مترادفات القرآن (ب)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

باپ

باپ کے لیے دو الفاظ آتے ہیں۔ والد اور اب

1: والد

والد کا لفظ صرف باپ کیلیے استعمال ہوتا ہے یعنی صرف وہ شخص جس نے جنا ہو۔ اسی طرح والدہ کا لفظ صرف اس عورت کے لیے جس نے بچہ جنا ہو۔ ارشاد باری ہے:
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ وَاخۡشَوۡا يَوۡمًا لَّا يَجۡزِىۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِهٖ وَلَا مَوۡلُوۡدٌ هُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِهٖ شَيۡـــًٔا‌ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ‌ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ‏ (سورۃ لقمان آیت 33)
لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے۔ اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آ سکے۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اور نہ وہ بڑا فریب دینے والا شیطان تمہیں اللہ کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے۔
اور ماں باپ دونوں کے لیے والدین کا لفظ آئے گا۔ جیسے
وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسٰنَ بِوٰلِدَيۡهِ‌ۚ حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ وَّفِصٰلُهٗ فِىۡ عَامَيۡنِ اَنِ اشۡكُرۡ لِىۡ وَلِـوَالِدَيۡكَؕ اِلَىَّ الۡمَصِيۡرُ‏ (سورۃ لقمان آیت 14)
اور ہم نے انسان کو جسے اسکی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے پھر اسکو دودھ پلاتی ہے اور آخرکار دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے میں نے تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی کہ تمکو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

2: اب

لیکن اب کا لفظ بہت وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ باپ دادا پر دادا اور اوپر کی سب پشتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور ماں باپ کے لیے حسب موقع ابوین یا ابوان آتا ہے۔
اب ان کی مثالیں دیکھیے :
صرف ماں باپ کے لیے
وَاَمَّا الۡغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا‌ۚ‏ (سورۃ الکہف آیت 80)
اور وہ جو لڑکا تھا اسکے ماں باپ دونوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوگا تو کہیں انکو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔
کئی پشتوں کے لیے
مَّا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِىۡۤ اٰبَآٮِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ‌ۚ‏ (سورۃ المؤمنون آیت 24)
ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی سنی نہیں۔
اور یہ پشتیں بہت زیادہ بھی ہو سکتی ہیں۔ جیسے:
وَجَاهِدُوۡا فِىۡ اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ‌ؕ هُوَ اجۡتَبٰٮكُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِىۡ الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ‌ؕ مِلَّةَ اَبِيۡكُمۡ اِبۡرٰهِيۡمَ‌ؕ هُوَ سَمّٰٮكُمُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ (سورۃ الحج آیت 78)
اور اﷲ (کی محبت و طاعت اور اس کے دین کی اشاعت و اقامت) میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا
واضح رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم میں قریباً 62 پشتوں کا فاصلہ تھا۔ حتی کہ حضرت آدم علیہ السلام کے لیے بھی جو نوع انسان کے جد اعلیٰ میں اب کے لفظ کا اطلاق ہوا ہے مثلاً :
يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَـنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَـنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡءٰتِهِمَا (سورۃ الاعراف آیت 27)
اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر انکو کھول کر دکھا دے۔
اب اصل میں ابو ہے۔ اور یہ کسی کی تربیت اور خوراک کی فراہمی پر دلالت کرتا ہے (م ل) اس لیے بیٹا اگر باپ سے مخاطب ہو تو عموماً ابّ کا لفظ ہی استعمال ہو گا جیسے :
حضرت یوسف علیہ السلام اپنے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام سے یوں گویا ہوئے:
وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا‌ۚ وَقَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَاىَ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّىۡ حَقًّا‌ؕ (سورۃ یوسف آیت 100)
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب انکے آگے سجدے میں گر پڑے اور اس وقت یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے بچپن میں دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دیا۔
پھر اب کا لفظ بعض دفعہ کسی خاص صفت کی وجہ سے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے میزبان کو ابو الاضیاف اور جنگجو کو ابو الحرب کہ دیتے ہیں۔ قرآن کریم میں ابو لہب کا لفظ اسی صفت کی وجہ سے استعمال ہوا ہے کہ اس کا رنگ شعلہ کی طرح دیکھتا تھا۔ اسی طرح کسی چیز سے نسبت اور پیار کی وجہ سے کنیت رکھ لیتے ہیں جیسے ابو ہریرہ اور ابو تراب وغیرہ۔ نیز دیکھیے کنیت اور نسب میں فرق بیٹا۔ بیٹی میں۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بابرکت ہونا

کے لیے تبارك اور مبارک، ایمن اور طیب اور طوبی کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: تبارک، مبارک

کے معنی میں کسی چیز میں خیر الہی کا ثابت ہونا (مف) یعنی جو کام کیا جائے اس میں متوقع زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو جانا برکت ہے۔ بشرطیکہ یہ کام یا توقع خیر کا پہلو رکھتی ہو اور برکۃ بمعنی بڑھاؤ۔ زیادتی (منجد) اور جس چیز میں یہ خیر کا پہلو بار آور ثابت ہو وہ مبارک ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَهٰذَا ذِكۡرٌ مُّبٰرَكٌ اَنۡزَلۡنٰهُ‌ؕ اَفَاَنۡتُمۡ لَهٗ مُنۡكِرُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 50)
یہ (قرآن) برکت والا ذکر ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، کیا تم اِس سے انکار کرنے والے ہو‏
اور تبارك بمعنی نیک فال یا نیک شگون لینا (منجد) لیکن یہ لفظ عموماً اللہ تعالی سے مخصوص ہے اور ان خیر کے کاموں کے لیے آتا ہے جو صرف اللہ تعالی سے مختص ہیں۔ مثلاً
تَبٰرَكَ الَّذِىۡ نَزَّلَ الۡـفُرۡقَانَ عَلٰى عَبۡدِهٖ لِيَكُوۡنَ لِلۡعٰلَمِيۡنَ نَذِيۡرَا (سورۃ الفرقان آیت 1)
(وہ اللہ) بڑی برکت والا ہے جس نے (حق و باطل میں فرق اور) فیصلہ کرنے والا (قرآن) اپنے (محبوب و مقرّب) بندہ پر نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈر سنانے والا ہو جائے
فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِيۡنَؕ‏ (سورۃ المؤمنون آیت 14)
سو بڑا برکت والا ہے اللہ جو سب سے اچھا بنانے والا ہے۔
تَبٰرَكَ الَّذِىۡ جَعَلَ فِىۡ السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّجَعَلَ فِيۡهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيۡرًا‏ (سورۃ الفرقان آیت 61)
وہی بڑی برکت و عظمت والا ہے جس نے آسمانی کائنات میں (کہکشاؤں کی شکل میں) سماوی کرّوں کی وسیع منزلیں بنائیں اور اس میں (سورج کو روشنی اور تپش دینے والا) چراغ بنایا اور (اس نظامِ شمسی کے اندر) چمکنے والا چاند بنایا
تَبٰرَكَ الَّذِىۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌۙ‏ (سورۃ الملک آیت 1)
وہ ذات نہایت بابرکت ہے جس کے دستِ (قدرت) میں (تمام جہانوں کی) سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

2: ایمن

یمین بمعنی دایاں ہاتھ اور دائیں طرف اور اصحاب اليمين بمعنی دائیں ہاتھ یا دائیں جانب والے بھی اور اصحاب خیر و برکت بھی (مف) ہے۔ اور یمن یمین بمعنی با برکت ہونا خوش قسمت ہونا۔ تیمن بمعنی برکت لینا۔ نیک فال لینا اور میمون بمعنی مبارک (منجد) ہے اور امام راغب کے نزدیک میمون بمعنی سعادت مند ہے (مف) گویا جس طرح سعادت فطرت میں ودیعت ہوتی ہے اسی طرح ایمن وہ چیز ہے جس کی فطرت میں برکت ودیعت کی گئی ہو۔ ارشاد باری ہے:
فَلَمَّاۤ اَتٰٮهَا نُوۡدِىَ مِنۡ شَاطِیٴِ الۡوَادِ الۡاَيۡمَنِ فِىۡ الۡبُقۡعَةِ الۡمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنۡ يّٰمُوۡسٰٓى اِنِّىۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ‏ (سورۃ القصص آیت 30)
جب موسٰی (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو وادئ (طور) کے دائیں کنارے سے بابرکت مقام میں (واقع) ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسٰی! بیشک میں ہی اللہ ہوں (جو) تمام جہانوں کا پروردگار (ہوں)

