سفرنامہ رام پور

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
سفرنامہ رام پور
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے ضلع رام پور کا ایک شہر ہے۔ 2001ء کی مردم شماری کے مطابق رام پور شہر کی آبادی 281,549 نفوس پر مشتمل ہے جس میں سے 52 فیصد افراد مرد جبکہ 48 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ رام پور کی شرح خواندگی 68 فیصد ہے۔یہ ہندوستان کے ان شہروں میں سے ایک ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں،یہاں چاروں طرف جدھرنظراٹھ جائے مسلمان ،مساجد،مدارس اورمزارات نظرآتے ہیں،دہلی،حیدرآباد،لکھنؤاوررام پوریہی چندشہرہیں جہاں کی اردومشہورہے ،رام پورچاقوؤں کی صنعت میں شہرت رکھتاہے۔
یہاں آثارقدیمہ کی بہت سی چیزیں اسلامی باقیات کی علامت ہیں اوران تاریخی چیزوں کودیکھ کرقدیم زمانے کے نوابوں کی سطوت وحکومت اورشان وشوکت کااندازہ ہوتاہے۔ان ہی قدیم تاریخی عمارات میں ایک اہم نام قلعہ کاہے جب بھی قلعہ بولاجاتاہے تواس سے آج کی تاریخ میں وہ تاریخی لائبریری مرادلی جاتی ہے جونصف صدی قبل حکومت کے اختیارقبضہ میں چلی گئی
تھی۔
اس تاریخی لائبریری کو’’رضالائبریری ‘‘کے نام سے جاناجاتاہے۔رضاسے مرادمشہوربدعتی عالم مولانااحمدرضاخان بریلوی مرادنہیں ہیں بلکہ اس نام کے ایک نواب یہاں گزرے ہیں،جب سے یہ لائبریری حکومت کی تحویل میں آئی ہے تب سے خاطرخواہ ترقی ہوئی ہے،یہاں تقریباًسترہ ہزارقیمتی اورنادرمخطوطات ہیں،جن میں بطورخاص حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہدکاایک قرآن کریم کامخطوطہ بھی ہے جو چمڑے پرخط کوفی میں لکھاہواہے۔جس جگہ مخطوطات رکھے گئے ہیں وہ نہایت ہی قیمتی خوشنمااوروسیع دربارہے ،نہایت نفیس دیدہ زیب اورسونے سے اس کی چھتوں اورستونوں کوسجایااورسنواراگیاہے ۔
اس لائبریری میں ہرسال علم و تحقیقی نوعیت کے علمی کام، سیمینار، مذاکرے، خطبات اور ثقافتی پروگرام کا انعقاد ہوتا رہتا ہے ساتھ ہی مختلف تحقیقی کتابیں بھی اردو،ہندی اوردیگرزبانوں میں شایع ہوتی رہتی ہیں -
یکم فروری ۲۰۱۳سے تین فروری تک ایک اہم پروگرام کاانعقادہوا،موضوع تھا’’مخطوطہ شناسی،فہرست سازی اورتحفظ‘‘ان اہم موضوعات پرملک اوربیرون ملک سے موضوع کے ماہرین نے شرکت کی اورتینوں دن مختلف ماہرین نے عالمانہ وفاضلانہ لیکچرزدے کرشرکاکوقیمتی معلومات فراہم کیں۔
