کی طرح ہیں۔

(5) ان کا کہنا ہے کہ قرآن صرف وہی ہے جو مسیح موعود (غلام) نے پیش کیا اور حدیث بھی صرف وہی ہے جو اس کی تعلیمات کی روشنی میں ہو اور نبی بھی صرف وہی ہے جو غلام احمد کی ماتحتی میں ہو۔

(6) یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ ان کی کتاب نازل شدہ ہے اور اس کا نام کتاب مبین ہے اور وہ قرآن کریم کے علاوہ ہے ۔

(7) ان کا عقیدہ ہے کہ وہ دین جدید اور مستقل شریعت کے ماننے والے ہیں اور غلام احمد کے رفقاء (ساتھی) صحابہ کی مانند ہیں۔

(8) ان کے نزدیک ہر مسلمان کافر ہے حتی کہ قادیانیت اختیار کرلے ایسے ہی اگر کوئی قادیانیوں کے علاوہ کسی اور کو رشتہ دے یاان سے رشتہ لے تو وہ کافر ہے۔

(9) شراب ، افیون اور نشہ آور اشیاء کو جائز وحلال قرار دیتے ہیں۔

(10) قادیانی اس عقیدہ کے بھی حامل ہیں کہ ان کا الہ (معبود) انگریز ہے کیونکہ وہ انہیں انگریزی زبان میں مخاطب کرتا ہے۔

(11) انہوں نے جہاد کے ساقط ہوجانے کا اعلان کیا اور انگریز حکمرانوں کی اندھی فرمانبرداری کو فرض قرار دیا کیونکہ ان کے خیال میں وہ (ولی امر) ہے۔
قادیانیت نما مدخلیت کے ساتھ

مرزا غلام کی قادیانیت جیسی کچھ اور تحریکیں عرب میں ظاہر ہوئیں جنہیں کچھ نے جامیہ، مداخلہ، “مرجئة العصر” (یعنی دور حاضر کے مرجئہ) کچھ نے (جبریة) کا نام دیا اور کچھ نے دیگر بہت سے نام جو بے شمار ہیں۔ لیکن عقیدہ قادیانیت میں عبور رکھنے والا قادیانیت اور مدخلیت میں عجیب یکسانیت پائے گا مثلاً قادیانی نے ابتدا میں اسلام کی طرف دعوت دی اور بتدریج اس دعوت میں آگے بڑھتا رہا حتی کہ اپنے ماننے والوں کے دلوں سے بہت سے اسلامی عقائد مٹا دیئے۔ جبکہ مدخلی بھی اپنے عقائد شرعی نصوص کو بے محل استعمال کرکے پھیلاتے رہے تاکہ اپنے سامعین اور متبعین کو بتدریج ایسے امور کی جانب متوجہ کردیں جو شریعت کے ثابت شدہ عقائد واحکام سے ٹکرارہے ہوں۔

ہندوستانی قادیانیت برصغیر پر قابض برطانیہ کی پیداوار ہے جبکہ مدخلیت عرب ممالک پر قابض امریکہ کی پیدوار ہے۔

برطانویوں نے قادیانیوں کو وزارت وحکومت میں اعلیٰ مناصب پر فائز کیا اسی طرح امریکی حکومت نےعرب ممالک میں مدخلیوں کو وفاداری کی ضمانت کے طور پرحساس اداروں میں اعلیٰ عہدے دیئے۔

اصلی قادیانیت برطانویوں کی تعظیم کرتی اور برطانیہ کو الہ (معبود) مانتی تھی جبکہ مدخلیوں کے بہت سے الہ (معبود) ہیں ان کی حکومتیں ان کے زبان والے معبود ہیں جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر بندگی کررہے ہیں جو ان کے لیے قوانین واحکام وضع کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیں تو وہ (اس میں) ان کی اتباع کرتے ہیں جبکہ یہ حکومتیں امریکہ کو اپنا سب سے بڑا معبود مان کر اس کی عبادت (یعنی ایسی اطاعت جو صرف اللہ کی کی جانی چاہیئے) کرتی ہیں۔ امریکہ ہی انہیں یہ (باطل) نظام اور قوانین دیتا ہے جن کی وہ اندھی اطاعت وفرمانبرداری کرتے ہیں اس طرح یہ مدخلی تو کفار کے غلاموں کے بھی غلام ہوئے اس اعتبار سے وہ غلام احمد کی قادیانیت سے بھی بدتر ہوئے۔

اصلی قادیانیت نے شراب اور نشہ آور اشیاء کو جائز وحلال ٹھہرایا جبکہ مدخلی ان سے بھی بڑے اعمال کو جائز وحلال ٹھراتے ہیں مثلا کفار کی معاونت اور ان سے دوستی کرنا ، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت سے ہٹ کر فیصلے کرنا اسی طرح مومنین مجاہدین کو قتل کرنے اور ہر جگہ ان سے جنگ کرنے اور انہیں جلا وطن کرنے کو جائز وحلال قرار دینا۔