3: طیب اور طوبی

طاب بمعنی کسی چیز کا دل کو اچھا لگن اور طیب بمعنی پاکیزہ اور حلال چیز اور طیب بمعنی خوشبو۔ اور بلدة طيبة بمعنی امن اور برکتوں والا شہر (منجد) نیز البلد الطيب بمعنی با برکت یا زرخیز زمین (مف) ارشاد باری ہے:
وَالۡبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخۡرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذۡنِ رَبِّهٖ‌ۚ وَالَّذِىۡ خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ اِلَّا نَكِدًا‌ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّشۡكُرُوۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 58)
اور جو زمین پاکیزہ ہے اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے نفیس ہی نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں سے جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگذار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔
اور طوبی بمعنی رشک سعادت خیر بہتری (منجد) گویا طوبی سے ایسی خیر و برکت مراد ہے جو من کو بھی بھاتی ہو۔ ارشاد باری ہے:

ماحصل :

  • مبارك: ہر وہ چیز جو خیر کا پہلو لیے ہو اور نتیجہ خیز ثابت ہو۔
  • تبارك: اللہ تعالیٰ کی ذات با برکات
  • ایمن: ایسی خیر و برکت جو فطری طور پر ودیعت ہو۔ سعادت۔
  • طوبی: ایسی خوشحالی اور خیر و برکت جو دل کو لبھاتی ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بات

کے لیے قول، حدیث اور کلمۃ کے الفاظ آئے ہیں :

1: قول

اس کی جمع اقوال اور جمع الجمع اقاویل ہے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر وہ بات جو زبان سے ادا کی جائے وہ قول ہے خواہ وہ بے معنی ہو یا با معنی لیکن قرآن کریم میں یہ لفظ تین صورتوں میں استعمال ہوا ہے۔ (۱) منہ سے نکلی ہوئی بات کے لیے (۲) ایسی بات جو منہ سے نہ نکلی ہو بلکہ ابھی دل میں ہی ہو اور (۳) کسی نظریہ کے لیے۔ مثلاً :
منہ سے نکلی ہوئی بات کے لیے
قَالَ قَآٮِٕلٌ مِّنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ‌ؕ (سورۃ الکہف آیت 19)
ایک کہنے والے نے کہا کہ تم یہاں کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔
دل میں بات کے لیے :
وَيَقُوۡلُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوۡلُ‌ؕ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ‌ۚ يَصۡلَوۡنَهَا‌ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ‏ (سورۃ المجادلہ آیت 8)
اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ رسول سچے ہیں تو) اللہ ہمیں اِن (باتوں) پر عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں؟ انہیں دوزخ (کا عذاب) ہی کافی ہے، وہ اسی میں داخل ہوں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے
کسی نظریہ کے لیے
ذٰلِكَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ‌ؕ قَوۡلَ الۡحَـقِّ الَّذِىۡ فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ‏ (سورۃ مریم آیت 34)
یہ مریم کے بیٹے عیسٰی ہیں اور یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔

2: حدیث

حدث بمعنی کسی چیز کا ظہور میں آنا، کسی امر کا واقعہ ہونا، نئی چیز یا بات کا پیدا ہونا (منجد) اور اس کی ضد عدم ہے۔ ابن فارس کے الفاظ میں ایسی شے کا پیدا ہونا جو پہلے نہ تھی (م ل) اور حدیث سے مراد ہر وہ نئی بات یا نظریہ ہے جس کا تعلق عام لوگوں سے ہو اور پہلے اکثر لوگ اس سے نا آشنا ہوں ۔ ارشاد باری ہے:
لَا تَدۡرِىۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِكَ اَمۡرًا‏ (سورۃ الطلاق آیت 1)
(اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے
نیز فرمایا
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِىَ (سورۃ الزمر آیت 23)
اللہ ہی نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، جو ایک کتاب ہے جس کی باتیں (نظم اور معانی میں) ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں
یہاں حدیث سے مراد قرآن کریم ہے اور ظاہر ہے کہ اس دور کے لوگوں کے نظریات اور خیالات کے مطابق یہ ایک نئی چیز تھی۔ پھر حدیث کے لفظ کا اطلاق جس طرح نئی چیز کے لیے ہوتا ہے، اسی طرح کسی ایسی پرانی بات یا واقعہ کے لیے بھی ہوتا ہے جو عام طور پر لوگوں کے ذہن سے اتر چکی ہو۔ ایسی صورت میں اس کا مفہوم بھولی بسری بات یا کہانی ہو گا ۔ ارشاد باری ہے:
ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا تَتۡرَا‌ؕ كُلَّ مَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوۡلُهَا كَذَّبُوۡهُ‌ فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ بَعۡضًا وَّجَعَلۡنٰهُمۡ اَحَادِيۡثَ‌ۚ فَبُعۡدًا لِّـقَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ (سورۃ المؤمنون آیت 44)
پھر ہم لگاتار اپنے پیغمبر بھیجتے رہے جب کسی امت کے پاس اس کا پیغمبر آتا تھا تو وہ اسے جھٹلا دیتے تھے۔ تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے ہلاک کرتے اور ان پر عذاب لاتے رہے اور انکو داستانیں بنا کر چھوڑتے رہے پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان پر لعنت۔

3: كلمة

کلمہ کا لغوی معنی "با معنی بات" ہے۔ جس کا ادراک قوت سامعہ سے ہو سکے اور اس کا مفہوم سمجھ میں آ سکے۔ ابن فارس کے اپنے الفاظ میں نطق یفہم (م- ل) ہے۔ قرآن میں ہے:
لَعَلِّىۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًـا فِيۡمَا تَرَكۡتُ‌ؕ كَلَّا‌ ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآٮِٕلُهَا‌ؕ وَمِنۡ وَّرَآٮِٕهِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ‏ (سورۃ المؤمنون آیت 100)
تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہو گا اور اسکے ساتھ عمل نہیں ہو گا اور انکے پیچھے برزخ ہے جہان وہ اس دن تک کہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے رہیں گے۔
لیکن جب لفظ كلمة کی نسبت ذات باری تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی عجائبات قدرت، قوانین فطرت اور اللہ تعالی کے تخلیقی کارنامے مراد ہوتے ہیں (تفہیم القرآن)، ارشاد باری ہے:
قُل لَّوۡ كَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّـكَلِمٰتِ رَبِّىۡ لَـنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَـنۡفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّىۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهٖ مَدَدًا‏ (سورۃ الکہف آیت 109)
کہدو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کے لئے روشنائی ہو تو قبل اسکے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہو جائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور اسکی مدد کو لائیں۔
اور جب کلمۃ کی نسبت خدا تعالی سے انسان کی طرف ہو تو اس سے مراد احکام و فرامین الہی ہوتے ہیں:
اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَيۡهِ كَلِمَةُ الۡعَذَابِؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِىۡ النَّارِ‌ۚ‏ (سورۃ الزمر آیت 19)
بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم ثابت ہو چکا، تو کیا آپ اس شخص کو بچا سکتے ہیں جو (دائمی) دوزخی ہو چکا ہو

ماحصل :

  • قول:کوئی بات بے معنی ہو یا با معنی۔ خواہ دل میں ہو یا کوئی نظریاتی ہو۔
  • حدیث: نئی بات، ایسی بات جس سے عام لوگ نا آشنا ہوں ۔
  • كلمة: صرف با معنی بات، خدا کے احکام اور عجائبات قدرت وغیرہ۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بات کرنا

کے لیے کلّم اور حاور (حور) اور خاطب کے الفاظ آئے ہیں۔

1: کلّم

بمعنی ہم کلام ہونا۔ بات چیت کرنا ، گفتگو کرنا (منجد) یہ عموماً مختصر سی بات چیت کے لیے یا ایسی باتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کا جواب بات سن کر فوری طور پر دیا جا سکے۔ پھر کلّم میں یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ بات چیت دو طرفہ ہو کبھی یہ یک طرفہ بھی ہو سکتی ہے۔ ارشاد باری ہے،
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَشۡتَرُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَاَيۡمَانِهِمۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا اُولٰٓٮِٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمۡ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنۡظُرُ اِلَيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيۡهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏ (سورۃ آل عمران آیت 77)
جو لوگ اللہ کے اقراروں اور اپنی قسموں کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ ان سے اللہ نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا۔

2: حاور

ابن فارس کہتے ہیں کہ حور میں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں(1) رجوع اور مراجعته الکلام اور (۲) ایک چیز ایک کی طرف اور پھر دوسرے کی طرف لوٹائی جائے (م ل) اور صاحب منجد حار کے معنی واپس ہونا نیز متحیر ہونا لکھتے ہیں۔ گویا حار سے مراد ایسی گفتگو ہے جو بطور سوال جواب ہو۔ اور کسی بات کا جواب سننے والے کو سوچ سمجھ کر دینا پڑے۔ ایسی گفتگو عموماً طویل ہوتی ہے۔ اسی سے لفظ محاورہ مشتق ہے جس سے یہ مراد ہے کہ وہ بات سوچ سمجھ کر کی گئی ہو اور زبان زد بھی ہو۔ چنانچہ قرآن میں ہے:
قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرۡتَ بِالَّذِىۡ خَلَقَكَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ سَوّٰٮكَ رَجُلاًؕ‏ (سورۃ الکہف آیت 37)
تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس ذات سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا آدمی بنایا۔