مظاہرعلوم وقف سہارنپورکوبھی اس ورکشاپ میں شرکت کے لئے دعوت دی گئی،کیونکہ یہاں کی لائبریری بھی نادرونایاب مخطوطات،قیمتی وکم یاب مطبوعات اورکتابوں کی کثرت کے باعث نہایت اہمیت ہے۔یہاں ساڑھے تین لاکھ کتابیں،ساڑھے چودہ سومخطوطات اورایک قدیم تاریخی حیثیت کی حامل صدری ہے جس پرمکمل قرآن کریم خوبصورت رسم الخط میں لکھاہواہے۔
اس لئے اس دعوت نامہ کواہمیت دیتے ہوئے حضرت مولانامحمدسعیدی مدظلہ ناظم مظاہرعلوم وقف سہارنپورنے راقم الحروف کے علاوہ جناب مولانامحمدسلمان مظاہری کوتجویزفرمایا۔
حسب نظام ہم لوگ ۳۱فروری کی صبح سات بجے سیالدہ ایکسپریس سے رام پورکے لئے روانہ ہوئے۔صبح ساڑھے گیارہ بجے ہماری گاڑی نوابوں کے شہررام پورکے اسٹیشن پہنچی،واضح رہے رام پوراپنی تاریخی اہمیت اورحیثیت کے لحاظ سے توشہرتوں کی بلندیوں پرفائزہے لیکن نہایت چھوٹااسٹیشن،سہولتوں کے فقدان،گندگی اورٹرینوں کے کم اسٹاپسٹ کی وجہ سے بھی مشہورہے۔بہت کم گاڑیاں یہاں رکتی ہیں،قریب ترین شہرمرادآبادجانے کے لئے بھی گھنٹوں بیٹھ کرٹرینوں کاانتظارکرنایہاں کے لوگوں کی عادت اورمجبوری بن چکاہے۔خیرہم لوگ ریلوے اسٹیشن سے بذریعہ رکشہ ’’ہوٹل دی گرانڈ‘‘پہنچے جہاں لائبریری کی طرف سے ہمارے لئے کمرہ طے تھا۔باقی ماندہ دن فارغ البالی اورصاف لفظوں میں بے گاری کاتھا،اس لئے وقت کاٹنامشکل ہوگیا۔
اگلے دن صبح ساڑھے آٹھ بجے لائبریری کی گاڑی سے ہم لوگ قلعہ پہنچے جہاں کے’’ رنگ محل‘‘ میں یہ سہ روزہ پروگرام طے تھا۔پروگرام کی شروعات حسب نظام وروایت الحمدللہ تلاوت کلام اللہ اوراس کے اردوترجمہ سے ہوا۔پھرایک شاعرنے نہایت خوبصورت اندازمیں مولانااحمدرضاخان مرحوم کی تحریرکردہ نعت نبی’’لم یات نظیرک فی نظر‘‘پڑھی اورپڑھنے کااندازاتناپیارااورعمدےہ تھاکہ سامعین اورشرکاجھوم گئے۔
اس پہلی نشست کی صدارت رضالائبریری کے موجودہ ڈائرکٹرمحترم سیدعزیزالدین حسین ہمدانی نے کی اورمحترمہ تبسم صابرصاحبہ نے پردہ کوملحوظ رکھتے ہوئے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
اس نشست میں ماہرین نے مخطوطہ شناسی اوراس کے شروط پرسیرحاصل بحث کی،مخطوطہ کس کوکہتے ہیں،مخطوطہ کی تعریف کیاہے،اس کی غرض وغایت کیاہے،اس کی وجہ تسمیہ کیاہے،اس کومخطوطہ کب کہاجائے گا،کن مخطوطات کی زیادےہ اہمیت ہوتی ہے،کاغذکے علاوہ کن کن چیزوں پرمخطوطات موجودہیں،کاغذ،کپڑا،چمڑا،درختوں کی چھال،پتے،ہڈیاں اوردیگرنمونے بھی دکھائے گئے اوراس طرح نہایت قیمتی سلسلہ دوپہرتک چتارہا۔درمیان میں پندرہ منٹ کے لئے چائے کاوقفہ مختص تھا،چائے کانظم ہال سے متصل باغیچہ میں رکھاگیاتھا،یہ باغیچہ بھی اپنی خوبصورتی اورپرانی وضع اورطرزکی وجہ سے دیدکے قابل ہے۔