اصلی قادیانی ہر اس شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو قادیانیت اور ان کی جماعت میں داخل نہ ہو جبکہ مدخلی ہر اس شخص کو خارجی، تکفیری، وغیرہ کا نام دیتے ہیں جو کفار کے ساتھ دوستی کرنے اور مومنین مجاہدین وعلماء عاملین کے ساتھ دشمنی رکھنے کا وہ نظریہ نہ رکھے جو (نظریہ) یہ خود رکھتے ہیں۔

ہندوستانی قادیانی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ٹیچی ٹیچی نامی کوئی فرشتہ غلام احمد کے پاس آکر اس پر وحی نازل کرتا تھا اور یہ کہ اس کے الہامات قرآن کی مانند ہیں جبکہ مدخلیوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے حکام یا حکام کے کارندوں کا کلام اللہ کی وحی ہے جسے کوئی بھی نہ تو مسترد کرسکتا ہے نہ اس سے اختلاف کرسکتا ہے۔

غلام احمد کے قادیانی پیروکاروں کا کہنا ہے کہ قرآن صرف وہی ہے جو غلام احمد نے پیش کیا اور حدیث بھی وہی ہے جو اس کی تعلیمات کے مطابق ہو جبکہ مدخلیوں نے شرعی نصوص کی تفسیر کو اپنے ایجنٹ علماء سوء تک محدود کردیا ہے صرف وہی رائے اور فہم درست ہوگا جو ان کے درباری علماء سوء اختیار کریں۔

قادیانیت مرزائیت نے انگریز حکومت کی اندھی اطاعت کو فرض قراردیا کیونکہ ان کے گمان کے مطابق یہ قرآن کی نص سے ولی امر (حاکم امور ،امیر) تھے جبکہ مدخلیوں نے انگریز حکومت کے بجائے امریکیوں کے غلاموں کو اختیار کیا جو اللہ کی شریعت کو تبدیل کرتے اور اللہ کے دوستوں سے دشمنی جبکہ اللہ کے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں چنانچہ وہ ان کے خلاف بغاوت کرنے یا ان کا رد کرنے یا ان کی حکم عدولی کرنے کو حرام قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کے نزدیک قرآنی صراحت کی من مانی تفسیر کے مطابق واجب الاطاعت ولی امر ہیں۔

انگریز کا اصلی قادیانیت کو فروغ دینے کا حقیقی اور بڑا مقصد یہ تھا کہ(فکر جہاد) کو بالکل ختم کردیا جائے اور قادیانیت کے منحرف اور گمراہ کن نظریات اسی خبیث سوچ کی تمہید کے طور پر تھے یعنی مومنین کے دلوں سے روح جہاد کو ختم کر دینا تاکہ وہ ایک بار پھر استعمار سے مقابلے کی کوشش نہ کریں آپ دیکھ سکتے ہیں کس طرح قادیانیوں نے اپنے برطانوی آقاؤں کے لئے انہی کے مرتب کردہ منصوبوں کے مطابق ولی امر کی شرعی اصطلاح کا استعمال کیا تاکہ انگریزی استعمار کو شرعی حیثیت دے سکیں اور یہی قادیانیت آج ہمارے سامنے نئی شکل میں آئی ہے مدخلیت کا لبادہ اوڑھ کر تاکہ امت کے دلوں سے روح جہاد کا خاتمہ کردے اور عرب ممالک پر امریکی قبضہ کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت کو ناکام بنادے اس دلیل کے ذریعے کہ یہ(یعنی امریکی افواج) اہل امان وصلح اور ذمی ہیں جبکہ یہ ساری کی ساری شرعی اصطلاحات ہیں جنہیں مدخلیوں نے انکے اصل مقام ومحل سے ہٹ کر استعمال کیا گیا ہے تاکہ صلیبیوں اور ان کے قادیانی نما عرب منافق چیلوں کے مفاد کو پورا کیا جاسکے۔

اگرچہ مدخلیوں کے مابین مشترکہ اقدار بہت زیادہ ہیں لیکن ان سب کو یہاں ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے جو ہم نے ذکر کردی ہیں وہ کافی ہیں۔

امریکی ایجنٹوں کی رائج کردہ اس نفسیاتی شکست سے بعض اچھے بھلے سمجھدار لوگ بھی متاثر ہوئے ہیں اور یہ تاثیر اس مغربی حملے کا نتیجہ ہے جو تین صدیوں سے زائد عرصہ سے جاری ہے ایسے ہی یہ اس مغربی پروپیگنڈہ کا نتیجہ بھی ہے جو مغرب کی قوت وتسلط کو اسلامی قوت وکردار کے مقابلے میں ہمیشہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور بعض اچھے بھلے سمجھدار لوگوں نے بھی ان ایجنٹس اور ان مغربی دعوؤں کو سچ تسلیم کرلیا جو باور کراتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی ممالک اتنے طاقتور ہیں کہ مسلمان ان کے برابر نہیں آسکتے۔