3: خاطب

بھی گفتگو کرنے کے معنوں میں آتا ہے (منجد) اور خطبہ وعظ و تقریر کو کہتے ہیں جو عموماً یک طرفہ ہوتی ہے۔ خطیب بمعنی خطبہ دینے والا ۔ وضاحت سے بات کہنے والا (م ق) اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سننے والا مختصر سا جواب دے کر خطاب کرنے والے کو چپ کرا دیتا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالی حضرت نوح علیہ السلام سے فرماتے ہیں:
وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا وَلَا تُخَاطِبۡنِىۡ فِىۡ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا‌ؕ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ‏ (سورۃ ھود آیت 37)
اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے سامنے بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں انکے بارے میں مجھ سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کر دیئے جائیں گے۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِيۡنَ يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا‏ (سورۃ الفرقان آیت 63)
اور (خدائے) رحمان کے (مقبول) بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل (اکھڑ) لوگ (ناپسندیدہ) بات کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے (ہوئے الگ ہو جاتے) ہیں۔

ماحصل :

  • کلّم: گفتگو کے لیے عام لفظ عموماً مختصر اور فوری گفتگو کے لیے۔
  • حاور: سوال و جواب کے طرز پر گفتگو جو سوچ سمجھ کر کی جائے اور طویل ہو۔
  • خاطب یہ عموماً یکطرفہ بات ہوتی ہے ۔ یا جس کا جواب مخاطب دینا پسند کرے یا ضروری سمجھے تو دے دے۔
نیز دیکھیے "بولنا"
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بادشاہی

بادشاہی کے لیے سلطان اور ملک اور ملکوت کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: سلطان

سلطان کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے (ا) بمعنی دلیل جو سند یا دستاویز کی حیثیت رکھتی ہوں۔ اتھارٹی۔ ان معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں اکثر آیا ہے۔ (۲) سلطنت یا بادشاہی۔ اس معنی میں صرف ایک مقام پر آیا ہے اور (۳) معنی بادشاہ (جمع سلاطین) ان معنوں میں یہ لفظ قرآن میں نہیں آیا اور سلطان کا معنی بادشاہ لغت کے اعتبار سے نہیں بلکہ یہ کنائی معنی ہے۔
جب یہ لفظ سلطنت یا بادشاہی کے معنوں میں آئے تو اس سے مراد وہ علاقہ ہے جو کسی شخص یا ادارہ یا سلطان کے زیر نگیں ہو اور اس پر اس کا تسلط ہو۔ قرآن میں ہے، کافر قیامت کے دن کہے گا :
مَاۤ اَغۡنٰى عَنِّىۡ مَالِيَهۡۚ‏ هَلَكَ عَنِّىۡ سُلۡطٰنِيَهۡ‌ۚ‏ (سورۃ الحاقہ آیت 27، 28)
(آج) میرا مال مجھ سے (عذاب کو) کچھ بھی دور نہ کر سکا مجھ سے میری قوت و سلطنت (بھی) جاتی رہی۔

2: ملك

ملك کا لفظ سلطنت سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ زمین کا کوئی خاص علاقہ جو چند ایک قدرتی حدود سے محدود ہو وہ بھی ملک ہے اور تمام روئے زمین بھی ملک ہے۔ ارشاد باری ہے:
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الۡمُلۡكِ تُؤۡتِى الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡكَ مِمَّنۡ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ‌ؕ بِيَدِكَ الۡخَيۡرُ‌ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ‏ (سورۃ آل عمران آیت 26)
کہو کہ اے اللہ اے بادشاہی کے مالک تو جسکو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے اور بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اس آیت میں پہلا ملک تمام روئے زمین کے معنوں میں اور دوسرا ایک مخصوص رقبہ کے معنوں میں آیا ہے۔ اور ملک کے معنی ملکیت، بادشاہی اور قبضہ اور ملک کے معنی بادشاہ اور جمع دونوں کی املاک اور ملوک آتی ہے (منجد) اور ملکوت کا لفظ ملک سے بھی زیادہ وسیع مفہوم میں آتا ہے۔ یعنی زمین و آسمان یا کائنات کی بادشاہی ۔ قرآن میں ہے
وَاتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوۡا الشَّيٰطِيۡنُ عَلٰى مُلۡكِ سُلَيۡمٰنَ (سورۃ البقرۃ آیت 102)
اور ان چیزوں کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔
فَسُبۡحٰنَ الَّذِىۡ بِيَدِهٖ مَلَـكُوۡتُ كُلِّ شَىۡءٍ وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ (سورۃ یس آیت 83)
‏ پس وہ ذات پاک ہے جس کے دستِ (قدرت) میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

ماحصل:

جب اقتدار اور شان و شوکت کا اظہار مقصود ہو تو سلطان اور جب رقبہ کی وسعت کا اظہار مقصود ہو تو ملک کا لفظ آئے گا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بادل

کے لیے سحاب، غمام، عارض، معصرات، مزن اور صیّب کے الفاظ آئے ہیں :

1: سحاب

(سحب بمعنی گھسیٹنا اور کھینچنا) بادل کے لیے اس کا استعمال عام ہے (ف ل۳۵۴) ہر قسم کے بادل کو سحاب کہ لیتے ہیں تاہم اس لفظ کا اطلاق اس بادل پر ہوتا ہے جسے ہوائیں اٹھا کر آسمان پر پھیلا دیتی ہیں۔ گویا یہ ہر بادل کی ابتدائی شکل ہے۔ قرآن میں ہے:
وَاللّٰهُ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ الرِّيٰحَ فَتُثِيۡرُ سَحَابًا فَسُقۡنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَحۡيَيۡنَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوۡرُ‏ (سورۃ فاطر آیت 9)
اور اﷲ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھار کر اکٹھا کرتی ہیں پھر ہم اس (بادل) کو خشک اور بنجر بستی کی طرف سیرابی کے لئے لے جاتے ہیں، پھر ہم اس کے ذریعے اس زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندگی عطا کرتے ہیں، اسی طرح (مُردوں کا) جی اٹھنا ہوگا

2: غمام

غمّ بمعنی ڈھانک لینا (منجد) اور غمام وہ بادل ہے جو تہہ بہ تہہ ہو کر گاڑھا ہو جائے اور سورج کی روشنی کو زمین تک آنے سے روک دے۔ (ف ل ۲۵۴) یعنی زمین پر سایہ فگن ہو جائے۔ قرآن میں ہے :
وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡکُمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰى‌ؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ‌ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰـكِنۡ كَانُوۡآ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ‏ (سورۃ البقرۃ آیت 57)
اور ہم نے بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور تمہارے لئے من و سلوٰی اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں انکو کھاؤ پیو مگر تمہارے بزرگوں نےان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی اور وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے۔

3: عارض:

پھر جب گاڑھے اور پھیلے ہوئے بادل سے بوندا باندی بھی شروع ہو جائے تو وہ عارض ہے (ف ل ۲۵۴) قرآن میں ہے:
فَلَمَّا رَاَوۡهُ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِيَتِهِمۡۙ قَالُوۡا هٰذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا‌ؕ بَلۡ هُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِهٖ‌ۚ رِيۡحٌ فِيۡهَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙ‏ (سورۃ الاحقاف آیت 24)
پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی وادیوں کے سامنے آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے: یہ (تو) بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے، (ایسا نہیں) وہ (بادل) تو وہ (عذاب) ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ (یہ) آندھی ہے جس میں دردناک عذاب (آرہا) ہے

4: معصرات

عصر کے معنی کپڑے کو نچوڑنا اور پھلوں وغیرہ سے رس نچوڑنا۔ نیز عصر نکالے ہوئے رس کو بھی کہتے ہیں (م ل) اور اعصر القوم معنی قوم پر بارش برسایا جانا (منجد) اور معصرات معصرة کی جمع ہے یعنی ایسے بادل جو پانی سے لدے ہوئے اور برسنے والے ہوں، نچڑنے والے بادل۔
وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ‏ (سورۃ النباء آیت 14)
اور نچڑتے بادلوں سے موسلادھار مینہ برسایا۔

5: مزن

مزن بمعنی (مشک کو پانی وغیرہ سے بھرنا) اور ابن المزنة بادلوں میں سے نمودار ہونے والے چاند کو کہتے ہیں (مف) اور مزن سفید اور چمکدار بادلوں کو کہتے ہیں (مف - فل (۲۵۵) اور حب المزن اولے کو (منجد) اور مزن بارش والے بادل کو (منجد) ارشاد باری ہے:
ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ‏ (سورۃ الواقعہ آیت 69)
کیا اسے تم نے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں؟