یہیں دوران چائے شہرکے نامی گرامی شاعروادیب حضرت ازہرعنایتی سے ملاقات ہوگئی،تعارف ہواتومیری خوشی کاٹھکانہ نہ تھا،موصوف ایک زمانے میں سہارنپوربکثرت مشاعروں میں شرکت کے لئے تشریف لایاکرتے تھے۔تعارف ہواتوفوراًاپناکارڈعنایت فرمایااورحکم بھی دیاکہ کل مغرب بعدغریب خانہ پرچائے کی دعوت قبول کرلیں۔میں نے حامی توبھرلی لیکن پھربھول گیا۔اوراس وقت حیرت کی انتہانہ رہی جب اگلے دن دوپہرکے وقت موصوف نے مجھے فون کیااوریاددہانی کرائی کہ آج مغرب بعدآناہے اورہاں اپنے ساتھ ڈاکٹرزبیرصاحب کوبھی لیتے آنا،میں ڈاکٹرصاحب سے واقف نہ تھانہ ہی اتنی بھیڑمیں ان کوتلاش کرناممکن تھالیکن عجیب بات ہے کھانے کے دوران میری میزپرمیرے داہنے جوصاحب بیٹھے تھے ان کوایک دوسرے صاحب نے اسی نام سے پکاراجس نام کی تلاش اورجستجومیں احقرتھا۔
میں نے سب سے پہلے اپناتعارف کرایاتوانہو نے خوشی کے اظہارکے ساتھ ہی اپناتعارف بھی کرایا،موصوف اس وقت کشمیریونیورسٹی میں شعبہ اردوکے لیکچرارہیں۔میں نے انھیں یاددلایاکہ آج مجھے ازہرعنایتی صاحب نے مغرب کے بعداپنے دولت کدہ پربلایاہے اورساتھ میں یہ حکم بھی دیاہے کہ آپ کوبھی لیتاچلوں؟
انہوں نے خوشی کااظہارکیااورپوچھاکہ آپ انھیں کب سے جانتے ہیں،میں نے بتایاکہ کل چندمنٹ چائے کے دوران ملاقات ہوئی تھی،کہنے لگے کمال ہوگیااتنابڑاشاعراورچندمنٹ کی ملاقات میں اپنے گھرچائے کی دعوت دے گیا،میں ازہرعنایتی صاحب جوجانتاہوں،وہ مجھے بھی مدت سے جانتے ہیں،میں ان کی شاعری کامداح ہوں،انہوں نے پچاس سال کی عمرمیں پاکستان کی ایک لڑکی سے شادی کی ہے،ان کااکثرگھرانہ پاکستان چلاگیاتھااس لئے جب شادی ہوئی توبیک وقت رامپوراورپاکستان دونوں جگہ ولیمہ کی دعوت ہوئی۔
بہرحال ہم لوگوں نے حسن نظام ازہرعنایتی صاحب کے دولت کدہ کے لئے روانہ ہوگئے ،موصوف مغرب کی نمازسے فارغ ہوکروظیفہ میں مصروف تھے،باہرنکلے توہم لوگوں کودیکھ کربہت مسرورہوئے۔اوراس وقت مزیدخوشی کااظہارفرمایاجب جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے ’’سینٹرل لائبریری شعبہ مخطوطات‘‘کے پروفیسرسیدقمرالحسن لکھنوی اپنے دیگرشاگردوں اورساتھیوں کے ساتھ تشریف لے آئے۔
پروفیسرقمرالحسن صاحب نہایت سنجیدہ،متین،حلیم،بردبار،ملنسار،جفاکیش،حق کوش اورصاحب طرزادیب ہیں،ان کی شریفانہ گفتگو،ان کابےباکانہ انداز،ان کاخیرخواہانہ لب لہجہ اورہمدردانہ اندازدلوں کوموہ لیتاہے۔
بہرحال ہم لوگ ازہرعنایتی صاحب کے دولت کدہ پہنچے،نشست گاہ بھی شاعرکے وسیع خیالات کی طرح وسیع اوروقیع تھی۔اورپھرگفتگوکانہ ختم ہونے والاسلسلہ چل پڑا۔(جاری)(یارزندہ صحبت باقی)
 
Top