یہ خوف جو وہ مغربی کافر کی نسبت رکھتے ہیں حق تو یہ تھا کہ وہ یہ خوف اللہ کی نسبت رکھتے ،اس پر ایسا اعتماد کرتے ، اس کے وعدے پر یقین رکھتے اور پھر اس کے فوائد سمیٹتے۔

اصلی قادیانیت کا ظہور ان علاقوں میں ہوا جن کے رہنے والوں پر جہالت پسماندگی ، اور دین دوری کا غلبہ تھا پس بعض منافقین اور بدعتیوں کے دلوں میں ایسی خواہشات نے جنم لیا جن کی تقدیر میں پھلنا اور پھولنا تھا۔ جبکہ قادیانیت نما مدخلیت کا ظہور جس جگہ ہوا وہاں علم اور علماء عام تھے چنانچہ اس قادیانیت نما مدخلیت کے پیروں کاروں نے اس گھٹیا اور نیچ ٹولے کا کردار ادا کیا جسکا کام ہی حکام کے پھٹے اور بوسیدہ لباس کی پیوند کاری ہوتا ہے مگر افسوس در افسوس کہ علماء حق اور دینی غیرت رکھنے والوں کی سرزنش کے باوجود وہ دن رات اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھانے میں مصروف ہیں:

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
ترجمہ: یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو ۔ (الصف :۸)
نور ہدیٰ ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

قادیانی نما مدخلیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے گھروں میں گھوڑوں کی ان ٹاپوں اور شیروں کی ان تکبیروں (میدان جہاد میں لگائے جانے والے اللہ اکبر کے نعروں) سے بے خبر سوئے رہیں جس نے دنیا کو خوفزدہ کر رکھا ہے یہ جہاد نہ رکے گا جب تک ایک بھی صحیح سلفی جہادی منہج والے مرد مومن زمین کی پشت پر ہے کیونکہ ہمیں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی خبردے دی تھی کہ :

لا يزال من أمتي أمة قائمة بأمر الله لا يضرهم من خذلهم ولا من خالفهم ، حتى يأتيهم أمر الله وهم على ذلك
میری امت میں سے ایک گروہ ایسا ہو گا جو کہ اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرتا رہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے یا انکی مخالفت کرے گا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ قیامت آ جائے کا اور وہ لوگ اس پر قائم ہوں گے۔

لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق حتى تقوم الساعة
ہمیشہ ہی میری امت میں سے ایک گروہ حق پر قائم رہے گا حتی کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔

لا يزال من أمتي قوم ظاهرين على الناس حتى يأتيهم أمر الله
میری امت میں ایک قوم لوگوں پر غالب رہیں گے حتی کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔

لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ، ظاهرين على من ناوأهم ، حتى يقاتل آخـرهم المسيح الدجال
میری امت میں سے ایک گروہ حق پر قتال کرتا رہے گا ، جو اپنے دشمن پر غالب رہے گا ، حتی ان میں سے آخری شخص مسیح الدجال سے قتال کرے گا۔


ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اس امت کا ایک گروہ حق پر قتال کرتا رہے گا ان کی مدد چھوڑنے والا ان کی مخالفت کرنے والا انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔

بلاشبہ سلفی مجاہدین نے قادیانیت نما مدخلیت کا بھانڈا پھوڑا ہے اور ان کے دعوؤں اور ان کے مغربی اور منافق حکمران آقاؤں وارباب کے دعوؤں کا کھوکھلاپن واضح کیا ہے وہ وقت آکر رہے گا جب یہ لاغر(کمزور) مغرب بلکہ پورا عالم کفر اپنی ناکامی کے ساتھ جانبازمردوں کے اس گروہ کے سامنے عاجز کھڑا ہوگا جو اپنے کاندھوں پر امت اسلامیہ کی بیداری کی ذمہ داری کو اٹھائے ہوئے ہے ،یہ مومن مجاہد گروہ اپنے افعال سے سلف(صالحین) کے کردار کو پھر سے دہرائیں گے ۔(ان شاء اللہ)

ان مردوں نے دنیا کے سامنے اس بات کا ثبوت پیش کردیا کہ امت اسلامیہ مغرب کی فقط عسکری مدمقابل نہیں بلکہ ان کے تصور سے کہیں زیادہ طاقتور ہے کیونکہ مغرب عقیدے کی حقیقتت نہیں جانتا کہ جب وہ دل میں راسخ ہوجائے تو نئی زندگی کا بنیادی محرک بن جاتا ہے۔​
 
Top