6: صیّب

جو بادل سخت گرجدار ہو اسے صیّب کہتے ہیں (فل ۱۲۵۵) جبکہ صاحب منتہی الارب اس سے زور دار بارش مراد لیتے ہیں (م-ل) صاحب منجد کے نزدیک کوئی سا بارش والا بادل صیّب ہے ارشاد باری ہے:
اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيۡهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعۡدٌ وَّبَرۡقٌ‌ ۚ يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِىۡٓ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاللّٰهُ مُحِيۡطٌ‌ۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ‏ (سورۃ البقرۃ آیت 19)
یا انکی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے برس رہا ہو اور اس میں اندھیرے پر اندھیرا چھا رہا ہو اور بادل گرج رہا ہو اور بجلی کوند رہی ہو تو یہ کڑک سے ڈر کر موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اللہ کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔

ماحصل:

  • سحاب: بادل کے لیے عام لفظ اور اس کی ابتدائی شکل۔
  • غمام: جب بادل گاڑھا ہو جائے اور سایہ فگن ہو سکے۔
  • عارض:ایسا بادل جس میں بوندا باندی کی ابتداء ہو چکی ہو۔
  • معصرات پانی سے بھر پور بادل۔
  • مزن سفید چمکدار بادل
  • صیب : بعض کے نزدیک سخت گرج دار بادل
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بار – دفعہ – مرتبہ

بار کے لیے مرّۃ، کرّۃ اور تارۃ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں اور یہ سب الفاظ اسم مرۃ ہیں بمعنی کسی کام کو ایک بار کرنا جس طرح جلسۃ کے معنی ایک بار بیٹھنا اور غزوۃ کے معنی ایک بار کی لڑائی یا حملہ ہے۔ اب ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔

1: مرة

مرّ بمعنی کسی مقام کے پاس سے گزرنا (مف) اور نیز وقت کا گزرنا۔ اور اس لحاظ سے اس کا معنی ہو گا، ایک بار گزرنا یا کوئی کام کرنا۔ اس کی تثنیہ مرّتان یا مرّتین اور جمع مرّات اور مرارا ( بمعنی کئی بار) آتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
اَوَلَا يَرَوۡنَ اَنَّهُمۡ يُفۡتَـنُوۡنَ فِىۡ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوۡ مَرَّتَيۡنِ ثُمَّ لَا يَتُوۡبُوۡنَ وَلَا هُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ‏ (سورۃ التوبہ آیت 126)
کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

2: کرّۃ

کرّ – کرارا بمعنی (دشمن) پر حملہ کرنا۔ ٹوٹ پڑنا۔ اسی سے لفظ کرّار مشہور ہے کروفر۔ اس جنگی چال کو کہتے ہیں جو عرب میں ایک دور میں مشہور تھی یعنی حملہ کرنا اور یکدم پسپا ہو کر از سر نو دوبارہ ٹوٹ پڑتا اور (۲) کرّ – تکرارا بمعنی کسی کام کو پہلے کی طرح بار بار کرنا (منجد) اور یہی زیر بحث ہے یعنی کسی کام کو بالکل اسی طرح کرنا جیسے پہلے کیا تھا، ایک بار پھر کرنا اور ابن الفارس کے الفاظ میں رجوع الى الشي بعد مرة الأولى (م - ل) معنی دوبارہ پہلے ہی جیسا کام کرنا ( فق ل) اور كرة بمعنی لڑائی میں ایک بار کا حملہ بھی اور کسی کام کو دوبارہ کرنا بھی ارشاد باری ہے:
ثُمَّ رَدَدۡنَا لَـكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَمۡدَدۡنٰـكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا‏ (سورۃ بنی اسرائیل آیت 6)
پھر ہم نے دوسری بار تمکو ان پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی۔ اور تم کو جماعت کثیر بنا دیا۔
اس آیت میں کرّۃ کا لفظ دونوں مفہوم ادا کر رہا ہے اور علی کا صلہ غلبہ کو ظاہر کر رہا ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا
ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ‏ (سورۃ الملک آیت 4)
تم پھر نگاہِ (تحقیق) کو بار بار (مختلف زاویوں اور سائنسی طریقوں سے) پھیر کر دیکھو، (ہر بار) نظر تمہاری طرف تھک کر پلٹ آئے گی اور وہ (کوئی بھی نقص تلاش کرنے میں) ناکام ہوگی
جب کوئی شاعر اپنا کلام سناتا ہے تو کسی اچھے شعر پر حاضرین میں سے کوئی مکرّر کا نعرہ لگاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس شعر کو دوبارہ سہ بارہ پڑھ کر سناؤ۔ یہی کرّۃ کا مفہوم ہے اور ابو ہلال عسکری کے نزدیک دوسری بار کرنے یا دہرانے کے لیے اعادہ اور دو بار سے زیادہ کرنے کے لیے کرّر آتا ہے (فق ل 27)

3: تارة

اسے بعض اہل لغت تور کے تحت لاتے ہیں اور بعض تار کے۔ اور اس کا معنی ہے اعادة بعد مرة (م – ق) اور بمعنی ہنگام و یکبار (م – ر) یعنی کبھی کسی وقت ایک بار پھر وہ کام کرنا۔ کہتے ہیں فعلت تارة هذا و تارة ذاك یعنی میں نے کبھی تو یہ کام کیا اور کبھی وہ (منجد) گویا تارۃ ایسے کام کا اعادہ ہے جو کبھی کسی زمانہ میں پہلے کیا تھا ۔ ارشاد باری ہے:
مِنۡهَا خَلَقۡنٰكُمۡ وَفِيۡهَا نُعِيۡدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً اُخۡرٰى‏ (سورۃ طہ آیت 55)
(زمین کی) اسی (مٹی) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری مرتبہ (پھر) نکالیں گے

ماحصل

  • مرة: بار، دفعہ یا مرتبہ کے لیے عام لفظ۔
  • کرّہ: یعنی ایک بار پھر، مکرر وہی کام کرنا ۔ دوبارہ سے زیادہ کرنے کے لیے آتا ہے۔
  • تارۃ: کبھی پھر وہ کام یا اس جیسا کام کرنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بارش

بارش کے لیے مطر، طلّ، ودق، غیث، مدرار، غدق، وابل، صیّب کے الفاظ آئے ہیں۔

1: مطر

بارش کے لیے عام لفظ ہے۔ بارش فائدہ مند ہو یا نقصان دہ پانی برسے یا کوئی اور چیز سب کے لیے مطر کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے اور امطر بمعنی بارش برسانا۔ ارشاد باری ہے:
وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا‌ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ‏ (سورۃ الشعراء آیت 173)
اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی سو ڈرائے ہوئے لوگوں کی بارش کتنی تباہ کن تھی

2: ماء

لفظی معنی پانی ہے جمع میاہ۔ مجازاً بارش کے لیے استعمال ہوتا ہے، مثلاً
وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّـكُمۡ (سورۃ البقرۃ آیت 22)
اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کے لئے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے۔

3: طلّ

بالکل خفیف اور کمزور سی بارش (ف ل ۲۵۶ - م ل) شبنم اور پھوہار دونوں کے لیے طلّ کا لفظ استعمال ہوتا ہے (ف – ل) قرآن میں ہے:
وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةٍۢ بِرَبۡوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏ (سورۃ البقرۃ آیت 265)
اور جو لوگ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو جب اس پر زور کا مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے پھر اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

4: ودق

جو بارش لگاتار ہوتی رہے اسے ودق کہتے ہیں (ف ل 258)) ایسی بارش عموماً آہستہ آہستہ اور بہت دیر تک جاری رہتی ہے ۔ قرآن میں ہے:
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُزۡجِىۡ سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيۡنَهٗ ثُمَّ يَجۡعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الۡوَدۡقَ يَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِهٖ (سورۃ النور آیت 43)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی بادل کو (پہلے) آہستہ آہستہ چلاتا ہے پھر اس (کے مختلف ٹکڑوں) کو آپس میں ملا دیتا ہے پھر اسے تہ بہ تہ بنا دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان خالی جگہوں سے بارش نکل کر برستی ہے

5: غیث

وہ بارش جو ضرورت کے وقت ہو اور ضرورت کے مطابق ہو وہ غیث ہے (ف – ل 258 م ل) قرآن میں ہے:
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ وَّزِيۡنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٌ فِىۡ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ‌ؕ كَمَثَلِ غَيۡثٍ اَعۡجَبَ الۡكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيۡجُ فَتَرٰٮهُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ يَكُوۡنُ حُطٰمًا‌ؕ وَّفِىۡ الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ۙ وَّمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٌ‌ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ‏ (سورۃ الحدید آیت 20)
جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور ظاہری آرائش ہے اور آپس میں فخر اور خود ستائی ہے اور ایک دوسرے پر مال و اولاد میں زیادتی کی طلب ہے، اس کی مثال بارش کی سی ہے کہ جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہے پھر تم اسے پک کر زرد ہوتا دیکھتے ہو پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے، اور آخرت میں (نافرمانوں کے لئے) سخت عذاب ہے اور (فرمانبرداروں کے لئے) اللہ کی جانب سے مغفرت اور عظیم خوشنودی ہے، اور دنیا کی زندگی دھوکے کی پونجی کے سوا کچھ نہیں ہے

6: مدرار

الدّر دودھ اور دودھ کی فراوانی کو کہتے ہیں اور درود بہت زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو کہتے ہیں ۔ اس سے مدرارا مشتق ہے۔ عین مدرار کے معنی بہت آنسو بہانے والی آنکھ اور مدرار کے معنی بہت برسنے والی بارش ہے (منجد) یعنی مدرار وہ بارش ہے جس میں پانی کی فراوانی ہو۔
وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّدۡرَارًا وَّيَزِدۡكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡا مُجۡرِمِيۡنَ‏ (سورۃ ھود آیت 52)
اور اے قوم! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اسکے آگے توبہ کرو وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا اور تمہاری طاقت پر طاقت بڑھائے گا۔ اور دیکھو گناہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔

7: غدق

ابن الفارس کے مطابق غدق وہ بارش ہے جس میں پانی کی بھی فراوانی ہو اور سود مند بھی ہو (م ل) اور غدقة بمعنی شیریں چشمہ اور غدق المکان بمعنی جگہ کا بارش سے تر ہو جانا، سر سبز ہو جانا اور غدق بمعنی سر سبز جگہ (منجد) گویا غدق ایسی بارش کو کہتے ہیں جو سر سبزی کا باعث ہو۔ ارشاد باری ہے:
وَّاَنْ لَّوِ اسۡتَقَامُوۡا عَلَى الطَّرِيۡقَةِ لَاَسۡقَيۡنٰهُمۡ مَّآءً غَدَقًاۙ‏ (سورۃ الجن آیت 16)
اور یہ (وحی بھی میرے پاس آئی ہے) کہ اگر وہ طریقت (راہِ حق، طریقِ ذِکرِ اِلٰہی) پر قائم رہتے تو ہم انہیں بہت سے پانی کے ساتھ سیراب کرتے

8 صیب

ایسی زور دار بارش ہے جس میں بادل بھی خوب گرج رہے ہوں اور بجلی بھی چمک رہی ہو (ف ل 255 م ر) اور ابن الفارس کے نزدیک ایسی بارش جو جم کر برسے (م ل) ایسی بارش کو پنجابی میں پھانڈا کہتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيۡهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعۡدٌ وَّبَرۡقٌ‌ ۚ يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِىۡٓ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاللّٰهُ مُحِيۡطٌ‌ۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ‏ (سورۃ البقرۃ آیت 19)
یا انکی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے برس رہا ہو اور اس میں اندھیرے پر اندھیرا چھا رہا ہو اور بادل گرج رہا ہو اور بجلی کوند رہی ہو تو یہ کڑک سے ڈر کر موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اللہ کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔

9: وابل

وبل کے معنی مویشی وغیرہ کو لاٹھی سے لگاتار مارنا (منجد) اس کے معنی میں شدت اور ثقل پایا جاتا ہے۔ ابن فارس کہتے ہیں کہ وبل کسی چیز میں شدت اور کثرت کے معنی دیتا ہے اور وابل سے مراد شدید قسم کی بارش ہے (م ل)، گویا وابل وہ بارش ہے جو پانی کی کثرت اور اپنی شدت اور تیزی کی وجہ سے خس و خاشاک تک بہا لے جائے اور یہ بارش کا آخری درجہ ہے۔ ارشادِ باری ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِكُمۡ بِالۡمَنِّ وَالۡاَذٰىۙ كَالَّذِىۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلۡدًا‌ؕ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَىۡءٍ مِّمَّا كَسَبُوۡا‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِىۡ الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ‏ (سورۃ البقرۃ آیت 264)
مومنو! اپنے صدقات و خیرات احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کر دینا جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کے مال کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ اسی طرح یہ ریاکار لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اور اللہ ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

ماحصل:

  • مطر: ہر طرح کی بارش کے لیے۔ اسم جنس ہے۔
  • ماء: بمعنی پانی، مجازاً استعمال ہوتا ہے۔
  • طلّ: شبنم یا پھوہار۔
  • ودق: دھیمی اور لگاتار بارش۔
  • غیث: مناسب وقت پر حسب ضرورت بارش۔
  • مدرار: پانی کی فراوانی پر دلالت کرتی ہے۔
  • غدق: ایسی بارش جس میں پانی وافر ہو اور وہ سود مند ہو۔ یعنی سبزہ اگانے کا باعث بنے۔
  • صیب: زور دار بڑے بڑے قطروں والی بارش۔ پھانڈا، بوچھاڑ۔
  • وابل: ایسی شدید بارش جو خس و خاشاک کو بہا لے جائے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

باز آنا

کے لیے دو الفاظ آئے ہیں۔ انتہی (نہی) اور انّفک (فکّ)

1: انتہی

النہی کے معنی روکنا اور انتہی باز آ جانا یا رکنا کے معنی میں آتا ہے اور النہاء و النہایۃ کسی چیز کی غایت اور آخری حد کو کہتے ہیں (منجد) ارشاد باری ہے:
وَاِنۡ نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُوۡا فِىۡ دِيۡنِكُمۡ فَقٰتِلُوۡۤا اَٮِٕمَّةَ الۡـكُفۡرِ‌ۙ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنۡتَهُوۡنَ‏ (سورۃ التوبہ آیت 12)
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو انکی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ اپنی حرکات سے باز آجائیں۔

2: انّفک

فکّ کے معنی کسی بندھن سے آزاد کرانا ہیں۔ فکّ الاسیر بمعنی قیدی کو چھڑانا۔ فکّ الرہن گروی چیز کو واگزار کرنا ہے۔ اور فکّ رقبۃ غلام چھڑانا اور انفکاک کے معنی خود جدا ہونا، کھلنا، انفکاک العبد کے معنی غلام کا آزاد ہونا ہے۔ نیز افکّ العظیم کے معنی کمزوری کی وجہ سے شانہ کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کے ہیں (منجد، مف) جس کا مطلب یہ ہے کہ انفکاک میں باز رہنا اضطراری طور ہوتا ہے۔ یعنی جس جگہ چمٹے ہوئے تھے اس جگ سے اضطرارا الگ اور پرے ہونا۔ ارشاد باری ہے:
لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ مُنۡفَكِّيۡنَ حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُۙ‏ (سورۃ البیّنہ آیت 1)
اہلِ کتاب میں سے جو لوگ کافر ہو گئے اور مشرکین اس قت تک (کفر سے) الگ ہونے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل (نہ) آجاتی
اور یہ کھلی دلیل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور غلبہ اسلام تھا جس نے انہیں کفر و شرک سے باز رہنے پر مجبور کر دیا۔

ماحصل:

انتہی میں باز رہنے کا عمل بہت حد تک اختیاری ہوتا ہے اور انفک میں یہ عمل اضطراری صورت میں ہوتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بازو

بازو کے لیے جناح، عضد اور ذراع کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: جناح

جناح بمعنی پرندے کا پر یا بازو، تثنیہ جناحین ۔ پھر کنایۃ کسی چیز کے دو پہلوؤں کو بھی جناحین کہہ دیتے ہیں۔ جناحا العسکر بمعنی لشکر کے دونوں بازو یا جانب۔ اسی طرح انسان کے دونوں بازوؤں پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ گویا جناح کا لفظ دائیں یا بائیں جانب یا پہلو یا بازو سب جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اور بازو سے مراد کندھے سے لے کر انگلیوں کے آخر تک کا حصہ ہے۔
ارشاد باری ہے:
اُسۡلُكۡ يَدَكَ فِىۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ‌ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ٮِٕهٖؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ‏‏‏ (سورۃ القصص آیت 32)
اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمک دار ہوکر نکلے گا اور خوف (دور کرنے کی غرض) سے اپنا بازو اپنے (سینے کی) طرف سکیڑ لو، پس تمہارے رب کی جانب سے یہ دو دلیلیں فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف (بھیجنے اور مشاہدہ کرانے کے لئے) ہیں، بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں۔

2: عضد

عضد سے مراد کہنی سے لے کر کندھے تک کا حصہ ہے (مف) اور عضدتہ بمعنی میں نے اسے بازو پر مارا۔ نیز اس کے معنی میں نے اس کا بازو پکڑا اور سہارا دیا بھی ہیں۔ لہذا یہ لفظ ید کی طرح بطور استعارہ مدد گار کے معنوں میں بھی آتا ہے (مف) ارشاد باری ہے:
مَّاۤ اَشۡهَدتُّهُمۡ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ اَنۡفُسِهِمۡ وَمَا كُنۡتُ مُتَّخِذَ الۡمُضِلِّيۡنَ عَضُدًا‏ (سورۃ الکہف آیت 51)
میں نے انکو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود انکے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا۔

3: ذراع

بمعنی کہنی سے لے کر درمیانی انگلی کے آخر تک کا حصہ اور اس کا ترجمہ عموماً ہاتھ ہی کر لیا جاتا ہے ۔ (مف) ارشاد باری ہے:
وَ تَحۡسَبُهُمۡ اَيۡقَاظًا وَّهُمۡ رُقُوۡدٌ‌‌ۖ وَنُـقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ الۡيَمِيۡنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ‌‌ۖ وَكَلۡبُهُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَيۡهِ بِالۡوَصِيۡدِ‌ؕ لَوِ اطَّلَعۡتَ عَلَيۡهِمۡ لَوَلَّيۡتَ مِنۡهُمۡ فِرَارًا وَّلَمُلِئۡتَ مِنۡهُمۡ رُعۡبًا‏ (سورۃ الکہف آیت 18)
اور تم ان کے متعلق خیال کرو کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ حالانکہ وہ سوتے ہیں۔ اور ہم انکو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے۔ اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم انکو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آ جاتے۔
پھر ذراع سے مراد پیمائش میں اتنی لمبائی بھی لی جاتی ہے جتنی کہنی سے لے کر درمیانی انگلی کے آخر تک ہوتی ہے۔ اس لمبائی کو ہاتھ کہتے ہیں۔ چونکہ انسان کا قد و قامت مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے۔ لہذا اس ماپ کی مقدار بھی مختلف رہی ہے۔ صاحب منجد نے 50 سے 70 سنٹی میٹر بتلائی ہے یعنی تقریباً 20 سے 28 انچ تک۔ بعض مترجمین اس کا ترجمہ گز بھی کر دیتے ہیں۔ ارشاد باری ہے۔
خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُۙ‏ ثُمَّ الۡجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُۙ ‏ثُمَّ فِىۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُؕ‏ (سورۃ الحاقۃ آیت 30 تا 32)
(حکم ہوگا اسے پکڑ لو اور اسے طوق پہنا دو پھر اسے دوزخ میں جھونک دو پھر ایک زنجیر میں جس کی لمبائی ستر گز ہے اسے جکڑ دو۔

ماحصل:

کندھے سے کہنی تک عضد، کہنی سے درمیانی انگلی کے آخری سرے تک ذراع اور ان دونوں کا مجموعہ یعنی کندھے سے انگلی کے سرے تک جناح ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

باغ

کے لیے جنَّة، حدائق اور روضة کے الفاظ آئے ہیں۔

1: جنّۃ

جنّ سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کو حواس سے پوشیدہ کرنا اور چھپانا ہیں۔ اور جنۃ ایسے باغ کو کہتے ہیں جس کی زمین درختوں اور سبزہ کی وجہ سے نظر نہ آئے (مف) صاحب منجد کے نزدیک جنۃ درختوں سے ہرا بھرا باغ ہے۔ خواہ وہ ارضی ہو یا سماوی۔ قرآن میں ہے:
وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةٍۢ بِرَبۡوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏ (سورۃ البقرۃ آیت 265)
اور جو لوگ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو جب اس پر زور کا مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے پھر اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

2: حدائق

حدیقہ کی جمع ہے جو حدق سے مشتق ہے اور حدق کے معنی کسی کو چاروں طرف سے گھیر لینا۔ لہذا حدیقہ ایسے باغ یا باغیچہ کو کہتے ہیں جس کے گرد حفاظت کے لیے چار دیواری بنا دی گئی ہو (منجد) ارشاد باری ہے:
اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَاَنۡزَلَ لَـكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً‌ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِهٖ حَدَآٮِٕقَ ذَاتَ بَهۡجَةٍ‌ۚ مَّا كَانَ لَـكُمۡ اَنۡ تُـنۡۢبِتُوۡا شَجَرَهَاؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ‌ؕ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ يَّعۡدِلُوۡنَؕ‏ (سورۃ النمل آیت 60)
بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور کس نے تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس سے سر سبز باغ اگائے تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم انکے درختوں کو اگاتے تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہو رہے ہیں ۔

3: روضۃ

(جمع روضات) روض کا لفظ وسعت اور فراخی پر دلالت کرتا ہے (م - ل) اور روض المطر الارض کے معنی بارش کا زمین کو باغ و بہار بنا دینا ہے اور روضہ پر بہار کیاری کو بھی کہتے ہیں (منجد) گو یا روضہ کسی باغ کے اندر وہ حصہ یا مقام ہوتا ہے جو بڑا پر بہار ہو۔ اور ایسی جگہ پر ہی عموماً بالا خانہ یا بارہ دری وغیرہ بنائی جاتی ہے۔
فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوۡا الصّٰلِحٰتِ فَهُمۡ فِىۡ رَوۡضَةٍ يُّحۡبَرُوۡنَ‏ (سورۃ الروم آیت 15)
تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ بہشت کے باغ میں خوشحال ہوں گے۔

ماحصل

  • جنۃ کوئی سا باغ جہاں درخت بکثرت ہوں۔
  • حديقة: چار دیواری والا باغ۔
  • روضۃ باغ کے اندر کوئی پر بہار خطہ ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

باقی رکھنا ۔ چھوڑنا

کے لیے ابقی، اثبت اور غادر کے الفاظ آئے ہیں۔

1: ابقی

بقی کے معنی کسی چیز کا باقی رہنا اور ہمیشہ رہنا (م ل) ہے۔ اور اس کی ضد فنی اور ھلک ہے یعنی کسی چیز کا نیست و نابود اور ختم ہو جانا اور ابقی کے معنی کسی چیز کو برقرار اور باقی رکھنے کے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
وَاَنَّهٗۤ اَهۡلَكَ عَادًا اۨلۡاُوۡلٰىۙ‏ وَثَمُوۡدَا۟ فَمَاۤ اَبۡقٰىۙ‏ (سورۃ النجم آیت 50، 51)
اور یہ کہ اسی نے پہلی (قومِ) عاد کو ہلاک کیا اور (قومِ) ثمود کو (بھی)، پھر (ان میں سے کسی کو) باقی نہ چھوڑا

2: اثبت

ثبت کے معنی کسی چیز کو اپنی حالت پر بر قرار رہنا (اور اس کی ضد زال ہے یعنی کسی چیز کا اپنی جگہ سے ادھر ادھر ہٹ جانا)، اور اثبت کے معنی کسی چیز کو اس کی اصلی حالت پر برقرار اور جمائے رکھنا ہے (مف) ارشاد باری ہے:
يَمۡحُوۡا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُ‌ۖ ‌ۚ وَعِنۡدَهٗۤ اُمُّ الۡكِتٰبِ‏ (سورۃ الرعد آیت 39)
اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسکو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔

3: غادر

غدر کے معنی عہد کو توڑنا اور وعدہ خلافی کرنا ہے (م - ل) نیز اس کے معنی پیچھے چھوڑ دینا بھی ہے (م - ل) اور غادر کے معنی حساب کتاب کرنے کے وقت کوئی چیز ارادۃ پیچھے چھوڑنا یا شمار نہ کرنا کے ہیں (مف) ارشاد باری ہے
وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَ يَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَـتَـنَا مَالِ هٰذَا الۡـكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰٮهَا‌ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا‌ؕ وَ لَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا (سورۃ الکہف آیت 49)
اور اعمال کی کتاب کھول کر رکھی جائے گی تو تم گناہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہو گا اس سے ڈر رہے ہوں گے۔ اور کہیں گے۔ ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو کوئی بات بھی نہیں مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔

ماحصل

  • ابقی: کسی چیز کا وجود باقی رکھنا۔
  • اثبت: کسی چیز کو اپنی حالت پر باقی رکھنا۔
  • غادر: بہت چیزوں میں سے کسی ایک کو باقی چھوڑنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بال

کے لیے شعر، وبر اور صوف کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: شعر

انسان سمیت تمام جانداروں کے بال - یہ لفظ عام ہے اور اس کی جمع اشعار ہے۔

2: وبر

اونٹ اور پرندوں کے بال، پشم۔ (جمع اوبار)

3: صوف

بھیڑ بکری وغیرہ کے بال - اون (جمع اصواف) (ف ل 98)- قرآن میں ہے:
وَاللّٰهُ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡۢ بُيُوۡتِكُمۡ سَكَنًا وَّجَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ بُيُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَهَا يَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَيَوۡمَ اِقَامَتِكُمۡ‌ۙ وَمِنۡ اَصۡوَافِهَا وَاَوۡبَارِهَا وَاَشۡعَارِهَاۤ اَثٰثًا وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ‏ (سورۃ النحل آیت 80)
اور اللہ ہی نے تمہارے لئے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لئے ڈیرے بنائے جنکو تم ہلکا پھلکا دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور انکی اون اور پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں بناتے ہو جو مدت تک کام دیتی ہیں۔
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء

باپ

باپ کے لیے دو الفاظ آتے ہیں۔ والد اور اب

1: والد

والد کا لفظ صرف باپ کیلیے استعمال ہوتا ہے یعنی صرف وہ شخص جس نے جنا ہو۔ اسی طرح والدہ کا لفظ صرف اس عورت کے لیے جس نے بچہ جنا ہو۔ ارشاد باری ہے:
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ وَاخۡشَوۡا يَوۡمًا لَّا يَجۡزِىۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِهٖ وَلَا مَوۡلُوۡدٌ هُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِهٖ شَيۡـــًٔا‌ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ‌ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ‏ (سورۃ لقمان آیت 33)
لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے۔ اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آ سکے۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اور نہ وہ بڑا فریب دینے والا شیطان تمہیں اللہ کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے۔
اور ماں باپ دونوں کے لیے والدین کا لفظ آئے گا۔ جیسے
وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسٰنَ بِوٰلِدَيۡهِ‌ۚ حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ وَّفِصٰلُهٗ فِىۡ عَامَيۡنِ اَنِ اشۡكُرۡ لِىۡ وَلِـوَالِدَيۡكَؕ اِلَىَّ الۡمَصِيۡرُ‏ (سورۃ لقمان آیت 14)
اور ہم نے انسان کو جسے اسکی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے پھر اسکو دودھ پلاتی ہے اور آخرکار دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے میں نے تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی کہ تمکو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

2: اب

لیکن اب کا لفظ بہت وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ باپ دادا پر دادا اور اوپر کی سب پشتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور ماں باپ کے لیے حسب موقع ابوین یا ابوان آتا ہے۔
اب ان کی مثالیں دیکھیے :
صرف ماں باپ کے لیے
وَاَمَّا الۡغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا‌ۚ‏ (سورۃ الکہف آیت 80)
اور وہ جو لڑکا تھا اسکے ماں باپ دونوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوگا تو کہیں انکو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔
کئی پشتوں کے لیے
مَّا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِىۡۤ اٰبَآٮِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ‌ۚ‏ (سورۃ المؤمنون آیت 24)
ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی سنی نہیں۔
اور یہ پشتیں بہت زیادہ بھی ہو سکتی ہیں۔ جیسے:
وَجَاهِدُوۡا فِىۡ اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ‌ؕ هُوَ اجۡتَبٰٮكُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِىۡ الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ‌ؕ مِلَّةَ اَبِيۡكُمۡ اِبۡرٰهِيۡمَ‌ؕ هُوَ سَمّٰٮكُمُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ (سورۃ الحج آیت 78)
اور اﷲ (کی محبت و طاعت اور اس کے دین کی اشاعت و اقامت) میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا
واضح رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم میں قریباً 62 پشتوں کا فاصلہ تھا۔ حتی کہ حضرت آدم علیہ السلام کے لیے بھی جو نوع انسان کے جد اعلیٰ میں اب کے لفظ کا اطلاق ہوا ہے مثلاً :
يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَـنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَـنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡءٰتِهِمَا (سورۃ الاعراف آیت 27)
اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر انکو کھول کر دکھا دے۔
اب اصل میں ابو ہے۔ اور یہ کسی کی تربیت اور خوراک کی فراہمی پر دلالت کرتا ہے (م ل) اس لیے بیٹا اگر باپ سے مخاطب ہو تو عموماً ابّ کا لفظ ہی استعمال ہو گا جیسے :
حضرت یوسف علیہ السلام اپنے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام سے یوں گویا ہوئے:
وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا‌ۚ وَقَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَاىَ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّىۡ حَقًّا‌ؕ (سورۃ یوسف آیت 100)
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب انکے آگے سجدے میں گر پڑے اور اس وقت یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے بچپن میں دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دیا۔
پھر اب کا لفظ بعض دفعہ کسی خاص صفت کی وجہ سے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے میزبان کو ابو الاضیاف اور جنگجو کو ابو الحرب کہ دیتے ہیں۔ قرآن کریم میں ابو لہب کا لفظ اسی صفت کی وجہ سے استعمال ہوا ہے کہ اس کا رنگ شعلہ کی طرح دیکھتا تھا۔ اسی طرح کسی چیز سے نسبت اور پیار کی وجہ سے کنیت رکھ لیتے ہیں جیسے ابو ہریرہ اور ابو تراب وغیرہ۔ نیز دیکھیے کنیت اور نسب میں فرق بیٹا۔ بیٹی میں۔
ماشاءاللہ بہت خوب جزاک اللہ خیرا کثیرا
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بانجھ

بانجھ کے لیے دو الفاظ ہیں : عاقر اور عقیم۔

1: عاقر

عاقر کے مادہ عقر میں گھاؤ زخم لگانے کا مفہوم پایا جاتا ہے (م ل) الكلب العقور کاٹنے والے کتے کو کہتے ہیں اور عقر النخلة کے معنی کھجور کے درخت کو جڑ سے کاٹ دینا۔ قرآن میں ہے:
فَكَذَّبُوۡهُ فَعَقَرُوۡهَا ۙ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۡۢبِهِمۡ فَسَوّٰٮهَا (سورۃ الشمس آیت 14)
تو انہوں نے اس (رسول) کو جھٹلا دیا، پھر اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کی وجہ سے ان پر ہلاکت نازل کر دی، پھر (پوری) بستی کو (تباہ کر کے عذاب میں سب کو) برابر کر دیا
پھر العقر کسی کے آخری بچہ کو بھی کہتے ہیں جس کے بعد کوئی اولاد نہ ہو (مف) گویا عاقر کا لفظ ایسی عورت کے لیے مستعمل ہے جس کے پہلے اولاد ہوتی رہی ہو۔ بعد میں رحم میں زخم یا حیض کی بندش یا کسی دوسرے عارضہ سے اس کے ہاں اولاد ہونا بند ہو گئی ہو۔ نیز یہ لفظ عورت مرد دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے:
وَاِنِّىۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِىَ مِنۡ وَّرَآءِىۡ وَكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّاۙ‏ (سورۃ مریم آیت 5)
اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پھر بھی مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔

2: عقیم

لفظ عاقر کی طرح عقیم بھی مذکر و مونث دونوں کے لیے مستعمل ہے۔ عقیم اس تودہ ریت یا خطہ زمین کو بھی کہتے ہیں جو بنجر ہوا (م ا) اور ریح عقیم ایسی ہوا کو کہتے ہیں ہو خیر سے خالی ہو۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے ۔
وَفِىۡ عَادٍ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الرِّيۡحَ الۡعَقِيۡمَ‌ۚ‏ (سورۃ الذریات آیت 41)
اور (قومِ) عاد (کی ہلاکت) میں بھی (نشانی) ہے جبکہ ہم نے اُن پر بے خیر و برکت ہوا بھیجی
اور عقیم وہ شخص ہے جس کے مادہ تولید موجود ہی نہ ہو یا اس کے کرم مردہ ہوں۔ اسی طرح عقیم ایسی عورت کو کہتے ہیں جو مرد کا مادہ سرے سے قبول نہ کرے (م ا) گویا عقیم وہ مرد یا عورت ہے جس کے ہاں سرے سے کوئی اولاد نہ ہوئی ہو (پنجابی سنڈھ) ارشاد باری ہے:
لِّلَّهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ‌ؕ يَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ الذُّكُوۡرَۙ‏ َوۡ يُزَوِّجُهُمۡ ذُكۡرَانًا وَّاِنَاثًا‌ ۚ وَيَجۡعَلُ مَنۡ يَّشَآءُ عَقِيۡمًا‌ؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌ قَدِيۡرٌ‏ (سورۃ الشوری آیت 49، 50)
اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے بخشتا ہے یا انہیں بیٹے اور بیٹیاں (دونوں) جمع فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ ہی بنا دیتا ہے، بیشک وہ خوب جاننے والا بڑی قدرت والا ہے

ماحصل :

عاقر وہ جس کے پہلے اولاد ہوتی رہی، بعد میں بند ہو چکی ہو اور عقیم وہ ہے جس کے ہاں مطلقا اولاد پیدا نہ ہوئی ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

باندھنا

کے لیے ربط، شد، غلّ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: ربط

مضبوط باندھنا اور مربوط اور مربطۃ اس رسی کو کہتے ہیں جس سے جانور باندھا جائے اور ربّاط بمعنی تانت کو باندھنے والا اور ربیطہ بمعنی بندھے ہوئے جانور اور ربط الله علی قلبه محاورہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو باندھ دیا یعنی اس کے دل کو قوت بخشی اور صبر عطا فر مایا (منجد) ارشاد باری ہے:
وَاَصۡبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوۡسٰى فٰرِغًا‌ؕ اِنۡ كَادَتۡ لَـتُبۡدِىۡ بِهٖ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ (سورۃ القصص آیت 10)
اور موسٰی کی ماں کا دل بیقرار ہو گیا اگر ہم انکے دل کو مضبوط نہ کر دیتے تو قریب تھا کہ وہ اس غم کو ظاہر کر دیتیں۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ مومنوں میں رہیں۔

2: شد

شد الشيء بمعنی کسی چیز کو باندھنا، مضبوط کرنا، مضبوط باندھنا (منجد) قرآن میں ہے:
فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰٓى اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡهُمۡ فَشُدُّوۡا الۡوَثَاقَ ۙ (سورۃ محمد آیت 4)
پھر جب (میدان جنگ میں) تمہارا مقابلہ (متحارب) کافروں سے ہو تو (دورانِ جنگ) ان کی گردنیں اڑا دو، یہاں تک کہ جب تم انہیں (جنگی معرکہ میں) خوب قتل کر چکو تو (بقیہ قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ لو

3: غلّ

غلّ ہر وہ چیز جس سے کسی بھی عضو کو جکڑ کر اس کے وسط میں باندھ دیا جائے اور بمعنی طوق (جمع اغلال) اور کنایۃ مغلول الید بخیل شخص کو کہتے ہیں یعنی اس شخص کے ہاتھ خرچ کرنے سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں (مف) ارشاد باری ہے:
وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ‌ ؕ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا‌ۘ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ‌ؕ (سورۃ المائدۃ آیت 64)
اور یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے یعنی اللہ بخیل ہے انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو اصل یہ ہے کہ اسکے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔ وہ جس طرح اور جتنا چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔

ماحصل:

  • ربط کسی چیز کو رسی سے باندھنا اور ربط الله علی قلبہ اللہ کا کسی کے دل کو مضبوط کر کے صبر عطا فرمانا۔
  • شدّ: باندھ کر خوب مضبوط کرنا ۔ ربط سے ابلغ ہے۔
  • غلّ: کچھ خرچ کرنے سے ہاتھوں کا باندھا جانا اور مغلول اليد بمعنی بخیل ۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بت

کے لیے صنم، نصب، اوثان، جبت، اور طاغوت کے الفاظ آئے ہیں۔

1: صنم

جمع اصنام، چاندی، پتیل یا لکڑی کے خود تراشیدہ بت اور مورتیاں وغیرہ (مف، م ل) جو قابل انتقال اور خرید و فروخت ہوتے ہیں۔ صَنَاعَةِ الْأَصْنَام بت فروشی کے فن اور پیشہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ آزر یہی کاروبار کرتا تھا، اپنے رب سے دُعا کرتے ہیں:
وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا الۡبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجۡنُبۡنِىۡ وَبَنِىَّ اَنۡ نَّـعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَؕ‏ (سورۃ ابراہیم آیت 35)
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار اس شہر کو لوگوں کے لئے امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھیو۔

2: نصب

نصب الشیء کے معنی کسی کو سیدھے رخ کھڑا کر دنیا اور زمین میں گاڑ دینا اور نصیب وہ پتھر ہے جو بطور نشان راہ گاڑا جاتا ہے (مف) اور نصیب پتھر یا لو ہے وغیرہ کے اس مجسمے کو بھی کہتے ہیں جو کسی جگہ بغرض عبادت نصب کر دیا گیا ہو۔ یہ مجسمے عموماً نبیوں ، ولیوں اور پیروں یا بادشاہوں کے ہوتے ہیں۔ اور ایسے مقامات جہاں یہ مجسمے نصب ہوں انہیں تھان کہا جاتا ہے۔ اور اس کی جمع نصب اور انصاب آتی ہے۔ قرآن میں ہے:
وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ (سورۃ المائدۃ آیت 3)
اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لئے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو

3: وثن

جمع اوثان اپنی جگہ ثابت و قائم رہنے والے بت (م ا) یہ بت تراشیدہ اور نصب کردہ نہیں ہوتے۔ بلکہ بعض مخصوص مقامات پتھروں، درختوں، ستاروں یا دریاؤں وغیرہ میں خدا کی صفات کا عقیدہ رکھ کر ان کی عبادت شروع کر دی جاتی ہے۔ الوثنی بت پرست کو اور الوثنیۃ بت پرستی کو کہتے ہیں (منجد) ارشاد باری ہے:
فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِۙ‏ (سورۃ الحج آیت 30)
سو تم بتوں کی پلیدی سے بچا کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کیا کرو

4: جبت

بمعنی بت و کاہن و فال گری اور ہر وہ چیز جس میں خیر نہ ہو (م ا) یہ لفظ دراصل اوہام و خرافات کے لیے جامع لفظ ہے۔ جس میں جادو، ٹونے ٹوٹکے، جنتر منتر، سیاروں کی تاثیرات، گنڈے، نقش اور تعویذ وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔

5: طاغوت

بمعنی لات، عزی، جادو گر کاہن، باطل، بت اور غیر اللہ کی پرستش اور سرکش (م ا) گویا طاغوت سے مراد وہ تمام باطل اور سرکش نظام یا قوت ہے جو اللہ کے مقابلہ میں اس کے احکام کی اطاعت پر مائل یا مجور ہوں۔ ارشاد باری ہے:
اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هٰٓؤُلَآءِ اَهۡدٰى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلاً‏ (سورۃ النساء آیت 51)
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں۔

ماحصل:

  • اصنام: تراشیده اور قابل انتقال و خرید و فروخت بت۔
  • نصب: کسی جگہ گاڑے ہوئے مجسمے۔
  • وثن: مخصوص مقامات اور شجر و حجر وغیرہ جن میں خالی صفات تسلیم کی جائیں اور ان کی عبادت کی جائے۔
  • جبت: اوہام و خرافات مثلاً ٹونا ٹوٹکہ، جادو گنڈا یا ستاروں کے اثرات اور ان کی فرمانروائی ماننا۔
  • طاغوت: اللہ کے سوا ہر وہ باطل اور سرکش طاقت، نظام یا اقتدار جسے خدائی احکام کے علی الرخم تسلیم کرلیا جائے۔
بتلانا کے لیے دیکھیے "آگاہ کرنا"
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

بجلی

کی تین مختلف اقسام کے لیے تین الفاظ برق، رعد اور صاعقہ آئے ہیں۔

1: برق

چمکنے والی یا کوندنے والی بجلی کو کہتے ہیں جو آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے اور برق البصر بمعنی آنکھوں کا چندھیانا۔ قرآن میں ہے:
اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيۡهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعۡدٌ وَّبَرۡقٌ‌ (سورۃ البقرۃ آيت 19)
یا انکی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے برس رہا ہو اور اس میں اندھیرے پر اندھیرا چھا رہا ہو اور بادل گرج رہا ہو اور بجلی کوند رہی ہو

2: رعد

کڑکنے اور گرجنے والی بجلی۔ نیز ایسے بادل کو بھی کہتے ہیں جن میں کڑک اور گرج ہو (مف) ارشاد باری ہے:
وَيُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِهٖ وَالۡمَلٰۤـٮِٕكَةُ مِنۡ خِيۡفَتِهٖ‌ۚ وَيُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيۡبُ بِهَا مَنۡ يَّشَآءُ وَهُمۡ يُجَادِلُوۡنَ فِىۡ اللّٰه‌ِۚ وَهُوَ شَدِيۡدُ الۡمِحَالِؕ‏ (سورۃ الرعد آیت 13)
اور رعد اور فرشتے سب اسکے خوف سے اسکی تسبیح و تحمید کرتے رہتے ہیں اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ جبکہ وہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور وہ بڑی قوت والا ہے۔

3: صاعقۃ

گرنے اور گر کر بھسم کرنے والی بجلی کو کہتے ہیں۔ لہذا اس کا معنی عذاب الہی یا موت بھی کر لیا جاتا ہے۔ اور امام راغب کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا خوفناک دھماکہ ہے جو اجسام علوی سے متعلق ہو اور اس کے مقابل لفظ صقع ہے جو اجسام ارضی سے مخصوص ہے اور معنی دونوں کا ایک ہی ہے۔ (مف) اور صاحب منتہی الادب اس کے معنی آسمان سے شدید کڑک کے ساتھ آگ پھینکنا، یا ایسی سخت آواز جسے سن کر بیہوش ہو جائیں بتلاتے ہیں (م ا) اس صورت میں صاعقة، رعد ہی کی انتہائی صورت ہے۔ صاعقہ کی جمع صواعق آتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَيُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيۡبُ بِهَا مَنۡ يَّشَآءُ وَهُمۡ يُجَادِلُوۡنَ فِىۡ اللّٰه‌ِۚ وَهُوَ شَدِيۡدُ الۡمِحَالِؕ‏ (سورۃ الرعد آیت 13)
ور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ جبکہ وہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور وہ بڑی قوت والا ہے۔

ماحصل:

  • برق: چمکنے والی۔
  • رعد: گرجنے والی۔
  • صاعقۃ: شدید کڑک کے ساتھ گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں۔
بجھانا اور بجھنا کے لیے دیکھیے آگ اور اس کے افعال۔
 
Top